کھیل : عبداللہ طارق سہیل

یوسف-2

محفلین
بلوچستان میں گورنر راج ایک اور ’’رحم دلانہ‘‘ مذاق ہے۔ ’’رحم دل‘‘ آپریشنوں میں نہائے ہوئے اس صوبے کی صورتحال پر سپریم کورٹ نے ایکشن لیا اور آئینی حل بتایا۔ عدالت کے الفاظ واضح تھے، ’’حکومت نااہل ہے۔ اسمبلی کے خلاف کوئی بات نہیں کی ‘‘ عدالت کی بات مان لی جاتی تو اسمبلی بھی رہتی اور کرپٹ، بے حس اور بے شرم رئیسانی سے نجات بھی مل جاتی لیکن حکومت نے عدالت کی بات نہیں مانی، دھرنے کا مطالبہ مان لیا۔ اور ثابت کر دیا کہ وہ لاتوں کی بھتنی ہے۔ ایسے گورنر راج کی آئین میں گنجائش نہیں۔ اس کے نتیجے میں حالات اور زیادہ خراب ہوں گے۔ ان لوگوں پر ’’ترس‘‘ کھانا چاہئے اور ان کی قابل رحم حالت پر چھوڑ دینا چاہئے جو یہ رائے دے رہے ہیں کہ گورنر راج سے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ بلوچستان میں جو گل کھل رہے ہیں، وہ ایجنسیاں کھلا رہی ہیں، گورنر ان کا کیا کر لے گا۔ سچ یہ ہے کہ بلوچستان کے بحران کو اب زیادہ خطرناک موڑ کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ علیحدگی کے راستے آسان کئے جا رہے ہیں۔ہمارے ’’ناخدا‘‘ زور آور ہیں، کوئی ان کا احتساب کر سکتا ہے نہ ان کا ہاتھ روک سکتا ہے۔ اور یہ رئیسانی اب کہہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت پر شب خون مارا گیا۔ پانچ سال تک وہ صوبے پر شب خون ہی نہیں، دن خون بھی مارتے رہے، حد ہے ابھی تک دل بھرا نہیں۔ تاریخ نے بہت بے شرم دیکھے ہوں گے لیکن ایسا جیّد بے شرم نہیں۔ وہ تو کچھ ایسے کمال کے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا سن کر روایتی بے شرم بھی پانی پانی ہو جائیں۔ لاہور ہائیکورٹ بار نے مطالبہ کیا ہے کہ رئیسانی کو گرفتار کیا جائے۔ کون کرے گا۔ اور پھر ایک ہی کو کیوں پکڑا جائے۔ وہ جو سب پر بھاری ہے، اس نے ہر جگہ اور ہر عہدے پر چن چن کر صرف ایسے لوگ لگائے ہیں جو بس ایک کام کر سکتے ہیں۔ وہ کام کیا ہے، بتانے کی ضرورت نہیں۔ حکومت سے لے کر بیورو کریسی تک اپنے کام میں دن رات جتے ایسے افراد کی گنتی کئی سوکی ہے۔ اور رئیسانی نام کا یہ نیم بے ہوش مسخرا ان میں سے محض ایک ہے۔ ایک کو پکڑنے کاکیا فائدہ، پکڑنا ہے تو ان سینکڑوں میں سے ہر ایک کو پکڑا جائے اور اب تک کی ’’ساری پیداگیری‘‘بھی وصول کی جائے۔
علامہ ناگہانی کہتے ہیں، وہ روحانی انقلاب برپا کر رہے ہیں۔ کس قسم کا روحانی انقلاب۔ یہ خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ہیڈ سلیمانکی میں علامہ صاحب کے نوجوان اور ادھیڑ عمر روحانیین لانگ مارچ کے لئے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک65سالہ غازی محمد یار کو روک کر حکم دیا، لانگ مارچ میں چلو۔ یار محمد نے کہا کہ وہ بوڑھا اور بیمار ہے، اتنی دور نہیں جا سکتا۔ یہ سن کر روحانیین کا مقامی گرو غلام فخری طیش میں آگیا اور بزرگ کو ٹھڈے، مکے اور لاتیں مار مار کر بے ہوش کر دیا۔ روحانی لوگ وفورِ روحانیت سے اکثر بے خود ہو جاتے ہیں۔ لیکن دوسروں کو اس طرح بے خود کرنا پہلی بار سنا۔ بے خود کرنے کے لئے لاتوں ، ٹھڈوں اور گھونسوں کا استعمال علامہ صاحب کے روحانیین کی بالکل نئی ایجاد ہے۔ سچ ہے، موصوف روحانیت کے بھی مجدّد ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ پاکستان میں منصوبہ بندی کے تحت بڑا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور بم دھماکے اسی کھیل کا حصہ ہیں اور اسی کے دوران طاہر القادری بھی اچانک سامنے آگئے اور دوسری طرف بھارت نے سرحد پر کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت کے آئینی خاتمے میں دو ماہ رہ گئے ہیں ۔اخبار نے لکھا ہے کہ یہ واقعات ایک لکھے گئے سکرپٹ کے تحت کئے جا رہے ہیں۔ ایک اور اخبارہٹنگٹن پوسٹ نے حیرت ظاہر کی ہے کہ علامہ موصوف آئینی تبدیلیوں کے لئے غیر آئینی مطالبات کیوں کر رہے ہیں۔ وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور اتنے بھاری فنڈ انہیں کہاں سے مل رہے ہیں۔ بہت زیادہ درست تجزیئے کرنے والے برطانوی جریدہ اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ قادری کی خواہش ’’راولپنڈی‘‘ کی خواہش ہے اور وہ فوج کے گھوڑے پر سوار ہیں اور پاکستان کی تاریخ کی بھیانک ترین غلطی ہونے جا رہی ہے اور یہ پاکستان کا افسوسناک موڑ ہوگا۔ ممتاز دفاعی ماہر اور مبصر جنرل اسلم بیگ نے کہا ہے کہ امریکہ نے الیکشن روکنے کے لئے قادری کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ہوئے تو نواز شریف حکومت میں آئیں گے اور امریکہ کو نواز شریف کا حکومت میں آنا گوارا نہیں کیونکہ وہ امریکہ کا حکم نہیں مانتا۔ کہانی صاف ہے۔ تشریح کی ضرورت نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مقتدر ادارے کرپشن پر پریشان ہیں حالانکہ کرپشن تو ’’زیر سرپرستی‘‘ ہے اور یہ کیسی پریشانی ہے جو الیکشن سے عین پہلے پیدا ہوگئی ہے۔ اصل بات وہی ہے یعنی یہ ڈر کہ امریکہ کا حکم نہ ماننے والے آجائیں گے۔افغان صورت حال اور کشمیر کے مسئلے کا تقاضا ہے کہ پاکستان کو ایک ناکام، ٹوٹتی پھوٹتی ریاست بنا دیا جائے۔ امریکہ یہ چاہتا ہے اور ’’پریشان‘‘ حضرات کا فائدہ بھی اسی میں ہے۔ آخر یہ ’’تقاضا‘‘ ہی تو ہے کہ مشرف اور اس کے مرید بے صفا شیخ رشید سمیت سارے ’’پارسا اور متقی پرہیز گار‘‘لوگوں نے اچانک ہی علّامہ کی حمایت شروع کر دی ہے۔
لانگ مارچ کے نتیجے ابھی نہیں نکلیں گے تو بعد میں نکلیں گے۔ یہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے لیکن ایک نتیجہ تو نکلا، زبردست ’’اکنامک ایکٹویٹی‘‘ کی شکل میں۔ جلسے پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ ہوئے، لانگ مارچ پر5سے7ارب روپے کا خرچہ ہوا۔ یہ محتاط اندازہ ہے، صحیح تو زیادہ کا ہوگا۔پانچ پانچ کروڑ کی رقم تو چار اینکر پرسنوں کے پروگرام خریدنے پر لگی۔ فی اینکر نہیں، فی پروگرام۔ کل دس پروگرام ہوں گے۔ 50 کروڑ تو یہی لگے۔بیضوی پیٹ اور نیم بیضوی چہرے والے ’’خان‘‘ نے سب سے زیادہ ہاتھ رنگے۔ ملک ریاض کی سخاوت بھی اسی اینکر پر سب سے زیادہ برسی تھی۔ چنانچہ غور فرما لیجئے، کتنے لوگوں کا بھلا ہوا ہوگا۔ کتنے تشہیری اداروں نے اپنے ملازموں کو بونس دیئے ہوں گے۔ ہزاروں دیہاڑی داروں کی ہفتے بھر کی نہیں تو دو چار دن کے لئے چولہا گرم کرنے کی تدبیر تو ہوگئی۔ کچھ لوگ مذاق کے انداز میں کہتے ہیں کہ لاہور سے تین لاکھ افراد لے کر نکلنے کا دعویٰ تھا، صرف سات ہزار کا ’’لانگ مارچ‘‘ کیوں نکلا اور اسلام آباد میں40لاکھ کا دعویٰ تھا، ایک لاکھ بھی نہیں آئے ۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سات آٹھ ارب روپے کی سرمایہ کاری تو ہوگئی۔اور یہ پوچھنا تو نادانی ہے کہ اتنے ارب در ارب کی دولت کہاں سے آئی۔ پہنچے ہوئے بزرگوں کو ’’دست غیب‘‘ تک غیبی رسائی ہوتی ہے۔ اور غریبوں کی بات آئی تو وہ دو غریب یاد آگئے جو ایک غریب پر ور ملک ریاض کا دامن پکڑ کر آستانہ انقلاب جا پہنچے تھے۔ انقلابِ دوراں نے فرمایا کہ ملک ریاض کی موجودگی میں بات نہیں کروں گا۔ (یہ سچ ہی تھا۔ اضافی بدنامی مول لینے سے کیا فائدہ) دونوں غریب بھائیوں نے انہیں بتایا کہ ملک ریاض غریبوں کو بہت کھلاتے ہیں‘‘ دونوں غریبوں کو ملک ریاض نے یقیناًپیٹ بھر کر کھلایا ہوگا اور دونوں غریبوں نے جھولیاں اٹھا اٹھاکر دعائیں بھی دی ہوں گی۔ جس طرح اب تک وہ زرداری کیلئے جھولیاں اٹھاتے رہے اور جس طرح اس سے پہلے مشرف کے لئے اٹھاتے رہے اور جس طرح اس سے بھی پہلے نواز شریف کے لئے اٹھاتے رہے۔ غریبوں کی اس سدا بہار جھولی بردارجوڑی کی خیر! (روزنامہ نئی بات 16 جنوری 2013 ء)
 

یوسف-2

محفلین
کرپشن ، مہنگائی ، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ ، خود کُش حملوں اور بم دھماکوں کے باوجود ارضِ وطن کی فضاؤں میں امیدوں اور آشاؤں کی توانا کرنیں پھوٹتی دکھائی دیتی ہیں ۔بیباک میڈیا اور آزاد عدلیہ نے اذہان و قلوب کے دھندلے آئینوں کو یوں صیقل کیا ہے کہ اب ان میں ہر کسی کا باطنی عکس دکھائی دینے لگا ہے ۔شعور کے نور نے شبِ تار میں دراڑیں ڈال دیں اور وہ دَور لد گیا جب مایوسیوں کی ’’بُکل‘‘ مارے یہ قوم کہا کرتی تھی کہ​
دور لگے وہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں
پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھلائے گا​
لاریب یہ اُن ہزاروں شہیدوں کے لہو کی کرشمہ سازی ہے جس نے وطن کی مٹی کو بھگو کر ہمیں شعور اور آگہی کی اِس منزل تک پہنچایا اور ہماری کچھ کر گزرنے کی اُمنگوں کو پھر سے جوان کر دیا ۔گھر گھر میں صفِ ماتم بچھی اور در در پہ نوحہ خوانی ہوتی رہی لیکن فراعینِ وقت اپنی ذات کے گنبد میں گُم رہے ۔لہو ٹپکتا رہا ، جمتا رہا اورپھر جمتے لہو کا پہاڑ کھڑا ہو گیا اور اب اسی پہاڑ کی چوٹیوں سے پھوٹنے والی نور کی کرنیں زمینی خُداؤں کو للکاررہی ہیں ۔قوم نے اپنے پیاروں کے ہزاروں لاشے اُٹھائے اور تقدیر پہ شاکر ہو کر اُنہیں دھرتی کی کوکھ میں چھپا دیا لیکن جب ضبط کے سارے بندھن ٹوٹے تو پھر چشمِ فلک نے وہ عجب نظارہ دیکھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر پائے گی ۔آفرین ہے اُن ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اور بوڑھوں کے حوصلے پر جنہوں نے اپنے وجود کے ٹکڑوں کو سڑک پر سجا کر قبرستانوں کا سا خاموش احتجاج کرکے پوری دُنیا کو لرزا دیا ۔کسی اورمیں بھلا اتنی سکت اور تاب و تواں کہاں جو وہ لہو جماتی سردی میں کھُلے آسمان کے نیچے کفن میں لپٹے اپنے پیاروں کو تکتے تکتے اسّی گھنٹے گزار دے ۔تاریخ اُدھیڑ کے رکھ دیجئے ،آپ کو ایسا دلدوز ، اندوہناک اور کربناک احتجاج کہیں نہیں ملے گا۔تحقیق کہ اگر بوکھلائے ہوئے حکمران گورنر راج کا اعلان نہ کرتے تو انقلاب آتا ۔۔۔ خونی انقلاب ، جس میں یہ سبھی غرق ہو جاتے ۔انقلاب تو خیراب بھی آئے گا کہ ’’شہدائے کوئٹہ‘‘ نے انقلاب کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے البتہ یہ طے ہونا باقی ہے کہ عوام یہ انقلاب ووٹ کی طاقت سے لائیں گے یا سروں کی فصل کاٹ کے ۔چشمِ بینا دیکھ رہی ہے کہ دورِ گراں خوابی گزر چکا اور وہ وقت قریب لگا ہے کہ​
