کچحھ تاریخی امریکی جھوٹ

فیصل عظیم فیصل نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 14, 2018

  1. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    01:- ۳۱ جنوری دو ہزار تین وہائیٹ ہاؤس مشترکہ پریس کانفرنس
    جارج ڈبلیو بش اور ٹونی بلیئر نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں۔ اور اگر عراق اپنے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے تو جنگ کی کوئی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ بش نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عراق کے القاعدہ سے تعلقات ہیں ۔ جب پوچھا گیا کہ عراق نے تو ابھی تازہ تازہ ہی اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کو واپس بلایا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک حیلہ ہے تاکہ عراق دنیا کو دھوکہ دے سکے۔
    جبکہ یہ بات اب مکمل طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ امریکہ اور برطانیہ اس وقت جھوٹ بول رہے تھے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اگر اس بنیاد پر کوئی ملک لعنت ملامت کا حق دار ہے تو وہ امریکہ خود ہے جس کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں (یاد رہے کہ یہ ہتھیار اس اصل سے کہیں کم ہیں جو درحقیقت امریکی تحویل میں ہیں)
    ۱۔ ایٹمی ہتھیار۔ دو مرتبہ استعمال کرنے اور لاکھوں بے گناہ شہریوں کو ایک ہی دن میں ایک ہی شہر میں قتل کرنے کا تمغہ امریکہ بہادر کے پاس ہی ہے
    ۲۔ زمین سے زمین پر مار کرنے والے بین البر اعظمی میزائیل
    ۳۔ سمندر سے چلائے جانے والے بیلاسٹک میزائیل
    ۴۔ ہوا سے چلائے جانے والے بیلاسٹک میزائیل و غیرہا
    ۵۔ حیاتیاتی ہتھیار
    ٦۔ کیمیائی ہتھیار



    02: 1990-1991 کی عراق جنگ میں یہ کہا گیا کہ عراق پر حملہ آخری حل کے طور پر کیا گیا جبکہ عراقی حکومت نے اس وقت یہ پیش کش کر دی تھی کہ وہ غیر مشروط طور پر تین ہفتے میں کویت سے اپنی فوجیں نکال لیں گے۔ اردن کے شاہ، پوپ ، صدر فرانس اور روس کے صدر نے اس پر امن حل کی حمایت بھی کی اور اس پر زور بھی دیا
    03:- 2001:- طالبان نے اسامہ کے مسئلے میں امریکہ کو یہ پیش کش کئی مرتبہ کی کہ اسامہ کو کسی تیسرے غیر جانب دار فریق کے حوالے کیا جائے جہاں اس کا منصفانہ مقدمہ چل سکے یا دوسری صورت میں انہیں اسامہ کے خلاف موجود ثبوت حوالے کیئے جائیں تاکہ ان کی حوالگی بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہو سکے۔ لیکن ایسے کوئی ثبوت کبھی کسی کے حوالے نہیں کیئے گئے اور افغانستان پر حملہ کر دیا گیا۔
    اس حملے کی وجوہات یہ بیان کی گئی تھیں
    ۱۔ القاعدہ کے تمام رہ نماؤں کو امریکہ کے حوالے کیا جائے (کیوں جی۔۔؟؟ کیا آپ کا کوئی معاہدہ ہے ان سے یا ان کے خلاف کوئی ثبوت آپ نے حوالے کیئے ہیں کہ وہ ان جرائم کے مرتکب ہیں لہذا ان پر عدالتی کاروائی کے لیئے درکار ہیں ۔۔؟؟ ایسا کچھ بھی نہ کیا گیا لیکن حوالگی کا مطالبہ کیا گیا جو بنیادی طور پر ہی بین الاقوامی اصولوں کے خلاف تھا)
    ۲۔ تمام تر گرفتار غیر ملکیوں کو رہا کیا جائے ( جیسے امریکہ میں غیر ملکیوں کو گرفتار ہی نہیں کیا جاتا۔ یہی مانگ اگر امریکہ سے کی جائے تو کیا امریکہ مانے گا۔۔؟؟ کیا افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑ کر یہ مقصد مکمل طور حاصل ہوگیا اگر نہیں تو کیوں اتنی بڑی جنگ چھیڑی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے گئے اور آپ کا یہ مقصد بھی حاصل نہ ہوا)
    ۳۔ غیر ملکی صحافیوں، سفیروں اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کی جائے (جیسے امریکہ میں ان کے پاؤں میں کانٹا تک نہیں چبھتا کیا افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑ کر یہ مقصد مکمل طور حاصل ہوگیا اگر نہیں تو کیوں اتنی بڑی جنگ چھیڑی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے گئے اور آپ کا یہ مقصد بھی حاصل نہ ہوا)
    ۴۔ فوری طور پر ہر ایک دہشت گردی کا کیمپ بند کیا جائے (جیسے امریکہ بہادر فری سیریئن آرمی بنائیں تو درست جبکہ طالبان اگر ملکی نظم و ضبط کے لیئے اپنی فوج بنائیں یا تربیت کریں تو وہ دہشت گرد - کیا افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑ کر یہ مقصد مکمل طور حاصل ہوگیا اگر نہیں تو کیوں اتنی بڑی جنگ چھیڑی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے گئے اور آپ کا یہ مقصد بھی حاصل نہ ہوا)
    ۵۔ فوری طور پر تمام دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جائے (گول مول مانگ۔ ملک کے حکمران وہ، ادارے ان کے ، دہشت گردی کی مقامی سطح پر تعریف ان کی تو یہ گھم گھم گھمٹا مانگ صرف نمبر بنانے کے لیے تھا کیا افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑ کر یہ مقصد مکمل طور حاصل ہوگیا اگر نہیں تو کیوں اتنی بڑی جنگ چھیڑی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے گئے اور آپ کا یہ مقصد بھی حاصل نہ ہوا)
    ٦۔ امریکہ کو تمام تر دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں تک مکمل رسائی دی جائے۔ (کیا اب وہ رسائی مل گئی۔۔؟؟کیا افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے پر جنگ چھیڑ کر یہ مقصد مکمل طور حاصل ہوگیا اگر نہیں تو کیوں اتنی بڑی جنگ چھیڑی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے گئے اور آپ کا یہ مقصد بھی حاصل نہ ہوا)

    ۔ یہ لسٹ اپ ڈیٹ ہوتی رہے گی ایک کے مکمل جوابات کے بعد دوسرے کی طرف بڑھیں گے Fawad - سے گزارش ہے کہ اب آجائیں میدان میں اس دھاگے میں ایک ایک کر کے امریکی جھوٹوں کو بے نقاب کیا جائے گا اور آپ کا موقف اس کے سامنے رکھا جائے گا۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ جسے ہم جھوٹ سمجھتے اور کہتے ہیں اسے آپ کیا کہتے ہیں یہ بھی سامنے آجائے
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 15, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    14,314
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ویپن آف ماس ڈسٹرکشن امریکہ میں موجود ہیں۔
     
    • متفق متفق × 3
  3. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سرکار جواب تے آن دیو فیر تکو کدھر جھل سی
     
  4. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    2,163

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ کوئ ڈھکی چپھی بات نہيں ہے کہ شام ميں عام شہريوں پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور اس کے ردعمل ميں عالمی سطح پر مشترکہ طور پر جو کاوشيں کی گئيں، امريکہ ان کوششوں کا اہم حصہ رہا ہے۔ تاہم اس بات کو بنياد بنا کر يہ دعوی کرنا کہ فری سيرين آرمی اور القائدہ کے اغراض ومقاصد ميں کوئ فرق نہيں تھا اور جس طرح طالبان القائدہ کی پشت پنائ کے ليے ذمہ دار تھے اسی طرح امريکہ بھی ايک دہشت گرد گروہ کی مدد کرتا رہا ہے، ايک لغو الزام ہے۔

    شام ميں جس پيمانے پر ايک ظالم اور جابر حکمران کی جانب سے قتل وغارت کی گئ اور جس طرح سے خطے ميں عدم استحکام پيدا ہوا، اس کے ردعمل ميں امريکہ سميت تمام عالمی برادری خاموش تماشائ بن کے نہيں رہ سکتی تھی۔

    جہاں تک فری سيرين آرمی کا تعلق ہے تو اس کی تشکيل سال 2011 ميں عمل ميں آئ تھی اور اس کا آغاز شامی فوج کے باغی عناصر نے کيا تھا اور ان کا مقصد يہ تھا کہ شام ميں اسد حکومت کے مظالم کا مقابلہ کيا جائے۔ دوسری جانب القائدہ دنيا کی بدنام ترين دہشت گرد تنطيم تھی جس کا اعلان کردہ ايجنڈا تھا کہ وہ دنيا بھر کے عام شہريوں کے خلاف زيادہ سے زيادہ دہشت گرد کاروائيوں کے ذريعے اپنی مرضی اور سوچ مسلط کرنے کی متمنی تھی۔

    افغانستان ميں طالبان حکومت کی جانب سے اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھی دہشت گردوں کو ہر قسم کی مدد اور تحفظ کا فيصلہ اس حقيقت کے اداراک کے باوجود تھا کہ يہ تنظيم اپنے مقاصد کے حصول کے ليے زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو ہلاک کرنے کی حکمت عملی پر عمل پيرا ہے۔ ان کا يہ اقدام اقوام متحدہ کے درجنوں قوانين اور قواعد کی براہراست اور سنگين خلاف ورزی تھا۔

    يہ حقيقت ہے کہ امريکی حکومت کو شام ميں اسد حکومت کے مظالم اور عام شہريوں کے خلاف دہشت گرد کاروائيوں کے حوالے سے شديد تحفظات اور خدشات ہيں۔ تاہم اس کے سدباب کے ليے جاری کاوشوں کے ضمن ميں امريکہ نے کسی بھی ايسے شخص يا گروہ کی حمايت يا اعانت نہيں کی ہے جنھوں نے دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوئے عام شہريوں کو نشانہ بنانا اپنی حکمت عملی قرار ديا ہو۔

    کيا طالبان کی حکومت القائدہ، اس کی حکمت عملی اور کاروائيوں کے ضمن ميں يہ دعوی کر سکتی ہے؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  5. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    2,163

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    پاکستان، افغانستان يا دنيا کے کسی بھی حصے ميں دہشت گردی کے کسی بھی نئے واقعے کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ ان ہزاروں شہريوں اور فوجيوں کی بے شمار قربانياں اور کوششيں بے وقعت ہو گئ ہيں جو گزشتہ دو دہائيوں سے دہشت گردی کے عالمی عفريت کے خاتمے اور اس ناسور سے انسانی جانوں کو محفوظ کرنے کے ليے ہر سطح پر کاوشيں کر رہے ہيں۔

    افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو ناکامی سے تعبير کرنے سے پہلے کچھ حقائق کا جائزہ لے ليں۔

    سال 2001 ميں افغانستان ميں ہماری فوجی کاروائ سے پہلے ملک ايک ايسی جابرانہ حکومت کے زير تسلط تھا جس نے نا صرف يہ کہ تمام عالمی براداری کے مطالبات کو يکسر نظرانداز کر ديا تھا بلکہ سرکاری سطح پر دنيا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظيم کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کے علاوہ انھيں ہر قسم کا تعاون اور مدد بھی فراہم کی تھی۔ ايک ايسی تنظيم جس کا سربراہ دنيا کے تمام اہم شہروں ميں 911 جيسے دہشت گرد حملوں کی دھمکياں دے رہا تھا۔ دنيا بھر ميں دہشت گردی کے خفيہ سيلوں کی موجودگی کے حوالے سے حقيقی خطرات اور خدشات موجود تھے۔

    آج اس دہشت گرد تنظيم کی وقعت اور صلاحيت اتنی محدود ہو چکی ہے کہ اس کے بچے کچھے کارندے دنيا کو دھمکياں دينے کی بجائے اپنی جانيں بچانے کے ليے بھاگتے پھر رہے ہيں۔ القائدہ کی دو تہائ سے زائد قيادت جو 911 کے وقت دھمکياں جاری کر رہی تھی اور نئ بھرتياں کرنے کے ليے مہم جاری رکھے ہوئ تھی، آج گرفتار يا ہلاک ہو چکی ہے جس ميں دنيا کا سب سے زيادہ مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن بھی شامل ہے۔

    اس تنظيم کی موجودہ قيادت کی جانب سے جو بھی بيانات سامنے آئے ہيں ان سے بھی يہ واضح ہے کہ يہ تنظيم اب صرف اپنی حيثيت برقرار رکھنے کے ليے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔

    اگر آپ القائدہ کے نقطہ نظر سے ديکھيں تو يہ حقائق ايسے نہيں ہيں کہ جن کی بنياد پر افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو "شکست" قرار ديا جا سکتا ہے۔

    افغانستان میں آج لاکھوں افغان ووٹروں کی مرضی سے ايک فعال جمہوری حکومت قائم ہے اور وہاں کے شہريوں نے دہشت گرد تنظيموں کی جانب سے اليکشن کے بائيکاٹ کی اپيل کو يکسر نظرانداز کر کے عام انتخابات ميں بڑھ چڑھ کر حصہ ليا تھا۔

    اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ خطے ميں پائيدار امن کو يقینی بنانے کے ليے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور اس ضمن ميں دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ اور پرتشدد انتہا پسندی کا خاتمہ تمام فريقين کے ليے بدستور سب سے بڑا چيلنج ہے۔ تاہم افعان معاشرے نے عمومی طور پر يہ طے کر ليا ہے کہ جس متشدد سوچ نے برسوں سے انھيں عذاب ميں مبتلا کر رکھا ہے، اس کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑا ہونا وقت کی اہم ترين ضرورت ہے، اور يہ شعور سب سے بڑی فتح ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  6. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    2,163

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ مت بھوليں کہ گيارہ ستمبر کا واقعہ امريکہ کے خلاف ايک طے شدہ اور باقاعدہ منصوبے کے ذريعے کيا جانے والا جنگی حملہ تھا اور اس کے ذمہ دار افراد اور ان کے منصوبہ ساز افغانستان ميں اس وقت کی حکومت کے زير سايہ پناہ ليے ہوئے تھے۔

    خاص طور پر پينٹاگان پر کيا جانے والا حملہ تو امريکی عسکری مرکز پر براہراست حملہ اور اعلان جنگ تھا اور امريکہ ذمہ داران کے خلاف کاروائ کرنے ميں حق بجانب تھا۔

    ستمبر 14 2001 کو امريکی کانگريس نے دہشت گردوں کے خلاف عسکری قوت کے استعمال کے ليے قانون کی منظوری دی جس پر ستمبر 18 2001 کو صدر بش نے دستخط کيے۔ اس قانون کے تحت نو گيارہ حملوں کے ذمہ داران اور انھيں پناہ دينے والوں کے خلاف امريکی عسکری قوت کے استعمال کی اجازت دی گئ۔


    https://www.congress.gov/107/plaws/publ40/PLAW-107publ40.pdf

    اقوام متحدہ کے آرٹيکل 51 کے تحت ممبران کو يہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ لازمی خطرے کی صورت ميں اپنا دفاع کر سکيں۔

    نو گيارہ کے حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی منظوری کی ضرورت باقی نہيں رہ گئ تھی کيونکہ اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹيکل 51 کے تحت افغانستان ميں فوجی کاروائ اجتماعی سطح پر دفاع کے ضمن ميں آتی ہے۔

    يہ نقطہ بھی اہم ہے کہ اگرچہ کہ افغانستان ميں فوجی کاروائ کی ابتداء ميں اقوام متحدہ کی سيورٹی کونسل کی توثيق شامل نہيں تھی، تاہم سيکورٹی کونسل نے ملک ميں استحکام کے ليے فوجی کاروائ کی منظوری بھی دے دی تھی۔

    دسمبر 20 2001 کو، فوجی کاروائ کے قريب دو ماہ بعد اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کے تحت آئ ايس اے ايف کا قيام عمل ميں لايا گيا تا کہ سيکورٹی کی صورت حال کو مستحکم کرنے کے ليے افغانستان کی عبوری حکومت کو مدد فراہم کی جا سکے۔ اگست 11 2003 کو آئ ايس اے ايف کی کمانڈ باضابطہ طور پر نيٹو کے سپرد کر دی گئ۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  7. Fawad -

    Fawad - محفلین

    مراسلے:
    2,163

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ دليل جو کہ اکثر پيش کی جاتی ہے، غلط مفروضات پر مبنی ہے۔

    ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ امريکی حکومت نے ہميشہ اسامہ بن لادن کو 911 کے حادثے کے ضمن ميں ايک منصوبہ ساز کی حیثيت سے مورد الزام ٹھہرايا ہے۔ يہ فيصلہ کسی قياس يا محض اندازے کی بنياد پرنہيں تھا۔ اسامہ بن لادن نے امريکہ کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کر رکھا تھا اور پوری دنيا ميں امريکيوں کو نشانہ بنايا جا رہا تھا۔

    يہ بھی ياد رہے کہ اسامہ بن لادن نے بذات خود بھی 911 کے حادثے ميں اپنے رول کو تسليم کيا ہے۔

    يہ نقطہ بھی قابل غور ہے کہ نو گيارہ کے واقعات کے بعد طالبان کی جانب سے افغانستان ميں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے حوالے سے عوامی سطح پر جو موقف پيش کيا گيا، وہ اس سے بالکل مختلف تھا جو امريکی حکام سے روابط کے دوران پيش کيا جاتا رہا۔ ان روابط ميں اس بات کو تسليم کيا گيا تھا کہ اسامہ بن لادن دہشت گرد کاروائيوں ميں ملوث رہے تھے۔

    اس ضمن ميں اکتوبر 1998 سے امريکی حکومت کی ايک سرکاری دستاويز کا لنک پيش ہے جس ميں امريکی حکام اور طالبان کے مابين اس معاملے کے حوالے سے گفتگو کی تفصيل موجود ہے۔

    http://nsarchive.gwu.edu/NSAEBB/NSAEBB134/Doc 2.pdf

    ان دستاويزات ميں ان تضادات کا ذکر موجود ہے جو طالبان کے جانب سے امريکی اہلکاروں کے ساتھ بيانات ميں واضح ہو رہے تھے۔ طالبان کا يہ دعوی تھا کہ ان کے 80 فيصد قائدين اور افغانوں کی اکثريت افغانستان ميں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے مخالف تھی۔ ليکن اس کے باوجود طالبان کا يہ نقطہ نظر تھا کہ افغانستان اور مسلم ممالک ميں اسامہ بن لادن کی مقبوليت کے سبب اگر انھيں ملک سے نکالا گيا تو طالبان اپنی حکومت برقرار نہيں رکھ سکيں گے۔

