پاک ٹی ہاؤس تیرہ برس بعد دوبارہ کُھل گیا

علی خان

محفلین
130308133440_pak_tea_house_lahore_interior_qasmi_112_304x171_bbc_nocredit.jpg
لاہور میں ادیبوں اور شاعروں کی معروف بیٹھک ’پاک ٹی ہاؤس‘ کو تقریباً تیرہ برس کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
لاہور کی مال روڈ پر ادیبوں کا یہ چائے خانہ انیس سو چالیس میں انڈیا ٹی ہاؤس کے نام سے قائم ہوا تھا۔
قیام پاکستان کے بعد اسے پاک ٹی ہاؤس کا نام دیا گیا اور یہاں چائے کی پیالی پر ہونے والے گرما گرم فکری اور ادبی مباحثوں نے لاہور ہی نہیں بلکہ خطے کے تمدن پر گہرے اثرات چھوڑے ۔
انڈیا ٹی ہاؤس ایک سِکھ کی ملکیت تھا۔ پاکستان بننے کے بعد جب یہ پاک ٹی ہاؤس بنا تو سراج الدین نامی شخص نے پٹے (لِیز) پر لیا اور کئی دہائیاں یہاں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، ناصر کاظمی، منیر نیازی، انتظار حسین سمیت ادبی افق کے اہم ستارے جلوہ گر ہوتے رہے۔
پاک ٹی ہاؤس سے مختلف ادوار میں کئی ادبی اور فکری تحریکیں جنم لیتی رہیں لیکن سنہ دوہزار میں سراج کے بیٹے زاہد حسین نے اس ’غیر منافع‘ بخش کاروبار کو بند کر کے کوئی اور کام کرنے کا فیصلہ کیا تو جیسے لاہور کے شاعر ادیب اور مفکر تو بے سائبان سے ہوکر رہ گئے۔

130308132605_pak_tea_house_lahore_304x171_bbc_nocredit.jpg
پاک ٹی ہاوس میں احمد ندیم قاسمی کی ایک تصویر​

معروف ادیب اور کالم نگار عطاالحق قاسمی کہتے ہیں کہ ’دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی بھی شاعر یا ادیب جب لاہور آتا تو پاک ٹی ہاؤس کا رُخ کرتا کیونکہ اسے معلوم ہوتا تھا کہ شہر میں جس بھی شاعر یا ادیب سے اس نے ملاقات کرنی ہے وہ یہاں موجود ہوگا۔ پاک ٹی ہاؤس تو شاعروں اور ادیبوں کا ویٹیکین سٹی تھا ۔ لیکن جب اسے بند کیا گیا توسیاسی، سماجی اور ادبی مسائل پر ہمارا مکالمہ بھی بند ہوگیا اور لکھاری ایسے بچھڑے جیسے کونج اپنے ڈار سے بچھڑ جاتی ہے‘۔
لاہور کے ادبی حلقے مسلسل پاک ٹی ہاؤس کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے اور اب جب کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے بڑے منصوبوں کا افتتاح کررہی ہیں بالآخر ان کی بھی سنی گئی۔
میاں نواز شریف
پنجاب کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون نے اپنے قائد میاں نوازشریف سے بظاہر اس چھوٹے منصوبے کا افتتاح کروا کر ملک کی ادبی کمیونٹی کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ شاعر اور ادیب اور ان کا کام نون لیگ کے لیے بہت اہم ہے ۔
افتتاح کے موقع پر میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاک ٹی ہاؤس کی اہمیت کسی صورت بھی میٹرو بس منصوبے سے کم نہیں ہے۔ اب ادبی حلقے شہر کے وسط میں اکٹھا ہوسکیں گے اور میں بھی یہاں ان سے ملاقات کیا کروں گا‘۔
پاک ٹی ہاؤس کی عمارت کے ڈیئزائن میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی گئی لیکن سہولیات کے اعتبار سے اسے پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
شاعرہ صغریٰ صدف کہتی ہیں ’پاک ٹی ہاؤس کو اتنا اچھا رینوویٹ کیا گیا ہے کہ اس میں فائیو سٹار کی سہولتیں دی گئی ہیں۔ یہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگیا ہے اور آج کا دن لاہور کے ادبی حلقوں کے لیے بہت خوشی کا دن ہے‘۔

130308133826_pak_tea_house_writers_pics_304x171_bbc_nocredit.jpg
یہاں پاک ٹی ہاؤس سے تاریخی طور پر وابستہ مشہور ادیبوں کی تصاویر لگائی گئی ہیں​

