وفاقی کابینہ نے جان بچانے والی 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دے دی

جاسم محمد

محفلین
وفاقی کابینہ نے جان بچانے والی 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دے دی
ویب ڈیسک منگل 22 ستمبر 2020
2084026-cabinetmeeting-1600782718-428-640x480.jpg

کابینہ کا کورونا متاثرین کو لگنے والے انجیکشن کی قیمت میں کمی کا فیصلہ فوٹو: فائل


اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جان بچانے والی 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے ایجنڈے میں 17 نکات شامل تھے۔ اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو لگنے والے انجیکشن کی قیمت میں کمی جبکہ 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کے ہمراہ پریس بریفنگ میں وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس بات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی میں استعمال ہونے والی 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دے دی ہے جب کہ کورونا ویکسین کی قیمت آٹھ ہزار400 روپے رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب وزارت صحت کے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے ان میں ہائی بلڈ پریشر، کینسر، امراض قلب کی ادویات و اینٹی ریبیز ویکسین شامل ہیں۔ ڈرگ پالیسی 2018 میں ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔

وزارت صحت کے ذرائع نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان ادویات کی قیمتوں میں کئی سال سے اضافہ نہیں کیا گیا تھا ۔ قیمتوں میں اضافہ ان ادویات کی عدم دستیابی کی بنا پر کیا گیا ہے۔ عدم دستیابی کے باعث یہ ادویات اصل قیمتوں سے زائد داموں میں فروخت ہورہی تھیں۔ وفاقی کابینہ نے ان ادویات کی قیمتیں ریشنلائز کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان اب ادویات کی قیمت میں مناسب اضافہ کیا جائے گا۔
 

جاسم محمد

محفلین
پاکستانیو گھبرانا نہیں ہے
وزارت صحت کے ذرائع نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان ادویات کی قیمتوں میں کئی سال سے اضافہ نہیں کیا گیا تھا ۔ قیمتوں میں اضافہ ان ادویات کی عدم دستیابی کی بنا پر کیا گیا ہے۔ عدم دستیابی کے باعث یہ ادویات اصل قیمتوں سے زائد داموں میں فروخت ہورہی تھیں۔ وفاقی کابینہ نے ان ادویات کی قیمتیں ریشنلائز کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان اب ادویات کی قیمت میں مناسب اضافہ کیا جائے گا۔
ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا کیونکہ طویل عرصہ مصنوعی طور پر قیمتیں کم رکھنے سے وہ دوائیں مارکیٹ میں عدم دستیاب ہو گئی تھی۔
 
ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا کیونکہ طویل عرصہ مصنوعی طور پر قیمتیں کم رکھنے سے وہ دوائیں مارکیٹ میں عدم دستیاب ہو گئی تھی۔
کپتان کی ان ہی عقلمندی کی باتوں پر اسے سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہت۔

اب آیا ہے عمران
چینی کا بحران
آٹے کا بحران
دوا کا بحران
سبھی پریشان
سبھی حیران
بنا ہے نیا پاکستان!!!

عمران پر ایک بہت بڑا قرض اس کے مالدار دوستوں کی الیکشن میں کی گئی مہربانیاں ہیں۔ عمران نیازی کو یہ قرض ہر قیمت پر چکانا ہے۔
 
آخری تدوین:

آورکزئی

محفلین
صرف پاکستان میں لوگ متاثر نہیں۔۔۔ یہاں بھی شناختی کارڈ کا فیس چند دنوں میں 18 درھم بڑھایا ہے۔۔۔۔۔۔۔
 

بابا-جی

محفلین
کپتان نے یہ منظُوری اِس لیے دی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ وُہاں آرام کر سکیں کہ جہاں سکُون مِلنے کا زیادہ اِمکان ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
کپتان کی ان ہی عقلمندی کی باتوں پر اسے سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہت۔

اب آیا ہے عمران
چینی کا بحران
آٹے کا بحران
دوا کا بحران
سبھی پریشان
سبھی حیران
بنا ہے نیا پاکستان!!!

عمران پر ایک بہت بڑا قرض اس کے مالدار دوستوں کی الیکشن میں کی گئی مہربانیاں ہیں۔ عمران نیازی کو یہ قرض ہر قیمت پر چکانا ہے۔
ان پر ایک قرض فارن فنڈنگ بھی ہے جس کو ایف اے ٹی ایف کی شکل میں پاکستان کی خود مختاری کو گروی رکھ کر چکایا جا رہا ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا کیونکہ طویل عرصہ مصنوعی طور پر قیمتیں کم رکھنے سے وہ دوائیں مارکیٹ میں عدم دستیاب ہو گئی تھی۔
یہ وہ دوائیں ہیں جو ادویات بنانے والی کمپنیز کم لاگت پر نہیں بناتی ۔ یعنی ان ادویات پر جو لاگت آتی ہے اگر اس سے کم فروخت کی جائیں گی تو پھر فارماسیٹوٹیکل کمپینز ان کو تیار نہیں کرتی۔ اس سے پھر ان دوایات کی قلت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور پھر یہ بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں میں خریدی جاتیں ہیں ۔ حکومت نے صرف یہ کیا ہے کہ ان ادویات کو فارماسیٹوٹیکل کمپینز کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی لاگت پر اس کو بنائیں اور اس پر منافع رکھ کر مارکیٹ میں سیل کردیں ۔ تاکہ بلیک مارکیٹ کو اپنی مان مانی قمیتیں مانگنے سے روکا جاسکے ۔ تو اس پر کونسی قیامت آگئی ہے ۔ پہلے انسان پوری تحقیق تو کرلے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ڈگڈی پر فورا ناچ شروع کردیا جائے ۔ ان ادویات کی قیمتیں بلیک مارکیٹ میں چیک کریں ۔ اور پھر حکومت کی ان ادویات کی قیمتوں کا موازنہ کریں ۔ جو اس منظوری کے بعد ہوگا۔
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
یہ وہ دوائیں ہیں جو ادویات بنانے والی کمپنیز کم لاگت پر نہیں بناتی ۔ یعنی ان ادویات پر جو لاگت آتی ہے اگر اس سے کم فروخت کی جائیں گی تو پھر فارماسیٹوٹیکل کمپینز ان کو تیار نہیں کرتی۔
یہ ادویات کم لاگت پر نہیں بنتیں
اور
ادویات بنانے والی کمپنیز کم لاگت پر نہیں بناتیں
میں کیا فرق ہے یہ معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس حوالے سے آپ نے کوئی تحقیق کی ہے تو شئیر کریں ۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ ڈگڈی پر فورا ناچ شروع کردیا جائے ۔ ان ادویات کی قیمتیں بلیک مارکیٹ میں چیک کریں ۔ اور پھر حکومت کی ان ادویات کی قیمتوں کا موازنہ کریں ۔ جو اس منظوری کے بعد ہوگا۔
"ڈگڈگی پر فوراناچنا " یعنی دلیل نہ ہو تو دوسرے پر ذاتی حملہ کر دیا جائے۔
 

ظفری

لائبریرین
یہ ادویات کم لاگت پر نہیں بنتیں
اور
ادویات بنانے والی کمپنیز کم لاگت پر نہیں بناتیں
میں کیا فرق ہے یہ معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس حوالے سے آپ نے کوئی تحقیق کی ہے تو شئیر کریں ۔


