٭٭٭ رمضان المبارک اور ہم ٭٭٭

گل بانو

محفلین
ارشادِ باری تعالیٰ ہے ! رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ۔جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ۔(سورہ بقرہ، ۱۸۵) گویا رمضان کی اہمیت نزول قرآن کی وجہ سے زیادہ ہے۔ یہ جشن قرآن کا مہینہ ہے۔ روزوں میں جس چیز کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ قرآن سے تعلق ہے ۔ روزے کی شان یہ ہے کہ اس میں کلامِ الٰہی سے نسبت بڑھائی جائے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اپنا محاسبہ کیا جائے ۔ سب سے پہلے تو ہم اپنی نیت کو خالص کریں کہ تمام نیکیوں اور عمل کا دارو مدار نیت پر ہے ۔ نیت شعور و احساس پیدا کرتی ہے ۔ شعور بیدار ہو تو ارادہ مستحکم ہوتا ہے اور پھر محنت اور کوشش کی شکل میں سامنے آتا ہے ۔اسی لئے نماز، روزہ ، اور عبادت کے لئے نیت کی تاکید کی گئی ہے اگر اعمال میں صحیح نیت کی روح ہوتو وہ اثر آفرینی ، نشوونما اور نتیجہ خیزی کی قوت رکھتے ہیں ۔ اگر نیت خالص اللہ کے لئے نہ ہوگی توکوئی بھی کام یا عبادت قابل قبول نہ ہوگا اور محض راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگا ۔اب لباس کوجانچئے جس طرح ہم ہر وقت کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ظاہری لباس کو خوب سے خوب تر بنائیں اسی طرح رمضان المبارک میں تقویٰ کا لباس بہترین سے بہترین بنانے کے لئے کوششیں تیز کر دینی چاہیءں ۔ اس کے لئے کچھ چیزیں اپنانی پڑیں گی ، مطالعہ قرآن و حدیث، اسلامی لٹریچر کا مطالعہ ، نوافل کی ادائیگی ، خیرات ، نیکی کی جستجو ، ذکرو دُعا ، قیام اللّیل شب قدر اعتکاف اور اللہ کے بندوں کی مدد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو تقویٰ کا لباس بہتر بنانے کے لئے ہمیں درکار ہیں ۔ ان سب کے لئے اور دیگر کاموں کو منظم کرنے کے لئے اوقات کار بنا لیں تاکہ سہولت رہے ۔ رمضان المبارک کے استقبال کے لئے ہم جہاں گھر کی صفائی خوب محنت اور توجہ سے کرتے ہیں ۔کچھ ایسی صفائی اپنی روحانی دنیا کی بھی کرنی چاہئے۔ تقویٰ جو دل میں اپنا مقام بناتا ہے اس دل کی کتنی صفائی کر لی گئی ہے ۔کتنے اخلاقی اوصاف اس گھر میں سجائے گئے ہیں اور اخلاقی برائیوں کے کتنے جالے جھاڑجھنکاڑ ، اس گھر میں لگے رہ گئے ہیں ۔۔۔؟ جب تک اس اندرونی گھر کی صفائی نہ ہوگی گھروں ، کپڑوں اور جسم کی صفائی ادھوری رہے گی ۔ رمضان میں ہر ہر نیکی کا کئی گنُا اجر ملتا ہے ۔ نفل نیکی کا اجر فرض کے برابر او ر ایک فرض کا ۷۰ گُنا فرض کے برابر اجر ہے ۔رمضان المبارک کے روزے کا اس قدر اجر و ثواب ہے جس کی حد اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ اور جس عمل کا بدلہ ۷۰۰ گنا تک ہے وہ ہے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ۔جب رمضان المبارک میں روزے کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اس قدر ثواب کا مستحق بنا دیتا ہے تو ہمیں ضرور اس کو پانے کی کوشش کرنی چاہئے ہمارے پاس اگر اتنی گنجائش نہیں کہ خوب خرچ کریں تو یہ ایثار تو کر ہی سکتے ہیں کہ بہت شاندار اور قیمتی لباس کے بجائے سادہ لباس بنا لیں یا اس لباس کو کسی ایسے کو دے دیں جو زیادہ مستحق ہو ۔عیدالفطر کی تیاری بھی رمضان المبارک کے آنے سے پہلے کر لی جائے تورمضان کے قیمتی وقت سے بھر پور استفادہ کیا جا سکتا ہے ورنہ ہوتا یہ ہے کہ شب قدر جیسی عظیم راتیں اور چاند رات جیسی قیمتی رات کہ اس وقت ’’ مزدور‘‘ کا ’’ مزدوری ‘‘ لینے کا وقت ہوتا ہے لیکن ہم دنیاوی جھنجھٹوں میں پڑے ہوتے ہیں ۔اور عید کی بے جا تیاریوں میں الجھے رہتے ہیں یوں شیطان ہم سے وہ تمام محنتیں ضایع کرا دیتا ہے جو پورے مہینے کی تھیں ۔یاد رکھئے رمضان المبارک کے دن اور رات کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے کہ ایک پوری زندگی دے کر بھی اس کا نعم البدل ملنا محال ہے ۔رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے ایک فہرست بنا لی جائے کہ اس ماہ مبارک میں وہ دنیاوی امور جو انجام دینا ناگزیر ہیں ، کون سے ہیں اور کون سے ایسے کام ہیں جن کی بجا آوری ضروری نہیں ۔ ترجیحات کا تعین انسان کو سچی خوشی اور کامیابی عطا کرتا ہے ۔جب ہم ان تمام خوبیوں سے لیس ہو کر رمضان المبارک کا استقبال کریں گے تو یقیناً روحانی تسکین بھی پائیں گے اور رمضان سے بہتر طور پر فیضیاب بھی ہو سکیں گے انشاء اللہ۔۔۔۔۔۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ۔۔۔!!!
29 جون 2014
 

