کلیات اسمٰعیل میرٹھی 201 تا 240

ف۔قدوسی نے 'ورکنگ زون' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 24, 2009

  1. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۱۳

    میں کھولے آن کر تن کے سام
    کیونکہ تھا رکنا پسینہ کا برا

    پھینک ذی اب دلق کہنہ خلق نے
    غلغلہ جو میری آمد کا سنا

    رات بھر رہتی تھی خلقت گھر میں بند
    کردیا اس بند سے میں نے رہا

    ماری پھرتی تھیں بطخیں پردیس میں
    میں ہوئی ان کو وطن کی رہنما

    لو اٹھا کرلے چلے غلہ کسان
    اب کریں گے قرض بینوں کا ادا

    میں نے حکمت سے چلائیں آندھیاں
    تابدل جائے مکانوں کی ہوا

    میں سمندر سے اٹھاتی ہوں بخار
    جس سے چھاجاتی ہے ملکوں پر گھٹا

    چہرہ گردوں کا یہ گردو غبار
    ابر کے آنے کا دیتا ہے پتا

    رات پر دن کونہ کیوں ترجیح دوں
    رات ہے تاریک دن ہے پرھنیا

    ہے ہمیشہ ابتدا میری بہار
    ہے سدا برسات میری انتہا

    تھیں غرض دونوں کی تقریریں دراز
    اور طولانی بیاں ماجرا

    سن کے ان دونوں کی یہ کج بحثیاں
    ایک دانا نے کیا یوں فیصلہ

    کچھ نہیں ہے اس میں جاڑے کا قصور
    کچھ نہیں ہے اس میں گرمی کی خطا

    جب حقیقت پر نہیں ہوتی نظر
    یوں ہی رہتا ہے بہم شکوہ گلا

    ہے حرارت کی کمی بیشی فقط
    ورنہ جاڑا کون؟ اور گرمی ہے کیا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۱۴


    (۱۲)قصیدہ تہنیت سالگرہ حضور ملکہ معظمہ قیصر ہند دام اقبالہا


    ذات خداوند ہے قابل حمدوثنا
    جس کی حمایت میں ہیں شاہ سے لے تا گدا

    امن جہاں کے لئے اس نے بنائے ملوک
    عالم اسباب میں تھی یہی صورت بجا

    خدمت فرماں دہی طاعت حق ہے مگر
    تھوڑے ہی نکلیں گے جو کرتے ہیں خدمت ادا

    ایسے بھی ہیں تاج دارجن میں نہیں عدل ورحم
    دیتے ہیں بے بات بھی خون کے دریا بہا

    ایسی حکومت مگر جسم پے محدود ہے
    قبضہ میں اس کے نہیں کچھ سروتن کے سوا

    توپ گرجتی ہوئی تیغ چمکتی ہوئی
    لازمہ سلطنت سمجھی گئی ہے سدا

    مملکت دل میں ہاں جس کا ہے سکہ رواں
    اس کی روش اور ہے اسکا چلن ہے جدا

    عدل وہاں توپ ہے اور کرم تیغ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۱۵

    لشکر شاہنشہی مہر ہے واں اور ولا

    جانتے ہیں ہم سبھی کون ہے ایسا سخی
    قیصر ہندوستان حضرت وکٹوریا

    ایسے شہنشاہ کا سایہ ہو جس ملک پر
    اس کے مبارک نصیب ہے وہی عشرت سرا

    اپنی رعایا پے یوں فیض ہے اس کا محیط
    جوں کرئہ ارض کے چار طرف ہے ہوا

    اپنی رعایا اسے ہے دل وجاں سے عزیز
    اس کی رعایا اسے دیتی ہے دل سے دعا

    ہم نہیں خسرو پرست ہم نہیں اہل غرض
    مدح شہنشاہ سے قصد ہے شکر خدا

    (۱۳) قصیدہ ناتمام

    ناکوئی فرخندہ پے دھوئے قدم
    ہیں اسی دھن میں رواں گنگ وچمن

    تاکرے گلگشت کوئی خوش نظر
    منتظر ہے رونق باغ و چمن

    تا معطر ہو کوئی عالی دماغ
    دوڑتی ہے نکہت مشک ختن

    چاہتی ہے لذت قندونبات
    ہو کوئی طوطی منش شکر شکن
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۱۶

