نیرنگ خیال

لائبریرین
بہت خوب :)
ایک اور خوبصورت تحریر
یہ دھوپ چھاؤں کےکھیل کی طرح ہے
کبھی خوشی کبھی دکھ
زندگی کا تانا بانا اسی سے بنتا ہے
اللہ کرے زور قلم زیادہ
بے شک۔
:)

سلامت رہیں نین بھائی :) :) اور اس شعر سے بھی ابھی واقفیت ہوئی ، کمال بیت کہا ہے مقبول عامر صاحب نے!! جزاک اللہ بھائی ۔۔۔ :) :)
:) جی بھائی :)
 

جاسمن

مدیر
خوشی اور غم۔۔۔۔۔آپ دونوں کو "محسوس" کرتے بھی ہیں اور کراتے بھی ہیں۔ اگرایک طرف آپ کی تحریریں پھلجھڑیاں ہیں تو دوسری طرف آنسوؤں کی لڑیاں۔۔۔۔یہ "تین دن "ہم سب کی زندگی میں موجود ہیں اور رہیں گے۔کسی دن کی یاد کسک اور محرومی کا احساس ساتھ لائے گی اور کسی دن کی یاد سر مستی اور سر خوشی۔۔۔۔۔اللہ آپ کے بچوں کی قسمت اچھی کرے۔ آپ کے ہر طرح کے رزق میں برکت دے اور آپ کے بچھڑے ہوؤں کے درجے بہت بہت بڑھا دے۔ آمین!
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
خوشی اور غم۔۔۔۔۔آپ دونوں کو "محسوس" کرتے بھی ہیں اور کراتے بھی ہیں۔ اگرایک طرف آپ کی تحریریں پھلجھڑیاں ہیں تو دوسری طرف آنسوؤں کی لڑیاں۔۔۔۔یہ "تین دن "ہم سب کی زندگی میں موجود ہیں اور رہیں گے۔کسی دن کی یاد کسک اور محرومی کا احساس ساتھ لائے گی اور کسی دن کی یاد سر مستی اور سر خوشی۔۔۔۔۔اللہ آپ کے بچوں کی قسمت اچھی کرے۔ آپ کے ہر طرح کے رزق میں برکت دے اور آپ کے بچھڑے ہوؤں کے درجے بہت بہت بڑھا دے۔ آمین!
آپ کا حسن ظن ہے جاسمن صاحبہ وگرنہ یہ فقیر تو پتا نہیں کیا لکھتا ہے۔ بہت درست بات کی آپ نے کہ یہ تین تو ہم سب کی زندگی کا حصہ ہیں۔
آمین۔ دعاؤں کے لیے بہت شکریہ۔ کہ یہ تو جتنی بھی ہوں مجھے کم لگتی ہیں۔ :)
 

سیما علی

لائبریرین
یہ سال میرے لیے صرف تین دن کا رہا۔ اس سال کے 362 دنوں کا میرے پاس کوئی حساب نہیں ہے۔ کیسے سورج طلوع ہوئے۔ غروب ہوئے۔ کتنی برساتیں برسیں۔ کچھ یاد نہیں۔ صرف تین دن ایسے ہیں جو میرے سامنے ہیں۔ مجھے یاد ہیں۔ بقیہ سب دن کہرے میں گم ہیں۔ بالکل اس سورج کی طرح جو مشرق سے طلوع تو ہو گیا ہے۔ لیکن کہرے میں گم ہے۔ اس طرح یہ سال کا ہندسہ بھی کہرے میں گم ہونے والا ہے۔ کل کے سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی کہرا اور گہرا ہوجائے گا۔ اور محض تین دن اپنا نشان برقرار رکھ کر مجھے یہ احساس دلائیں گے کہ یہ سال بھی کبھی زندگی میں آیا تھا۔
واہ کیا کہنے ۔۔۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ۔سلامت رہیے۔اسی آب و تاب سے چمکتے رہیے۔۔۔۔۔آمین الہی آمین
 

