احسان دانش کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ھیں (احسان دانش)

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2008

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ھیں
    مرے بہے ھوئے آنسو جبیں پہ لائے ھیں

    نہ سر گزشت سفر پوچھ مختصر یہ ھے
    کہ اپنے نقش قدم ھم نے خود مٹائے ھیں

    نظر نہ توڑ سکی آنسوؤں کی چلمن کو
    وہ روز اگرچہ مرے آئینے میں آئے ھیں

    اس ایک شمع سے اترے ھیں بام و در کے لباس
    اس ایک لو نے بڑے " پھول بن " جلائے ھیں

    یہ دوپہر ، یہ زمیں پر لپا ھوا سورج
    کہیں درخت نہ دیوارو در کے سائے ھیں

    کلی کلی میں ھے دھرتی کے دودھ کی خوشبو
    تمام پھول اسی ایک ماں کے جائے ھیں

    نطر خلاؤں پہ اور انتظار بے وعدہ
    بہ ایں عمل بھی وہ آنکھوں میں جھلملائے ھیں
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,907
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    نہ سر گزشت سفر پوچھ مختصر یہ ہے
    کہ اپنے نقش قدم ہم نے خود مٹائے ہیں

    نظر نہ توڑ سکی آنسوؤں کی چلمن کو
    وہ روز اگرچہ مرے آئینے میں آئے ہیں

    اس ایک شمع سے اترے ہیں بام و در کے لباس
    اس ایک لو نے بڑے " پھول بن " جلائے ہیں

    یہ دوپہر ، یہ زمیں پر لپا ہوا سورج
    کہیں درخت نہ دیوارو در کے سائے ہیں

    واہ واہ واہ ۔۔۔۔!

    کمال کے اشعار ہیں ۔ سب کے سب۔
     
  3. عبد الرحمن

    عبد الرحمن لائبریرین

    مراسلے:
    1,971
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہترین انتخاب!
     

اس صفحے کی تشہیر