    تاکسی نازک گلے کا ہار ہو
    قعر دریا سے چلا درعدن

    گرتصور میں نہ ہو اک جامہ زیب
    کب کرے تیار کاریگر چکن

    مل گئی گنگا میں گنگا بن گئی
    جب الہ آباد میں پہونچی جمن

    قطعات

    (۱)آرل آف میو وایسرائے وگورنر جنرل ہندوستان


    کیسی آڑی ہے سمت جزائر سے یہ خبر
    کیا ہوگیا کہ صر صر غم ہے ہوائے ہند

    بیٹھے بٹھائے اس خبر ہولناک نے
    ڈالا وہ زلزلہ کہ ہلادی بنائے ہند

    کس آفت عظیم نے یارب کیا نزول
    ہوتا نہیں بیان غم ماجرائے ہند

    اے مرگ ناگہاں تجھے کیوں آگیا پسند
    نواب ہندو حاکم کشور کشائے ہند

    افسوس اس کا حلقہ تم میں ہے یہاں
    تھا بزم عیش ذکر سے جس کے فضائے ہند

    وہ نام آج باعث ماتم ہے اے دریغ
    جس کا لقب تھا نائب شہ ویسرائے ہند

    کس کو کیا ہے خنجر بیداد نے ہلاک
    وہ حاکم مدبر وفرماں روائے ہند

    کہتے ہیں لوگ آج قتیل ستم اسے
    کہتے تھے جس کو مالک تیغ دلوائے ہند

    کیا جاں گزا ہے قتل گورنر کا واقعہ
    ماتمکدہ ہی چاہئے لکھنا بجائے ہند

    واحسر تاکہ قافلہ سالار چل دیا
    بے رونق وخراب ہے مہمان سرائے ہند
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۱۷

    رکن رکیں سلطنت ہند اٹھ گیا
    دست اجل نے توڑ دیا حیف پائے ہند

    کیا انقلاب دورزماں ہے ہوگیا
    ہندوستاں برائے غم دغم برائے ہند

    اس حادثہ سے ہے جگر خلق پاش پاش
    کیوں کر رفوپذیر ہوچاک قبائے ہند

    کیا نحس وہ جزیرئہ دریائے شور ہے
    جس کے سبب سے اشک مصیبت بہائے ہند

    اے کاش جانتے کہ یہ ہے آخری وداع
    رخصت ہوئے تھے ہند سے جب وایسرائے ہند

    ہاتف نے دی مذاکف افسوس مل کے یوں
    بس دل شکن ہے آہ غم وایسراے ہند

    (۲) شب برات

    محمود شب برات کا سامان ہے یہی
    اخبار پھلجڑی تو پٹاخاپیام تار

    ہیں عالم خیال میں ہم بھی وہیں کھڑے
    ترکان شیر دل ہیں جہاں گرم کارزار

    بلگیریا میں ہم کبھی آئے گئے نہیں
    نظروں میں ہیں مگر وہی میدان وکوہسار

    پھر تاجہاں رسالہ کاسک ہے دوڑتا
    اوران کی تاک جھانک میں سرکشین سوار

    ہم وار نہ میں دیکھتے ہیں وہ حجوم فوج
    تھا جس کے روم ومصر سے آنے کا انتظار

    اڑتا ہوانشان ہلالی نظر پڑا
    پہنچا جو شوملہ پہ تصور سے آنے کا انتظام

    اڑتا ہوا نشان ہلالی نظر پڑا
    پہنچا جو شوملہ پہ تصور کا راہوار

    گویا کہ دیکھ بھال کے ہم آئے ہیں ابھی
    میدان اور مورچے اور خیموں کی قطار

    رسچق سے آرہی ہے دنادن کی اک صدا
    اور سسٹواکو لوٹ رہے ہیں ستم شعار
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۱۸

