کراچی کی بس

  1. فاتح

    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے

    کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے نہیں ہو رہا ہے مگر ہو رہا ہے جو دامن تھا، دامن بدر ہو رہا ہے کمر بند گردن کے سر ہو رہا ہے سفینہ جو زیر و زبر ہو رہا ہے اِدھر کا مسافر اُدھر ہو رہا ہے کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے چلی تو مسافر اُچھلنے لگے ہیں جو بیٹھے ہوئے تھے وہ چلنےلگے ہیں قدم جا کے ٹخنوں سے...
Top