ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ میڈیا اور محفلین کی نظر میں

خان صاحب ، آپ کے حق کا ہمیں دل و جان سے احترام ہے ۔ اپنے حق کو خوب آزادی کے ساتھ انجوائے کیجئے لیکن یاد رکھئے کہ آپ کا حق وہاں ختم ہو جائے گا جہاں دوسروں کی ناک شروع ہو گی۔ اور اُن تحاریر میں بھی یہی پیغام آپ کو دیا گیا ہے۔

پوری پوسٹز پڑھتی جائیے۔ سوائے قادری اور سیاسی و غیر سیاسی اداروں کے جو عوامی کام میں ہیں کسی پر تنقید نہیں۔ عوامی اداروں اور وہ لوگ جو عوام کی خدمت پر مامور ہیں ان پر تنقید میں ضرور کرتا رہوں گا۔
 

عسکری

معطل
بات اگر دلیل کے ساتھ کی جائے تو اثر کرتی ہے۔ جس طرح کا طرزتخاطب اپ اپناتے ہیں وہ بہت ہی تحقیر امیز ہوتا ہے ۔ اس طر ح سے جو بات اپ کنوئے کرتے ہیں وہ صرف اپ کی شیخصیت اور طرز پرورش کی گواہی ہوتی ہے اور کچھ نہیں

قادری کے اس سارے ناکام عمل کا فائدہ صرف ان غیر سیاسی قوتوں کو ہی تھا جو پاکستان کی سیاست کو ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی تمام پالیساں بلکہ اس کی تشکیل بھی ان ہی قوتوں کی مرہمون منت ہے۔جنرل کیانی کو اپنی حدود میں ظاہرا رہنا ان کی اپنی مجبوری ہے اب 111 کی استعمال بیک فائر کرے گا۔ یہ کیانی جانتا ہے۔ ۔لہذا چوردروازوں سے اپنے زرخرید لوگوں کو استعمال کرنا چاہاجو سپریم کورٹ نے فیل کردیا۔
شفاف انتخابات کبھی بھی فوج کے لیے اچھے نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے زرخریدنئے لوگ حکومت میں ائیں تاکہ وہ ڈوریاں ہلاکر اپنے مقاصد پورے کرسکیں

یہی بات آپکو تب سوچنی چاہیے جب آپ فورسز سے مخاطب ہوتے ہیں اور اس سے آپکی اپنی گزری زندگی پر افسوس ہوتا ہے مجھے کہ وہ معصوم اپنے کام سے کام رکھنے والے پاکستان کے چپے چپے سے آنے والے جوان جو اس ملک کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں تاکہ اس ملک کی عوام کی حفاظت ہو سکے است تو آپ تمیز سے نام تک نہیں لیتے تو آپکو کیسی عزت دوں اور کیوں دوں ؟

اور ذرا بھی مجبوری نہین پہلا لانگ مارچ ہوا تھا اسی وقت 15 منٹ میں مارشل لا لگ جاتا آج کل پرسوں کسی بھی بات پر لگایا جا سکتا ہے حالات جتنے بھی برے ہوئے کیانی نے صبر کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑا ہزار موقعے ملے انہیں پر انہوں نے ژابت کیا وہ جمہوریت پسند جنرل ہیں صرف آپکو یہ قبول کرنے میں تکلیف ہے کہ کوئی جنرل جمہوریت پسند بھی ہو سکتا ہے یا فوج سوچ بھی بدل سکتی ہے بس ورنہ مارشل لا لگانے کو ایکسیوز 70 بار ملے ان 5 سالوں میں ۔اور کونسے مقاصر رکے ہوئے ہیں جو پورے کرنے ہین تمہاراطرز تخاطب ایسا ہے جیسے فوج گریٹ برٹش سے آ کر یہاں قبضہ کیے بیٹھی ہے اور اسے طول دینا چا رہی ہے ۔
 
یہی بات آپکو تب سوچنی چاہیے جب آپ فورسز سے مخاطب ہوتے ہیں اور اس سے آپکی اپنی گزری زندگی پر افسوس ہوتا ہے مجھے کہ وہ معصوم اپنے کام سے کام رکھنے والے پاکستان کے چپے چپے سے آنے والے جوان جو اس ملک کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں تاکہ اس ملک کی عوام کی حفاظت ہو سکے است تو آپ تمیز سے نام تک نہیں لیتے تو آپکو کیسی عزت دوں اور کیوں دوں ؟

اور ذرا بھی مجبوری نہین پہلا لانگ مارچ ہوا تھا اسی وقت 15 منٹ میں مارشل لا لگ جاتا آج کل پرسوں کسی بھی بات پر لگایا جا سکتا ہے حالات جتنے بھی برے ہوئے کیانی نے صبر کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑا ہزار موقعے ملے انہیں پر انہوں نے ژابت کیا وہ جمہوریت پسند جنرل ہیں صرف آپکو یہ قبول کرنے میں تکلیف ہے کہ کوئی جنرل جمہوریت پسند بھی ہو سکتا ہے یا فوج سوچ بھی بدل سکتی ہے بس ورنہ مارشل لا لگانے کو ایکسیوز 70 بار ملے ان 5 سالوں میں ۔اور کونسے مقاصر رکے ہوئے ہیں جو پورے کرنے ہین تمہاراطرز تخاطب ایسا ہے جیسے فوج گریٹ برٹش سے آ کر یہاں قبضہ کیے بیٹھی ہے اور اسے طول دینا چا رہی ہے ۔

بدقسمتی سے یہی بات ہے۔ پاکستان فوج کا مجموعی طرز عمل جو کہ عمومی طور پر جنرلز کا ہوتا ہے برٹش ارمی کا تسلسل ہی نظر اتا ہے
فوج کا نچلا طبقہ اس کا ذمہ دار نہیں بلکہ وہ تو وطن کی خدمت اور حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرتے ہیں
فوج کا وہ طبقہ جو پالیسی ساز ہے بہت ہے مختلف ہے- وہ لوگ جب پاکستان کو توڑنے کی پالیسی بناتے ہیں، پاکستانی عوام کو قتل کرتے ہیں اورپاکستانی عوام پر بم میزائل مارتے ہیں تو عزت و احترام کھو بیٹھے ہیں۔ یہ فوجی جنرلز ہی ہیں جو پاکستان کو دولخت کرنے کا باعث بنے۔ یہ جنرلز ہی ہیں جواپنے مفادکےلیے کبھی منشیات کا کام کرتے ہیں کبھی غیرملکی طاقتوں سے پیسے وصول کرتے ہیں۔

یاد رکھیں اب مارشل لا لگانا ممکن تو ہے مگر اتنا اسان نہیں۔ اس مرتبہ مارشل لا لگانے کا مطلب پنجاب کو بلوچستان اور سرحد سے الگ کرنا ہے۔ اس مرتبہ مارشل لا جب ہی لگے گا جب امریکہ پوری طرح متفق ہو۔ ورنہ خدانہ خواستہ پاکستان کے ٹکڑے ہوسکتے ہیں۔ لہذا مارشل لا لگانا اتنا اسان نہیں۔ اسی لیے کبھی فوج قادری کو لانچ کرتی ہے اور اب مشرف کو۔

اپ کا طرز تخاطب مہذب انسانوں جیسا کم از کم نہیں ہے۔
 

عسکری

معطل
بدقسمتی سے یہی بات ہے۔ پاکستان فوج کا مجموعی طرز عمل جو کہ عمومی طور پر جنرلز کا ہوتا ہے برٹش ارمی کا تسلسل ہی نظر اتا ہے
فوج کا نچلا طبقہ اس کا ذمہ دار نہیں بلکہ وہ تو وطن کی خدمت اور حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرتے ہیں
فوج کا وہ طبقہ جو پالیسی ساز ہے بہت ہے مختلف ہے- وہ لوگ جب پاکستان کو توڑنے کی پالیسی بناتے ہیں، پاکستانی عوام کو قتل کرتے ہیں اورپاکستانی عوام پر بم میزائل مارتے ہیں تو عزت و احترام کھو بیٹھے ہیں۔ یہ فوجی جنرلز ہی ہیں جو پاکستان کو دولخت کرنے کا باعث بنے۔ یہ جنرلز ہی ہیں جواپنے مفادکےلیے کبھی منشیات کا کام کرتے ہیں کبھی غیرملکی طاقتوں سے پیسے وصول کرتے ہیں۔

یاد رکھیں اب مارشل لا لگانا ممکن تو ہے مگر اتنا اسان نہیں۔ اس مرتبہ مارشل لا لگانے کا مطلب پنجاب کو بلوچستان اور سرحد سے الگ کرنا ہے۔ اس مرتبہ مارشل لا جب ہی لگے گا جب امریکہ پوری طرح متفق ہو۔ ورنہ خدانہ خواستہ پاکستان کے ٹکڑے ہوسکتے ہیں۔ لہذا مارشل لا لگانا اتنا اسان نہیں۔ اسی لیے کبھی فوج قادری کو لانچ کرتی ہے اور اب مشرف کو۔

اپ کا طرز تخاطب مہذب انسانوں جیسا کم از کم نہیں ہے۔

اچھا چلو یار چھوڑو اب میں آپ سے کتنی بحث کروں خالی پیٹ :grin:
 
کیونکہ مجھے بحث کر کے کچھ ہونے کی امید ہی نہین نا میں اپکی سوچ بدل سکتا ہوں نا آپ میری میں بحث صرف معلوماتی کرتا ہوں سیاست میرے لیے مذاق ہے اس لیے :)

حقیقت میں سیاست مذاق نہیں۔ نہ ہی بحث کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مخالف مکمل طور پر ہم خیال ہوجائے۔
بلکہ بحاحث کا مقصد ایک دوسرے کا نقطہ نظر جاننا اور اپنی سمجھ کو مزید گہرا کرنا ہوتا ہے۔ اس سارے پروسیس میں ذہن سازی ضرور ہوتی ہے اور ایک طویل عمل کے بعد اس کے اچھے اثرات بھی نظر اتے ہیں۔
اگر اپ کو مذاق کرنا ہے تو دوسرے زمروں میں ضرور کریں۔ کوئی مضائقہ نہیں۔
 

عسکری

معطل
حقیقت میں سیاست مذاق نہیں۔ نہ ہی بحث کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مخالف مکمل طور پر ہم خیال ہوجائے۔
بلکہ بحاحث کا مقصد ایک دوسرے کا نقطہ نظر جاننا اور اپنی سمجھ کو مزید گہرا کرنا ہوتا ہے۔ اس سارے پروسیس میں ذہن سازی ضرور ہوتی ہے اور ایک طویل عمل کے بعد اس کے اچھے اثرات بھی نظر اتے ہیں۔
اگر اپ کو مذاق کرنا ہے تو دوسرے زمروں میں ضرور کریں۔ کوئی مضائقہ نہیں۔

ویسے مین کرتا بھی نہیں ایسے دھاگوں میں پر کیا کریں آپ مجبور کرتے ہیں :rolleyes: میں نے حقیقی سیاست نہیں ہمارے ملک کی سیاست کی بات کی تھی :grin:
 
ویسے مین کرتا بھی نہیں ایسے دھاگوں میں پر کیا کریں آپ مجبور کرتے ہیں :rolleyes: میں نے حقیقی سیاست نہیں ہمارے ملک کی سیاست کی بات کی تھی :grin:

ہمارے ملک کی سیاست ترقی پذیر ہے۔ایک طویل عرصہ تک فوجی حکمرانی یا ان کے تابعدار لوگوں کی جہموری حکمرانی یا غیرملکی طاقتوں کی تابعدار حکمرانوں کی وجہ سے پاکستانی عوام سیاست کو منفی معنوں میں لیتی ہے۔ مگر یہ بھی ایک تدریجی عمل ہے۔ میرے خیال میں سیاسی بحث مثبت ہونی چاہیں بالخصوص انتخابات سے پہلے
 

عسکری

معطل
ہمارے ملک کی سیاست ترقی پذیر ہے۔ایک طویل عرصہ تک فوجی حکمرانی یا ان کے تابعدار لوگوں کی جہموری حکمرانی یا غیرملکی طاقتوں کی تابعدار حکمرانوں کی وجہ سے پاکستانی عوام سیاست کو منفی معنوں میں لیتی ہے۔ مگر یہ بھی ایک تدریجی عمل ہے۔ میرے خیال میں سیاسی بحث مثبت ہونی چاہیں بالخصوص انتخابات سے پہلے
میرے خیال سے سیاست ابھی بھی بچگانہ ہے ہمارے ملک کی لیڈر بکے اور خڑیدے جانے والے اور نظریاتی لوگ 1 فیصد بھی نہیں ملیں گے
 

