پاکستان میں سال 2020 آزادی صحافت کیلئے تاریک رہا، پی پی ایف

محمد خلیل الرحمٰن نے 'صحافت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 3, 2021

  1. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    پاکستان میں سال 2020 آزادی صحافت کیلئے تاریک رہا، پی پی ایف
    ویب ڈیسک 03 مئ 2021
    Facebook Count
    Twitter Share
    0
    Translate
    [​IMG]
    رپورٹ میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی پر زور دیا گیا ہے—فائل/فوٹو: اے پی
    پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) نے گزشتہ برس کو پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے تاریک قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو نشانہ بنانے اور آزادی صحافت پر قدغنیں لگانے کے لیے قانون سازی پر تشویش کا اظہار کیا۔

    پی پی ایف نے کراچی میں ایک تقریب میں پاکستان پریس فریڈم رپورٹ 2020-2021 جاری کی، جس کے مطابق قتل، براہ راست حملوں، اغوا کے ساتھ ساتھ میڈیا کے اہلکاروں کو دھمکیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

    مزید پڑھیں: 'آزاد صحافت پر بڑھتے ہوئے حملے آمرانہ سوچ کو تقویت دینے کا باعث ہیں'

    پروگرام میں معروف صحافی مظہر عباس، پی پی ایف کے جنرل سیکریٹری اویس اسلم علی، سی پی این ای اور اے پی این ایس کے سابق صدر جبار خٹک، پی ایف یو جے کے سابق عہدیدار جی ایم جمالی اور استاد اور صحافی توصیف احمد خان نے شرکت کی اورپاکستان میں آزادی صحافت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال بھی میڈیا کے مواد کو براہ راست کنٹرول کرنے کی کوششوں پر توجہ رکھی گئی، میڈیا ریگولیٹری اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات، تمام پلیٹ فارمز پر پابندی اور قانونی اضطراب کا باعث بننے والے قوانین تیار کرنے کی کوششوں سے ایسا ماحول پیدا کیا گیا جہاں میڈیا کو سنسر کیا جاتا ہے اور صحافیوں کو سیلف سنسرشپ کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ کووڈ-19 کے پھیلاؤ کے ساتھ اس نئے چیلنج کی شمولیت نے متعدد صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی جانیں لے لی ہیں، وبائی مرض نے پریس کی آزادی کے معاملے میں بھی نئے مسائل پیدا کردیے ہیں۔

    کورونا وائرس کے دوران فرنٹ لائن پر کام کرنے والے صحافیوں کے کردار اور کورونا وائرس میں اضافے کے خطرے کے پیش نظررپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ میڈیا پریکٹیشنرز کو فرنٹ لائن ورکر سمجھا جائے اور ان کو حفاظتی ویکسینیشن کی فراہمی میں ترجیح دی جانی چاہیے۔

    پاکستان میں، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز، میڈیا پر بالخصوص کوڈ-19 پر رپورٹنگ کرنے والی خواتین صحافیوں کو ٹرولنگ اور مربوط حملوں کا سامنا رہا۔

    پی پی ایف کا کہنا ہے کہ جنوری 2020 سے اپریل 2021 کے دوران اپنے کام کی وجہ سے ایک صحافی کا قتل، گرفتاریوں اور نظربندی کے 10 واقعات، جبری طور پر اٹھائے جانے اور اغوا کے 4 واقعات، براہ راست حملوں کے 16 واقعات، دھمکیوں کے 13 واقعات، چھاپوں اور حملوں کے 4 واقعات، انٹرنیٹ پر بڑی پابندی یا بلیک آؤٹ کے 5 واقعات، پیمرا کی 22 ہدایات جو آزادی اظہار رائے میں قدغن لگنے کاباعث بن جاتی ہیں۔

    مزید پڑھیں: آزادی صحافت کو سب سے بڑا خطرہ پراسرار، نامعلوم عناصر سے ہے، سی پی این ای

    رپورٹ میں کہا گیا کہ صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائی کے 7 واقعات اور قانون سازی کی 6 مثالوں نے پاکستان میں آزادانہ اظہار رائے کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔

    پی پی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کے تحفظ کے لیے کوئی حفاظتی بل موجود نہیں ہے تاہم پی پی ایف اس بل کی منظوری کے لیے سرگرم طور پر لابنگ کررہی ہے اور وفاقی کابینہ سے اس پر عمل کرنے کی اپیل کرتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ کی صوبائی حکومت کی جانب سے صوبائی سطح پر ایک علیحدہ ڈرافٹ بل تیار کیا گیا تھا اور حکومت نے اس بل کو صوبائی سطح پر منظور کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

    پاکستان پریس فریڈم رپورٹ 2021 میں صحافیوں اور میڈیا کارکنان کے تحفظ کے لیے مؤثر قومی اور صوبائی قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ریگولیٹری ادارے مواد کو روکنے کے لیے حکومتی آلہ کار بن گئے ہیں، پیمرا کی 2020-21 کے دوران جاری کی گئیں ہدایات مواد پر سنسر کے مترادف ہے۔

    پیمرا کے حوالے سے کہا گیا کہ کوریج سے ملک میں تازہ ترین اہم پیش رفت کا باعث بننے والے موضوعات پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، اس کا نتیجہ میڈیا کے ذریعے سنسرشپ کا نفاذ ہے اور ان پابندیوں کے ذریعے معلومات کے آزادانہ بہاؤ کو محدود کردیا گیا ہے۔

