امجد اسلام امجد کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی کہیں آگ میں بھی دُھواں نہیں: امجد اسلام امجد

ام اویس نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 24, 2018

  1. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,896
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کہیں سنگ میں بھی ہے روشنی کہیں آگ میں بھی دُھواں نہیں
    یہ عجیب شہرِ طلسم ہے کہیں آدمی کا نشاں نہیں

    نہ ہی اِس زمیں کے نشیب میں نہ ہی آسماں کے فراز پر
    کٹی عمر اُس کو تلاشتے ، جو کہیں نہیں پر کہاں نہیں

    یہ جو زندگانی کا کھیل ہے، غم و انبساط کا میل ہے
    اُسے قدر کیا ہو بہار کی کبھی دیکھی جس نے خزاں نہیں

    وہ جوکٹ گرےپر نہ جُھک سکےجونہ مقتلوں سےبھی رُک سکے
    کوئی ایسا سر نہیں دوش پر، کسی منہ میں ایسی زباں نہیں

    جو تھے اشک میں نے وہ پی لیے، لبِ خشک و سوختہ سِی لیے
    مرے زخم پھر بھی عیاں رہے، مرا درد پھر بھی نہاں نہیں

    نہیں اس کو عشق سے واسطہ وہ ہے اور ہی کوئی راستہ
    اگر اِس میں دِل کا لہو نہیں اگر اِس میں جاں کا زیاں نہیں​
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏ستمبر 25, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  2. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,691
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    اعلی!
     
  3. نور ازل

    نور ازل محفلین

    مراسلے:
    23
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy

اس صفحے کی تشہیر