وقت تھمتا نہ سانس رکتی ہے

محمد حسین

محفلین
وقت تھمتا نہ سانس رکتی ہے
شمعِ دل ہے کہ جلتی بجھتی ہے

روز تبد یل دنیا دیکھتا ہوں
اِک نئی راہ روز کھلتی ہے

سامنے آنے والے رُوپوں میں
اصلیت آدمی کی چُھپتی ہے

جینے کی ابتداء ہے حودغرضی
رش میں بندے کی سانس گُھٹتی ہے

عقل سے ماورائی ملتی ہے،جب
عشق میں دنگت اپنی گُھلتی ہے

اہمیت خود کو خود نہ دے جو حسین
بات کیا دنیا اُس کی سُنتی ہے؟
 

ابن رضا

لائبریرین
رکتی۔۔۔۔۔۔
توجیہ: مضموم
روی: ک ساکن


بجھتی۔۔۔۔۔
توجیہ: مضموم
روی : جھ ساکن


غزل غیر مقفی ہے ۔ قافیہ میں حرفِ روی کا اتحاد نہیں
 

الف عین

لائبریرین
قوافی کی بات درست ہے۔ اگرچہ بہت سی غزلیں نامور شعراء نے بھی ایسی کہہ رکھی ہیں۔
یہ کیا لفظ ہے
عشق میں دنگت اپنی گُھلتی ہے
 

محمد حسین

محفلین
استاد صاحب کی بات صحیح سمجھ نہیں پڑی۔ کیا قوافی درست سمجھوں؟
رنگت لفظ سے مراد ذات سمجھ لیجئے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ یہاں یہ لفظ درست نہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
نہیں قوافی درست نہیں۔
یہاں دنگت لکھا گیا تھا، یہ لفظ سمجھ میں نہیں آیا تھا
 
Top