کھسیانی بلی کھمبا نوچے

جوش

محفلین
جنگ اخبار سے اقتباس

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے سلسلے مں صرف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ پیر کی شام راقم سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا ’ میں کبھی بھی جسٹس افتخار کے خلاف نہیں تھا، صرف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہا تھا، جس نے پرویز مشرف کے دور اقتدا میں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا تھا۔عبدالحمید ڈوگر 21 مارچ کو ریٹائر ہونگے اور افتخار محمد چوہدری انکی جگہ دوبارہ چیف جسٹس ہوجائیں گے
 

جوش

محفلین
زیادہ پرانی نہیں ہے یہ خبر۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جو آئندہ ماہ ریٹائر ہونے والے ہیں،کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر ایسے کسی منصوبے کی سختی سے تردید کرتے ہیں لیکن ایک اخباری رپورٹ کے مطابق حکومت خاموشی سے دو آپشنز پر کام کر رہی ہے تا کہ وہ کچھ حاصل کیا جا سکے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

پہلا راستہ یہ ہے کہ جسٹس ڈوگر کو آئین میں ترمیم کرکے توسیع دے دی جائے اور چیف جسٹس کے عہدے کی مدت تین سال مقرر کر دی جائے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں عدالتی حکم کے ذریعے تین سال کا اضافہ کر دیا جائے۔ پنجاب میں گورنر راج کا نفاذ ایوان صدر کے عظیم تر کھیل کے منصوبے کا حصہ ہے۔ جو سینیٹ کے انتخابات کے بعد ق لیگ کو راغب کر کے دو تہائی اکثریت کے حصول کیلئے پر امید ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک مرتبہ جب نئے سینیٹروں کی نصف تعداد جیسے ہی ان کے ساتھ شامل ہوگی تو حکومت پارلیمنٹ میں آئینی ترمیمی بل متعارف کرا دے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ترمیم 21 مارچ سے قبل منظور ہو جائے تا کہ جسٹس ڈوگر کو توسیع دی جا سکے۔

وزارت قانون نے پہلے ہی چیف جسٹس کے عہدے کی مدت تین سال کرنے کے آئینی ترمیمی بل کا مسودہ تیار کر لیا ہے اور وزیر اعظم کے دفتر بھیج دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت جسٹس ڈوگر 2 نومبر 2010 تک اپنی ملازمت جاری رکھ سکیں گے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ زیر التوا ایک درخواست پر عدالت کے حکم کے ذریعے اعلی عدلیہ کے تمام ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دی جائے۔ حکومت اٹارنی جنرل کے ذریعے درخواست گزار کی حوصلہ افزائی کرے گی کہ وہ سپریم کورٹ سے اس بات کی درخواست کرے کہ وہ مقدمہ سن کر اس کا فیصلہ کرے۔ حکومت اس حقیقت کے باوجود بھی درخواست کی حمایت کرے گی کہ ماہرین بشمول تین نومبر کے بعد کی عدلیہ کے حامیوں کا بھی یہ خیال ہے کہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ آئین میں ترمیم کئے بغیر ممکن نہیں۔

سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بتایا کہ اگرچہ ایک درخواست سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا ہے تاہم ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو آئین میں ترمیم کے بغیر نہیں بڑھایا جا سکتا۔ ذریعے کے مطابق مجوزہ ترمیم ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے آئین میں متعارف کرائی گئی چھٹی ترمیم کے خطوط پر تیار کی گئی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نہیں چاہتے تھے کہ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان یعقوب علی خان ریٹائر ہوں کیونکہ وہ آئین کے مطابق ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ رہے تھے لہذا آئین میں ترمیم ( چھٹی ) کی گئی جس سے جسٹس یعقوب کو پانچ سال تک اپنا عہدہ سنبھالنے کی اجازت مل گئی۔

حکومت میں وفاقی وزرا کی ایک بہت بڑی تعداد سمیت بہت سے لوگوں کو اس اقدام کے متعلق معلوم نہیں ہے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ حکومت کے وہ دو متعلق ترین اہلکار ہیں جو اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
 

