میرا جی کلرک کا نغمہ محبت

سردار محمد نعیم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 7, 2018

  1. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,917
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive

    سب رات مری سپنوں میں گزر جاتی ہے اور میں سوتا ہوں

    پھر صبح کی دیوی آتی ہے
    اپنے بستر سے اٹھتا ہوں منہ دھوتا ہوں

    لایا تھا کل جو ڈبل روٹی
    اس میں سے آدھی کھائی تھی

    باقی جو بچی وہ میرا آج کا ناشتہ ہے
    دنیا کے رنگ انوکھے ہیں

    جو میرے سامنے رہتا ہے اس کے گھر میں گھر والی ہے
    اور دائیں پہلو میں اک منزل کا ہے مکاں وہ خالی ہے

    اور بائیں جانب اک عیاش ہے جس کے ہاں اک داشتہ ہے
    اور ان سب میں اک میں بھی ہوں لیکن بس تو ہی نہیں

    ہیں اور تو سب آرام مجھے اک گیسوؤں کی خوشبو ہی نہیں
    فارغ ہوتا ہوں ناشتے سے اور اپنے گھر سے نکلتا ہوں

    دفتر کی راہ پر چلتا ہوں
    رستے میں شہر کی رونق ہے اک تانگہ ہے دو کاریں ہیں
    بچے مکتب کو جاتے ہیں اور تانگوں کی کیا بات کہوں
    کاریں تو چھچھلتی بجلی ہیں تانگوں کے تیروں کو کیسے سہوں
    یہ مانا ان میں شریفوں کے گھر کی دھن دولت ہے مایا ہے
    کچھ شوخ بھی ہیں معصوم بھی ہیں
    لیکن رستے پر پیدل مجھ سے بدقسمت مغموم بھی ہیں
    تانگوں پر برق تبسم ہے باتوں کا میٹھا ترنم ہے
    اکساتا ہے دھیان یہ رہ رہ کر قدرت کے دل میں ترحم ہے

    ہر چیز تو ہے موجود یہاں اک تو ہی نہیں اک تو ہی نہیں
    اور میری آنکھوں میں رونے کی ہمت ہی نہیں آنسو ہی نہیں

    جوں توں رستہ کٹ جاتا ہے اور بندی خانہ آتا ہے
    چل کام میں اپنے دل کو لگا یوں کوئی مجھے سمجھاتا ہے

    میں دھیرے دھیرے دفتر میں اپنے دل کو لے جاتا ہوں
    نادان ہے دل مورکھ بچہ اک اور طرح دے جاتا ہوں

    پھر کام کا دریا بہتا ہے اور ہوش مجھے کب رہتا ہے
    جب آدھا دن ڈھل جاتا ہے تو گھر سے افسر آتا ہے

    اور اپنے کمرے میں مجھ کو چپراسی سے بلواتا ہے
    یوں کہتا ہے ووں کہتا ہے لیکن بے کار ہی رہتا ہے

    میں اس کی ایسی باتوں سے تھک جاتا ہوں تھک جاتا ہوں
    پل بھر کے لیے اپنے کمرے کو فائل لینے آتا ہوں

    اور دل میں آگ سلگتی ہے میں بھی جو کوئی افسر ہوتا
    اس شہر کی دھول اور گلیوں سے کچھ دور مرا پھر گھر ہوتا اور تو ہوتی

    لیکن میں تو اک منشی ہوں تو اونچے گھر کی رانی ہے
    یہ میری پریم کہانی ہے اور دھرتی سے بھی پرانی ہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر