سعود عثمانی کوئی آواز ڈھونڈتی ہے مجھے - سعود عثمانی

چوہدری لیاقت علی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 15, 2015

  1. چوہدری لیاقت علی

    چوہدری لیاقت علی محفلین

    مراسلے:
    305
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    کوئی آواز ڈھونڈتی ہے مجھے

    ہاتھ بڑھتا ہے فون کی جانب
    اور میں اس کو روک لیتا ہوں
    کوئی زنجیر کھل نہیں پاتی
    دل کسی کام میں نہیں لگتا
    کوئی آواز ڈھونڈتی ہے مجھے

    پھر وہی تیزدھار نوک سعود
    قاش در قاش مجھ میں پھرتی ہے
    پھر وہی چھن کی آشنا آواز
    بوند تپتے توے پہ گرتی ہے

    کوئی لکڑی سی جیسے چِرتی ہے
    رنج کے بے امان آرے پر
    عمر کے آخری کنارے پر
    زندگی کیسے روگ پالتی ہے
    برف پر آگ دھرتی جاتی ہے

    سانس میں ریت بھرتی جاتی ہے
    کوئی آوازڈھونڈتی ہے مجھے
    کسی ملبے سے زندہ حالت میں
    یاد آکر مجھے نکالتی ہے

    لوگ کہتے تھے زیر آب کبھی
    کوئی آواز بھی نہیں آتی
    دل کے گہرے سمندروں کے تلے
    پھر یہ آواز کیسے گونجتی ہے
    جوکہیں باز بھی نہیں آتی

    (سعود عثمانی )
     

اس صفحے کی تشہیر