نایاب

لائبریرین
محترم بھائی جیسے چاہیں سرچ کر کے دیکھ لیں
مصر لیبیا پاکستان اور ایران کے علاوہ کسی بھی اسلامی ملک کی جانب سے کوئی قابل ذکر رد عمل سامنے آنے کی خبر نہ ملے گی ۔
بلکہ کچھ اسلامی ممالک کی جانب سے اس فلم کے خلاف احتجاج کی بات کرنے والے علماء کو گرفتار کیئے جانے کی خبر بھی ملے گی ۔
اور باقاعدہ فتوی ملے گا کہ یہ احتجاج غیر اسلامی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
محترم بھائی جیسے چاہیں سرچ کر کے دیکھ لیں
مصر لیبیا پاکستان اور ایران کے علاوہ کسی بھی اسلامی ملک کی جانب سے کوئی قابل ذکر رد عمل سامنے آنے کی خبر نہ ملے گی ۔
بلکہ کچھ اسلامی ممالک کی جانب سے اس فلم کے خلاف احتجاج کی بات کرنے والے علماء کو گرفتار کیئے جانے کی خبر بھی ملے گی ۔
اور باقاعدہ فتوی ملے گا کہ یہ احتجاج غیر اسلامی ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
رد عمل سڈنی سے بھی سامنے آیا تھا دیگر مقامات سے بھی۔ بعد میں تو بہت کچھ ہوا۔ غیرتَ مسلم تو ہر جگہ نظر آئی سر جی
لندن میں گستاخانہ فلم کےخلاف مظاہرہ کیاگیا۔۔جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
ادھر سری لنکا میں بھی سینکڑوں افراد نے جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج کیا

فلپائن میں ہزاروں مسلمانوں نے گستاخانہ فلم اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کی

فرانس کے شہر لیل کے مسلمان جو اسلام خلاف امریکی فلم اور توہین آمیز کارٹون کے خلاف مظاہرہ کرنا چاہتے تھے فرانس کی بلوا پولیس نے تشدد کے ساتھ کچل دیا اور مسلمانوں کے احتجاج نہیں کرنے دیا
 

