چاند کا سفر از دلاور فگار

چاند کا سفر​
اک فرشتہ عالم بالا سے لایا یہ خبر​
شاعروں کا ایک جلسہ ہو رہا ہے چاند پر​
روس، پاکستان، امریکہ، عرب ہندوستان​
ہر جگہ سے شاعروں کے وفد جائیں گے وہاں​
میں نے سوچا جلد کرنا چاہئے اس کام کو​
چار چاند اس طرح لگ جائیں گے میرے نام کو​
شاعروں کا نور دیدہ بن کے واپس آؤں گا​
شاعر گردوں رسیدہ بن کے واپس آؤں گا​
ہو گیا راضی میں اس جلسے میں شرکت کے لئے​
ایم سی دینا پڑا کالج سے رخصت کے لئے​
مانگ کر لایا السٹر اپنے اک استاد سے​
کام چل جاتا ہے اکثر باہمی امداد سے​
جمع اک راکٹ میں کچھ شاعر ہوئے آل انڈیا​
میں بھی ان کے ساتھ سوئے ماہ و انجم چل دیا​
میرا راکٹ اب خلا میں مائل پرواز تھا​
دیدنی اس وقت حالِ شاعرِ جاں باز تھا​
فکرِ دنیا تھی نہ مجھ کو دین کا کچھ ہوش تھا​
میری نبضیں چھُٹ رہی تھیں اور میں خاموش تھا​
میرا راکٹ جب فرازِ عرش پر چڑھنے لگا​
ڈر کے مارے میں خود اپنی فاتحہ پڑھنے لگا​
شاعروں کا قافلہ سطحِ قمر پر آ گیا​
سامنے آنکھوں کے اک پُر نور منظر آ گیا​
چاند کی مخلوق تھی بے حد خوش اندام و حسیں​
لکھنئو کے "زُو" میں بھی ایسا کوئی ماڈل نہیں​
ہم شبیہِ بوزنہ تھے یہ حسینانِ قمر​
ڈارون صاحب کی تھیوری کا ثبوتِ معتبر​
کانگریسی تھے کہ لیگی تھے کسی کو کیا خبر​
یہ بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا مادہ تھے کہ نر​
شکل بندر کی، بدن انساں کا، حلیہ قیس کا​
ہاتھ میں چھوٹا سا ڈبّا آکسیجن گیس کا​
مانگ گنجی، آنکھ چھوٹی، ناک چپٹی، قد دراز​
ایسی صنعت پر نہ کیوں ہو صانعِ قدرت کو ناز​
ہاتھ بے ڈھب، پیٹ نا ہموار، چہرہ پُر سکون​
دست قدرت نے بنایا تھا بشر کا کارٹون​
گو پڑھے لکھے نہ تھے لیکن بڑے ہشیار تھے​
تھے مکمل آدمی لیکن ذرا دُم دار تھے​
ان کے کپڑے دیکھ کر ہوتا تھا کچھ ایسا قیاس​
جیسے وہ پہنے ہوئے ہوں کوئی نورانی لباس​
نور میں ڈوبا ہوا تھا ہر صغیر و ہر کبیر​
جس کو دیکھو وہ نظر آتا ہے اک بدرِ منیر​
فکر کیوں ہوتی انہیں روزی کمانے کے لئے​
منّ و سلویٰ اُن کو مل جاتا تھا کھانے کے لئے​
شکوۂ کم مائگی ان کے لئے تھا ناروا​
خیر سے سب کچھ میسر تھا بجز آب و ہوا​
آب امریکہ سے منگواتے تھے پینے کے لئے​
روس والوں سے ہوا لیتے تھے جینے کے لئے​
نصف حصہ سال کا سرما میں ہو جاتا تھا صرف​
برف برف اور برف برف اور برف برف اور صرف برف​
محفلِ شعر و سخن تھی منعقد اک غار میں​
بادشاہانِ ادب پہنچے کوی دربار میں​
بزم میں تشریف فرما تھے کچھ ایسے مسخرے​
کر رہے تھے جو زمینی شاعروں پر تبصرے​
بزم میں اک شور تھا دنیا کے شاعر آ گئے​
جن کو جنت سے نکالا تھا یہاں پھر آ گئے​
ایک بولا یہ ادب کی شامتِ اعمال ہیں​
دوسرا بولا کہ یہ شاعر نہیں قوال ہیں​
ایک بولا جیل سے آزاد ہو کر آئے ہیں​
دوسرا بولا کسی سرکس کے جوکر آئے ہیں​
ایک بولا عارضی ہے ان کے چہروں کی بہار​
دوسرا بولا یہ ہیں بن مانسوں کے رشتہ دار​
صدر نے اعلان فرمایا بہ اخلاقِ تمام​
سب سے پہلے چاند کے شاعر سنائیں گے کلام​
ہو گئے تیار سب مصرع اٹھانے کے لئے​
چاند کے شاعر اٹھے غزلیں سنانے کے لئے​
اک علامہ یہ بولے "میں ہوں ظرّافت نگار​
ایک مطلع کر رہا ہوں نذر دل آور فگار"​
شعر سنیے، چند دن کی زندگانی اور ہے​
اس لئے ہم نے بھی اپنے دل میں ٹھانی اور ہے​
داد یہ آئی کہ "اچھا شعر شاعر پڑھ گیا​
حضرت غالبؔ کے مطلع سے یہ مطلع بڑھ گیا"​
ان حسیں اشعار پر دادِ سخن ملتی رہی​
قافیہ ہوتا رہا تنگ اور زمیں ہلتی رہی​
رفتہ رفتہ بزم میں میرا بھی نمبر آ گیا​
داد کی حسرت میں مسند پر سخنور آ گیا​
میں نے جب مطلع سنایا حاضرینِ بزم کو​
سب بیک آواز بولے "ہو ہو ہو ہو ہو ہو ہو​
شاعری کی ہے کہ جھک مارا ہے خیر آگے بڑھو​
باقی آئندہ سنانا شیخ جی مقطع پڑھو​
چاند والوں کے مقابل کیا پڑھو گے بور بور​
تم ہمارے شعر اڑا لیتے ہو، پکڑو چور چور"​
صدر بولے "آپ پڑھیے، آپ سے مطلب نہیں​
چند بیہودے ہیں اس بزمِ ادب میں، سب نہیں"​
اپنی ذلت دیکھ کر کھانے لگا میں پیچ و تاب​
صدرِ محفل کو دیا میں نے اکڑ کر یوں جواب​
"کیا بتاؤں میں اہنسا کا پجاری ہوں جناب​
ورنہ میں بھی اینٹ کا پتھر سے دے دیتا جواب​
خیریت گزری کہ ہوں گاندھی کا شاگردِ رشید​
ورنہ اک جوتا کسی کے سر پہ کر دیتا رسید"​
اتفاقاً پھر کسی سامع سے میں ٹکرا گیا​
یہ نظارہ دیکھتے ہی سر مرا چکرا گیا​
بعد ازاں اک نقشِ مبہم ذہن میں تازہ ہوا​
یعنی مجھ کو اپنی نادانی کا اندازہ ہوا​
واقعہ یہ ہے میں اب تک ہوش سے بیگانہ تھا​
"خواب تھا جو کچھ بھی دیکھا جو سنا افسانہ تھا"​
دلاور فگار​
 
دلاور فگار میرے پسندیدہ شاعروں میں سے ہیں اور جب بھی ان کا کلام پڑھتا ہوں لطف اٹھاتا ہوں ، امید ہے آئندہ بھی پوسٹنگ ہوتی رہے گی۔
 
دلاور فگار میرے پسندیدہ شاعروں میں سے ہیں اور جب بھی ان کا کلام پڑھتا ہوں لطف اٹھاتا ہوں ، امید ہے آئندہ بھی پوسٹنگ ہوتی رہے گی۔
ہم نے کوئی زیادہ تو نہیں پڑھا ہے انہیں لیکن جتنا بھی پڑھا اسی سے اندازہ ہو گیا کہ وہ واقعی طنز و ظرافت کے نگار ہیں . آئندہ پوسٹنگ بھی ضرور انشاء الله ۔
 
Top