کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

فاتح نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 28, 2009

  1. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
    نہیں ہو رہا ہے مگر ہو رہا ہے

    جو دامن تھا، دامن بدر ہو رہا ہے
    کمر بند گردن کے سر ہو رہا ہے
    سفینہ جو زیر و زبر ہو رہا ہے
    اِدھر کا مسافر اُدھر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    چلی تو مسافر اُچھلنے لگے ہیں
    جو بیٹھے ہوئے تھے وہ چلنےلگے ہیں
    قدم جا کے ٹخنوں سے ٹلنے لگے ہیں
    جو کھایا پیا تھا اُگلنے لگے ہیں
    تماشا سرِ رہ گزر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    جو خوش پوش گیسو سنوارے ہوئے تھا
    بہت مال چہرے پہ مارے ہوئے تھا
    بڑا قیمتی سوٹ دھارے ہوئے تھا
    گھڑی بھر میں سب کچھ اتارے ہوئے تھا
    بے چارے کا حلیہ دگر ہو را ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    جواں کچھ سرِ پائے داں اور بھی ہیں
    معلق بخود رفتگاں اور بھی ہیں
    قطاروں میں بیوی میاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
    ہجوم اور بھی معتبر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    مقاماتِ صد اضطراب آ رہے ہیں
    کہ پردہ نشیں بے نقاب آ رہے ہیں
    سڑک پہ سوال و جواب آ رہے ہیں
    بہر گام گر اے مگر ہو رہا
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    وہ اک پہلواں پیٹھ میں تھم گیا ہے
    بہت بھی گیا تو بہت کم گیا ہے
    کوئی ہاتھ پتلون میں جم گیا ہے
    کوئی ناک دیوار پہ تھم گیا ہے
    کوئی سرو قد مختصر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    کوئی نصف بیٹھا ہے، آدھا کھڑا ہے
    جہاں بھی کھڑا ہے وہیں پر گڑا ہے
    کسی کی گھڑی پر کسی کا گھڑا ہے
    کہاں ہاتھ تھا اور کہاں جا پڑا ہے
    جو دیوار تھی اس میں در ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    جو کالر تھا گردن میں، 'لر' رہ گیا ہے
    ٹماٹر کے تھیلے میں 'ٹر' رہ گیا ہے
    خدا جانے مرغا کدھر رہ گیا ہے
    بغل میں تو بس ایک پر رہ گیا ہے
    کوئی کام ہم سے اگر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    (سید ضمیر جعفری مرحوم)


    نوٹ: یہ نظم مجھے بے انتہا پسند ہے لیکن افسوس کہ ضمیر جعفری صاحب کی جس کتاب میں یہ نظم ہے وہ میرے پاس نہیں۔ میں نے ایک آڈیو سے جس میں ضمیر صاحب کسی مشاعرے میں یہ نظم پڑھ رہے ہیں، سُن کر لکھی ہے لیکن آڈیو کی کوالٹی اتنی خراب ہے کہ کئی مصرعے اندازے سے درست کرنے پڑے اور کئی سمجھ ہی نہ پایا۔ اگر آپ کے پاس یہ نظم کتاب میں موجود ہو تو براہِ کرم اغلاط کی درستگی کر دیجیے۔ شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 12
    • زبردست زبردست × 2
  2. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,901
    بہت خوب جناب فاتح صاحب اچھا انتخاب ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. ابوشامل

    ابوشامل محفلین

    مراسلے:
    3,253
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔ بہت اعلیٰ انتخاب۔ شکریہ فاتح صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ابو شامل اور شاہ صاحبان! نظم پسند کرنے پر آپ کا بے حد شکریہ۔

    اسی نظم کی ایک ویڈیو ہاتھ لگی ہے جس کی آڈیو کوالٹی قدرے بہتر ہے اور ویڈیو میں ضمیر جعفری صاحب اپنی کتاب سے دیکھ کر یہ نظم پڑھ رہے ہیں جس کے باعث گماں یہ ہے کہ کتاب میں یہ نظم اسی طرح ہو گی۔ چونکہ گذشتہ ورژن جو اس سے قبل میں نے ٹائپ کیا تھا وہ بھی ضمیر جعفری صاحب ہی کی آواز میں تھا اور اس کے متعلق خیال ہے کہ کتاب میں شایع ہونے سے قبل اس نظم کا پہلا ورژن ہے لہٰذا اسے بھی جوں کا توں رہنے دے رہا ہوں۔

    گریباں پسینے میں تر ہو رہا ہے
    کمر بند گردن کے سر ہو رہا ہے
    سفینہ جو زیر و زبر ہو رہا ہے
    اُدھر کا مسافر اِدھر ہو رہا ہے

    جو دیوار تھی اس میں در ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    کوئی پہلواں سیٹ میں دھم گیا ہے
    بہت بھی گیا تو بہت کم گیا ہے
    کوئی ہاتھ پتلون میں جم گیا ہے
    کوئی ناک دیوار پہ تھم گیا ہے

    کوئی سرو قد مختصر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    جواں کچھ سرِ پائے داں اور بھی ہیں
    دریچوں میں سروِ رواں اور بھی ہیں
    قطاروں میں بیوی میاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

    ہجوم اور بھی معتبر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    وہ اک پیل تن یوں سمٹ کر کھڑا ہے
    کہ پیٹ اس کا دھڑ سے الگ جا پڑا ہے
    کسی کی گھڑی پر کسی کا گھڑا ہے
    مقدر کو دیکھو کہاں جا لڑا ہے

    تماشا سرِ رہگزر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    جو خوش پوش گیسو سنوارے ہوئے تھا
    بہت مال چہرے پہ مارے ہوئے تھا
    بڑا قیمتی سوٹ دھارے ہوئے تھا
    گھڑی بھر میں سب کچھ اتارے ہوئے تھا

    بے چارے کا حلیہ دگر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    کوئی بے خبر گُل فشاں ہو گئی ہے
    تو لاری کی لاری جواں ہو گئی ہے
    طبیعت اچانک رواں ہو گئی ہے
    ملاقات اُن سے کہاں ہو گئی ہے

    نظر سے طوافِ نظر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    کبھی پیش سے گھٹ کے پس ہو گئی ہے
    کسی پیچ میں پیچ کس ہو گئی ہے
    چلی ہے تو بانگِ جرس ہو گئی ہے
    رکی ہے تو ٹھَس ہو کے بَس ہو گئی ہے

    نہیں ہو رہا ہے مگر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    جو کالر تھا گردن میں، 'لر' رہ گیا ہے
    ٹماٹر کے تھیلے میں 'ٹر' رہ گیا ہے
    خدا جانے مرغا کدھر رہ گیا ہے
    بغل میں تو بس ایک پر رہ گیا ہے

    کوئی کام ہم سے اگر ہو رہا ہے
    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
    (سید ضمیر جعفری)


    نظم "کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے" کا دورانیہ: 5:20 تا 10:00
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 11
    • زبردست زبردست × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  5. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    احسن عثمانی ، آپ کو ضمیر جعفری کی نظم میں کیا شے ایسی لگی جس سے غیر متفق ہوئے؟
     

اس صفحے کی تشہیر