سیما علی

لائبریرین
حسب معمول صبح فجر کے وقت آنکھ کھلی۔ اذانوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کی۔ لیکن دھند کے باعث کچھ نظر نہیں آیا۔ نماز کے بعد چائے بنائی اور کپ پکڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔ آج 2013 کا آخری سورج طلوع ہونے والا ہے۔ میں اس سورج پر ایک الوداعی نگاہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ کیوں؟ مجھے معلوم نہیں۔ گزشتہ کئی سالوں کے ڈوبتے سورج پر الوداعی نگاہ ڈالنا عادت تھی۔ اس سال اپنی روایت بدلنے کا سوچا۔ طلوع ہوتا سورج دیکھا جائے گا۔
سچ نین بھیا دوبارہ پڑھا پہلے سے زیادہ اچھا لگا ایک ایک سطر اپنا اثر رکھتی دوبارہ پڑھنے کا بہت کم تحاریر میں پہلے سے زیادہ اچھا لگتا اور جو باتیں روانی میں رہ جاتیں ہیں وہ بہت زیادہ پرُاثر ہوتیں ہیں۔
2 ستمبر کا ڈوبتا سورج محمد زین العابدین کی زندگی کا پیغام لے کر آیا۔ اور مغرب کے بعد عشاء سے پہلے نومولود میری گود میں تھا۔ میرا وارث خاموش تھا اور میری ماں رو رہی تھی۔ اس شام میں نے خوشی کے آنسو دیکھے۔ بہت خوبصورت شام تھی۔ ساری عمر یاد رہنے والی شام۔ دوسری بوجھل صبح 22نومبرکی تھی۔ میں سستی سے بستر میں لیٹا تھا۔ نماز کا وقت گزرتا جا رہا تھا۔ اور مجھے اٹھنا عذاب لگ رہا تھا۔ کہ ابو کا فون آیا۔ بیٹا تمہاری پھپھو کا انتقال ہوگیا ہے۔ ہر وقت دعائیں دینے والی مجسم محبت پھپھو دنیا سے کنارہ کر گئی تھی۔ میرے چاہنے والوں میں ایک کی کمی ہوگئی۔ تیسری خوبصورت شام پھر 28 دسمبر کی تھی۔ جب میرا بھانجا اس دنیا میں آیا۔ میں جن سے محبت کرتا ہوں۔ ان میں ایک کا اضافہ ہوگیا۔ جبکہ باقی محبتیں ہنوز اپنی جگہ برقرار۔ اپنی ماں کی بات یاد آرہی ہے کہ محبتیں رزق کی طرح بڑھتی گھٹتی ہیں۔ شاید ہمیں ان میں کشادگی کی دعا مانگتے رہنا چاہیے
پرودگار ہمیشہ ہمیں خوشیاں بے شمار عطا کرتاہے اور کوئی غم ایسا نہں دیتا جو ہماری برداشت سے باہر ہو اور یہی خوشی اور غم ملکر زندگی رواں دواں رہتی ہے بس اصل بات یہ ہے کہ انسان کی سمجھ میں آجائے آپ کے جذبوں کی صداقت ایک ایک سطر میں محسوس ہوتی ہے ۔ڈھیر ساری دعائں ۔سلامت رہیے شاد و آباد رہیے۔۔
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
حسب معمول صبح فجر کے وقت آنکھ کھلی۔ اذانوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کی۔ لیکن دھند کے باعث کچھ نظر نہیں آیا۔ نماز کے بعد چائے بنائی اور کپ پکڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔ آج 2013 کا آخری سورج طلوع ہونے والا ہے۔ میں اس سورج پر ایک الوداعی نگاہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ کیوں؟ مجھے معلوم نہیں۔ گزشتہ کئی سالوں کے ڈوبتے سورج پر الوداعی نگاہ ڈالنا عادت تھی۔ اس سال اپنی روایت بدلنے کا سوچا۔ طلوع ہوتا سورج دیکھا جائے گا۔