افسانہ نگار نیلم احمد بشیر کی طرح کئی لوگ افتتاح کے موقع پر پاک ٹی ہاؤس سے وابستہ یادیں تازہ کرتے رہے۔ ’مجھے اپنے والد یاد آئے جو یہاں آکر بیٹھا کرتے تھے۔ اس طرح کی جگہیں ضرور ہونی چاہیئیں، شاعروں اور ادیبوں کے لیے اور انہیں اہمیت بھی دی جانی چاہیے کیونکہ ادب سے معاشرہ سنورتا بھی ہے اور پُرامن بھی ہوتا ہے۔
ہمارے ملک کے جو حالات ہیں وہ اسی لیے کہ ہم ادب اور فنون لطیفہ سے دور ہوگئے ہیں اور ہمارے اندر کی نرمی ختم ہوگئی ہے‘۔
پاک ٹی ہاؤس کی بحالی کے منصوبے پر پینسٹھ لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ یہ ٹی ہاؤس ینگ کرسچین مین ایسوسی ایشن یعنی ’وائے سی ایم اے‘ کی ملکیت ہے جسے ضلعی حکومت نے دس سال کے پٹے (لِیز) پر حاصل کیا ہے تاہم اس کا انتظام ضلعی حکومت کسی نجی کمپنی کے ذریعے چلائے گی۔
عطا الحق قاسمی
عطاالحق قاسمی کے مطابق ’اب ہمیں ناصر کاظمی، فیض، منیر نیازی اور احمد ندیم قاسمی تو یہاں نہیں مل سکیں گے لیکن خدا کا شکر ہے کہ ابھی ہمارے پاس عبداللہ حسین ہیں، انتظار حسین ہیں اور بہت سے نوجوان لکھنے والے بھی موجود ہیں، اب ان میں سے ہی کوئی فیض منیر اور ناصر بنے گا اور جب یہ مل بیٹھیں گے تو اس کے بہت اچھے نتائج ہوں گے‘۔
ایک زمانے میں لاہور کے مال روڈ پر کافی ہاؤس، شیزان اور پاک ٹی ہاؤس اہل ادب کے لیے تین ٹھکانے ہوا کرتے تھے لیکن گردش حالات نے ادب سے ہمارا رشتہ کمزور کیا تو یہ سب ہی بند ہوگئے۔ ذہنی اور فکری مفلسی نے معاشرے میں تشدد کو ابھارا لیکن اب پاک ٹی ہاؤس کو دوبارہ آباد کرنا شہر کی روح کو زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔

خبر ماخذ
 

عسکری

معطل
ایک ہی بار اسے گورمنٹ خرید کر ادباء شعراء کی ایک کمیٹی بنا کر ان کے سپرد کر دیتی ہمیشہ کے لیے جان چھوت جاتی ۔اچھا قدم ہے لاہور جانا ہوا جب اسے دیکھیں گے
 

شہزی مشک

محفلین
میرا ارادہ کراچی میں اسی طرز پر ایک ٹی ہاوس بنانے کا۔۔۔
اگر یہاں کوئی میرا دوست میرا ساتھ دینا چاہتا ہے تو مجھسے رابطہ کرے۔۔۔۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
ٹی ہاؤس کے کھلنے کی خبر پہلے بھی سنی تھی۔ میرے ایک نہایت عزیز بزرگ اسرار زیدی صاحب نے اپنی زندگی کے آخری کچھ سال ٹی ہاؤس کی بندش اور فروخت کے خلاف مقدمات لڑتے ہوئے گزار دی۔ ٹی ہاؤس ان خستہ حال ادیب اور شاعر حضرات کی آماجگاہ ہوتی تھی۔ یہ حکمرانوں کے چہیتے اور مراعات حاصل کرنے والے کالم نگار کب ٹی ہاؤس میں آیا کرتے تھے؟
 
ٹی ہاؤس کی تزئین و آرائش سے زیادہ اس بات کی اہمیت ہے کہ کون لوگ اس ٹی ہاؤس کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ پیسہ کمانے والی ذہنیت یہاں نہیں چلے گی۔ یہاں تو شعر و ادب اور اہلِ فکر و سخن سے محبت رکھے والے کسی دیوانے کی ضرورت ہے۔۔۔۔بقول اقبال
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق
 

تلمیذ

لائبریرین
ٹی ہاؤس کی تزئین و آرائش سے زیادہ اس بات کی اہمیت ہے کہ کون لوگ اس ٹی ہاؤس کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ پیسہ کمانے والی ذہنیت یہاں نہیں چلے گی۔ یہاں تو شعر و ادب اور اہلِ فکر و سخن سے محبت رکھے والے کسی دیوانے کی ضرورت ہے۔۔۔ ۔بقول اقبال
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

بالکل درست فرمایا آپ نے غزنوی صاحب۔
اس سلسلے میں آج کے 'دنیا' اخبار میں نذیر ناجی کا یہ کالم لائق توجہ ہے، جس میں کچھ قابل عمل تجاویز دی گئی ہیں:
http://e.dunya.com.pk/colum.php?date=2013-03-09&edition=LHR&id=5661_92863097
 

پردیسی

محفلین
ناجی صاحب کی کیا بات ہے ۔۔۔ یہ اچھی بات کہتے ہوئے بھی کملیاں مار دیتے ہیں۔۔
بندہ پوچھے ادیب اور شاعر تو ہوتے ہیں غریب و غربا ہیں ۔۔۔ اب کسی ہوٹل کو دے دیا انتظام یا کلب سسٹم بنا کر ممبر شپ لگا دی گئی تو غریب و غرباء تو گئے تیل بیچنے۔۔۔اور پھر تیل آجکل کونسا سستا ہے
 

تلمیذ

لائبریرین
آجا کے وہی رجسٹریشن والی آپشن ہی رہ جاتی ہے لیکن اس صورت میں ہر کوئی خود کو سکے بندادبب یا شاعر کیسے ثابت کرے گا۔ یا پھر ایسا کرنے کے لئے جعلسازی کرے گا۔ کیونکہ اس جگہ ماکولات کا معقول نرخوں پر دستیاب ہونےکےبارے میں ناجی صاحب کا اٹھایا ہوا نکتہ کافی valid ہے۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
زبردست ۔۔۔ شکر ہے کسی کو خیال تو آیا ۔۔۔
 

طالوت

محفلین
ہم چڑھتے سورج کے پجاری اور تماش بین قسم کے لوگ واقع ہوئے ہیں ، چار چھ دن ہنگامہ رہے گا اور پھر یہاں کی خشک ادبی ، فکری ، فلسفی بحثوں و نتیجوں کے لئے ادیب ، مفکر ، فلسفی ہی رہ جائیں گے۔
 
Top