ٹوٹ جاؤں گا

قمرآسی

محفلین
تجھ کو چاہوں گا ، ٹوٹ جاؤں گا
یہ بتاؤں گا ، ٹوٹ جاؤں گا

ساز سارے ہی دل شکستہ ہیں
جو بھی گاؤں گا ، ٹوٹ جاؤں گا

خوف کیسا یہ دل میں بیٹھا ہے
مسکراؤں گا ، ٹوٹ جاؤں گا

یار کہتا ہے آزما مجھ کو
آزماؤں گا ، ٹوٹ جاؤں گا

یاد تُو ہے سو میں سلامت ہوں
بھول جاؤں گا ، ٹوٹ جاؤں گا

اسکے جانے سے میں ہوا پتھر
سر ہلاؤں گا ، ٹوٹ جاؤں گا

ترک رسمِ وفا قمر یوں کی
اور نبھاؤں گا ، ٹوٹ جاؤں گا
‫#‏محمدقمرشہزادآسی‬
 
Top