سورج کو اس چیز سے کوئی سروکار نہیں کہ کون سا دن سال اور مہینہ ہے۔ وہ تو اپنی روش پر قائم ہے۔ مگر انسان جس کو ہر چیز کو ناپنے تولنے کی عادت ہے۔ اس نے وقت تولنے کو بھی باٹ ایجاد کر رکھے ہیں۔ یہ سال، گزشتہ سال، آنے والا سال۔ انسان جب بھی وقت کی بات کرتا ہے۔ ناپنے کے لیے اسی ترازو کا استعمال کرتا ہے۔ زمین نے اپنا ایک چکر سورج کے گرد مکمل کر لیا۔ 365 دن گزر گئے۔ اس حساب سے عطارد کا ایک سال 88 دن کا بنتا ہے۔ بقول مقبول عامر
کوئی پڑاو نہیں‌ وقت کے تسلسل میں
یہ ماہ سال کی تقسیم تو خیالی ہے​
12 ستمبر کا ڈوبتا سورج محمد زین العابدین کی زندگی کا پیغام لے کر آیا۔ اور مغرب کے بعد عشاء سے پہلے نومولود میری گود میں تھا۔ میرا وارث خاموش تھا اور میری ماں رو رہی تھی۔ اس شام میں نے خوشی کے آنسو دیکھے۔ بہت خوبصورت شام تھی۔ ساری عمر یاد رہنے والی شام۔ دوسری بوجھل صبح 22نومبرکی تھی۔ میں سستی سے بستر میں لیٹا تھا۔ نماز کا وقت گزرتا جا رہا تھا۔ اور مجھے اٹھنا عذاب لگ رہا تھا۔ کہ ابو کا فون آیا۔ بیٹا تمہاری پھپھو کا انتقال ہوگیا ہے۔ ہر وقت دعائیں دینے والی مجسم محبت پھپھو دنیا سے کنارہ کر گئی تھی۔ میرے چاہنے والوں میں ایک کی کمی ہوگئی۔ تیسری خوبصورت شام پھر 28 دسمبر کی تھی۔ جب میرا بھانجا اس دنیا میں آیا۔ میں جن سے محبت کرتا ہوں۔ ان میں ایک کا اضافہ ہوگیا۔ جبکہ باقی محبتیں ہنوز اپنی جگہ برقرار۔ اپنی ماں کی بات یاد آرہی ہے کہ محبتیں رزق کی طرح بڑھتی گھٹتی ہیں۔ شاید ہمیں ان میں کشادگی کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔

یہ سال میرے لیے صرف تین دن کا رہا۔ اس سال کے 362 دنوں کا میرے پاس کوئی حساب نہیں ہے۔ کیسے سورج طلوع ہوئے۔ غروب ہوئے۔ کتنی برساتیں برسیں۔ کچھ یاد نہیں۔ صرف تین دن ایسے ہیں جو میرے سامنے ہیں۔ مجھے یاد ہیں۔ بقیہ سب دن کہرے میں گم ہیں۔ بالکل اس سورج کی طرح جو مشرق سے طلوع تو ہو گیا ہے۔ لیکن کہرے میں گم ہے۔ اس طرح یہ سال کا ہندسہ بھی کہرے میں گم ہونے والا ہے۔ کل کے سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی کہرا اور گہرا ہوجائے گا۔ اور محض تین دن اپنا نشان برقرار رکھ کر مجھے یہ احساس دلائیں گے کہ یہ سال بھی کبھی زندگی میں آیا تھا۔
بہت عمدہ اور جاندارتحریر۔
خوب نیرنگ بھیا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
سچ نین بھیا دوبارہ پڑھا پہلے سے زیادہ اچھا لگا ایک ایک سطر اپنا اثر رکھتی دوبارہ پڑھنے کا بہت کم تحاریر میں پہلے سے زیادہ اچھا لگتا اور جو باتیں روانی میں رہ جاتیں ہیں وہ بہت زیادہ پرُاثر ہوتیں ہیں۔

