کبھی ہمت نہیں ہارنا چاہتے تو یہ فلمیں دیکھیں!

arifkarim

معطل
کبھی ہمت نہیں ہارنا چاہتے تو یہ فلمیں دیکھیں

کیا آپ ایسی فلموں کو دیکھ دیکھ کر بیزار ہوچکے ہیں جو کسی قسم کا تاثر مرتب نہیں کرپاتیں؟ یا تفریح تو فراہم کرتی ہیں مگر ان میں حقیقی پیغام نہیں ؟
اگر ہاں تو آپ ان فلموں کو ضرور دیکھیں جو درج ذیل دی جارہی ہیں جو آپ کو متاثر کرنے کے ساتھ کسی مقصد یا زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے پرعزم بھی بنائیں گی۔
یہ ہر دور کی سب سے بہترین متاثر کن فلمیں ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ تو ہم نہیں کرسکتے مگر یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ان کا تاثر تادیر ذہن سے اتر نہیں پائے گا۔
دی شاشنک ریڈیمپشن

56bb7bee85230.jpg
پبلسٹی فوٹو
کئی بار زندگی کسی کو مشکل حالات میں پھنسا دیتی ہے جس میں اس کا کوئی قصور بھی نہیں ہوتا مگر وہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر چھپا انسان کیسے حالات پر قابو پاسکتا ہے اور اس کے لیے کچھ ناممکن نہیں ہوتا۔ٹم رابسن اور مورگن فری مین کی یہ دلچسپ و کلاسیک فلم جس میں کئی برسوں سے قید دو قیدی اپنی جیل کو ایسے بدل دیتے ہیں کہ وہ غیرمعمولی اور دنیا سے باہر کی جیل محسوس ہونے لگتی ہے۔ 1994 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو فرینک ڈارابونٹ نے ڈائریکٹ کیا اور یہ ایسی فلم ہے جسے جب بھی دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔
اٹس اے ونڈر فل لائف

56bb7bf04d793.jpg
اسکرین شاٹ
یہ فلم 1946 میں ریلیز ہوئی جو کہ کرسمس کے حوالے سے ایک فنٹاسی ڈرامہ فلم ہے اور اس میں ہیرو کو ایسا شخص دکھایا گیا ہے جو کرسمس کی شام پر اپنے خواب ترک کرکے دیگر افراد کی مدد اور خودکشی پر تلے ہوئے افراد کو بچانے کے لیے نکل جاتا ہے۔اپنے مزاح کی بدولت ہولی وڈ کی مقبول ترین فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ اس کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر فرینک کاپرا تھے جبکہ مرکزی کاسٹ میں جیمز اسٹیورٹ اور ڈونا ریڈ سمیت دیگر شامل تھے۔
دی ساﺅنڈ آف میوزک

56bb7bee7194b.jpg
پبلسٹی فوٹو
1965 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہے جو ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جو نن بننے میں ناکام رہتی ہے جس کے بعد نیوی میں کام کرنے والا ایک کپتان اپنی بیوی کے انتقال کے بعد اسے اپنے بگڑے ہوئے سات بچوں کو سدھارنے کے لیے رکھ لیتا ہے جس سے بچے خوش نہیں ہوتے مگر وہ ایک ایک کرکے انہیں رام کر ہی لیتی ہے جبکہ بتدریج نیوی کا کپتان اور ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ اس فلم کو رابرٹ وائز نے ڈائریکٹ کیا۔
فورسٹ گمپ

56bb7bed9a256.jpg
پبلسٹی فوٹو
زندگی میں سادہ طرز فکر حقیقی خوشی کا باعث بن سکتی ہے، بغیر کسی بہت زیادہ کوشش کے زندگی کے بہاﺅ میں بہتے جانا کامیابی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے اور یہی اس فلم کا مرکزی خیال ہے۔ 1984رابرٹ زیمییکس کی ڈائریکشن میں بننے والی یہ فلم ایک رومانوی فلم ہے جس کا مرکزی کردار ذہین تو نہیں ہوتا مگر وہ حادثاتی طور پر متعدد تاریخی لمحات کو جنم دینے کا باعث بن جاتا ہے اور یہی دیکھنے والوں کو بھی بھا گئی۔
اے بیوٹی فل مائنڈ

