کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے؟
خانہ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
یہ شعر ہے یا طلسم ہوش ربا؟​
جتنا اس شعر میں ڈوبتا جاتا ہوں ، "حواس گم ، قیاس گم، ہمہ بجز گلاس گم ، نظر کے آس پاس گم" والی حالت ہوتی جا رہی ہے۔ ایک عالم رنگ و بو ہے اور میں حیرت میں غلطیدن۔​
اللہ اللہ مجھ پر اتنا کیف، اتنا نشہ شاید پہلے کبھی نہ چھایا تھا، میں بے بسی کی انتہا پر ہوں کہ اپنے احساسات اور جذبات شیئر بھی نہیں کر سکتا۔​
ایلس ان ونڈر لینڈ والی صورتِ حال در پیش ہے۔ ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم​
قصہ مختصر مجھ پر یہ شعر اس بری طرح سوا ر ہے کہ تیسرا ہفتہ ختم ہونے کو ہے اور میں اس شعر کے سحر میں گم ہوں۔​
ایک عجب سی وحشت طاری ہے۔ اور سر دھن دھن کے گردن اکڑ گئی ہے،​
محمد وارث مرزا​
@مہ جبین​
میری وحشت کو کچھ آپ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ آپ ہی سے شاید میں غالبؔ کے اس شعر کی لذتیں بیان کر پاؤں، جو مجھے ہوش و خرد سے بے گانہ کیے دے رہی ہیں۔​
غالب کا جادو مجھ پر بری طرح چھایا ہوا ہے​
جھوٹ ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا جادوگر سامری تھا۔ میں کہتا ہوں دنیا کا سب سے عظیم جادوگر غالبؔ اور صرف غالبؔ ہے۔​
استاد آپ کی (بقول اقبالؒ) پاکیزہ روح پر ہر دم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی برسات ہو۔ آپ نے مجھے وہ مزہ چکھایا ہے جو شاید دنیا کی کسی نشہ آور چیز میں نہ ہوگا۔​
بے ذوق حضرات سے التماس ہے کہ براہ کرم اس گفتگو میں دہشت گردی مچانے سے گریز کریں ۔اللہ کے واسطے​
 

نایاب

لائبریرین
مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہے؟
خانہ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا
بے ذوق حضرات سے التماس ہے کہ براہ کرم اس گفتگو میں دہشت گردی مچانے سے گریز کریں ۔اللہ کے واسطے​
اگر اس التماس کو ذرا بھی پرواہ کر لی تو کون دیوانہ ہمیں مجنوں کہے گا ۔ ہم بے ذوق سہی مگر مجنوں کے سلسلے سے ہیں
اور مدت سے ہے پیشہ آباء سپاہ گری ( دہشت گردی )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لیئے ہم تو غل مچائیں گے ہی ۔ کہ چچا ہمارے بھی تو ہیں غالب صغیر
اجازت ہے کیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 
چونکہ غالب کی خواہش تھی کہ بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہئیے، جس میں کوئی ہمسایہ نہ ہو، کوئی بھی مخل نہ ہواسلئے لیلی نے بھی اس خواہش کے احترام میں وحشت خرامی سے احتراز کیا
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
ہم بے ذوق سہی مگر مجنوں کے سلسلے سے ہیں
اور مدت سے ہے پیشہ آباء سپاہ گری ( دہشت گردی )۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
اس لیئے ہم تو غل مچائیں گے ہی ۔ کہ چچا ہمارے بھی تو ہیں غالب صغیر
مانعِ وحشت خرامی ہائے نایاب کون ہے
دھاگہ ء چھوٹا غالب تو ان لاک تھا
 

نایاب

لائبریرین
غالب صغیر
کیا حکمت ہے اس شعر میں چچا کی ؟
لیلی کا ذکر صیغہ حال میں
اور
ذکر خانہ مجنوں صیغہ ماضی میں
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
اس شعر کا سادہ سا ترجمہ تو میں کر دیتا ہوں نایاب (بھائی، سر، صاحب، باس ۔۔۔ حسبِ منشا کوئی بھی لاحقہ لگا لیں)

لیلیٰ کی چہل قدمی، یا سیر میں کیا رکاوٹ ہے
جبکہ صحرا میں رہنے والے مجنوں کا گھر تو بے دروازہ تھا
(مجنوں صحرا میں رہتا تھا، اس لحاظ سے پورا چولستان ، تھر اس کا گھر ہوا، اور صحرا کا کوئی دیوار ، دروازہ نہیں ہوتا)
 
خود غالب اپنے ایک شعر میں اس طرح اپنے شائق یا شاعر کہیں تو بہتر ہوگا کو آگاہ کر رہے ہیں کہ:
گنجینہ معنی کا طلسم اس کو سمجھنا
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے
 