    ايک پاکستانی افسر نے پاکستان ميں امريکی سفير وليم ميلام کو بتايا کہ طالبان دہشت گرد اسامہ بن لادن سے جان چھڑانا چاہتے ہيں اور اس ضمن میں 3 آپشنز ان کے سامنے ہيں۔ اس افسر کا اصرار تھا کہ اس ميں آپشن نمبر 2 سب سے بہتر ہے جس کے توسط سے امريکہ اسامہ بن لادن کو طالبان سے ايک بڑی رقم کر عوض "خريد" لے۔ دستاويز کے مطابق طالبان کے مطابق اسامہ بن لادن کو نکالنے کی صورت ميں ان کی حکومت ختم ہو جائے گی کيونکہ پختون قبائلی روايت کے مطابق اگر کوئ پناہ مانگے تو اس کو پناہ دينا لازم ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
     
  8. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    صرف اس "لاجواب" دلیل سے امریکی مؤقف کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
     
  9. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ نقطہ نظر آپ کا اب شام کے متعلق ہے ۔ لیکن خاموش تماشائی نہ بننے کا یہ مطلب کہاں سے آ گیا کہ آپ وہاں پر اسلحہ فراہم کر کے مقامی گروپس کو مسلح کریں اور پوری عالمی برادری میں کتنے ملک شامل ہیں جہاں دو سو سے زائد اقوام میں سے چار یا پانچ ملک مل کر کسی بھی ملک پر کچھ بھی کاروائی کر دیتے ہیں ۔۔ کیا اسے بلی اینگ(BULLYING) نہیں کہا جاتا عمومی زبان میں ..??
    کیا خیال ہے ان جنگوں میں جو 911 کے بعد ہوئیں اور جہاں امریکہ جارح ہے (یا دوسرے لفظوں میں امریکہ کیپٹن امیریکا بن کر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہا ہے) جتنے لوگ مارے گئے ان کی اموات کی ذمہ داری کس پر ہوتی ہے۔ ??? اور مزید یہ کہ کیا آپ اس بیانیہ اور اوپر والے بیانیہ میں جو آج آپ کا شام کے متعلق ہے کچھ مماثلت دیکھ پا رہے ہیں۔۔؟؟

    اس ضمن میں ایک گروہ ایسا ہے جس کی حمایت امریکہ بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے سلسلے میں کرتا ہے اور اس کی دلیل ہمیشہ سٹریٹیجک اتحادی کی دیتا ہے لہذا آپ کا یہ بیانیہ بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ آپ کا وہ حمایت یافتہ قاتل گروہ ہے ملک فلسطین پر غیر قانونی قابض گروہ اسرائیل جس کو اس سلسلے میں البتہ استشناء حاصل ہے۔ فلسطینی عوام الناس کا قتل عام کسی طرح بھی اس بیانیئے کے مطابق نہیں ہے

    اسی بیانیہ کو ایسے کیوں نہ دیکھا جائے
    امریکہ نے سرکاری سطح پر دنيا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظيم(سی آئی اے) کو دنیا بھر میں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کے علاوہ انھيں ہر قسم کا تعاون اور مدد بھی فراہم کی ہے۔ دنيا بھر ميں سی آئی اے دہشت گردی کے خفيہ سيلوں کی موجودگی کے حوالے سے حقيقی خطرات اور خدشات موجود ہیں۔

    بچے کھچے کارندے ساٹھ فیصد افغانستان پر قابض ہیں ۔ نوگیارہ کے بعد سے جاری یہ جنگ اربوں ڈالر کھا کر بھی صرف دو تہائی قیادت کے قتل یا گرفتاری کے دعوے پر آپ پر ہنسے یا روئے کیونکہ ایک اسامہ کو ہی دیکھ لیں اس کے قتل کی کوئی ٹھوس دلیل آج تک منظر عام پر نہ آئی ہے۔ آپ ایک ملک پر رات کے اندھیرے میں حملہ کرتے ہیں جو اس ملک کی خود مختاری اور آزادی کے خلاف ایک شدید قسم کی ایگریشن ہے۔ پھر اپنا ایک ہیلی کاپٹر وہاں گرا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ اچانک آپ کا صدر یہ اعلان کرتا ہے کہ مار دیا ماردیا اسامہ مار دیا۔ اب سارے شور مچ جاتا ہے کہ امریکہ نے اسامہ مار دیا۔ اسامہ کے ساتھی کہتے ہیں کہ اسامہ مر گیا لیکن کیا یہ بات ثابت کی جا سکتی ہے۔۔؟؟ صدام کو تو پھانسی لگایا جاتا ہے تو ویڈیو بن جاتی ہے، کرنل قذافی کو قتل کیا جاتا ہے تو بھی کسی بھی لیول پر یہ بات ثابت تو ہوتی ہے کہ جی ہاں قتل ہوا، لیکن اسامہ کے سلسلے میں ایسا کیا ہوگیا کہ اس کو آپ قتل کرتے ہیں پھر راتوں رات لاش اٹھا کر پہلے افغانستان لے جاتے ہیں اور اس کے بعد سمندر میں پھینک بھی دیتے ہیں لیکن اس کا کوئی ثبوت آج تک منظر عام پر نہیں آتا۔ ایک بلی مارنے کا بھی ڈاکومنٹری ثبوت بنانے والے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا کوئی تمغہ نہیں دکھاتے سوائے ناقابل تصدیق شور شرابے کے۔۔۔؟؟؟
    یا کہیں آپ ایسا کوئی ہتھیار تیار کر چکے ہیں جس کے مارنے سے آدمی پانی بن کر بہہ جاتا ہے۔ یا پھر دھواں بن کر اڑجاتا ہے اور اسے شیشی میں ڈال کر اس کا کلون تیار کیا جاتا ہو
    یہ خبر آپ کو کب اور کن ذرائع سے حاصل ہوئی براہ کرم ہمارے افکار کو منور فرمائیے- شعو ر کی فتح ، اہم ترین ضرورت ، سب سے بڑا چیلنج۔۔۔ غور فرمائیے

    افغانستان ميں فوجی کاروائ اجتماعی سطح پر دفاع کے اس ضمن میں آنے کا فیصلہ کس کا تھا ۔ کیا حملہ آور ملک کا۔۔؟؟
    آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ افغانستان میں فوجی کاروائی اقوام متحدہ سے حاصل کسی مینڈیٹ کے تحت نہیں تھی بلکہ حملہ آور کی اپنی تشریح کے مطابق جب جنگ مسلط کر دی گئی تو اب اس چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں جو عدم استحکام پیدا ہوا اسے ختم کرنے کے لیئے اسے ریگولرائز کرنے کی ایک ایسی کوشش تھی جس کے نتائج آج تک مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکے-تو ایسے میں جارح کو تو جارح ہی کہا جائے گا نہ کہ اپنا دفاع کرنے والا-

    شاید شیئر کرنے سے پہلے آپ نے اس کلاسی فائیڈ ڈاکیومنٹ کو مکمل نہیں پڑھا تھا کیونکہ یہ تو آپ کے نقطہ نظر کے مخالف بیانیئے کو تقویت دیتا ہے

    مزید یہ کہ پہلے دو اکاذیب کی توجیہہ دیئے بغیر تیسرے کی طرف بڑھنا اور آپ کے مکمل جواب کا اسی ایک کے اردگرد رہنا کیا پہلے دو کو امریکہ بہادر کا اپنے جھوٹ تسلیم کرنا سمجھا جائے۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

    اوور ٹو یو Fawad - صاحب
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 21, 2018
    • زبردست زبردست × 3
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,321
    یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ میں استحکام کی خاطر سیکورٹی کونسل نے افغانستان میں فوجی کاروائی کی اجازت دی تھی؟
    اگر ایسا ہی ہے تو سیکورٹی کونسل کا اپنا کردار متنازعہ ہو جائے گا ۔ جو اس وقت ایک پسندیدہ اور طاقتور ملک کے استحکام کیلئے ایک کمزور اور پسماندہ ملک کے استحکام کو تباہ کرنے کی کلین چٹ فراہم کر رہی تھی۔
     