    بھاگا ہے ترنوا کونکولاس چھوڑ کر
    آتاہے بے دھڑک جو سلیمان ذی وقار

    آئی پلیونہ سے نوید ظفر ہمیں
    عثمان نے کیا ہے وہاں روس کا شکار

    (۳)شب برات

    اے شب برات عمر ہے تیری بہت بڑی
    میں سن وسال تیرے کہاں تک کروں شمار

    ہے ہجرت رسول کو یہ تیرھویں صدی
    اور تو ہر ایک سال میں آتی ہے ایک بار

    دیکھا ہے تو نے آنکھ سے اسلام کا عروج
    تجھ کو خوب یاد ہے تاریخ روزگار

    کرتاہوں اک سوال مجھے تو جواب دے
    پہلے بھی تھا یہ فرقہ اسلام کا شعار

    کیا امت نبی کی یہی رسم وراہ تھی؟
    جوفی زماننا ہے مروج بہر دیار

    بول اٹھ جو تونے دیکھی ہوا گلے زمانے میں
    حلوے کی چاٹ اور اناروں کی یہ بہار

    ہے فرض عین آج پٹاخوں کا چھوڑنا
    یہ مشغلہ نہ ہووے تو بچے ہیں بے قرار

    حلوا نہ کھائے جو وہ مسلمان ہی نہیں
    چھوڑے نہ جو انار وہ کاہے کا دیندار

    سامان کوئی گھر میں میسر اگر نہ ہو
    حلوائی اور بنئے سے لے آتے ہیں ادھار

    بھجوائیں دے کے فاتحہ مردوں کے واسطے
    اسلام کا ہے اب تو اسی رسم پریدار

    بولی شب برات کہ میں کیا جواب دوں
    لوگوں کے سر پہ جب سے جہالت ہوئی سوار

    اسلام کے طریق سے بس ہوکے منحرف
    کر بیٹھے ہیں مراسم بیہودہ اختیار
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۱۹

    یہ قوم آج اہل جہاں کی نگاہ میں
    بدرسمیوں سے آپ ہے اپنی ذلیل وخوار

    اسلام میں پتا بھی نہیں جن رسوم کا
    اصل اصول دیں انھیں کرنے لگے شمار

    (۴)تاریخ وفات سرسالار جنگ بہادر مرحوم

    وہ دکن کا مدبر یکنا
    رکن دولت وزیر نیک خصال

    ملک رانی میں وہ بیگانہ عصر
    کاردانی میں بے نظیر وہمال

    اہل کشور کا وہ محبت دلی
    اور نظام دکن کا خیر سگال

    یعنی سالار جنگ نام آور
    جوکہ مختار ملک تھا فی الحال

    قوم کا ملک کا وطن کا دوست
    کامل وقدرداں اہل کمال

    سلطنت کے رموز کا استاد
    مملکت کے عقود کا حلال

    اس کے عدل وکرم سے خلقت شاد
    اس کے نظم ونسق سے ملک نہال

    عام کو چین خاص کو آرام
    سلطنت کا خزانہ مالا مال

    نہ ہوا اس کے عہد میں زنہار
    مفسدوں کے سوا کسی کو زوال

    امرا اس کے دور میں خوش دقت
    غربا اس کے وقت میں خوشحال

    نیک دل نیک خوی ونیک نہاد
    صاحب جو دولطف وبزل ونوال

    اس سے منسوب عزم اور ہمت
    اس سے مخصوص شوکت واجلال
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۰

    خرد اس کی محاسب انجام
    نظر اس کی دقیقہ سنج مال

    اس کی رائے متین نے بخشا
    امن اور عافیت کو استقلال

    اس کی عقل سلیم نے بخشا
    شاہد مملکت کو حسن وجمال

    چل بسا وہ وزیر باتدبیر
    اٹھ گیا وہ امیر باقبال

    اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
    اے بسا مدعا کہ شد پامال

