1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

"کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے" تہذیب حافی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 17, 2017

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,055
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے
    کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے

    عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں
    عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں میں بٹ رہی ہے

    میں اس کو ہر روز بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا
    سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے

    مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو
    یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے

    یہ وقت آنے پہ اپنی اولاد اپنے اجداد بیچ دے گی
    جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے

    سو اس تعلق میں جو غلط فہمیاں تھیں اب دور ہو رہی ہیں
    رکی ہوئی گاڑیوں کے چلنے کا وقت ہے دھندھ چھٹ رہی ہے​
    تہذیب حافی
     
  2. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,055
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    تہذیب حافی کی اپنی آواز میں
     

اس صفحے کی تشہیر