کون ہے جو محفل میں آیا -56

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
شکریہ اور بہت خوب
میں نے تو صرف معلومات کے لیے پوچھا تھا
ادھر ہمارے ہاں بھی تقریبا ایسا ہی ہوتا ہے ہر طرح کے لوگ نظر آتے ہیں، پر سوشل کم ہوتے ہیں :)

جب کے ہم نے ہندوستان کے کچھ علاقوں میں اس درجہ جہالت بھی دیکھی ہے کہ کوئی غیر مسلکی نماز پڑھنے آجائے تو بھگا دیا جاتا ہے یا پھر مسجد کو نجس قرار دے کر اس کی اچھی طرح دھلائی کی جاتی ہے۔ :)
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
ایک ہی مسجد میں سبھی آتے ہیں۔ سبھی اپنے اپنے طریقے سے نماز پڑھتے ہیں ایک ہی امام کے پیچھے۔ جس کا جی کرتا ہے رفع الیدین کرتا ہے جو نہیں کرنا چاہتا نہیں کرتا۔ کوئی نیت سینے پر باندھتا ہے کوئی ناف پر اور کوئی باندھتا ہی نہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں، مصافحہ کرتے ہیں حال احوال پوچھتے ہیں، نماز کے بعد مسجد میں ہی چائے یا کافی لیتے ہیں۔ رمضان مین ساتھ افطار کرتے ہیں، مگرب کی نماز کے بعد مسجد مین ہی رات کا کھانا کھاتے ہیں اور تراویح پڑھ کر اپنے اپنے گھر جاتے ہیں۔ اکثر جمعہ کی نماز کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کلمہ شہادت پڑھ رہا ہوتا ہے۔ بس یہی کچھ ہے۔ :)

کیسے مسلمان ہیں یہ کہ مل کر رہتے ہیں ، انھیں ذرا پشاور کی سیر کروائی جائے !
---------------------------

سعود بھائی ، اتنا اچھا لگا یہ پڑھ کر کہ سب ایک جگہ جمع ہیں ، اس کا مطلب کہ تمام مسالک کے افراد موجود ہوتے ہوں گے ۔
 
سعود بھائی ، اتنا اچھا لگا یہ پڑھ کر کہ سب ایک جگہ جمع ہیں ، اس کا مطلب کہ تمام مسالک کے افراد موجود ہوتے ہوں گے ۔

اس کے کچھ اسباب ہیں۔ اپنی تمام تر قباحتوں کے ساتھ امریکی فضا میں روا داری کے جراثیم بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ لوگ اکثر حیران ہوتے ہیں کہ شدید خیالات کے حامل جب امریکہ میں کچھ دنوں کے لئے رہ جاتے ہیں تو ان کے مزاج اتنی بڑی تبدیلی کیسے رو نما ہو جاتی ہے۔ اس کو الفاظ میں بتانا شاید سہل نہ ہو۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
مقدس میں پچھلے دھاگے میں لکھ رہی تھی تو وہ مقفل ہو چکا ۔ اس میں محمد امین بھائی کی کتابوں کی فہرست میں "شفیق الرحمن" کی تمام کتب کا اضافہ کر سکتی ہیں ۔ بہت آسان اور بہت رواں اور بہت ہی دلچسپ لکھا ہے ۔
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اس کے کچھ اسباب ہیں۔ اپنی تمام تر قباحتوں کے ساتھ امریکی فضا میں روا داری کے جراثیم بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ لوگ اکثر حیران ہوتے ہیں کہ شدید خیالات کے حامل جب امریکہ میں کچھ دنوں کے لئے رہ جاتے ہیں تو ان کے مزاج اتنی بڑی تبدیلی کیسے رو نما ہو جاتی ہے۔ اس کو الفاظ میں بتانا شاید سہل نہ ہو۔

درست کہا ۔ دراصل ایک ہی جگہ پر رہنے سے انسان کی سوچ انتہائی محدود ہوجاتی ہے اور اس میں وسعت پیدا نہیں ہو سکتی ۔ جو لوگ اپنے عقیدہ سے باہر دوسرے لوگوں سے نہیں ملتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے وہ کسی ایک چھوٹے سے دائرے کے قیدی ہوں انہیں پھر اس دائرے سے باہر رہنے والے افراد کے دکھوں اور ان کی خوشیوں کا اندازہ بھی نہیں ہو سکتا ۔ مجھے اسی لیے مسلک کو اہمیت دینے والے لوگ اچھے نہیں لگتے ۔
 

محمد امین

لائبریرین
مقدس میں پچھلے دھاگے میں لکھ رہی تھی تو وہ مقفل ہو چکا ۔ اس میں محمد امین بھائی کی کتابوں کی فہرست میں "شفیق الرحمن" کی تمام کتب کا اضافہ کر سکتی ہیں ۔ بہت آسان اور بہت رواں اور بہت ہی دلچسپ لکھا ہے ۔

بہت شکریہ شگفتہ۔۔ میں روانی میں ابنِ انشاء کا انبار لگا گیا :grin:
 

محمد امین

لائبریرین
جانے والے دوستوں کو اللہ جافظ۔۔۔میں ذرا معین اختر کی وڈیوز دیکھ رہا تھا تو وقت پر جواب نہیں دے سکا تھا۔۔۔۔
 

محمد امین

لائبریرین
جب کے ہم نے ہندوستان کے کچھ علاقوں میں اس درجہ جہالت بھی دیکھی ہے کہ کوئی غیر مسلکی نماز پڑھنے آجائے تو بھگا دیا جاتا ہے یا پھر مسجد کو نجس قرار دے کر اس کی اچھی طرح دھلائی کی جاتی ہے۔ :)

جناب۔۔۔ ہمارے پیارے دیس میں مسلک اور مسجد کے قبضے کے لیے گولیاں چل جاتی ہیں۔۔۔ اکثر تو بم دھماکے بھی مسلکی اختلافات پر ہوجاتے ہیں۔۔۔ مگر یار لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کی مشترکہ سازش ہے۔۔ہم انہیں کہتے ہیں جائیے آپ بھی کبوتر کی طرح دیدے بند کر کے بیٹھ رہیے۔۔۔۔

ابھی پچھلے مہینے ہمارے علاقے سے کچھ دور دو مسلکی جماعتوں کے درمیاں فائرنگ سے ذرا سی دیر میں ۸ افراد مارے گئے تھے۔۔جن میں راہگیر بھی شامل تھے۔۔۔
 

محمد امین

لائبریرین
کہاں تک سنایا جائے قصۂ غم۔۔۔ بہت خونچکاں ہے یہ داستاں۔۔ نہ صرف یہ، بلکہ اس دیس کی ہر داستان گویا قلم میں خون بھر کر لکھی گئی ہے۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
جب کے ہم نے ہندوستان کے کچھ علاقوں میں اس درجہ جہالت بھی دیکھی ہے کہ کوئی غیر مسلکی نماز پڑھنے آجائے تو بھگا دیا جاتا ہے یا پھر مسجد کو نجس قرار دے کر اس کی اچھی طرح دھلائی کی جاتی ہے۔ :)

جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہی تمام وفود سے جو کہ غیر مسلم ہوتے تھے، سے ملاقات کرتے تھے۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top