    مشرق سے تاممالک مغرب
    لے کے دکھن سے تا حدود شمال

    ہند سے تا بملک انگلستان
    اس کے ماتم میں ہیں پریشاں حال

    تو بھی محمود لکھ کوئی تاریخ
    جس سے ظاہر وفات کا ہوسال

    آہ روشن قیاس ودانشور
    آہ دانش ورو بلند خیال


    (۵)عید الفطر

    تیس دن بھوک پیاس کو روکو
    یہ ریاضت ہے آدمی کو مفید

    روزہ کیا چیز ہے بتائیں تھیں
    حرص کی قید نفس کی تہدید

    سب کو بھولو کرو خدا کو یاد
    سب کو چھوڑو بجز خدائے وحید

    دو جہاں میں اسی کا جلوہ ہے
    ہے وہی مثل آفتاب پدید

    دل کی آنکھوں سے دیکھئے لیکن
    کہ خدارا بچشم نتواں دید
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۱

    وحدہ لاالہ الا ہو
    کچھ نہیں ہے سوائے رب مجید

    تابمقدور کیجئے تہلیل
    تابامکان چاہئے تمجید

    معتکف خانئہ خدا میں بنو
    کچھ تو سیکھو طریقہ تجرید

    عید کرتے ہیں اس وتیرہ پر
    جو خدا کے ہیں بندگان رشید

    امضاں کا مہینہ یوں گزرا
    ختم روزے ہوئے لو آئی عید

    عید کے دن پڑھو نماز ودعا
    عذر تقصبر کی کرو تمہید

    کہ خدایا نہ ہوسکی طاعت
    نہ ہو اہم سے کوئی کار سعید

    نہ ہوئی تیرے حکم کی تعمیل
    نہ ہوئی اہل رشد کی تقلید

    کوئی خدمت بجانہ لائے ہم
    جنس عقبٰی کی کرسکے نہ خرید

    جو ہوا تیری مہربانی سے
    نوتوانوں کی تونے کی تائد

    شکر کی تونے ہم کو دی توفیق
    شکر سے تیری نعمتیں ہیں مزید

    شکر نعمت بھی تونے سکھلایا
    ورنہ تھا ہم سے بہت ہی امید

    جاکے حامد سے یہ کہو محمود
    اب کے عیدی لکھی گئی ہے جدید

    (۶)عیدالضحٰی

    عید قرباں یادگار دین ابراہیم ہے
    کیا خوشی کا دن ہے یہ بھی رب کعبہ کی قسم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۲

    شوق میں اطراف عالم سے چلی کرتی ہے خلق
    روبسوئے کعبہ دل مشتاق آثار حرم

    ساکنان ربع مسکوں جمع ہیں مکہ میں آج
    روسی وجاوی وہندی ترکی ومصری مہم

    مختلف نسب کی زبانیں اور جد اشکل ولباس
    پرطواف کعبہ میں سب ہم خیال وہم قدم

    سرزمین مکہ تھی ویرانہ بے برگ وبار
    قدرت حق نے مگر بخشا اسے جاہ وحشم

    کاروان بحروبر اس کی طرف ہیں دوڑتے
    مرکز عالم ہے الحق وہ مقام محترم

    نسل انسانی بہم ہوتی ہے اس جا روشناس
    ہے یہ میدان انتخاب کاملان ذی پیہم

    آپ کی عیدی ہے حامد یا کوئی تاریخ ہے
    ایسی عجلت میں بھلا ہوتے ہیں یہ مضمون رقم

    (۷) عید الضحٰی

    عازمان طواف بیت اللہ
    ساکنان نواح دور ودراز

    کارواں کارواں روانہ ہوئے
    شوق حج میں کیا سفر آغاز

    ناخدا نے اٹھا دیا لنگر
    لے کے نام خدائے بندہ نواز

    کرچکے طے محیط اعظم کو
    جالگے ساحل عرب پے جہاز

    سبارباں نے بٹھادیا ناقہ
    ہوگئے داخل حدود حجاز

    اشتیاق حریم میں سب نے
    باندھا احرام تا کھلے کچھ راز

    پھرتے ہیں خانئہ خداکے گرد
    باخضوع و خشوع وعجزو نیاز
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۳