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں ، اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں ، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے۔​
انگڑائی لے کر بیدار ہونے والی حق و صداقت کی آندھیوں نے ہر مقہور کے ذہن میں یہ الفاظ رکھ دیئے ہیں کہ ہماری ماؤں نے ہمیں غلام نہیں جنا، نہ ہم سدھائے ہوئے بندر ہیں جو ہر صاحبِ مکر و ریا کی ڈُگڈی پر ناچنے لگیں ۔منزل قریب آ لگی تو کچھ شعبدہ باز اپنے کرتب دکھانے میدان میں اُتر آئے ۔حکمرانوں کو تو گزرے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہی ہو گااور قوم بد دیانتوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھیکنے کے لئے بیتاب بھی ہے لیکن اِن ’’درآمدی رہزنوں‘‘ کے ذہنوں میں چھُپے زہر سے آگہی بھی ضروری ہے ۔اہالیانِ فکر و نظر اور صاحبانِ بصارت و بصیرت کا فرض ہے کہ وہ دھرتی ماں کا قرض اتارتے ہوئے قوم کو آگاہ کریں کہ یہ نو وارد جو یک سو قوم میں تفرقہ ڈالنے آئے ہیں منصورِ حقیقت نہیں ابنِ ابی ہیں اور حسینیت کا پرچار کرنے والے در اصل یزیدیت کے علمبردار ہیں کہ خلفائے راشدین کا نظام لوٹانے کا دعویٰ کرنے والے کبھی بارہ بارہ کروڑ لاگت کے بُلٹ پروف اور بم پروف کنٹینروں میں سفر کرتے ہیں نہ بُلٹ پروف لینڈ کروزروں میں ۔تینوں خلفائے راشدینؓ نے یکے بعد دیگرے شہادت قبول کر لی لیکن بیت المال سے اپنی حفاظت کے لئے ایک درہم بھی صرف کرنا گوارا نہ کیا ۔لیکن یہ غیر ملکی مولوی موت کے خوف سے لرزہ براندام چوہے کی طرح اپنے بُلٹ پروف بِل میں گھُسا بیٹھا ہے ۔اُس شعبدہ باز نے لانگ مارچ سے پہلے اپنی وصیت لکھوائی حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اُس پر خود کُش حملے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ خود کُش حملہ حکیم اللہ محسود کے حکم سے ہوتا ہے اور حکیم اللہ امریکی ایجنٹ جبکہ مولوی امریکہ کا چہیتا اور دونوں کا مقصد اور ایجنڈا ایک ، انارکی اور صرف انارکی ۔میں نے اپنے پچھلے کالم میں عرض کیا تھا کہ پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے ہر طالبان کمانڈر کو حکیم اللہ کی مخبری پر ڈرون کا نشانہ بنا لیا جاتا ہے۔کالم کی اشاعت کے اگلے ہی روز جنوبی وزیرستان کے کمانڈر مُلّا نذیر کو ڈرون کی غذا بنا دیا گیا ۔مُلّا نذیر کے بارے میں ہماری ایجنسیاں ہی نہیں بلکہ بہت سے واقفانِ حال بھی جانتے تھے کہ وہ حکومت سے مذاکرات کا جذباتی حامی تھا اور اسی بنا پر اُس کے حکیم اللہ محسود سے شدید اختلافات بھی پیدا ہو چکے تھے ۔
جب کروڑوں ڈالرز سالانہ کی سیکولر دانشوروں اور این جی اوز پر سرمایہ کاری کے باوجود امریکہ حصولِ مقصد میں ناکام رہا تو اسے بھی ادراک ہو گیا کہ پاکستان کے دین سے والہانہ محبت کرنے والے مسلمانوں کے لیے یہ سیکولر دانشور اور این جی اوز، ناکافی ہیں ۔تبھی اُس نے ایک ایسا مولوی بھیجنے کا فیصلہ کیا جو دینِ اسلام کی وہی تشریح کرتا ہے جو امریکہ کو مرغوب ہے ۔میرا دین تو جھوٹے پر ہزار لعنت بھیجتا ہے لیکن اِس’’مسیلمہ کذاب ‘‘ کی پوری زندگی ہی جھوٹ سے عبارت ہے ۔ اُس نے پہلے لاکھ ڈیڑھ لاکھ کے مجمعے کو پچیس لاکھ اور پچیس میل تک پھیلا دیا اور اب جب کہ خفیہ ایجنسیاں اور سارا میڈیا چیخ رہا ہے کہ لانگ مارچ کا مجمع کسی بھی صورت میں چالیس ،پینتالیس ہزار سے زیادہ نہیں تو مولوی صاحب اسے چالیس لاکھ قرار دے رہے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہ ابھی دس لاکھ لوگ پیدل بھی آ رہے ہیں ۔