وجی

لائبریرین
میرے خیال سے سیاست ابھی بھی بچگانہ ہے ہمارے ملک کی لیڈر بکے اور خڑیدے جانے والے اور نظریاتی لوگ 1 فیصد بھی نہیں ملیں گے
تو آپ کا کیا خیال ہے ہمارے جنرل بلوغت پار کر گئے ہیں ؟؟
پیسے تو ان پر بھی لگتے اور لگائے جاتے ہونگے ۔
 
417724_500445570013577_698188128_n.jpg
 

ساجد

محفلین
ویسے ایک عجیب منطق ہے عدالتِ عظمیٰ کی کہ دہری شہریت والا بھلے ساری زندگی پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے مفادات کے خلاف کرے وہ اپنی پارٹی بنا اور چلا سکتا ہے اور اس کے پارٹیٰ ممبران اس کے اشارے پر اسمبلیوں کے اندر قانون سازی اور اسمبلیوں سے باہر اداروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور کرپشن و قانون شکنی کا گند بھی پھیلا سکتے ہیں لیکن جب کوئی گند صاف کرنے اور احتساب کی بات کرے تو اس کی وفاداری سپریم کورٹ کی نظر میں مشکوک ٹھہرتی ہے۔
 
ویسے ایک عجیب منطق ہے عدالتِ عظمیٰ کی کہ دہری شہریت والا بھلے ساری زندگی پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے مفادات کے خلاف کرے وہ اپنی پارٹی بنا اور چلا سکتا ہے اور اس کے پارٹیٰ ممبران اس کے اشارے پر اسمبلیوں کے اندر قانون سازی اور اسمبلیوں سے باہر اداروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور کرپشن و قانون شکنی کا گند بھی پھیلا سکتے ہیں لیکن جب کوئی گند صاف کرنے اور احتساب کی بات کرے تو اس کی وفاداری سپریم کورٹ کی نظر میں مشکوک ٹھہرتی ہے۔

بات گند صاف کرنے اور احتساب کی نہیں بلکہ پٹیشن لے جانے والوں کو اپنی نیت ظاہر بلکہ ثابت کرنی پڑتی ہے کہ یہ پٹیشن عوامی مفاد میں ہے۔ قادری یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس کے اقدامات عوامی مفاد میں ہیں۔ عدالت نے پارلیمانی الفاظ میں یہی فیصلہ دیا ہے۔

اسکا اگر ترجمہ کیا جائے تو یوں بنتا ہے کہ قادری کی سوچ اور اقدامات کی نیت عوامی مفاد کے خلاف تھی ۔ بلکہ کچھ اور لوگوں کے مفاد میں تھی جو غیر سیاسی ہیں
 

ساجد

محفلین
محترم ووٹ دینا اور ملکی پالیسی تشکیل دینا اور پاکستان کے راز میں براہ راست شریک ہونا دو مختلف کام ہیں
تو کیا کوئی بھی ایسی پارٹی پاکستان کے رازوں بلکہ اقتدار میں شریک نہیں جس کے چلانے والے دہری شہریت رکھتے ہیں؟۔ اور آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ صرف ووٹ دینے سے ملکی پالیسی نہیں بنتی اس کے بنانے والے اسمبلیوں کے اندر بیٹھتے ہیں تو کیا وہاں کسی ایسی پارٹی کا وجود نہیں ہے جو بیرون ملک سے ملکہ برطانیہ کی وفاداری کی قسم کھانے والے رہنماؤں سے ہدایات لیتی ہو؟۔
 
تو کیا کوئی بھی ایسی پارٹی پاکستان کے رازوں بلکہ اقتدار میں شریک نہیں جس کے چلانے والے دہری شہریت رکھتے ہیں؟۔ اور آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ صرف ووٹ دینے سے ملکی پالیسی نہیں بنتی اس کے بنانے والے اسمبلیوں کے اندر بیٹھتے ہیں تو کیا وہاں کسی ایسی پارٹی کا وجود نہیں ہے جو بیرون ملک سے ملکہ برطانیہ کی وفاداری کی قسم کھانے والے رہنماؤں سے ہدایات لیتی ہو؟۔

ایسا ہونا نہیں چاہیے
مگر پاکستان کے حکمران اگر امریکہ سے دکٹیشن لیتے ہوں تو سپریم کورٹ کے پاس اس کو روکنے کا کیا طریقہ ہو
ہاں اگر ایک غیر ملکی پاکستان کے پارلیمنٹ کا ممبر بننا چاہے تو خود پاکستان کے قانون کے تحت یہ ممکن نہیں۔
 

ساجد

محفلین
بات گند صاف کرنے اور احتساب کی نہیں بلکہ پٹیشن لے جانے والوں کو اپنی نیت ظاہر بلکہ ثابت کرنی پڑتی ہے کہ یہ پٹیشن عوامی مفاد میں ہے۔ قادری یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس کے اقدامات عوامی مفاد میں ہیں۔ عدالت نے پارلیمانی الفاظ میں یہی فیصلہ دیا ہے۔

اسکا اگر ترجمہ کیا جائے تو یوں بنتا ہے کہ قادری کی سوچ اور اقدامات کی نیت عوامی مفاد کے خلاف تھی ۔ بلکہ کچھ اور لوگوں کے مفاد میں تھی جو غیر سیاسی ہیں
تو کیا آپ سپریم کورٹ کی وکالت میں یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں جو دیگر پٹیشنز دائر کی جاتی ہیں وہ نیک نیتی اور عوامی مفاد پر مبنی ہوتی ہیں؟۔ یہ بات تو موجودہ حکومت بھی ثابت کرنے میں بری طرح ناکام ہے کہ اس کی کوئی بھی پالیسی عوامی مفاد کے لئے تھی۔ عدالتیں جب غلطی پر ہوں تو خطرناک بحران جنم لیتے ہیں اور پاکستان کی سپریم کورٹ قادری کے فیصلوں میں بہت سے ایسے سوالات تشنہ چھوڑرہی ہے جو آنے والے وقت میں بڑی پیچیدگیوں کا سبب بنیں گے۔ میں خود بھی سیاسی طور پر قادری صاحب کا حامی نہیں ہوں لیکن سپریم کورٹ جس طرح سے زرداری کے پھیلائے جال میں پھنس رہی ہے وہ ملک کو بہت نقصان پہنچائے گا۔ قادری اور ملک ریاض کے بارے میں سپریم کورٹ کو میرٹ کا سختی سے خیال رکھنا چاہئیے کیونکہ یہ دونوں ہی زرداری کے ترپ کے پتے ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہاں یہ خیال رہے کہ میں نے انہیں زرداری کے کھلاڑی نہیں کہا لیکن سپریم کورٹ کا غیر متوازن رویہ ایسے نتائج لا سکتا ہے جس سے زرداری انہیں اپنے لئے استعمال کر لے۔
 
ویسے ایک عجیب منطق ہے عدالتِ عظمیٰ کی کہ دہری شہریت والا بھلے ساری زندگی پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے مفادات کے خلاف کرے وہ اپنی پارٹی بنا اور چلا سکتا ہے اور اس کے پارٹیٰ ممبران اس کے اشارے پر اسمبلیوں کے اندر قانون سازی اور اسمبلیوں سے باہر اداروں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور کرپشن و قانون شکنی کا گند بھی پھیلا سکتے ہیں لیکن جب کوئی گند صاف کرنے اور احتساب کی بات کرے تو اس کی وفاداری سپریم کورٹ کی نظر میں مشکوک ٹھہرتی ہے۔
سپریم کورٹ میمو کیس میں ایک کینیڈین شہری کی بلیک بیری پر کی گئی گفتگو پر کمیشن بھی بناتی ہے اور وہ سب کچھ کرتی ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ آگے تسی آپے ای سمجھدار او
 

ساجد

محفلین
سپریم کورٹ میمو کیس میں ایک کینیڈین شہری کی بلیک بیری پر کی گئی گفتگو پر کمیشن بھی بناتی ہے اور وہ سب کچھ کرتی ہے جس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ۔۔۔ ۔۔۔ آگے تسی آپے ای سمجھدار او
واقعی یہ حوالہ بروقت میرے ذہن میں نہیںآ سکا تھا۔
 
Top