    کرکے نام خدا پے قربانی
    ہوئے فرہان عاشق جانباز

    کرکے غسل ووضو چلو محمود
    عید گہ کو پے ادائے نماز

    اب کے عیدی لکھی گئی کیسی
    ہے نیا طرز اور نیا انداز

    (۸)نذرانہ پیرجی

    جو کچھ نہیں بے کار جو کچھ ہے سو بے سود
    نیرنگ دوعالم ہے تماشائے خیالی

    اپنے ہی تخیل سے ہیں یہ جملہ طلسمات
    نے حق ہے نہ باطل ہے نہ سافل ہے نہ عالی

    جب زور ہوا وہم کا سب ہوگئے پیدا
    یہ نیک یہ بد۔یہ جلالی۔یہ جمالی

    ذکر وطلب وفکر وتمنا ہیں سب اوہام
    موجود نہ معدوم مقدم ہے نہ تالی

    یاں سے،نہ وہاں سے،نہ ادھر ہے نہ ادھر ہے
    ظاہر ہے نہ باطن ہے نہ حالی ہے نہ قالی

    اقرار نہ انکار نہ کچھ علم نہ ادراک
    ذاتی نہ صفاتی نہ حقیقی نہ خیالی

    ہے روشنی سب ایک نہ تمیز نہ تفریق
    گنتی میں ہزاروں ہیں چراغاں دوالی

    ہر چند مٹھائی کے بکثرت ہیں کھلونے
    سب ایک ہیں جب ٹوٹ گئی شکل مثالی

    ہر قسم کا منشا ہے وہی ایک حلاوت
    گو مختلف اقسام سے معمور ہے تھالی

    نے کشف وکرامت نہ مناصب نہ مراتب
    جب کھل گئی آنکھیں تو نہ کھرپا ہے نہ جالی

    جو کچھ ہے کم وبیش اسے کیجئے منظور
    جاتے ہیں کہیں پیرجی نذرانہ سے خالی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۴

    (۹)خواب راحت

    کل رات کی بات ہے کہ مجھ کو
    جھونکا سا غنودگی کا آیا

    جھٹ پٹ تکیہ پہ رکھ دیا سر
    دن بھر کا تھا میں تھکا تھکایا

    کچھ آنکھ جپھک گئی تھی لیکن
    اتنے میں کسی نے پھر جگایا

    دیکھا تو ہوا کا سنسنانا
    کچھ اور ہی رنگ روپ لایا

    رہ رہ کے تڑپ رہی ہے بجلی
    اور ابرہے آسماں پہ چھایا

    پڑنے لگیں بوندیاں ٹپاٹپ
    سوتے لوگوں نے غل مچایا

    ہلڑ جو مچا۔ اچٹ گئی نیند
    جوں دھوپ سے بھاگ جائے سایا

    سب سوگئے جاگتا رہا میں
    تب دل میں خیال یہ سمایا

    خواب راحت بھی ہے عجیب چیز
    کیا عالم بے خودی ہے چھایا

    اے نیند ! نمونئہ قیاست
    تونے ہمیں آنکھ سے دکھایا

    تو آئی ہوئے حواس بیکار
    کیا جانئے تو نے کیا سونگھایا

    جس وقت اترگئی گھٹاسی
    آنکھیوں کا چراغ ٹمٹمایا

    پھر چھوڑ گئی ہمیں جہاں میں
    پھر زیست کا ذائقہ چکھایا

    پاپا تو کہیں تجھے نہ دیکھا
    دیکھا تو کہیں تجھے نہ پایا

    ہے تیری عجیب حکمرانی
    دنیا کی پلٹ گئی ہے کایا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۵