    2021 کے محض چند مہینوں میں پیمرا نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی کوریج سے متعلق ہدایات جاری کیں اور صحافیوں کو کابینہ کے اجلاسوں کی ذرائع پر رپورٹنگ کرنے سے روک دیا۔

    یہ بھی پڑھیں: دنیا میں آزادی صحافت کو حکومتوں سے سنگین خطرات کا سامنا

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آن لائن مواد کی نگرانی کے لیے قانون سازی ایک اور تشویش ناک بات ہے۔

    رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ اسٹیک ہولڈرز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی، قواعد و ضوابط کے مسودے کے عمل میں فعال طور پر شامل ہوں۔

    پی پی ایف نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ صحافیوں اور میڈیا کارکنان کی یک طرفہ نظربندی اور تشدد، جبری گمشدگی، اغوا، اور قتل سے متعلق تمام معاملات میں قابل اعتماد تفتیش اور بھرپور فوجداری قانونی کارروائی کی جا ئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ براڈکاسٹ میڈیا کے لیے مزید پابندی والی ہدایت جاری کی گئی ہے جبکہ پرتشدد حملوں کا سامنا کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کا فقدان ہے، یہ سال پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے ایک تاریک تصویر پیش کرتا ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,827
    پاکستان میں آزادی صحافت کا مطلب ہے روزانہ کی بنیاد پر فیک نیوز پھیلاؤ اور پھر پکڑے جانے پر معافی مانگ لو۔ فیک نیوز پھیلانے پر کوئی ندامت یا اصلاح نہ کرو
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,827
     
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    پاکستان میں صحافت اتنی آزاد ہے جتنی برطانیہ میں بھی نہیں۔ کپتان کا بھاشن
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,827
    برطانیہ میں میڈیا پر جھوٹے الزامات لگانے پر ہتک عزت کے بھاری جرمانے ہوتے ہیں۔ ادھر پاکستان میں جھوٹے الزامات لگانے والے کی واہ واہ ہوتی ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. حسرت جاوید

    حسرت جاوید محفلین

    مراسلے:
    703
    یہی تو کام آتا ہے میرے پیارے کپتان کو، اب یہ بھی نہ کرے تو اور کیا کرے؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,827
    جتنے جھوٹے الزامات پاکستانی سیاست دان، صحافی، اینکرز ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔ اگر یہ سب برطانیہ میں ہو رہا ہوتا تو سب کے سب ہتک عزت کے مقدمات بھگت بھگت کر کنگال ہو چکے ہوتے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. حسرت جاوید

    حسرت جاوید محفلین

    مراسلے:
    703
    آزادی صحافت رہے نہ رہے بس اے آر وائی چلتا رہے کیونکہ اے آر وائی سے زیادہ تصدیق شدہ خبر دینے والا چینل ابھی پیدا نہ ہوا! :heehee:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,827
    اے آر وائی ویسے ہی بدنام ہے۔ حالانکہ سب سے زیادہ جھوٹی خبریں جیو، ڈان، ۲۴ نیوز والے دیتے ہیں۔

     
  10. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    پاکستان میں بھی دس پانچ ہزار کو الزام لگاتے ہی ٹانگ دیا جائے تو ملک سدھر سکتا ہے۔ فاشسٹ کپتان کا بھاشن
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    پاکستان دنیا کا وہ انوکھا ملک ہے جہاں قتل، چوری چکاری اور کرپشن سے بڑا جرم سچ بولنا اور سچ لکھنا ہیں۔ مدینے کی ریاست کا دعوے دار کپتان روز بھاشن دیتا ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    آمرانہ ذہنیت اور آمروں کے چہیتوں نے اس ملک کو نچوڑکر رکھ دیا ہے۔ جمہوریت دشمنوں کی اس ملک میں کمی نہیں!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    39,942
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Aggressive
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,626
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اے آر وائی نیم سرکاری ادارہ جو ہوا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,827
    اے آر وائی کا جھکاؤ تحریک انصاف کی جانب ہے اس لئے آپ کو ایسا لگ رہا ہے۔ حالانکہ پچھلی حکومتوں میں اے آر وائی حکومت مخالف ہی ہوتا تھا۔
    جیو نیوز کا جھکاؤ ن لیگ کی طرف ہے۔ وہ پچھلی حکومت میں بھی تحریک انصاف کا مخالف تھا اور اب کا حال تو آپ کے سامنے ہے۔
    ڈان دیسی لبرل ہے تو وہ کسی سے خوش ہو نہیں سکتا۔
    ۹۲ نیوز والے تحریک لبیک کے حامی ہیں۔
    ۲۴ نیوز زرداری کا چینل ہے۔
    پاکستان میں آزاد و غیر جانبدار صحافت کر کون رہا ہے؟
     
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,827
    نیم ن لیگی ادارہ جیو نیوز۔ ادارہ آزادی صحافت کے نام پر اپنے مالک نواز شریف کو بچانے کیلئے کسی حد تک بھی جھوٹ بول سکتا ہے۔
     
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    30,827
    منافقانہ ذہنیت کا جمہورانہ ذہنیت سے تقابل غلط ہے۔ پاکستان کے جمہوری انقلابی صحافی غیر جانبدار نہیں۔ کسی نہ کسی جماعت یا انٹرسٹ گروپ کے پے رول پر ہیں
     

اس صفحے کی تشہیر