"ڈگڈگی پر فوراناچنا " یعنی دلیل نہ ہو تو دوسرے پر ذاتی حملہ کر دیا جائے۔

آپ پہلے دیکھیں کہ یہ ادویات کن امراض کے لیئے ہے ۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان لاگت کیا کھانسی اور نزلے کی ادویات کے مترادف ہونگیں ۔ لہذا یہ دوائیں انتہائی لاگت پر تیار ہوتیں ہیں ۔ اگر یہ کمپنیز یہ ادویات تیار کرتیں ہیں تو منافع کے بغیر تو نہیں بنائیں گی ۔ مگر جب آپ اس کی قیمت مقرر کرتے ہیں اور یہ قیمت اس کی تیاری میں آنے والی لاگت سے کم ہوگی تو بھائی کونسی کمپنی اس کو تیار کرنے کی حماقت کرے گی ۔ اس سے مارکیٹ میں ان ادویات کی عدم دستیابی کا مسئلہ کھڑا ہوگا ۔ پھر آپ کے پاس بلیک مارکیٹ سے خریدنے کے علاوہ کیا چارہ رہے گا ۔ حکومت نے کہا ہے ان سے آپ ادویات بنائیں ۔ ہم آپ کی ادویات کی مناسب قمیت دلائیں گے۔ کم از کم بلیک مارکیٹ سے چھٹکارا ملے گا ۔ کیونکہ کمپینز یہ ادویات نہیں تیار کر رہیں ہیں ۔ یہ تو سیدھا سا کاروبار ہے ۔ کوئی راکٹ سائنس تو نہیں ۔
رہی بات ڈگڈگی تو آپ خود دیکھیں کہ اس پر دلائل یا کوئی استدلال کوئی تحقیق دینے کے بجائے۔ کیا راگ الاپنا شروع کردیا ہے ۔کیا میں اسے کاپی پیسٹ کروں ۔ !!!
 

محمد وارث

لائبریرین
یہ وہ دوائیں ہیں جو ادویات بنانے والی کمپنیز کم لاگت پر نہیں بناتی ۔ یعنی ان ادویات پر جو لاگت آتی ہے اگر اس سے کم فروخت کی جائیں گی تو پھر فارماسیٹوٹیکل کمپینز ان کو تیار نہیں کرتی۔ اس سے پھر ان دوایات کی قلت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور پھر یہ بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں میں خریدی جاتیں ہیں ۔ حکومت نے صرف یہ کیا ہے کہ ان ادویات کو فارماسیٹوٹیکل کمپینز کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی لاگت پر اس کو بنائیں اور اس پر منافع رکھ کر مارکیٹ میں سیل کردیں ۔ تاکہ بلیک مارکیٹ کو اپنی مان مانی قمیتیں مانگنے سے روکا جاسکے ۔ تو اس پر کونسی قیامت آگئی ہے ۔ پہلے انسان پوری تحقیق تو کرلے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ڈگڈی پر فورا ناچ شروع کردیا جائے ۔ ان ادویات کی قیمتیں بلیک مارکیٹ میں چیک کریں ۔ اور پھر حکومت کی ان ادویات کی قیمتوں کا موازنہ کریں ۔ جو اس منظوری کے بعد ہوگا۔
زیادہ تر تبصرہ نگار شاید "تخیلاتی" باتیں ہی کر رہے ہیں میں آپ کو "تجرباتی" بات بتاتا ہوں۔

میں ہائی بلڈ پریشر کی ایک گولی کھاتا ہوں، صبح شام، بلا ناغہ۔ کیلشیم چینل بلاکر گروپ سے اس کا تعلق ہے اور پاکستان میں چار پانچ کمپنیاں مختلف ناموں سے یہ 'سالٹ' بناتی ہیں، زیادہ مہنگی نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ مارکیٹ سے غائب ہو گئی، مجھے مصیبت پڑ گئی، جس میڈیکل اسٹور سے ریگولر لیتا تھا اس نے بھی ایک پتے سے زائد دینے سے انکار کر دیا جو کہ صرف پانچ دن کے لیے تھی۔ مزے کی بات یہ کہ اس گروپ کی ہر دوا ہی غائب ہو گئی تھی کسی بھی کمپنی کی بنی ہوئی گولیاں نہیں مل رہی تھیں۔ بعد از تلاش بسیار، ایک میڈیکل اسٹور والے نے تین گنا قیمت پر دوا دی وہ بھی اس شرط پر کہ باقی دوائیں بھی اسی سے خریدوں اور آئندہ بھی خریدا کروں! ہر دو چار ماہ بعد یہی تماشا ہوتا ہے۔ :)
 