    رن میں فوجوں کو پچھاڑا
    بن میں شیروں کو جا دبایا

    دہقان کو کھیت میں کیا چت
    گوکھیت کو گیڈروں نے کھایا

    ریوڑ کی خبر نہیں کہاں ہے
    چرواہے کو گھاس پر لٹایا

    لینے کو درخت پر بسیرا
    چڑیوں نے پروں میں سر چھپایا

    ڈھوڑوں نے بھی چھوڑدی جگالی
    چپ ہیں نہیں کان تک ہلایا

    جب چور کی آنکھ میں سمائی
    اس نے چوری سے جی چرایا

    رہزن کی بھی راہ باٹ ماری
    رہگیر کو خوف سے بچایا

    کھوٹی ہوئی راہ رو کی منزل
    پھیلا کے جو پائوں سنسنایا

    مائوں کو دیا ہے تو نے آرام
    بچوں کو تھپک تھپک سلایا

    روتے روتے جھپک گئی آنکھ
    جھولے مین جھلارہی ہے دایا

    بیگم۔ملکہ۔غریب۔بڑھیا
    تیرا آنا سبھی کوبھایا

    غم دور ہوا ٹکڑ گدا کا
    جھولی ہے نہ جھونپڑی نہ سایا

    بیڑی سے رکا نہ ہتکڑی سے
    محبوس کو قید سے چھڑایا

    شاہوں کی بھی کرو فرمٹادی
    نے تاج نہ تخت نے رعایا

    زریں پردے نہ فرش مخمل
    ایوان ہے گم سجاسجایا

    جب سوگئے ہوگئے برابر
    کب شاہ وگدا میں فرق پایا

    جج کے بھی حواس ہیں معطل
    فیصل ہوئے قصئہ وقضایا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۶


    ٹھنڈا ہوا تاجروں کا بازار
    سودے کا معاملہ چکایا

    ہے نقد کہاں کدھر گئے ٹوٹ؟
    ساہو کاروں کو کھک بنایا

    لالہ کو نہیں رہی ذرا سدھ
    کیا ڈیوڑھا اور کیا ساور کیا سوایا

    بینوں کا الٹ دیا پتڑ
    روکڑ ہے نہ جنس ہے نہ مایا

    بیمار کی آنکھ لگ گئی ہے
    دکھ درد کا کرب سب مٹایا

    کچھ ہوش نہیں ہے ڈاکٹر کو
    پلٹس لگے زخم پر کہ پھایا

    اوسان نہیں حکیم جی کو
    کیا نیند نے لخلخہ سنگھایا

    تبرید پلائے کہ مسہل
    سب بھول گئے کیا کرایا

    پنڈت بھی ہوئے پخنت ایسے
    اشناس کئے ۔نہ جل چڑھایا

    ملا کو بھی ہوگیا ہے نسیا ں
    بھولا ہے مسائل ہدایا

    تعریف نہ کرسکے مہندس
    کیا شکل ہے قائم الزدایا

    جغرافیہ داں کی راہ گم ہے
    لنکا ہے کدھر کدھر ہے ملایا

    کچھ یاد نہیں مورخوں کو
    کیا کیا برروئے کار آیا

    بھولا ہے کتاب طالب علم
    الٹاتو نے سبق پڑھایا

    مطرب کی عجیب گت بنائی
    کھڑاگ جہاں کا بھلایا

    عابد۔زاہد۔فقیر۔جوگی
    صوفی کا بھی ہوگیا صفایا

    چونکا نہیں قافلہ تری کا
    ہر چند جہاز ڈگمگایا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۷

    چیتے نہیں ریل کے مسافر
    انجن نے ہزار غل مچایا

    باقی نہ رہا کوئی تردد
    جھگڑوں میں تھا جان کو کپایا

    سب مشغلے ہوگئے فراموش
    اپنا ہی رہا نہ کچھ پرایا

    دنیا کی خبر۔نہ دین کا ہوش
    کیا ساغر بے خودی پلایا

    تونے کیا نیند کو مسلط
    قدرت ہے بڑی تری خدایا

    (۱۰)سرسید احمد خان

    تن بے سرکی طرح قوم پڑی تھی بیچاں
    سر جو پایا تو نے تو اٹھی بہرقیام اور قعود

    سروہی (سلمہ اللہ تعالٰی)سید
    رہبری جس کو ہے بیرہہ رووں کی مقصود

    قوم بدحال کے اندیشہ غمخواری سے
    کبھی خالی نہ رہا جس کا دل درد امود

    نہ گئی طالب صادق کی تگ وتاز عبث
    کھل گیا قوم کی بہبود کا باب مسدود

    ڈالی آخر کو دبستان خرد کی مینار
    ہوگیا جلوہ نما وہ جو تھا ذہنی معبود

    انقلابات زماں سے ہو تحفظ کیوں کر
    ناگریز اس کے لئے چاہئیں آئین وحدود

    پس مرتب ہوا مجموعہ دستور عمل
    تاکہ ہر عہد میں کام آئے پے حل عقود

    کثرت رائے سے اب پاس ہوا وہ قانون
    جس سے مقصود ہے کالج کا دوام اور خلور
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۸