جب لانگ مارچ کے شرکاء کی تعداد دس سے پندرہ ہزار رپورٹ کی جا رہی تھی تب ایک ٹاک شو میں منہاج القرآن کے ترجمان ریاض قریشی نے یہ تعداد ایک لاکھ بتائی اور عین اسی وقت مولوی صاحب یہ تعداد دس لاکھ بتا رہے تھے ۔مولوی صاحب سے اندھی عقیدت میں گُم اس کے پیرو کاروں کو عقلِ سلیم کا تھوڑا سا استعمال کرتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا دینِ مبین کے علمبردار اتنے جھوٹے بھی ہوا کرتے ہیں؟۔انہیں یہ بھی مدِّ نظر رکھنا ہو گا کہ​
قول کے کچے لوگوں سے نسبت پر کیسا ناز
دھوبی کے کُتّے کا کیا ہے ،جس کا گھر نہ گھاٹ​
جو شخص 23دسمبر سے اب تک سینکڑوں بار اپنے بیانات بدل چکا ہو ، حکومت سے تحریری معاہدہ کرکے مکر چکا ہو اور جس کے قول و فعل میں تضاد ہی تضاد ہو اسے دینِ مبیں کا علمبردار کہنا بذاتِ خود گناہِ کبیرہ ہے ۔مولوی صاحب نے اعلان فرمایا ہے کہ صدر ،وزیرِ اعظم اور وزراء سابق ہو گئے ، اسمبلیاں ختم ہو چکیں اور اب سفرِ انقلاب شروع ہو گیا ۔اُس نے زرداری ، پرویز اشرف ،نواز شریف اور اسفند یار ولی کو قدم بوسی کے لیے حاضر ہونے کا حکم بھی دیا ہے ۔ایسی باتیں کوئی مخبوط الحواس شخص ہی کر سکتا ہے اور سچ کہا ہے سینیٹر پرویز رشید نے کہ اسے شخص کو جیل بھیج دینا چاہیے یا پاگل خانے لیکن شاطر رحمٰن ملک کا پروگرام کچھ اور ہے ۔جس طرح وہ مولوی قادری کو ڈھیل دیتے جا رہے ہیں اس سے صاف نظر آتا ہے کہ ملک صاحب نے مولانا قادری کو بھی سوات کے صوفی محمد کے سے انجام کو پہنچانے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔حکومت نے صوفی محمد کو ڈھیل دیتے دیتے اُس مقام تک پہنچا دیا کہ وہ آپے سے باہر ہو گیا اور یہی حربہ اب مولوی طاہر القادری کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
(پروفیسر مظہر کا کالم۔ نئی بات 16 جنوری 2013)​
 

یوسف-2

محفلین
مستنصر حسین تارڑ کا کالم، نئی بات 16 جنوری 2013 ء​
آپ نے وہ مشہور ملی نغمہ ضرور سنا ہو گا۔۔۔ اگر آپ موسیقی کو حرام نہیں سمجھتے تو سنا ہو گا۔۔۔ کہ اے قائداعظم ترا احسان ہے احسان۔۔۔ اس پر کسی دل جلے نے کہا تھا۔۔۔ لیکن ذرا ٹھہریئے۔۔۔ کسی بھٹو جلے۔۔۔ ضیاء الحق جلے۔۔۔ یحییٰ خان جلے۔۔۔ نوازشریف جلے۔۔۔ پرویز مشرف جلے۔۔۔ اور زرداری جلے نے کہا تھا کہ۔۔۔ اے قائداعظم ہم نے تمہارا آدھا احسان تو پچیس برس کے اندر اندر ہی اتار دیا تھا۔۔۔ بقیہ آدھا بھی انشاء اللہ جلد از جلد اتار دیں گے۔
ان دنوں ہم نہایت خشوع و خضوع سے قائداعظم کا بقیہ آدھا احسان اتارنے کی تابڑ توڑ کوششیں دن رات کر رہے ہیں۔۔۔ اور ماشاء اللہ تقریباً پوری قوم اس کاوش میں مشغول ہے۔۔۔ مشرقی پاکستان کی شکست کے بعد جبکہ ہمارے ایک ٹائیگر جنرل نے کس خوش اسلوبی سے جنرل اروڑہ کے سامنے اپنی وردی اتاری تھی، اپنا پستول مسکراتے ہوئے اس کے حوالے کیا تھا کہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔۔۔ میں نے اس بحث کے دوران کہ مسلمانوں کی تاریخ میں سب سے بڑی ہزیمت اور رسوائی کا ذمہ دار کون تھا، ایک کالم میں مشہور جاسوسی ناول نگار آگاتھا کرسٹی کے ناول ’’مرڈر آن دے اورئینت ایکسپریس‘‘ کا حوالہ دیا تھا۔۔۔ استنبول سے پیرس جانے والی ٹرین میں اور مجھے اس ٹرین پر سفر کرنے کا متعدد بار اتفاق ہو چکا ہے ایک قتل ہو جاتا ہے۔۔۔ کرسٹی کا مرکزی جاسوسی کردار ہرکیول پوٹرٹ بھی اس ٹرین کا مسافر ہے۔۔۔ اس کی تحقیق سے کھلتا ہے کہ قتل کسی ایک شخص نے نہیں کیا بلکہ اس ٹرین میں سوار جتنے بھی مسافر ہیں وہ سب کے سب مجرم ہیں۔ ہر مسافر نے اس شخص کے بدن میں باری باری خنجر اتارا ہے۔۔۔ سب مجرم ہیں۔۔۔ تو مشرقی پاکستان کی شکست کو بھی صرف بھٹو، یحییٰ خان یا ایوب خان کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔۔۔ سب کے سب شریک تھے۔۔۔ جنرل، سیاستدان، صحافی، عوام ۔۔۔ سب کے سب شریک تھے۔ مشرقی پاکستان پر فوج کشی پر کیسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا تھا کہ پاکستان بچ گیا ہے، صرف دو تین درجن لوگ تھے جو ریگل چوک میں جمع ہوئے اور احتجاج کیا اور انہیں غدار ٹھہرایا گیا۔۔۔ او رآج اتنے برسوں بعد تقریباً وہی صورت حال ہے لیکن اس سے بدتر۔۔۔ جنرل، سیاستدان، صحافی اور۔۔۔ نہیں اس بار عوام نہیں بقیہ لوگ شامل ہیں۔۔۔ سب کے سب شریک ہیں۔ ایک اور بڑے جرم، ایک قتل کی جانب دیوانہ وار بڑھ رہے ہیں، کہیں بلاول زرداری کی تاجپوشی ہو رہی ہے اور پاکستان سے باہر زندگی کرنے والا ایک نوجوان ہمارا مسیحا ڈیکلئر کیا جا رہا ہے۔۔۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ ادھر حمزہ شہباز اور مونس الٰہی ہماری تقدیروں کے فیصلے کر رہے ہیں،کہیں کسی کینیڈین پادری صاحب کو یکدم خیال آتا ہے کہ پاکستانی عوام میری مسیحائی کے منتظر ہیں۔۔۔ اور چونکہ میں وہ واحد شخص ہوں جس پر دن رات بشارتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے اس لئے کچھ حرج نہیں کہ میں ایک مُوسیٰ کا کردار ادا کرتے ہوئے اس قوم کو دریائے نیل کے پار لے جاؤں۔۔۔بے شک اس مقدس لبادے پر میرے خون کے دھبے نہ تھے، بکرے کے خون کے تھے اور ایک ناہنجار جج نے جو فیصلہ دیا تھا اس کے آغاز میں مجھے جھوٹا اور فریبی قرار دیا گیا تھا۔ اگر تفصیل درکار ہے تو ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کا وہ شمارہ دیکھ لیجئے جس میں یہ عدالتی فیصلہ شائع ہوا تھا۔۔۔ اور کہیں وہ باضمیر صحافی ہیں جو پاکستانی طالبان کی شان میں دن رات ڈفلیاں بجاتے ہیں۔۔۔ آپ نے بھی یقیناًوہ کالم پڑھے ہوں گے جن میں ان کے دفاع میں کہا گیا کہ طالبان میں تو بہت پڑھے لکھے لوگ، ڈاکٹر اور انجینئر لوگ ہیں وہ بھلا تعلیم کے خلاف کیسے ہو سکتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے سوات کے تقریباً ڈیڑھ سو تعلیمی اداروں میں سے بہت سے کھنڈر دیکھے ہیں، بلکہ خیبر میڈیکل کالج کے سالانہ فنکشن میں شرکت کے دوران مجھے ایک ماڈل تعلیمی ادارے میں مدعو کیا گیا تھا جہاں جدید علوم کے علاوہ دینی تعلیم کا بھی بندوبست تھا۔۔۔ یہ ادارہ بھی خش و خاشاک کر دیا گیا۔۔۔ تو یہ کون لوگ ہیں۔۔۔ اگر تو وہ ہمارے کچھ اخبار نویسوں کے محبوب نہیں ہیں تو وہ کیوں اعلان نہیں کرتے کہ تعلیمی اداروں کی تباہی میں ہمارا کچھ ہاتھ نہیں۔۔۔ یہ کوئی اور لوگ ہیں جن کی ہم مذمت کرتے ہیں۔۔۔ ایک اور کانٹا ملالہ کی صورت میں ان کے بدن میں کُھبا ہوا ہے۔۔۔ اور وہ واویلا کرتے ہیں کہ اگر اس کے دماغ میں گولی لگی تھی تو ہائے ہائے وہ اب تک زندہ کیوں ہے، چلتی پھرتی کیوں ہے، مر کیوں نہیں گئی، گولی کا نشان کہاں ہے۔ ویسے بھی دشمن اسلام اگر ایک بچہ ہو تو اس کا قتل تو بہرطور جائز ٹھہرتا ہے۔