56bb7bedc2f09.jpg
پبلسٹی فوٹو
معروف ریاضی دان جان فوربس نیش جونیئر کی حقیقی کہانی پر مشتمل اس فلم کو رون ہوورڈ نے ڈائریکٹ کیا جبکہ رسل کرو نے مرکزی کردار انتہائی خوبصورتی سے ادا کیا جو انتہائی تنک مزاج پروفیسر کا تھا۔ پھر وہ دماغٰ مرض شیز و فرنیا کا شکار ہوجاتا ہے اور دہائیوں تک اس کا مقابلہ کرکے کسی نہ کسی طرح اپنی ذہنی حالت پر کنٹرول حاصل کرتا ہے اور بتدریج نوبل انعام جیتنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
بریو ہارٹ

56bb7bf0c97f3.jpg
اسکرین شاٹ
ایک نوجوان جنگجو کی کہانی جس کے والد اور بھائی کو برطانوی فوجی ہلاک کردیتے ہیں اور پھر وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کے لیے بیس سال بعد نکلتا ہے مگر اس سے پہلے وہ اپنی بچپن کی دوست کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے اور پھر آزادی کے لیے جاری جدوجہد سے دوری اختیار کرتے ہوئے اپنے کھیتوں میں امن کے ساتھ رہنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ تاہم اس کی محبت جب برطانویو فوجیوں کے ہاتھوں ماری جاتی ہے تو پھر وہ اٹھتا ہے اور قیامت ڈھا دیتا ہے۔
دی لائن کنگ

56bb7bf419c45.jpg
رائٹرز فوٹو
کارٹون فلموں دیکھنے کے شوقین افراد میں سے کون ہوگا جس نے ایک شیر کے بچے اور مستقبل کے کنگ سیمبا کی اس کہانی کو نہ دیکھا ہو۔ 1994 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو راجر ایلرز اور روب منکوف نے ڈائریکٹ کیا، اور اس کی کہانی محبت، ذمہ داری، ہمت اور مضبوطی کا سبق دیتی ہے، اگر آپ نے اسے دیکھا نہیں تو ایک بار ضرور دیکھیں۔
دی پریسیوٹ آف ہیپی نیس

56bb7beecc6d6.jpg
اسکرین شاٹ
ایک حقیقی زندگی کی کہانی سے متاثر ہوکر بنائے جانے والی یہ فلم حالیہ برسوں کی چند متاثر کن فلموں میں سے ایک قرار دی جاتی ہے۔ ول اسمتھ نے ایک ایسے تنہا شخص کا کردار ادا کیا ہے جو اپنے بیٹے کی پرورش کررہا ہوتا ہے اور طبی آلات فروخت کرتا ہے مگر مالی حالت اتنی خستہ ہوتی ہے کہ وہ دونوں بس اسٹیشن کے باتھ رومز اور بے گھر افراد کے شیلٹر میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ زندگی کے اس مشکل سفر میں وہ کبھی ہار نہیں مانتا اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے پرعزم کھڑا رہتا ہے،اس شخص کی زندگی کی مشکلات کو عبور کرنے کی یہ کہانی کسی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
رے

56bb7bee8717b.jpg
اسکرین شاٹ
ایک معروف موسیقار رے چارلس کی زندگی کی کہانی جو بچپن میں اپنی بینائی سے محروم ہوجاتا ہے اور پھر بھی کسی نہ کیس طرح پیانو کو چلانا سیکھتا ہے اور خود کو دنیا کے سب سے زیادہ چاہے جانے والے فنکاروں میں سے ایک کی فہرست میں لاکھڑا کرتا ہے۔ بینائی سے محرومی کے ساتھ اسے نسل پرستی اور منشیات کی لت کا بھی سامنا ہوتا ہے، ان میں سے ایک رکاوٹ بھی بیشتر افراد کو کامیابی حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہیں مگر رے سب کو روند کر آگے نکل جاتا ہے۔ جیمی فاکس نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا جبکہ ٹیلر ہیک فورڈ نے اس کی ہدایات دیں۔
راکی

56bb7bee9e8af.jpg
اسکرین شاٹ
آپ مانے یا نہ مانے مگر راکی کو بیشتر افراد سب سے بہترین متاثرکن فلم قرار دیتے ہیں۔ اس کا بہترین تھیم سانگ، کلب فائٹر سے تمام تر مشکلات پر قابو پاکر ورلڈ چیمپئن بننے کے قریب پہنچ کر شکست کھانے کے باوجود آگے بڑھنے کا عزم اسے خاص بنادیتے ہیں۔ سلویسٹر اسٹالون کے اس کردار کی مقبولیت ہی تھی جو اس پر اب تک فلمیں بن رہی ہیں اور متاثر بھی کررہی ہیں۔
Chariots of Fire

