فارسی شاعری کلام امیر خسرو (مع ترجمہ)

لاریب مرزا

محفلین
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

(نہیں معلوم کیسا تھا مکاں کل شب جہاں میں تھا
کہ ہر سو رقص بسمل تھا وہاں کل شب جہاں میں تھا)

پری پیکر نگارِ سرو قد لالہ رخسارے
سراپا آفت دل بودشب جائے کہ من بودم

(حسیں پیکر جسامت سرو سا قد پھول سے رخسار
سراپا حسن تھا دل پر عیاں کل شب جہاں میں تھا)

رقیباں گوش بر آواز او ور ناز من ترساں
سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم

(اسی کی بات پر سب کان دھرتے میں ترستا تھا
بہت مشکل تھا کچھ کہتی زباں کل شب جہاں میں تھا)

خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمد شمعِ محفل بود شب جائے کہ من بودم

(اجاگر لامکاں میں خود خدا تھا صاحب محفل
نبی تھے شمعِ بزمِ لامکاں کل شب جہاں میں تھا )
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

کلام :امیر خسرو رح
مترجم : نثار علی
 
آخری تدوین:

لاریب مرزا

محفلین
نہیں معلوم کیسی تھی وہ منزل ، شب جہاں میں تھا
ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا

پری پیکر صنم تھا سرو قد ، رخسار لالہ گُوں
سراپا وہ صنم تھا آفتِ دل ، شب جہاں میں تھا

عدو تھے گوش بر آواز ، وہ نازاں تھا، میں ترساں
سخن کرنا وہاں تھا سخت مشکل ، شب جہاں میں تھا

خدا تھا میرِ مجلس لامکاں کی بزم میں خسرو
محمد تھے وہاں پر شمع محفل، شب جہاں میں تھا

(مسعود قریشی)
 

لاریب مرزا

محفلین
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

(نہیں معلوم کیسا تھا مکاں کل شب جہاں میں تھا
کہ ہر سو رقص بسمل تھا وہاں کل شب جہاں میں تھا)

پری پیکر نگارِ سرو قد لالہ رخسارے
سراپا آفت دل بودشب جائے کہ من بودم

(حسیں پیکر جسامت سرو سا قد پھول سے رخسار
سراپا حسن تھا دل پر عیاں کل شب جہاں میں تھا)

رقیباں گوش بر آواز او ور ناز من ترساں
سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم

(اسی کی بات پر سب کان دھرتے میں ترستا تھا
بہت مشکل تھا کچھ کہتی زباں کل شب جہاں میں تھا)

خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمد شمعِ محفل بود شب جائے کہ من بودم

(اجاگر لامکاں میں خود خدا تھا صاحب محفل
نبی تھے شمعِ بزمِ لامکاں کل شب جہاں میں تھا )
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

کلام :امیر خسرو رح
مترجم : نثار علی
بہت خوبصورت کلام۔ زبردست " شراکت۔
علامہ نثار علی اجاگر کا ترجمہ ہے اور ڈاکٹر نثار معرفانی نے پڑھا ہے۔

 
آخری تدوین:

غدیر زھرا

لائبریرین
حوصلہ افزائی پر شکر گزار ہوں جناب :)
ہمارا تو خیال ہے کہ ترساں کا ترجمہ ترسنا ہی ہے۔
ترساں خوف زدہ کے معنوں میں ہی آتا ہے اس کی تصدیق محمد وارث سر کے کیے گئے تراجم بھی کرتے ہیں :)
ان کی یہ لڑی ملاحظہ ہو..
انتخاب فارسی غزلیاتِ خسرو مع اردو تراجم
 
ترساں خوف زدہ کے معنوں میں ہی آتا ہے اس کی تصدیق محمد وارث سر کے کیے گئے تراجم بھی کرتے ہیں :)
ان کی یہ لڑی ملاحظہ ہو..
انتخاب فارسی غزلیاتِ خسرو مع اردو تراجم
ترسان مصدر ترسیدن یعنی ڈرنا سے اسم فاعل سماعی ہے۔
اس کے معنی ترسندہ یعنی خوف زدہ کے ہیں۔
مہدی نقوی صاحب اہل زبان ہیں۔
اس معاملے میں ان کی ہر بات سند کا درجہ رکھتی ہے۔
 
Top