  11. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک ایسی سیکیورٹی کونسل جس میں پانچ سات ملک دنیا میں فیصلے کرنے یا روکنے کے مختار عام ہوں اور انہیں اپنی پسند ناپسند کے مطابق کسی بھی معاملے کو ویٹو کرنے کا حق بھی ہو اسے متنازعہ نہ سمجھنا اپنے آپ میں ایک تنازع ہے ۔ البتہ میرے ذاتی خیال میں تو ویٹو پاور نے اس ادارے کا خانہ خراب کر دیا ہے۔ ایک ویٹو پاور کو ساتھ ملا لو کوئی ککھ نہیں کر سکتا۔ جیسے امریکہ اور اسرائیل
     
    • متفق متفق × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,321
    آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ میری دانست میں اقوام متحدہ کا عالمی امن قائم کرنے میں کردار محض نمائشی ہے۔ جبکہ ضروری اور اہم فیصلہ 15 ملکی سیکورٹی کونسل نے ہی کرنے ہوتے ہیں۔ اور جہاں پانچ مستقل اراکین کے اشرافیہ کلب کو ان فیصلوں پر ویٹو حاصل ہے۔ یہ مضحکہ خیزی گلوبل ازم کے نام پر دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاری ہے۔
     
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,321
    دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کا قیام دنیا میں امن کا نفاذ ممکن بنانا تھا۔ اور سابقہ جنگوں کی تاریخ ختم کرنا تھا۔
    جبکہ حقیقت میں اقوام متحدہ دوسری جنگ عظیم جیتنے والے 5 اشرافیہ ممالک کا کلب بن کر رہ گیا۔ جو اپنے مفادات کے خلاف جانے والے سیکورٹی کونسل کے ہر فیصلہ کوویٹو کرواتے رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے:
    اقوام متحدہ کے ذریعہ عالمی امن کیا قائم ہونا تھا۔ جن علاقوں میں جنگیں ناپید تھیں، وہاں بھی شروع ہو گئیں۔ اور ایک ملک کے ویٹو پاور کی بدولت جنگیں ختم نہ ہو سکیں۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 21, 2018
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,404
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    ویٹو پاور اور اس کی اہمیت و افادیت سمجھے بغیر آپ اقوام متحدہ کو نہیں سمجھ سکتے۔
     
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,321
    ویٹو پاور بنیادی طور پر "غیرجمہوری" ہے۔ ایک ملک کو 14 دیگر ممالک کے ووٹ پر تقویت کیسے دی جا سکتی ہے؟
     
  16. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,404
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    اقوام متحدہ کا مقصد جمہوریت نہ تھا
     
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,321
    دنیا میں قیام امن تو تھا جو غیرجمہوری ویٹو پاور کی وجہ سے تاحال تعطل کا شکار ہے۔ جس طرح بلقان کی جنگ میں سیکورٹی کونسل نے اہم کردار ادا کرکے جلدی جنگ بندی کروائی تھی۔ وہی کام دنیا بھر کے دیگر تنازعات جیسے کشمیر، فلسطین، شام، عراق وغیرہ میں ہو سکتا تھا۔ مگر ویٹو پاور بار بار آڑے آتی رہے۔
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  18. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,321
    ویٹو پاور کی اہمیت اور "افادیت"
    [​IMG]
    The 43 times US has used veto power against UN resolutions on Israel

     
  20. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ہم مکمل طور پر ڈی ٹریک ہو رہے ہیں۔ ابھی تو فواد سے سوالات کیئے ہوئے ہیں انہی کا جواب چاہیئے۔ اقوام متحدہ کسی دوسرے دھاگے میں توڑ لیں گے

    جی جناب Fawad - صاحب



     

اس صفحے کی تشہیر