56bb7bf3767d1.jpg
اسکرین شاٹ
ویسے تو یہ فلم دوڑ کے میدان پر مبنی ہے مگر یہ دیکھنے والے افراد کو زندگی کے بارے میں متعدد سبق دیتی ہے۔دو افراد کے گرد گھومتی اس فلم میں دکھایا گیا ہے وہ جس پر یقین رکھتے ہیں اس کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں، اپنے اقدار پر مفاہمت نہیں کرتے چاہے زندگی میں پیچھے ہی کیوں نہ رہ جائیں۔ یعنی یہ لوگ جس کو درست سمجھتے ہیں اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور دیکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ایسا ہی کریں۔1981 کی اس فلم کو ہیوگ ہڈسن نے ڈائریکٹ کیا جبکہ بین کراس اور آئن چارلس نے مرکزی کردار ادا کیے۔
ریمیمبر دی ٹائٹنز

56bb7beed5378.jpg
اسکرین شاٹ
یہ ایک حقیقی کہانی پر مشتمل ہے جس میں رگبی ٹیم کے عروج و زوال کا احوال بیان کیا گیا ہے اور اس میں اہم پیغام یہ دیا گیا ہے کہ کوئی ٹیم اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب سب مل کر کوشش کریں۔ اپنی ذاتی رنجشیں ایک طرف رکھ کر اکھٹے ہو تو کامیابی قدم چومتی ہے جبکہ کسی کی بھی صلاحیت کا فیصلہ اس کے حلیہ کی بجائے رویے سے کیا جائے۔2000 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو بواز یاکن نے ڈائریکٹ کیا۔
اکتوبر اسکائی

56bb7beed343b.jpg
اسکرین شاٹ
ایک چھوٹے سے قصبے کے لڑکے کی حقیقی کہانی جس کے خواب بہت بڑے ہوتے ہیں، جو اپنے والد کی مرضی کے خلاف جاکر راکٹ بنانے کی کوشش کرتا ہے اور اس راہ میں آنے والی تمام تر مشکلات سے گزر جاتا ہے۔ 1999 کی اس فلم کو جوئی جونسٹن نے ڈائریکٹ کیا۔
ان بروکن

56bb7beed3436.jpg
اسکرین شاٹ
دوسری جنگ عظیم کے دوران طیارے کے لگ بھگ جان لیوا حادثے کے بعد اولمپئن لیوئس زیمپیرینی کو 47 دن اپنے عملے کے دو ساتھیوں کے ساتھ سمندر پر لکڑی کے تختوں پر گزارنا پڑتے ہیں جس کے بعد وہ جاپانی بحریہ کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قیدیوں کے کیمپ میں پہنچ کر تشدد کا سامنا کرتے ہیں اور زندگی کے اس بدترین دور سے نکلنے کی یہ کہانی آپ کے دلوں کو پگھلا کر رکھ دے گی جس میں ایک شخص کسی صورت ٹوٹنے سے انکار کردیتا ہے۔ انجلینا جولی کی ڈائریکشن میں بننے والی یہ فلم 2014 میں ریلیز ہوئی۔
بلڈ ڈائمنڈ

56bb7bf427636.jpg
اسکرین شاٹ
ایک ماہی گیر، ایک اسمگلر اور کاروباری افراد کے ایک گروپ کے درمیان انمول ہیرے پر قبضے کے لیے ہونے والی یہ جنگ آپ کے اندر بھی جذبہ جگاتی ہے اور کس طرح زندگی میں آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
لنک
 

bilal260

محفلین
یہ میں نے دیکھی ہے لاجواب ہے۔
دی پریسیوٹ آف ہیپی نیس۔
زندگی کاٹی ہے جہد مسلسل کی طرح کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔​
 

سارہ خان

محفلین
اے بیوٹی فل مائنڈ
دی شاشنک ریڈیمپشن​
فورسٹ گمپ
اٹس اے ونڈر فل لائف​

یہ دیکھی ہوئی ہیں بس ۔۔ اور زبردست موویز ہیں​
 

یاز

محفلین
مذکورہ بالا سبھی فلمیں بہت ہی شاندار ہیں۔ ہمت نہ ہارنے یا جہدِ مسلسل کے ضمن میں ایک ہندی آرٹ فلم بھی یاد آ رہی ہے، جس کا نام "دھوپ" تھا۔ اوم پوری نے اس میں ایک بوڑھے شخص کا شاندار کردار ادا کیا تھا۔
 
Top