1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

پاکستانی کبوتر باز کا انڈین وزیر اعظم سے مطالبہ: ’مودی جی میرا کبوتر واپس کریں‘

سروش نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 28, 2020

  1. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    2,208
    موڈ:
    Relaxed
    پاکستانی کبوتر باز کا انڈین وزیر اعظم سے مطالبہ: ’مودی جی میرا کبوتر واپس کریں‘
    • 7 گھنٹے پہلے
    • بشکریہ بی بی سی اردو
    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
    پاکستان کے ایک شہری نے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جاسوسی کے الزام میں انڈیا میں پکڑا گیا اس کا کبوتر واپس کریں۔

    گذشتہ روز انڈیا کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک پاکستانی جاسوس کبوتر کو حراست میں لیا ہے۔

    انڈین پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ کبوتر کے پاؤں میں ایک رِنگ (چھلا) نصب ہے جس میں کچھ نمبر درج ہیں، پولیس کے مطابق یہ نمبر درحقیقت خفیہ کوڈ ہے جسے سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    تاہم بدھ کے روز پاکستان کے شہر سیالکوٹ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے شہری حبیب اللہ نے دعویٰ کیا کہ انڈیا میں پکڑا گیا کبوتر اس کا ہے جسے عید کے روز معمول کے مطابق کبوتروں کے غول کے ہمراہ اڑایا گیا مگر وہ غول سے بچھٹر کر سرحد پار چلا گیا اور واپس نہیں آیا۔

    حبیب اللہ کا گاؤں انڈین سرحد سے صرف چار کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

    یہ بھی پڑھیے

    پتہ کرو، کبوتر مسلمان ہے یا ہندو؟

    انڈیا: ’جاسوس کبوتر جانباز خان‘ فرار ہونے میں کامیاب

    جب امریکہ نے جاسوسی کے لیے کبوتر استعمال کیے

    ’ایک کپ چائے پلا کر اس کبوتر کو پاکستان کے حوالے کیا جائے‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ نمبر جسے خفیہ کوڈ قرار دیا جا رہا ہے درحقیقت ان کا فون نمبر ہے اور وہ اپنے ملکیتی ہر کبوتر کے پنجے میں اپنا فون نمبر درج کرتے ہیں تاکہ غول سے بچھڑنے والے کبوتروں کو اُن تک واپس پہنچایا جا سکے۔

    انھوں نے کہا کہ عموماً ہر کبوتر باز اپنے کبوتروں پر کوئی نہ کوئی شناختی علامت درج کرتا ہے۔

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹANI
    Image captionانڈیا میں پکڑے جانے والا کبوتر جو حبیب اللہ کے مطابق اس کا ہے
    حبیب اللہ نے پاکستان کے انگریزی اخبار ’ڈان‘ کو بتایا کہ کبوتر تو امن کا پرندہ ہے اور انڈیا کو اس معصوم پرندے کو تنگ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔

    اطلاعات کے مطابق دو روز قبل کچھ مقامی لوگوں نے اس کبوتر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستانی اداروں نے اس پرندے کو جاسوسی کی تربیت دے رکھی تھی۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انڈیا نے پاکستان کا ’جاسوس کبوتر‘ پکڑنے کا دعویٰ کیا ہو۔

    اس سے پہلے ریاست پنجاب اور راجستھان کے سکیورٹی حکام بھی پاکستان کی طرف سے آنے والے کبوتروں کو مبینہ جاسوس قرار دے کر پکڑ چکے ہیں۔

    اسی طرح سنہ 2015 میں انڈین پنجاب میں ایک چودہ سالہ لڑکے نے سرحد کے قریب سے ایک کبوتر پکڑ پولیس کے حوالے کیا تھا۔

    انڈین پولیس نے سنہ 2016 میں ایک اور کبوتر کو ’حراست‘ میں لینے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ کبوتر نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ایک دھمکی آمیز پیغام اٹھا رکھا تھا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    2,208
    موڈ:
    Relaxed
    اس سے قبل:
    انڈیا کا ایک مرتبہ پھر کبوتر پر پاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام، سوشل میڈیا پر حکام کا مذاق
    • 25 مئ 2020
    • بشکریہ بی بی سی اردو
    [​IMG]
    انڈیا اور پاکستان میں سرحد پر کشیدگی رہنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، آئے روز ہم خبروں میں دونوں جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی خبریں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر اس جنگ کے جنون میں معصوم پرندوں کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جائے تو تعجب کی بات لگتی ہے۔

    اور انڈین حکام نے پیر کو ایک مرتبہ پھر اپنے عوام کو تعجب میں ڈالا اور ادھر پاکستان میں Pigeon ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    ہوا کچھ یوں کہ انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈین حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کٹھوا کے سرحدی علاقے میں ایک کبوتر پکڑا ہے جس پر شبہ ہے کہ اسے پاکستان نے جاسوسی کے لیے تربیت دی ہے۔

    مگر یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انڈین حکام نے ایسا دعویٰ کیا ہو اور اس سے پہلے ریاست پنجاب اور راجستھان کے سکیورٹی حکام بھی پاکستان کی طرف سے آنے والے کبوتروں کو مبینہ جاسوس کہہ کر پکڑ چکے ہیں۔

    پیر کو انڈیا کی نیوز ایجنسی کی جانب سے اس خبر کو سوشل میڈیا پر جاری کرنا تھا کہ دونوں ممالک کے صارفین نے اس خبر کے متعلق بے لاگ تبصروں اور میمز کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @PTI_News@PTI_NEWS
    یہ بھی پڑھیے
    انڈیا: ’جاسوس کبوتر جانباز خان‘ فرار ہونے میں کامیاب

    پتہ کرو، کبوتر مسلمان ہے یا ہندو؟

    جب امریکہ نے جاسوسی کے لیے کبوتر استعمال کیے

    اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نامی ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ انڈین خفیہ ایجسنی را کے جاسوس بھی آجکل بہت زیادہ ارطغل غازی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں‘

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @Imrankhan707@IMRANKHAN707
    دیویکا نامی صارف کا کہنا تھا ’دوسرے ممالک کے پاس جاسوسی کے لیے ڈرونز ہیں لیکن پاکستان کے پاس جاسوس کبوتر، جب پاکستان کی فوج کے بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ٹائم ٹریول بھی کر سکتی ہے۔‘

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @Dayweekaa@DAYWEEKAA
    جبکہ آکاش بینرجی نامی صارف نے سکیورٹی حکام کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ ’مزید تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ اس اعلیٰ تربیت یافتہ پرندے کو انڈیا میں ’پیجن جہاد‘ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، اور اس کے قبضے سے چند نازیبا تصاویر بھی برآمد کی گئیں ہیں۔‘

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @TheDeshBhakt@THEDESHBHAKT
    جس کے جواب میں ٹویٹس کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور جیاتی نامی ایک صارف نے خبر پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ ہمیں الو بنا رہے ہیں، یا ہمارے ساتھ کوئی مذاق کر رہے ہیں، مجھے اس پر یقین نہیں ہے۔‘

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @Jayati1609@JAYATI1609
    جس کا جواب دیتے ہوئے آکاش کا کہنا تھا کہ ’میں تو ہر وقت مذاق کرتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں مجھ سے اچھا کام کر رہی ہے۔‘

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @TheDeshBhakt@THEDESHBHAKT
    جبکہ ڈکٹیٹر نامی ٹوئٹر صارف نے اپنے جذبات کی عکاسی اس میم کے ذریعے کی۔

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @echo1echo@ECHO1ECHO
    پولیٹکل سنیاسی نامی صارف نے انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھینندن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ایک کپ چائے پلا کر اس کبوتر کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔‘

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @KUMARAN1573@KUMARAN1573
    سونیا نامی صارف نے تو اسے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا حمایتی ہی قرار دے دیا۔

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @ChristianMarry6@CHRISTIANMARRY6
    ایک صارف سمیرا خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کچھ شرم کرو دوستوں، اتنی صبح مجھے مت ہنساؤ، انڈیا ایک میم ملک ہے۔‘

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @SameeraKhan@SAMEERAKHAN
    جبکہ اسی طرح ایک ٹوئٹر صارف نے اس خبر پر ایک میم کے ساتھ کچھ ایسا ردعمل دیا۔

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @MichaelEast1983@MICHAELEAST1983
    کچھ صارفین تو بالی وڈ کی فلموں کے رنگ میں ڈھل گئے اور کچھ اس انداز سے جذبات کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @PakDefe41906531@PAKDEFE41906531
    ایک صارف نے انڈین حکام کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ ’کیا کبوتر ہر لفظ کے ساتھ جناب کا لفظ بھی ادا کر رہا ہے۔‘

    [​IMG]تصویر کے کاپی رائٹس @msaadulhaq@MSAADULHAQ
    بابا ٹوکا نامی صارف نے تو بیچارے کبوتر کو اعزازی میجر جنرل تک بنا دیا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    18,814
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بھارتیوں کو تھوڑا عرصہ اس خفیہ کوڈ کو سمجھنے کی کوشش کرنے دینی تھی۔ بگے (حبیب اللہ) کبوتر باز نے یہ اچھا نہیں کیا۔:(
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3

اس صفحے کی تشہیر