1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

ناز خیالوی "پہلے جیسا رنگِ بام و در نہیں لگتا مجھے" ناز خیالوی

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 20, 2017

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,055
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    [​IMG]
    پہلے جیسا رنگِ بام و در نہیں لگتا مجھے
    اب تو اپنا گھر بھی اپنا گھر نہیں لگتا مجھے

    لگتی ہو گی تجھ کو بھی میری نظر بدلی ہوئی
    تیرا پیکر بھی تیرا پیکر نہیں لگتا مجھے

    کیا کہوں اس زلف سے وابستگی کا فائدہ
    اب اندھیری رات میں بھی ڈر نہیں لگتا مجھے

    مجھ کو زحمی کر نہیں سکتا کوئی دستِ ستم
    میں ندی کا چاند ہوں پتھر نہیں لگتا مجھے

    سنتِ شاہِؐ امم کا ہوں میں لذت آشنا
    خاک سے بہتر کوئی بستر نہیں لگتا مجھے

    جب سے دستارِ فضیلت پائی ہے دربار میں
    جانے کیوں شانوں پہ اپنا سر نہیں لگتا مجھے

    ہیں سخنور نازؔ اچھے اور بھی اس دور میں
    کوئی "دانش" کا مگر ہمسر نہیں لگتا مجھے
    نازؔ خیالوی​
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏جولائی 9, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. محمد عثمان مضطر

    محمد عثمان مضطر محفلین

    مراسلے:
    13
    جب سے دستارِ فضیلت پائی ہے دربار میں
    جانے کی شانوں پہ اپنا سر نہیں لگتا مجھے
    میں ""جانے کی"" کی جگہ" جانے کیوں " ہونا چاہیئے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,195
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    تدوین کردی ہے جناب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر