وہ پرسشِ حال کو آئیں گے بیمار کو یہ خوش فہمی ہے - عبدالعزیز فطرت

کاشفی

محفلین
غزل​
(عبدالعزیز فطرت)​
​
وہ پرسشِ حال کو آئیں گے بیمار کو یہ خوش فہمی ہے​
جذبات کی بے رونق دنیا میں کتنی گہما گہمی ہے​
​
اے گردشِ ساغر گردش دور فلک سے مجھ کو خوف نہیں​
ایّام کے چکر سے ڈرنا ناشکری ہے نافہمی ہے​
​
حوروں سے یہ جی بہلائے گا کوثر سے یہ جام اُڑائے گا​
میں شیخ کو خوب سمجھتا ہوں - پرلے درجے کا وہمی ہے​
​
اُ س جلوہء حیرت زا سے کسبِ نور کا کچھ آساں کام نہیں​
دل بیٹھا جاتا ہے تابِ نظارہ سہمی سہمی ہے​
​
محفل میں نگاہ ساقی نے ٹوکا تھا تجھے کم خواری پر​
ڈر کر رُک جانا اے رندِ کم ظرف تری کم فہمی ہے​
​
یہ کس کے نشمین سے چنگاریاں اُڑ کر باغ میں پھیل گئیں​
کیوں اپنی حرکت نازیبا پر بجلی سہمی سہمی ہے​
​
پھر کس کی آمد آمد ہے احساس کے حیرت خانے میں​
دنیائے خیالِ فطرت میں کیوں آج یہ گہما گہمی ہے​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top