باباجی

محفلین
حضرت علامہ مفتی محمد ارشد القادری صاحب نے اپنے خصوصی خطاب میں قوم و ملت کو دوبارہ سے دین سے ناطہ جوڑنے کی ترغیب دلائی۔ اور انبیاء کے گستاخ امریکی و یورپی ظالم درندوں کو تاریخ اور کردار کے حوالے سے آئینہ دکھایا۔
انہوں نے فرمایا کہ امریکی بد معاشوں کی جانب سے بنائی جانے والی گستاخانہ فلم کے رد عمل میں عرب ملکوں کے عوام نے اپنے بینرز اور پلے کارڈز پر لکھوایا ہوا تھا "لبیک یا رسول اللہ"۔ اس عمل سے معلوم ہوا کہ پوری دنیا کے مسلمان آج بھی اپنے آقا کریم سے سچی محبت کرتے ہیں۔ اور یا رسول اللہ کہنا کسی فرقے وغیرہ کا مؤقف نہیں ہے بلکہ ایک عالم گیر اسلامی فکر ہے۔ کیونکہ فلسطین، مصر اور لیبیا میں یارسول اللہ کے بینر پاکستان سے بنوا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ یہ پوری امت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ تھا ہے اور ان شاء اللہ سدا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بر صغیر کے کچھ علاقوں سے یہ کہا گیا کہ یہ نعرہ بریلی شہر کاتیار کردہ ہے حالانکہ ایسا بالکل نہیں۔ بلکہ یہ بریلی سے نشر ضرور ہوا تھا۔ اور آج کے دور میں اُس کا انکار کرنے والے علاقوں سے بھی حرمتِ رسول اور شانِ رسول کے دعوے بلند ہوئے ۔ ان حالات میں امت مسلمہ نے ایک فکر پر متحد ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری کا طرزِ فکر سب سے اعلیٰ ہے۔ اور اُن کا عشق رسول کا مؤقف ہی درست اسلامی نظریہ ہے۔ اب کوئی جتنے مرضی جلسے اور کتابیں عظمتِ مصطفی کے انکار میں نشر کرے ، یارسول اللہ کہنے کے نعرے کو غلط ثابت نہیں کر سکتا۔ اب تو ساری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کا حال میڈیا کے ذریعے سے سب کے سامنے ہے۔ اور یہی حق ہے۔ انہوں نے حرمتِ رسول کا مفہوم بیان کرتے ہوئے عربی کی مستند لغات کو سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ عربی کی قاموس میں "تاج العروس" میں لفظ الحُرمہ ، الحُرُمہ اور الحَرَمہ کا مطلب یہ ہے کہ ایسی عزت جو اللہ کسی کو عطا کرے۔ اُس کا انکار گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اُس کو مانا لازم ہے۔ انکارکرنا ارتکابِ حرام ہے۔ جمہور کا مذہب ہے کہ کسی عمل کو حرام قرار دینے کے لیے اُس کا نصِ قطعی اور ظنی الدلالہ سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ جب کہ امامِ اعظم کا مذہب یہ ہے کہ اس کے لیے نصِ قطعی اور قطعی الدلالہ ہونا ضروری ہے۔ جمہور واجب کو فرض قرار دیتے ہیں جبکہ امام اعظم کے نزدیک دلیل قطعی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ تب فرض قرار پاتا ہے۔ اور اُس کا انکار حرام ہے۔ اجتہاد مسائل کا ہوتا ہے جیسا کہ یہ عمل فرض ہے واجب ہے یا حلال ہے، مکروہِ تحریمی ہے یا تنزیہی وغیرہ۔ عقائد میں اجتہاد نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانیں نصِ قطعی (سورۃ فتح کی آیت 8 اور 9 ) سے بغیر کسی دلیل کے ثابت ہے۔ اور اسے فرض نہ ماننا، اور فرض کا انکار کرنا کفر ہے۔ مولانا مصطفیٰ اور مجھے عربی کی لغات سے لفظِ حرمت کے یہ معانی ومطالب ملے ہیں۔ بغیر کسی جانب داری کے ثابت ہوا کہ امام احمد رضا القادری الحنفی نے بریلی شریف سے آج سے ایک سو سال پہلے یہ فکر نشر کی کہ اُمت کے وقار کا معیار عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بتایا۔ اعلیٰ حضرت نے بتایا کہ رسول اللہ پر قربان رہو گے تو اللہ تمہارا مددگار رہے گا۔ "حرمتِ رسول پر جان بھی قربان ہے " کا نعرہ اعلیٰ حضرت نے دیا۔ مولانا سید دیدار علی شاہ صاحب اسی نعرے کو لے کر بریلی سے اَلوَر گئے اور چھا گئے۔ آگرہ گئے اور چھا گئے۔ لاہور آئے تو چھا گئے۔ابوالحسنات شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ اور سید ابوالبرکات قادری رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی نعرے کو لے کر بریلی سے لاہور آئے اور ختمِ نبوت کے جلسوں میں چھا گئے۔ پھر انہی حضرات کی دیکھا دیکھی دوسرے مکاتبِ فکر کے لوگ سڑکوں پر اسی طرزِ فکر کے ساتھ آئے۔ اور وہ بھی مشہور ہوئے۔ حالانکہ حقیقت میں یہ نعرہ بریلی کے شاہ کا تھا اور اُ ن کے اکابر کا تھا۔ مثال کے طور پر علامہ فضلِ حق خیر آبادی اور مفتی صدرالدین دہلوی اور علامہ مفتی کفایت علی کافی شہید اسی فکر اور نظریے کے حامل تھے۔انگریز حکومت کے خلاف اُن کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے لوگو ! اپنی فکر کا دھارا بدلو۔ ہمارے نبی کی کیا ہی شان ہے۔ آقا کریم اتنے حسین اور جمیل تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین فرماتے ہیں کہ وہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے رخساروں میں اپنا چہرہ دیکھ لیا کرتے تھے۔ ایسا حسین اللہ نے کوئی اور بنایا ہی نہیں۔ اللہ قرآن میں سورۃ احزاب میں فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول کو اذیت دیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت، اور اُن کے لیے دُکھ دینے والا عذاب تیا رکیا گیا ہے۔ رسولِ کریم کی اس دنیا میں تشریف آوری کی غرض و غایت یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو شاہد بنا کر مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ یعنی آپ مشاہدہ بھی فرما رہے ہیں اللہ جانتا ہے کہ کیسے فرما رہے ہیں۔ خوش خبری دینے والے ہیں۔ اورڈرانے والے ہیں کہ برائیاں نہ کرو۔ اور اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تُم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یعنی رسول کو دیکھ کر اللہ پر ایمان لاؤ۔ پھر فرمایا رسول کی تعظیم توقیر کرو۔ اور رسول کی توقیر کرو۔ پھر فرمایا اللہ کی تسبیح کرو صبح اور شام کو۔ پہلے اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ ایمان لانے کے بعد تعظیمِ رسول کرو ۔ بعد میں اللہ کی عبادت کرو۔ اگر ایمان لا کر حرمتِ رسول نہ کی تو عبادت بھی قبول نہیں۔ ایمان اور عبادات کی مقبولیت کا انحصار حرمتِ رسول پر ہے۔ اعمال جو ہوتے ہیں وہ عقائد کے ماتحت ہوتے ہیں۔ عقائد جو ہوتے ہیں وہ اعمال کے ماتحت نہیں ہوتے۔ اقبال نے کہا تھا
؂ قوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد سے اُجالا کر دے
علامہ نے کہا ہم رسول اللہ کا ہر کمال بغیر کسی دلیل کے مانتے ہیں۔ انسان کو تین چیزیں زیادہ عزیز ہوتی ہیں۔ مال ، اولاد اور جان۔
ہم اپنا مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جہاں دین کا کام اُصولی طور پر ہو رہا ہے۔ وہاں اپنا مال خرچ کریں، اپنی اولاد اور جان اپنے آقا کے لیے قربان کریں
انہوں اُمتِ مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ دین کی راہ پر چل کر ہی اپنا کھویا ہویا وقار دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
میں صدقے یا رسول اللہ ﷺ
 

باباجی

محفلین
ہمارے آقا رحمت اللعالمینﷺ کی شان بغیر کسی دلیل کے ثابت ہے
علمائے کرام کی ذمہ داری ہمارے ذہنوں سے آپﷺ کے حوالے سے موجود فالتو ابہامات کو دور کرنا ہے
اللہ ہم سب کو آپﷺ کے اسوہ حنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

(آمین)
 
کیا ہی بہتر ہوتا کہ اس بہترین محفل پرنور کو خالص ذکر نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے خاص رکھا جاتا ۔
مخصوص شخصیات کے بیان اور ان کے دفاعی ذکر نے اس محفل پر نور کو اک دائرے میں مقید کر دیا ۔
۔
آپ کا یہ پیغام ان شاءاللہ تعلیم و تربیت اسلامی تک پہنچا دوں گا سر!
 
ہمارے آقا رحمت اللعالمینﷺ کی شان بغیر کسی دلیل کے ثابت ہے
علمائے کرام کی ذمہ داری ہمارے ذہنوں سے آپﷺ کے حوالے سے موجود فالتو ابہامات کو دور کرنا ہے
اللہ ہم سب کو آپﷺ کے اسوہ حنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

(آمین)
آمین
 
Top