کون پھر اُس کے سوا موجود ہے - عزیز لکھنوی

حسان خان

لائبریرین
کون پھر اُس کے سوا موجود ہے
جب وہی شاہد، وہی مشہود ہے

دیکھنا اس کی طرف بے سود ہے
رنگِ رخسار آفتاب آلود ہے

تاب کس کو داستانِ دل سنے
حرف حرفِ عشق خوں آلود ہے

ایک اِک ذرے پہ عبرت کی نظر
مدعائے ہستیِ بے بود ہے

انحصارِ سرزمینِ کعبہ کیا
ایک اِک ذرہ یہاں مسجود ہے

ظلم اتنے، انتہا جس کی نہیں
پھر بھی اس سے دل مرا خوشنود ہے

حُسن کیا ہے؟ شعلۂ پُرپیچ و خم
عشق کیا ہے؟ ایک موجِ دود ہے

محفلِ دنیائے فانی رات دن
زمزمہ سنجِ ہُوَالموجود ہے

خاکِ اربابِ وفا سے محترز!
دیکھ لے دامن غبار آلود ہے

سانس کا باقی ہے جب تک سلسلہ
عافیت دل کے لیے مفقود ہے

تو (جو) مل جائے تو پھر کیا چاہیے
اور کیا تیرے سوا مقصود ہے

دل خلیلِ امتحاں گاہِ وفا
سوزشِ دل آتشِ نمرود ہے

دل نہ ہو جب تک کسی کا داغ داغ
بارگاہِ عشق میں مردود ہے

ننگ ہے ملنا ترا کیا قبلِ موت
خلقتِ دنیا مگر بے سود ہے

کشتۂ صد تیغِ ناکامی عزیز
شکر ہے، حاسد نہیں محسود ہے

(عزیز لکھنوی)
۲۵ جولائی ۱۹۲۴ء
 
آخری تدوین:

کاشفی

محفلین
دل نہ ہو جب تک کسی کا داغ داغ
بارگاہِ عشق میں مردود ہے

ننگ ہے ملنا ترا کیا قبلِ موت
خلقتِ دنیا مگر بے سود ہے

واہ بہت ہی خوب جناب!
 
Top