    قوم نے فرط مسرت سے سنا یہ مژدہ
    سیدالقیوم کا ہم کار ہے سید محمود

    ہوگیا دورتن قوم کو تھا جو خطرہ
    للہ الحمد۔کہ ایک اور بھی سر ہے موجود

    صدوسی سال رہے زندہ ابھی پیر بزرگ
    نوح کی عمر کو پہنچے یہ جو ان مسعود

    دوربین فہم وخرد کی ہمیں دکھلاتی ہے
    قوم کا نیر اقبال ہے مائل بصعود

    خدمت قوم پہ آمادہ ہوا وہ مخدوم
    نام کی طرح سے ہیں کام بھی جس کے محمود

    جس کے مسلماں نبی نہ صرف اس کو بھلا جانتے ہیں
    مانتے ہیں اسے انگریز بھی۔نیز اہل ہنود

    حظ وافر ہے اسے نووکہن سے حاصل
    ملتقے گنگ وجمن کا ہے مگر اس کا وجود

    اس کے سینہ میں ہیں قدرت ودیعت رکھے
    علم وحکمت کے گہر فضل وبلاغت کے نقود

    یہ سلیماں ہی کرے گا اسے الحق کامل
    جس عمارت کی بنا ڈال رہا ہے دائود

    ڈالدیںورطئہ نسیاں میں اسے اب احباب
    چھڑگئی تھی وہ جو اک بحث بہم رنج آلود

    صلح کے ساتھ اگر۔ذکر کریں بھی تو کریں
    نہ کہ آپس میں لڑیں مثل نصارٰی ویہود

    اتفاقات سے گر ہو بھی گیا کوئی نزاع
    بزم قومی میں نہ سلگائو اسے صورت عود

    ہرشرارہ سے بچو بھق سے اڑادے نہ کہیں
    ایک مخزن ہے جہاں جس میں بھری ہے بارود

    زیدہو۔عمر ہو۔یا مادشما۔کوئی ہو
    سب کے ممنون ہو جو قوم کی چاہئے بہبود

    ہاں مگر ایک جو شوریدئہ دل سوختہ ہے
    چارسو گونجتی ہے جس کی فغان پردود

    قوم کا قیس ہے اور قیس فنافے اللیلے
    نہ وہ حاسد ہے کسی کا نہ کسی کا مجسود

    کشتئی نوح کو زنہار نہ توڑو یارو!
    پے کرو ناقئہ صالح کو نہ جئوں قوم ثمود
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۲۹


    اور ہی چیز ہے وہ اس کو نہ چھیڑو زنہار
    اور ہی شخص ہے وہ اس سے الجھنا بے سود

    اس سے تفصیل کا دعوٰی ہو تو دعوٰی ڈسمس
    اس کی تذلیل کی خواہش ہو تو خواہش مردود

    اس کے حالات سے واقف ہے وہ دانندئہ راز
    جس کے قبضہ میں ہے کل کا رگہ غیب وشہود

    (۱۱)تہنیت سالگرہ ملکہ وکٹوریہ

    سنو حضرات! جب گوئے زمیں نے
    لگائے تین سو پینسٹھ ہیں چکر

    توانحصال الہی سے مع الخیر
    ہوا بار دگر یہ دن میسر

    کومین وکٹوریا کا رشتئہ عمر
    چوہترواں پڑا آج اس میں گوہر

    اسی کی تہنیت کا ہے یہ جلسہ
    مسرت اور خوشی ہے جلوہ گستر

    محبت خیرخواہی حق شناسی
    نظر آتی ہے اس جلسہ کے اندر

    مجسم صورتیں مہردوفا کی
    اگر ہو تیں ہم سے بہتر

    خوشی کا دن ہے اور وہ تہنیت ہے
    کہ جس کا جوش ہے سب میں برابر

    غرض ہم سب خدا سے چاہتے ہیں
    دوام دولت و اقبال قیصر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۳۰