محترم نایاب صاحب، آپکو شاہ جی کہہ کر مخاطب کرنا زیادہ اچھا لگتا ہے، اگر اجازت دیں تو شاہ جی کہہ کر مخاطب کروں۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ وحشت خرامی مقامِ حیرت ہے۔۔۔اور بے در مکان جو صحرا کی طرح بیکراں ہے، اگر اسے مقامِ احدیت یا لاتعین سمجھا جائے تو شعر یہ واضح کرتا ہے کہ عاشقِ ذات کیلئے مقامِ حیرت ہے، جسکی کوئی انتہا نہیں، جبکہ عاشقِ صفات کو اس مقام سے دور رکھا جاتا ہے، انکے لئے محمل ہے۔۔۔میی فہمِ ناقص میں تو یہی معنی زیادہ موزوں دکھائی دئیے ہیں۔۔براہ ِ کرم اس عقدے کو کچھ آپ ہی کھولئیے۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں اس شعر کے حوالے سے:)
 

نایاب

لائبریرین
یارو مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں:idontknow:
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل ۔۔۔۔
آپ بھی محو رقص ہیں کیا ؟
وحشت خرامی مجنوں کی صفت ہے۔۔۔ ۔عاشق کیلئے روا ہے، ۔۔۔ لیکن محبوبوں کیلئے ناز ہی اولیّ
لیکن بھائی یہاں تو وحشت خرامی کو لیلی سے منسوب کیا جا رہا ہے ۔
مجنوں تو فقط منتظر دید ہے
اس شعر کا سادہ سا ترجمہ تو میں کر دیتا ہوں نایاب

لیلیٰ کی چہل قدمی، یا سیر میں کیا رکاوٹ ہے
جبکہ صحرا میں رہنے والے مجنوں کا گھر تو بے دروازہ تھا
(مجنوں صحرا میں رہتا تھا، اس لحاظ سے پورا چولستان ، تھر اس کا گھر ہوا، اور صحرا کا کوئی دیوار ، دروازہ نہیں ہوتا)
صحرا میں رہنے والا صحرا گرد کہلائے گا کیا ؟
خانہ مجنون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تمام جو کہ بے ستون بے در گنبد عالی شان ہے ۔
 

نایاب

لائبریرین
محترم نایاب صاحب، آپکو شاہ جی کہہ کر مخاطب کرنا زیادہ اچھا لگتا ہے، اگر اجازت دیں تو شاہ جی کہہ کر مخاطب کروں۔۔۔ ۔میرا خیال ہے کہ وحشت خرامی مقامِ حیرت ہے۔۔۔ اور بے در مکان جو صحرا کی طرح بیکراں ہے، اگر اسے مقامِ احدیت یا لاتعین سمجھا جائے تو شعر یہ واضح کرتا ہے کہ عاشقِ ذات کیلئے مقامِ حیرت ہے، جسکی کوئی انتہا نہیں، جبکہ عاشقِ صفات کو اس مقام سے دور رکھا جاتا ہے، انکے لئے محمل ہے۔۔۔ میی فہمِ ناقص میں تو یہی معنی زیادہ موزوں دکھائی دئیے ہیں۔۔براہ ِ کرم اس عقدے کو کچھ آپ ہی کھولئیے۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں اس شعر کے حوالے سے:)
محترم غزنوی بھائی
جس طرح آپ کو مناسب لگے پکار لیں ۔
چچا ۔۔۔۔۔۔۔۔ قرض کی پیتے تھے مئے ۔
اس لیئے بھتیجے لوگ ان کے کلام کو مجاز اور حقیقت دونوں میں ملبوس پاتے ہیں ۔
غالب صغیر اس شعر میں موجود گنجینہ معنی کا بیان کریں گے ۔
 
مجھے ان "گراہوں" سے غالب کا گرہ کھولنا اور باندھنا یاد آتا ہے۔۔۔ جب انسان زیادہ گراہیں کھولنے لگتا ہے تو اس کی حالت غالب کی سی ہوجاتی ہے۔ سو یہی مسلک ہمارا بھی ہے۔
 

انتہا

محفلین
انتہا جی۔۔خرامی ہا جمع کا صیغہ ہے مثلاّ آپ نے فیض کے مجمعہ کلام کا نام سنا ہوگا۔۔۔ نسخہ ہائے وفا
بہت شکریہ محمود بھائی، آپ اقتباس لے کر جواب دے دیں تو بندہ کی اطلاعی گھنٹی بج جائے گی اور ناواقفیت جلد واقفیت میں بدل جائے گی۔
 
Top