محمد وارث

لائبریرین
میں اپنے اوپر والے تبصرے سے کسی حکومتی اقدام کو جسٹیفائی نہیں کر رہا صرف تصویر کا دوسرا رخ بتا رہا ہوں کہ دوائیں مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں اور پھر انتہائی گراں قیمتوں پر بکتی ہیں۔ حکومتی مشینری اگر چاہے تو شاید اس چور بازاری پر بھی کچھ اقدام کر سکتی ہے!
 

ظفری

لائبریرین
زیادہ تر تبصرہ نگار شاید "تخیلاتی" باتیں ہی کر رہے ہیں میں آپ کو "تجرباتی" بات بتاتا ہوں۔

میں ہائی بلڈ پریشر کی ایک گولی کھاتا ہوں، صبح شام، بلا ناغہ۔ کیلشیم چینل بلاکر گروپ سے اس کا تعلق ہے اور پاکستان میں چار پانچ کمپنیاں مختلف ناموں سے یہ 'سالٹ' بناتی ہیں، زیادہ مہنگی نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ مارکیٹ سے غائب ہو گئی، مجھے مصیبت پڑ گئی، جس میڈیکل اسٹور سے ریگولر لیتا تھا اس نے بھی ایک پتے سے زائد دینے سے انکار کر دیا جو کہ صرف پانچ دن کے لیے تھی۔ مزے کی بات یہ کہ اس گروپ کی ہر دوا ہی غائب ہو گئی تھی کسی بھی کمپنی کی بنی ہوئی گولیاں نہیں مل رہی تھیں۔ بعد از تلاش بسیار، ایک میڈیکل اسٹور والے نے تین گنا قیمت پر دوا دی وہ بھی اس شرط پر کہ باقی دوائیں بھی اسی سے خریدوں اور آئندہ بھی خریدا کروں! ہر دو چار ماہ بعد یہی تماشا ہوتا ہے۔ :)
یہ آپ ایک الگ مسئلہ لیکر آگئے ہیں ۔ یہاں جان بچانے والی ادویات کی بات ہورہی تھی ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
یہ آپ ایک الگ مسئلہ لیکر آگئے ہیں ۔ یہاں جان بچانے والی ادویات کی بات ہورہی تھی ۔
مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میرا مسئلہ زیادہ سیریس نہیں ہے لیکن میں نے اس تناظر میں بات کی تھی:

"دوسری جانب وزارت صحت کے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے ان میں ہائی بلڈ پریشر، کینسر، امراض قلب کی ادویات و اینٹی ریبیز ویکسین شامل ہیں۔ ڈرگ پالیسی 2018 میں ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔"
 

بابا-جی

محفلین
ان پر ایک قرض فارن فنڈنگ بھی ہے جس کو ایف اے ٹی ایف کی شکل میں پاکستان کی خود مختاری کو گروی رکھ کر چکایا جا رہا ہے۔
فارن فنڈنگ لی گئی اور ہسپتال بنایا گیا اور اِس نیک مقصد کے ساتھ ساتھ اگر ایک دو جلسے بھی پارٹی نے کر لِیے تو کیا قیامت آ گئی۔
 

ظفری

لائبریرین
مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میرا مسئلہ زیادہ سیریس نہیں ہے لیکن میں نے اس تناظر میں بات کی تھی:

"دوسری جانب وزارت صحت کے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے ان میں ہائی بلڈ پریشر، کینسر، امراض قلب کی ادویات و اینٹی ریبیز ویکسین شامل ہیں۔ ڈرگ پالیسی 2018 میں ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔"
میرا مسئلہ سے مراد آپ کا مسئلہ نہیں ،بلکہ آپ کی مطلوبہ ادویات کی مارکیٹ میں بلیک مارکیٹنگ سے متعلق تھا کہ وہ مارکیٹ میں دستیاب تھی اور پھر بھی آپ کو شرائط پر مہیا کی جا رہی تھی۔تو اگر یہی ادویات مقامی کمپینز بنا دیں ۔ جو اس قیمت سے کم ہو جو آپ بلیک مارکیٹ میں ادا کر رہے ہیں تو کیا مضائقہ ہے ۔ پھر یہ شرائط بھی ختم ہوجائیں گی جو آپ کو میڈیکل اسٹور والا بتا رہا ہے ۔
باقی اللہ آپ کو صحت دے ۔ اگر وہاں یہ ادویات دستیاب نہیں۔ تو میں آپ کو بھیجوا دیتا ہوں ۔ آپ حکم کریں ۔ :)
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
میرا مسئلہ سے مراد آپ کا مسئلہ نہیں ،بلکہ آپ کی مطلوبہ ادویات کی مارکیٹ میں بلیک مارکیٹنگ سے متعلق تھا کہ وہ مارکیٹ میں دستیاب تھی اور پھر بھی آپ کو شرائط پر مہیا کی جا رہی تھی۔تو اگر یہی ادویات مقامی کمپینز بنا دیں ۔ جو اس قیمت سے کم ہو جو آپ بلیک مارکیٹ میں ادا کر رہے ہیں تو کیا مضائقہ ہے ۔ پھر یہ شرائط بھی ختم ہوجائیں گی جو آپ کو میڈیکل اسٹور والا بتا رہا ہے ۔
باقی اللہ آپ کو صحت دے ۔ اگر وہاں یہ ادویات دستیاب نہیں۔ تو میں آپ کو بھیجوا دیتا ہوں ۔ آپ حکم کریں ۔ :)
شکریہ قبلہ، تہہ دل سے ممنون ہوں۔

جی یہ دوائیں لوکل کمپنیاں ہی بنا رہی ہیں، عام طور پر یہاں ہوتا یہ ہے کہ جب کسی کمپنی یا کمپنیوں نے اپنی دوا کی قیمت بڑھانی ہوتی ہے تو وہ مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک دوا 200 روپے کی تھی، وہ غائب ہو گئی۔ پھر لوگ اسے بلیک مارکیٹ سے انتہائی مہنگے داموں یعنی چار پانچ سو پر خریدنے پر مجبور ہو گئے، پھر کچھ عرصے کے بعد اسی کمپنی نے وہی دو سو والی دوا تین سو میں بیچنی شروع کر دی تو لوگوں نے کلمہ شکر ادا کیا۔

یہ مسئلہ سیدھا سادا ڈیمانڈ اینڈ سپلائی یا صرف جائز منافع کا نہیں ہے، پاکستان میں 'میڈیکل مافیا' بھی بھرپور متحرک ہے جس میں کمپنیوں کے ساتھ ڈاکٹرز اور حکومتی مشنیری بھی شامل ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
میں اپنے اوپر والے تبصرے سے کسی حکومتی اقدام کو جسٹیفائی نہیں کر رہا صرف تصویر کا دوسرا رخ بتا رہا ہوں کہ دوائیں مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں اور پھر انتہائی گراں قیمتوں پر بکتی ہیں۔ حکومتی مشینری اگر چاہے تو شاید اس چور بازاری پر بھی کچھ اقدام کر سکتی ہے!
کپتان کی ان ہی عقلمندی کی باتوں پر اسے سیلوٹ کرنے کو جی چاہتا ہت۔

اب آیا ہے عمران
چینی کا بحران
آٹے کا بحران
دوا کا بحران
سبھی پریشان
سبھی حیران
بنا ہے نیا پاکستان!!!

