٭٭٭٭٭٭فرد پہ بدعنوانی سے قائم حکومت کے اثرات٭٭٭٭٭٭

فلک شیر

محفلین
جب آپ کھلے عام بے شرمی سے قومی انتخابات کا یہ حشر کرتے ہیں، جیسے کل سے پاکستان میں ہو رہا ہے تو حکومت سازی اور ایسے بنی حکومتوں کی فیصلہ سازی کے قومی معیشت اور منظرنامے پہ پڑنے والے اثرات سے ہٹ کر عام آدمی کو کچھ اور "فوائد" بھی حاصل ہوتے ہیں :
1) ہر فرد مالی، انتظامی اور پروفیشنل بلکہ تمام دائروں میں due process اور میرٹ وغیرہ کو محض ایک ڈھکوسلا سمجھتا ہے اور جہاں کہیں ہو سکے "گل ہو گئی اے" کے میرٹ کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔

2) فرد بالخصوص نوجوان کسی بھی قسم کے اعلیٰ آئیڈیل کے لیے اپنی ریاست یا سماج کی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا، جب کہ متبادلات موجود بھی ہیں اور اپنے خطرات کے ساتھ موجود ہیں۔

3) اپنی اجتماعیت میں pride لینا ایک فطری امر ہے اور اس natural bond کی عدم موجودگی کے خطرات کسی بھی باشعور سے چھپے ہوئے نہیں ہیں ، یہ pride ایسی "کامیابیوں" کے نتیجے میں پہلے ہی لمحے یکسر غائب ہو جاتا ہے۔

4) ایسے بندوبست کا بوجھ رتی برابر بھی وجدان و ضمیر کے حامل شخص کو محسوس ہوتا ہے اور جلد یا بدیر وہ اعلانیہ نہیں تو خاموشی سے اپنے قلب کو ان قوتوں سے الگ کر لیتا ہے، جو ایسے جبر اور فرعونیت سے قوموں کی اجتماعی will کو قتل کرتی ہیں ، یوں وہ اندرونی جنگ اور اس کو حیطہ اظہار میں نہ لا پانا اس فرد کو disillusionment کے ذریعے آسانی سے کئی poles پہ زندگی گزارنے پہ مجبور کر دیتا ہے ۔

5) ایسے بندوبست لازماً فرد کے کچن اور امن و امان سے لے کر صحت و سماجی بنت پہ اثرات ڈالتے ہیں، جو اسے بغیر "غصہ نکالنے کی سہولت" کے برداشت کرنا ہوتے ہیں۔

6) مخصوص حالات میں قومی سلامتی کے ادارے محض ہتھیاروں کے بل بوتے پہ دشمن سے نبردآزما نہیں ہوتے، عوام کا ساتھ ان کی سب سے بڑی جذباتی ضرورت ہوتا ہے ، فرد ایسے بندوبست کے حمایتی اور مخالف، دونوں میں سے کوئی پوزیشن لے کر اس تعلق کی خلوص سے آبیاری کرنے کی صلاحیت سے قاصر ہو جاتا ہے، گویا اس مسلط منافقت کی وجہ سے جذباتی طور پہ بنجر ہو جاتا ہے۔

7) اجتماعی قومی مقاصد کے حوالے سے اس کی سوچ حمایتی/مخالف؛ دونوں صورتوں میں ایک فاصلے پہ کھڑے گاہے تالی بجانے والے اور گاہے بھوں چڑھانے والے تماشائی کی رہ جاتی ہے ۔

8۔ فرد اگر نوعمر ہو تو آج کی دنیا میں ہیومن ریسورس کی اہمیت سمجھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی betrayal کے نتیجے میں کتنا بڑا نقصان کس قیمت پہ کر لیا جاتا ہے ۔

9) ایسے انتظام کی قیمت فرد کو اپنے اردگرد کے اپنے ہی جیسے بے بس متعلقین سے غیر متعلق ہو کر ، یا گاہے پھبتی کس کر یا صفائیاں پیش کر کے دلی نفرت انگیخت کرتے رہنے کی صورت میں ادا کرنا ہوتی ہے

10) قومی ترقی میں فرد کا کردار کسی بھی صورت اوپر نہیں جا پاتا، سامپل لے کر اسے موضوع تحقیق بنایا جائے، ان شاءاللہ یہی نتیجہ پائیں گے

تلک عشرۃ کاملۃ
وما علینا الا البلاغ المبین

ابو عمر شبیر
 

محمداحمد

لائبریرین
جن کی آنکھوں پر چربی چڑھی ہو اتنا کہاں سوچتے ہیں فلک بھائی!

انہیں تو بس اپنے جاہ و حشم اور وسائل پر کامل اختیار چاہیے، چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔
 
Top