x boy

محفلین
جزاک اللہ

ایک اور بات جو ہمارے علم میں ہونا چاہے ، چاہے رمضان ہو یا اور مہینے۔
یارو شیطان بند ھو گیا ھے مگر شیطانیاں جاری و ساری ھیں !

شیطان بھی بڑا چالاک ھے ،، مہینے کے لئے ٹھیکے پہ دے کر چلا گیا ھے !
-------------------------------------------------------------------------------------------
کتنا اعتماد ھے شیطان کو حضرتِ انسان پر !

ویسے بھی گناہ کا فاعل انسان ھی ھے ،شیطان تو صرف کنسلٹنٹ ھے !

اب ضروری تو نہیں کہ ھر کام کنسلٹنٹ کے مشورے سے ھی کیا جائے !

تیس چالیس سال اس کی صحبت میں گزارنے کے بعد بندہ خود کفیل بھی ھو سکتا ھے !

پولیس والے اور وکیل دونوں کو قانون کی دفعات برابر یاد ھوتی ھیں ،، ایک دفعہ لگاتا ھے تو دوسرا دفعہ تڑواتا ھے ،، یوں دونوں کا کام چلتا رھتا ھے ،،

ما کان لی علیکم من سلطانٍ الا ان دعوتکم فأستجبتم لی - فلا تلومونی و لوموا انفسکم !

میرا تم پر کوئی زور نہ تھا ( نہ فزیکل اور نہ دلیل کے لحاظ سے ) سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں دعوت دی جو تم نے قبول کر لی ،، پس مجھے ملامت مت کرو ،ملامت اپنے آپ کو کرو ! ( ابراھیم 22 ) اللہ پاک نے شیطان کی یہ دلیل کوٹ کر کے بالکل اس کا رد نہیں کیا ،،گویا یہ دلیل تسلیم کر لی گئ ،، کیونکہ دعوت تو ھمیں رسول ﷺ نے بھی دی ھے ،، والرسول یدعوکم لت‍ؤمنوا بربکم و قد اخذ میثاقکم ان کنتم مومنین ( الحدید )


ہمارے یہاں ایک عجیب رواج چل نکلا ہے کہ رمضان کو زکوۃ کا مہینہ سمجھا جانے لگا ہے۔
جبکہ در حقیقت ایسا نہیں ہے، بلکہ ہر شخص پر زکوۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جس دن اسے صاحب نصاب ہوئے ایک سال گزر جائے۔
فرض کریں کہ اگر کوئی شخص 1 محرم کو صاحب نصاب ہوا۔
اور اگلے سال 1 محرم کو بھی صاحب نصاب تھا،
تو اب 1 محرم کو اس پر زکوۃ فرض ہوگئی۔
اس کو چاہیئے کہ اب زکوۃ ادا کردے ، تاخیر نہ کرے۔
اگرچہ رمضان میں کسی بھی نیک عمل کا ثواب 70 گناہ بڑھ جاتا ہے لیکن تاخیر کا گناہ بہرحال گلے پر ہے معلوم نہیں ک موت آجائے اور یہ فرض گردن پر لیکر مرجائے۔
لیکن ایک مسئلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ اصل ںصاب کی تاریخ بھول کر اسی مہینہ کو معیار بنا لیتے ہیں۔
جیسے کوئی شخص ایک محرم کو صاحب نصاب ہوا۔
اب اگلے سال وہ محرم کے بجائے رمضان میں زکوۃ ادا کرتا ہے، تو حساب رمضان کے اعتبار سے لگائیگا۔
یہ غلط ہے۔
بلکہ اگر وہ زکوۃ دے تو حساب 1 محرم کے اعتبار سے لگائے۔
دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ اکر موجودہ وقت میں سب لوگ رمضان میں ہی زکوۃ ادا کریں
تو زکوۃ کا اصل مقصد شرعی (غریب کی کفالت) فوت ہوجاتا ہے۔
کہ اسے رمضان میں تو پیسہ مل جائیگا باقی مہینوں میں کیا ہوگا؟؟
اگرچہ باقی مہینوں میں صدقہ کیا جاسکتا ہے۔
لیکن لوگ فرض (زکوۃ) میں کوتاہی برتتے ہیں، نفل (صدقہ) کا تو کیا ہی پوچھنا۔

اللہ ہم سب کو ھدایت دے
اور اس مبارک مہینہ میں اپنا ایسا قرب نصیب فرمائے جو کبھی دوری میں نہ بدلے۔
آمین
 
آخری تدوین:
Top