    (۱۲) قطعہ تاریخ وفات سید اقبال احمد مرحوم

    الایا ایہا الاخوان واحباب
    کہ تھے ہم بھی تمھاری طرح خوش حال

    بہار نوجوانی کا تھا آغاز
    قریب ختم تھا بائسواں سال

    ہماری آرزو کی تھی روش اور
    زمانہ چل رہا تھا اور ہی چال

    یکایک صدمئہ باد فنا سے
    نہال تن ہوا دم بھرتا میں پامال

    قضار اگر سر مدفن گزر ہو
    توہاں اے دوستداران خوش اعمال

    دعا کرنا کہ ہو سیراب رحمت
    ریاض جادواں ہیں جان اقبال

    (۱۳)مرثیہ مولوی حافظ رحیم اللہ صبا (اکبر آبادی)

    قصہ درد جاں گزا سنئے
    ماجرائے الم فزا کہئے

    پوچھئے نالہ و فغاں کا سبب
    موجب گریہ وبکا کہئے

    کیوں سمجھئے فساد آب وہوا
    کیوں ستمگارئی وبا کہئے

    موت کو دیجئے نہ کچھ الزام
    کار فرما ئی قضا کہئے

    عمر کو کیجئے سفیہ شمار
    دہر کو لجہ فنا کہئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۳۱


    ہے عبث عفت ومرض کاپیاں
    ہاں فقط مرضی خدا کہئے

    وہ جو بھی بزم صحبت احباب
    اب اسے مجلس عزا کہئے

    کیجئے ماتم رحیم اللہ
    نوحئہ رحلت صبا کہئے

    اکبر آلہ کا ادیب اریب
    کرگیا کوچ ہائے کیا کہئے

    فضل ودانش میں علم وحکمت میں
    بے بدل فی زماننا کہئے

    عربی کے کلام کا انداز
    امرء القیس دوسرا کہئے

    سخن فارسی کی راہ وروش
    آفریں اور مرحبا کہئے

    دیکھئے ریختہ کی آن و ادا
    ثانی میرو میرزا کہئے

    کیجئے شیون سخندانی
    علم ودانش کا مرثیا کہئے

    کرکے شعر وسخن سے قطع نظر
    صاحب صدق وبا صفا کہئے

    ہاں زروئے محاسن اخلاق
    معدن حلم اور حیا کہئے

    پاک دل پاک طبع۔نیک نہاد
    مخزن مہر اور وفا کہئے

    اے خوشادہ اکہ نیک نام جیا
    اس کو مقبول کبریا کہئے

    جسم زنداں ہے روح زندانی
    ہو رواں تو اسے رہا کہئے

    سفر ناگزیر کو الحق
    آخریں نعمت خدا کہئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. ف۔قدوسی

    ف۔قدوسی محفلین

    مراسلے:
    6,932
    صفحہ ۲۳۲


    (۱۴)ایک گدھا شیر بنا تھا


    پایا تھا اک گدھے نے کہیں پوستن شیر
    سوچا کہ آڑ خوب ہے کچھ کھیلئے شکار

    پہنا اور آدس پاس کے کھیتوں میں جاگھسا
    دیکھا جو شیر سہم گئے اس سے کاشتکار

    اتنے میں اپنی بولی جو بولا تو کھل گیا
    ہے شیر کے لباس میں اک پوشیدہ حمار

    جب کھل گیا فریب تو پھر مارے طیش کے
    لے لے کے اپنی لاٹھیاں سب پل پڑے گنوار

    چاروں طرف سے گھیر کے لی خوب ہی خبر
    لوگوں نے ،ارپیٹ میں رکھا نہ کچھ ادھار

    مرنے میں کیا رہا مگر خیر ہوگئی
    بھاگا دبا کے دم۔تو بچی اس کی جان زار

    چھپی نہیں ہے بات بنائی ہوئی کبھی
    آخر کو ہوکے رہتی ہے اصلیت آشکار

    بچیو سدا تکلف وناراستی سے تم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4

اس صفحے کی تشہیر