پرودگار ہمیشہ ہمیں خوشیاں بے شمار عطا کرتاہے اور کوئی غم ایسا نہں دیتا جو ہماری برداشت سے باہر ہو اور یہی خوشی اور غم ملکر زندگی رواں دواں رہتی ہے بس اصل بات یہ ہے کہ انسان کی سمجھ میں آجائے آپ کے جذبوں کی صداقت ایک ایک سطر میں محسوس ہوتی ہے ۔ڈھیر ساری دعائں ۔سلامت رہیے شاد و آباد رہیے۔۔
سچ کہا اپیا۔۔۔۔ کہ پروردگار ہمیں بہت خوشیاں عطا کرتا ہے۔ اور ہماری زندگیاں لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا کی عملی تفسیریں ہیں۔ آپ کی طرف سے دوبارہ داد پا کر نہال ہوگیا۔اس نوازش و کرم پر تو شکریہ بھی ادا نہیں کر سکتا۔۔۔۔ کہ حق تو یہ ہے والا معاملہ ہوجائے گا۔
 

سیما علی

لائبریرین
سچ کہا اپیا۔۔۔۔ کہ پروردگار ہمیں بہت خوشیاں عطا کرتا ہے۔ اور ہماری زندگیاں لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا کی عملی تفسیریں ہیں۔ آپ کی طرف سے دوبارہ داد پا کر نہال ہوگیا۔اس نوازش و کرم پر تو شکریہ بھی ادا نہیں کر سکتا۔۔۔۔ کہ حق تو یہ ہے والا معاملہ ہوجائے گا۔
بہت سارا پیار دل آپ سے اپنائیت محسوس کرتا اور خودبخود دعائیں نکلتیں ہیں آپ کے لئیے اللّہ بے حساب خوشیاں عطا فرمائے سنبھالے نہ سنبھلیں بچوں کو اور دلہن کو بہت سا پیار ۔۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
بہت سارا پیار دل آپ سے اپنائیت محسوس کرتا اور خودبخود دعائیں نکلتیں ہیں آپ کے لئیے اللّہ بے حساب خوشیاں عطا فرمائے سنبھالے نہ سنبھلیں بچوں کو اور دلہن کو بہت سا پیار ۔۔۔۔
اللہ پاک یہ حسن گماں قائم رکھے۔ آمین
 

جاسمن

مدیر
نینی بھیا پتا ہے کیا!
لکھنے والے بہت سے ہوتے ہیں۔۔۔الفاظ تحریر کرنے انہیں ربط دینے والے بے شمار۔۔۔لیکن چند ایک خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جن کے الفاظ کو اللہ تعالی نے یہ تاثیر بخشی ہوتی ہے کہ وہ چپ چاپ دل میں اتر کر روشنی سی بکھیر دیتے ہیں۔۔۔۔!
گویا اک چاشنی سی۔۔۔!! حلاوت سی محسوس ہوتی ہے اور آنکھیں ان مسکراتے لفظوں کو دیکھ کر خوش ہوتی ہیں۔۔۔مجھے ہمیشہ ایسے جاندار لفظوں کی تلاش رہتی ہے جو کسی کا راستہ روکیں نہیں بلکہ انہیں کئی بند دریچوں کو کھولنے کی طرف لگا دیں۔۔۔!
جو ناامید نہ کریں ۔۔۔جو گھٹن نہ دیں ۔۔۔اور جنہیں پڑھ کر بہت سی راہیں کھلنے لگیں۔۔۔!!
آپ کی ان خوبصورت تحریروں کے یہ نکھرے الفاظ مجھے ہمیشہ متاثر کرتے ہیں۔۔۔ہمیشہ خوش رہیں اور ایسے ہی اپنےلفظوں کو جاندار تحریروں کا روپ دیتے رہیئے۔۔۔!!

تبصرہ زبردست ہے۔ اور واقعی ایسا ہے۔
 
Top