جوش

محفلین
ایک رخ یہ بھی ہے

لاہور (خبرنگار خصوصی + ایجنسیاں + ریڈیو نیوز) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد چھوڑنے پر عدالتی فیصلہ ہمارے حق میں کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ رائیونڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف سے ملاقات میں پیشکش کی تھی کہ آؤ ’’بزنس ڈیل‘‘ کرتے ہیں‘ آپ عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد اور فرح ڈوگر کیس ترک کر دیں اور چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو توسیع دینے میں ہماری حمایت کریں تو اہلیت کیس کا فیصلہ آپ کے حق میں آئے گا‘ آپ دونوں بھائیوں کو نااہل قرارنہیں دیا جائیگا۔ ہم نے سودے بازی مسترد کر کے نااہلی کو قبول کیا ہے۔ صدر زرداری نے میثاق جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہم نے بہت سہانے خواب دیکھے تھے جو سب چکنا چور ہو گئے۔
 

جوش

محفلین
روزنامی جنگ کی خبر


اسلام آباد (رپورٹ: … محمد احمد نورانی) ایوانِ صدر کی نظریں اس وقت ایک اور سیاسی مقصد کی جانب ہیں اور وہ آئینی ترمیم کے بغیر چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی مدت ملازمت میں توسیع ہے تاہم ایوانِ صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جسٹس ڈوگر 21 مارچ کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ اگرچہ آئینی ماہرین، حتیٰ کہ وہ بھی جو جسٹس ڈوگر کے قریبی ہیں، اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ کام آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں، صدر زرداری کے گرد موجود قانونی دماغ یہ ناممکن کام ایک عدالتی حکم نامہ کے ذریعے کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ 12 اکتوبر 1999ء سے پہلے کے آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال تھی۔ تاہم، آئینی ماہرین کے مطابق پرویز مشرف نے اپنے غیر آئینی ایل ایف او کے ذریعے اپنے پسندیدہ ججوں کو طویل عرصے تک رکھنے کیلئے اس حد کو 65 سے بڑھا کر 68 کردیا تھا۔ 17ویں ترمیم کیلئے ہونیوالے مذاکرات کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو تسلیم نہیں کیا گیا لہٰذا یہ حد دوبارہ 65 برس کردی گئی۔ اگرچہ ایس ایم ظفر اور خالد رانجھا جیسے آئینی ماہرین دلیل دیتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے، سینئر پیپلز پارٹی لیڈر اور قانون و انصاف سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بیگم نسیم اختر نے جمعرات کو دی نیوز کو بتایا کہ عمر کی حد ایک معمولی قانون کے ذریعے بڑھائی جا سکتی ہے جسے سادہ اکثریت کے ذریعے منظور کرایا جا سکتا ہے۔ حکومت میں موجود باخبر ذرائع کے مطابق صدر آصف زرداری کے قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر جسٹس ڈوگر کے علاوہ کوئی اور آیا تو انہیں اقتدار کی راہ داریوں میں رہنے کا کوئی اور راستہ نظر نہیں آرہا۔ اگر کوئی غیر آئینی قدم نہ اٹھایا گیا تو جسٹس ڈوگر 21 مارچ کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ اس حوالے سے جب ایک وفاقی وزیر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل غلط ہے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر عہدے کیلئے انتہائی قابل اور ضروری ہیں تو ان کی مدت ملازمت میں توسیع پر غور کیا جاسکتا ہے تاہم اس سلسلے میں آئین و قانون سے ہٹ کر کوئی اقدام نہیں کیا جائیگا۔ سینئر آئینی ماہر ایس ایم ظفر نے دی نیوز کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے اور یہ حد آئینی ترمیم کے ذریعے ہی بڑھائی جا سکتی ہے اور اس کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ سینئر وکیل خالد رانجھا نے دی نیوز کو بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ اقدام عدالتی نظریے پر مبنی ہے جس کے تحت اگر کسی جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر ایک مرتبہ طے کردی جائے تو اسے کسی صورت کم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے وضاحت پیش کی کہ جب سپریم کورٹ میں 17 ویں ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا تو اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس ناظم حسین صدیقی نے خود پٹیشن کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا، ایک پوری 17 ویں ترمیم تھی جبکہ دوسرا حصہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو کم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) صدیقی کی رائے تھی کہ ایک بار انہیں 68 برس کی عمر تک چیف جسٹس کا عہدہ رکھنے کا اختیار دیا گیا تو وہ اسی حد تک چیف جسٹس رہیں گے اور اسے کسی صورت کم نہیں کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے دوران جب جسٹس صدیقی کی ریٹائرمنٹ کی حد (65 سال کے مطابق) قریب آ رہی تھی، انہیں پیر کے روز مولوی اقبال حیدر کی پٹیشن کی سماعت کرنا تھی، لیکن جمعہ کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ رانجھا نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی بڑھائی جا سکتی ہے لیکن ایک ایسے ملک، جس میں ہم رہ رہے ہیں، میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور وکلاء اس کی مذمت کریں گے لیکن ایک بار فیصلہ ہوجانے کے بعد اس پر ویسے ہی عملدرآمد ہوگا جیسے دوسرے غلط اقدامات پر ہوتا ہے۔
 

