دوست کا سارا بھرم صرفِ نظر جائے گا
اب تو لفظوں سے بھی وہ اپنے مکر جائے گا

اک زمانے سے اذیت ہے, الم ہے دل میں
کوئی حل, کیسے مرا درد جگر جائے گا

آپ آجا ئیں مرےخواب میں آقا جو کبھی
مرا بگڑا ہوا یہ بخت سنور جائے گا

صلی اللہ علیہ وسلم

ہر گھڑی اپنی گناہوں میں بسر کرتا ہے جو
بول کس منہ سے وہ اللہ کے گھر جائے گا

کس لئے اتنی تگ و دو ہے کمانے کے لئے
ہاتھ جب خالی لئے یاں سے بشر جائے گا

کس طرح گھر میں سکوں اور خوشی آئے گی
باپ سے آگے اگر اس کا پِسر جائے گا

کیا بنے گا ترا عقبیٰ میں ذرا سوچ لے تو
تیرے اعمال کا حاصل جو، صفر جائے گا

ہر گلی کوچے میں رہزن کا بسیرا ٹھہرا
دیش میں کیسے بلا خوف و خطر جائے گا

ایک مدت سے کوئی ان کی خبر تک نہ ملی
کیا کوئی آج یہاں ان کے شہر جائے گا

قبر میں صرف یہ اعمال ہی جائیں گے ترے
ساتھ تیرے نہ کوئی، لعل و گہر جائے گا

ان کی چوکھٹ پہ اجازت نہیں دستک کی بھی
دل کو معلوم ہے پر، ان کے وہ در جائے گا

تجھ سے امید وفا کی ہے اگر تو نے نہ کی
ریزےریزےکی طرح عزم بکھر جائے گا
 
Top