انہیں ملالہ کے بچ جانے کا بہت قلق ہے۔۔۔ کاش کہ وہ مر جاتی اور ان کے کلیجے ٹھنڈے ہو جاتے۔ بے شک فریقین نے ملالہ کو اپنے اپنے سیاسی اور خودغرض ایجنڈے کے لئے استعمال کیا۔ انہوں نے اس کا قتل جائز قرار دیا اور انہوں نے اسے ایک ہیروئن کے طور پر دنیا بھر میں استعمال کیا۔ لیکن۔۔۔ بہرطور وہ ایک بیٹی تھی اور اسے قتل کرنے کی سعی جمیلہ کرنے والے کیسے جری اور بہادر تھے، یہ تو ماننا پڑے گا۔ مجھے یاد ہے جب اسلامیہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں ایم اے اسلامیات کی تین طالبات کے پرخچے اڑ گئے تھے اور ان کے خون آلود ہاتھوں میں احادیث کی کتابیں اور اسلامی قوانین کے مسودے تھے تو میں نے ایک کالم ’’تین عجیب سی دلہنیں‘‘ تحریر کیا تھا۔ ان میں سے ایک بچی کے والد نے مجھے ایک خط لکھا تھا۔ اپنی بیٹی کی اسلام سے مکمل وابستگی کا تذکرہ کیا تھا اور مجھ سے پوچھا تھا کہ تارڑ صاحب میری بیٹی کا کیا قصور تھا۔۔۔ انہی دنوں ایک سیاسی جماعت کے کارکن ڈرون حملوں اور عافیہ صدیقی کی اسیری کے حوالے سے ایک مہم چلا رہے تھے اور عوام الناس سے ایک احتجاجی مراسلے پر دستخط کروا رہے تھے۔ تب میں نے ان سے کہا تھا کہ میں صدق دل سے امریکہ کی اس وحشیانہ کارروائی کی نہ صرف مذمت کرتا ہوں بلکہ عافیہ صدیقی کو اپنے نظریات پر مکمل وابستگی کے نتیجے میں امریکی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہوں، کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ اس احتجاجی مراسلے میں اسلامیہ یونیورسٹی میں ہلاک ہونے والی ان تین طالبات کو بھی شامل کریں جو اسلامیات میں ایم اے کر رہی تھیں۔۔۔ تو جواب آیا کہ تارڑ صاحب۔۔۔ وہ معاملہ کوئی اور ہے۔ ان کی ہلاکت کا کچھ جواز ہے۔۔۔ جبکہ عافیہ کی نظربندی کا کچھ جواز نہیں۔۔۔مجھ کم فہم کی فہم میں یہ کیوں نہیں آتا کہ انصاف کے معیار دوہرے ہو چکے ہیں۔ وہ ’’تین عجیب سی دلہنیں‘‘ کے لئے اور ہیں او رڈرون حملوں اور عافیہ کے لئے کچھ اور ہیں۔ (جاری ہے)
 

نگار ف

محفلین
idr4.gif
 
وہ صوفی محمد تھا اور یہ طاہر القادری ہے دونوں میں فرق ہے وہ ٹرپل ایجنٹ تھا اور ڈاکٹر صاحب کسی کے ایجنٹ نہیں ہیں میری تازہ ترین معلومات کے مطابق۔ کم عقل پرفیسر مظہر کو اتنا پتہ نہیں کہ شیطان ملک کا اپنا کیا حال ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔
یوسف-2 صاحب پتہ نہیں آپ کا ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کیا خدا واسطے کا بیر ہے کہ آپ ہمیشہ ڈاکٹر صاحب کے خلاف جو بھی کالم شائع ہوتا ہے وہ جھٹ سے پیش کردیتے ہیں اور جو حق میں ہوتا ہے وہ عینک کی یا لینس کی وجہ سے آپ کو نظر نہیں آتا ہے غالبا اس پر میڈ ان نجد کی عینک لگی ہوئی ہے۔
نوٹ: قارئین میں خود کل تک ڈاکٹر صاحب کو فوج کا ایجنٹ سمجھتا تھا لیکن کل جاوید چوہدری جو کہ ایک سچا محب وطن آدمی ہے اس نے باقاعدہ دلائل سے اس بات کو ثابت کیا کہ ڈاکٹر صاحب نہ تو یورپ کے ایجنٹ ہیں اور نہ ہی فوج کے ایجنٹ ہیں۔
محمود احمد غزنوی الف نظامی
 
