سلیم احمد وہ ہاتھ ہاتھ میں آیا ہے آدھی رات کے بعد - سلیم احمد

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 11, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    وہ ہاتھ ہاتھ میں آیا ہے آدھی رات کے بعد
    دیا دیے سے جلایا ہے آدھی رات کے بعد

    میں آدھی رات تو تیرہ شبی میں کاٹ چکا
    چراغ کس نے جلایا ہے آدھی رات کے بعد

    میں جانتا ہوں کے سب سو رہے ہیں محفل میں
    فسانہ میں نے سُنایا ہے آدھی رات کے بعد

    ستارے جاگ اٹھے ہیں کسی کی آہٹ سے
    یہ کون ہے کہ جو آیا ہے آدھی رات کے بعد

    مجھے خبر بھی نہیں ہے کہ شب نوردوں نے
    مجھے کہاں سے اٹھایا ہے آدھی رات کے بعد

    ہوا تھا شامِ خیال و ملال سے آغاز
    وہی دیا وہی سایا ہے آدھی رات کے بعد

    یہاں تو کوئی نہیں ہے ہوا، نہ تو، نہ چراغ
    یہ مجھ کو کس نے جگایا ہے آدھی رات کے بعد

    کبھی جو دن کو بھی ملتا نہیں اکیلے میں
    اُسی نے مجھ کو بلایا ہے آدھی رات کے بعد ​
    سلیم احمد
     
    آخری تدوین: ‏مئی 11, 2018

اس صفحے کی تشہیر