جوش

محفلین
ایک اور خبر


ذمہ دار سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کیلئے توسیع کی غرض سے آئینی ترمیم لانے یا نیا چیف جسٹس مقرر کرنے کے بارے میں بڑے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کا ابتدائی دورمکمل کر لیا ہے۔ مشاورت کے عمل میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے پیپلز پارٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹرجسٹس عبدالحمید ڈوگر کی مدت بڑھانے کے لئے اتحادیوں کے سامنے مختلف تجاویز پیش کیں جبکہ اہماتحادی جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن اور ایم کیو ایم نے آئینی ترمیم پر بعض تحفظات کا اظہار کیا حکومت کے آئینی ماہرین نے لیڈر شپ پر واضع کیا ہے کہ اگر چیف جسٹس کی مدت ملازمت میں توسیع کرنا ہے تو اس کیلئے دو طریقے موجود ہیں جن میں پہلا طریقہ چیف جسٹس کے عہدے کی مدت ملازمت کا تعین جبکہ دوسرا طریقہ اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج صاحبان کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی جائے تاہم ان دونوں صورتوں میں پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کرنا ہو گی جو کہ چیف جسٹس کی 21 مارچ کو ریٹائرمنٹ کی عمر مکمل ہونے سے قبل ہو جانا ضروری ہے حکومت اس معاملہ میں سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اورآئندہ ایک یا دو ہفتوں کے دوران چیف جسٹس کے عہدے پر صورتحال واقع ہو جائے گی
 

جوش

محفلین
یہ پھر بھی کہتے ہیں " میں تو ڈوگر کے دفع ہونے کا انتظار کر رہا تھا" ۔۔۔۔ لگتا ہے اس حکومت کا خمیر ہی جھوٹ، دغا بازی، عیاری اور مکاری ہے۔۔۔۔۔
 

arifkarim

معطل
زرداری حضور اب اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کیلئے جھوٹے بہانے ڈُھونڈ رہے ہیں!
 

سعود الحسن

محفلین
اصل میں جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے ، یہ دعوی کرتے ہوے کہ زرداری چیف جسٹس افتخار چوہدری کو اس لیے بحال نہیں کر پارہے تھے کہ اس کے لیے جسٹس ڈوگر کو چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹانا پڑتا جبکہ زرداری نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ کسی جج کو اس کے عہدے سے نہیں ہٹائیں گے، زرداری یہ بھول گئے کہ جب انہوں نے اگست 2008 میں سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں کو دوبارہ حلف اور سنیارٹی کے ساتھ بحال کیا تھا تو اس وقت کے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ عزیز اللہ میمن سنیارٹی میں جسٹس جمالی سے جونئیر ہوگئے تو انہیں چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹاکر جسٹس جمالی کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بنایا گیا۔
28 اگست دو ہزار آٹھ کے جنگ کی یہ خبر پڑھیے