سیدھی سی بات ہے روحانی بابا جی۔۔۔۔یہ باتیں جو ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کہہ رہے ہیں، اگر یہی باتیں جمعیت اہلحدیث، سپاہِ صحابہ، بنوری ٹاؤن،جماعتِ اسلامی، لشکرِ جھنگوی ، جے یو آئی یا طالبان کہہ رہے ہوتے تو ان لوگوں نے آنکھیں بند کرکے آمنّا وصدّقنا کہنا تھا۔۔یہ وہی لوگ ہیں جو جمہوریت کو کفر اور طاغوت کا نظام کہتے نہیں تھکتے، لیکن اگر مخالف مسلک کے کسی مشہور بندے کو اللہ کی جانب سے عزت اور عوام میں پذیرائی مل رہی ہو، اور وہ نظام کی درستگی کی بات کر رہا ہوتو یہ سب لوگ مل کر اپنا تھوکا چاٹنے لگتے ہیں اور یکلخت انہین جمہوریت خطرے یں نظر آنے لگ پڑتی ہے۔۔۔ سمجھا کریں:wink:
 
سیدھی سی بات ہے روحانی بابا جی۔۔۔ ۔یہ باتیں جو ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کہہ رہے ہیں، اگر یہی باتیں جمعیت اہلحدیث، سپاہِ صحابہ، بنوری ٹاؤن،جماعتِ اسلامی، لشکرِ جھنگوی ، جے یو آئی یا طالبان کہہ رہے ہوتے تو ان لوگوں نے آنکھیں بند کرکے آمنّا وصدّقنا کہنا تھا۔۔یہ وہی لوگ ہیں جو جمہوریت کو کفر اور طاغوت کا نظام کہتے نہیں تھکتے، لیکن اگر مخالف مسلک کے کسی مشہور بندے کو اللہ کی جانب سے عزت اور عوام میں پذیرائی مل رہی ہو، اور وہ نظام کی درستگی کی بات کر رہا ہوتو یہ سب لوگ مل کر اپنا تھوکا چاٹنے لگتے ہیں اور یکلخت انہین جمہوریت خطرے یں نظر آنے لگ پڑتی ہے۔۔۔ سمجھا کریں:wink:
اچھا غزنوی جی مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا ہممم اب پتہ چلا اوہ آئی سی
 

باباجی

محفلین
بات یہ ہے کہ (معذرت) کے ساتھ
صحافی شاید عام آدمی نہیں ہوتا اسی لیئے شائد وہ عام آدمی کو درخوراعتناء نہیں سمجھتا
اور صرف اعلیٰ طبقے کی اچھائی اور برائی کو اپنی نظر میں رکھتا ہے
ان لوگوں کو یہ لاکھوں کا مجمع چند ہزار کا نظر آتا ہے جانے کیسی عینک یا نظر پائی ہے ، یا ان کی حد نظر محدود ہے ؟؟؟
قادری صاحب سے ہٹ کر ذرا ان لوگوں سے پوچھیئے کہ یہ کس لیئے آئے ہیں ، یہی جواب آئے گا کہ تبدیلی کی تحریک میں شرکت کے لیئے آئے ہیں
کیسی تبدیلی ؟؟؟؟
نظام کی تبدیلی -
کس نظام کی تبدیلی ؟؟؟
اسی نظام کی جس میں
گیس ختم ہوگئی
پٹرول کی قیمت ہوشرُبا ہوگئی
2 کمروں کے گھر میں رہنے والے بھی 1 انرجی سیور جلاتے ہیں بجلی کے بے انتہا اخراجات کی و جہ سے
اور اس پر بھی بجلی پوری نہ ملے
جہاں مہنگائی میں روزانہ کئی فیصد اضافہ ہوتا ہے لیکن ایک نوکری کرنے والے کی تنخواہ میں سال میں صرف 5 ٪ بڑھتی ہے
جہاں کوئی غیر ملکی لوگوں کو ماردے تو اسے بحفاظت باہر بھیج دیا جاتا ہے
جہاں PMA ٌہوسٹل اسلام آباد میں انتہائی غیر اسلامی ماحول ہے
جہاں کے قبائلی سردار خود تو دنیا کے ٰ اعلیٰ ترین اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن ان کے قبیلے کے عوام جہالت میں جاہلوں کو مات دیتے ہیں
جہاں سردار میٹھے پانی کی چشمے میں نہاتا ہے اور عوام کئی کئی میل دور سے پینے کا پانی لاتے ہیں
جہاں کا میڈیا خود ملک دشمن عناصر کے گن گاتا ہے اور پاکستان کے خلاف سخت پالیسی اختیار کرتا ہے
جہاں ملکی صنعت کو ٓتقریباً ختم کردیا گیا ہے
بے روزگاری انتہائی حد تک بڑھ گئی ہے
اسی بے روزگاری کی وجہ سے جرائم بہت بڑھ گئے ہیں
لوگ اپنے جگر کے ٹکڑوں کے بیچ رہے ہیں
اور سیاست دان اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ملک سے باہر بھیج رہے ہیں
اور بھی بہت کچھ غلط ہورہا ہے
لیکن ہمارے صحافیوں کو صرف ایک امپورٹڈ آدمی کی پڑی ہے کہ یہ کیوں یہاں آگیا
حالانکہ میرے خیال میں خود کئی صحافی بھی غیر ملکی شہریت رکھتے ہوں گے
بہرحال جوکچھ بھی ہو رہا ہے
اللہ کرے اس میں غریب عوام کی بھلائی ہو
 
Top