سندھ ہائی کورٹ: 9 معزول ججوں نے حلف اٹھالیا، جسٹس انورظہیر جمالی چیف جسٹس مقرر
8/28/2008
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے 3/ نومبر 2007ء کو معزول ہونے والے 17میں سے 8 جج صاحبان کا بدھ کو دوبارہ تقرر کر دیا گیا ہے اور انہوں نے سندھ گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔ نو تعینات جسٹس انور ظہیر جمالی سندھ ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس ہو گئے۔ دیگر ججوں میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس فیصل عرب، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس ظفر احمد شیروانی، جسٹس سلمان انصاری اور جسٹس اے رشید کلوڑ شامل ہیں۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے دو مرتبہ حلف لیا پہلے انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف لیا سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عزیز اللہ میمن نے ان سے حلف لیا۔ بعد ازاں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے جسٹس انور ظہیر جمالی سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی حیثیت سے حلف لیا جس کے بعد نو تعینات چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے دیگر نو تعینات ججوں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی سے بطور جج سندھ ہائی کورٹ حلف لیا۔ نئے چیف جسٹس نے پھر جسٹس ظفر احمد شیروانی، جسٹس سلمان انصاری اور جسٹس اے رشید کلوڑ سے سندھ ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججوں کی حیثیت سے حلف لیا۔ چیف سیکرٹری سندھ فضل الرحمن نے دوبارہ تقرری سے متعلق صدر مملکت کے احکامات پڑھ کر سنائے۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو، صوبائی وزراء، سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ انتہائی باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نو تعینات جج صاحبان کی سنیارٹی 2/ نومبر 2007ء والی پوزیشن سے شمار ہو گی۔ واضح رہے کہ 3/ نومبر 2007ء کو سابق آرمی چیف اور سابق صدر پرویز مشرف نے ملک میں عبوری آئینی حکم (پی سی او) نافذ کیا تھا تو سندھ ہائی کورٹ کے 17 جج صاحبان نے حلف نہیں اٹھایا تھا۔ 17 ججوں میں سے ایک جسٹس رحمت حسین جعفری 2 ماہ بعد ریٹائر ہو گئے جبکہ جسٹس ضیاء پرویز کا تبادلہ سپریم کورٹ ہو گیا تھا۔ باقی 7 ججوں کی دوبارہ تقرری نہیں ہوئی، ان میں سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس مشیر عالم، جسٹس گلزار احمد، جسٹس ارشد سراج، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اطہر سعید شامل ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ ان 6 جج صاحبان نے دوبارہ تقرری کی پیشکش قبول نہیں کی جبکہ کچھ جج صاحبان کو دوبارہ تقرری کی پیشکش نہیں کی گئی۔ بعض حلقوں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ 3/ نومبر 2007ء کو پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو 2/ نومبر 2007ء کی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی سمیت 8 ججوں کے حلف لینے کے بعد ججوں کی سنیارٹی میں ردو بدل ہوا ہے جو اس طرح ہے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس عزیز اللہ ایم میمن، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس امیرہانی مسلم، جسٹس منیب احمد خان، جسٹس یاسمین عباسی، جسٹس قیصر اقبال، جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو، جسٹس فیصل عرب، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس ندیم اظہر صدیقی، جسٹس عبدالرحمن فاروق پیرزادہ، جسٹس ظفر احمد خان شیروانی، جسٹس سلمان انصاری، جسٹس سید محمود عالم رضوی، جسٹس رانا محمد شمیم، جسٹس خواجہ نوید احمد، جسٹس ڈاکٹر خالد علی زیڈ قاضی، جسٹس آغا رفیق احمد خان، جسٹس سید پیر علی شاہ، جسٹس بن یامین، جسٹس ارشد نور خان، جسٹس ڈاکٹر قمر الدین بوہرہ، جسٹس غلام دستگیر شاہانی اور جسٹس فرخ ضیاء شیخ شامل ہیں ججوں کے حلف اٹھانے کے بعد ہائی کورٹ کی انتظامیہ نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنیارٹی لسٹ کے مطابق چیمبرز اور کورٹ روم دیئے اور ججوں کے ناموں کی تختیاں آویزاں کیں۔
ٓ
 

زینب

محفلین
فلحال تو سب لوگ دایئں بایئں شایئں ہو جایئں ۔۔ہمت علی آتا ہی ہو گا ان سارے حوالوں کو 100ٍفیصد جھوٹ ثابت کرنے
 
Top