عمران پر ایک بہت بڑا قرض اس کے مالدار دوستوں کی الیکشن میں کی گئی مہربانیاں ہیں۔ عمران نیازی کو یہ قرض ہر قیمت پر چکانا ہے۔
یہ وہ دوائیں ہیں جو ادویات بنانے والی کمپنیز کم لاگت پر نہیں بناتی ۔ یعنی ان ادویات پر جو لاگت آتی ہے اگر اس سے کم فروخت کی جائیں گی تو پھر فارماسیٹوٹیکل کمپینز ان کو تیار نہیں کرتی۔ اس سے پھر ان دوایات کی قلت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور پھر یہ بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں میں خریدی جاتیں ہیں ۔ حکومت نے صرف یہ کیا ہے کہ ان ادویات کو فارماسیٹوٹیکل کمپینز کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی لاگت پر اس کو بنائیں اور اس پر منافع رکھ کر مارکیٹ میں سیل کردیں ۔ تاکہ بلیک مارکیٹ کو اپنی مان مانی قمیتیں مانگنے سے روکا جاسکے ۔ تو اس پر کونسی قیامت آگئی ہے ۔ پہلے انسان پوری تحقیق تو کرلے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ڈگڈی پر فورا ناچ شروع کردیا جائے ۔ ان ادویات کی قیمتیں بلیک مارکیٹ میں چیک کریں ۔ اور پھر حکومت کی ان ادویات کی قیمتوں کا موازنہ کریں ۔ جو اس منظوری کے بعد ہوگا۔

پاکستان میں مختلف اشیا ضروریہ کا یکدم مارکیٹ سے غائب ہو جانا یا معمول سے کئی گنا مہنگا ہو جانا کوئی آج کا مسئلہ نہیں ہے۔ ایسا ہر حکومت میں ہوتا ہے۔ اس کی روک تھام کیلئے اعلی سطح کے اجلاس بلوائے جائے جاتے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنتی ہیں۔ گوداموں اور دکانوں میں چھاپے مارے جاتے ہیں تاکہ ان مافیاز کو پکڑا جا سکے جو ان بحرانوں کے ذمہ دار ہیں۔
مگر کیا یہ سب ان مسائل کا مستقل حل ہے؟ کیا کسی اور ملک میں بھی وفاقی کابینہ اجلاس بلوا کر آٹا، چینی، تیل، بجلی، ادوایات کی قیمتیں طے کرتی ہے؟
ماہرین معیشت کئی سو سالہ تاریخ اور تجربہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ آپ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، مارکیٹ فورسز سے نہیں لڑ سکتے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی بھی چیز کی قیمت فکس کرنے کی کوشش کی گئی، جلد یا بدیر مارکیٹ فورسز نے اسے اڑا کر رکھ دیا۔ ایسے میں ملک کے کرتا دھرتاؤں کو سوچنا ہوگا کہ وہ کب تک اسی طرح پرانے طور طریقوں سے عوام کو ریلیف پہچانے کے چکر میں ان کا بیڑا غرق کرتے رہیں گے؟
ان تمام مسائل کا حتمی اور پائیدار حل مزید سخت پرائس کنٹرول نہیں بلکہ مارکیٹ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ہر چیز کی قیمت کو مارکیٹ ریٹ پر فلوٹ کرنا ہے۔ یوں طلب اور رسد کا فطرتی میکینزم اشیا ضروریہ کی مارکیٹ پرائس طے کر دے گا۔ جس سے مارکیٹ میں کسی بھی چیز کی شارٹیج یا اوور پروڈکشن نہیں ہوگی۔
اس وقت جو نظام چل رہا ہے اس میں حکومت کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ اصل میں اشیا کی طلب اور رسد کتنی ہے۔ یوں جب حکومت اپنی طرف سے قیمتیں فکس کرتی ہے تو لاگت اور فروخت میں عدم توازن کے بعد یا تو وہ اشیا مارکیٹ سے ہی غائب ہو جاتی ہیں۔ یا بلیک مارکیٹ میں کئی گنا زیادہ قیمت پر بکنا شروع کر دیتی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل جب وفاقی کابینہ نے تیل کی قیمتیں یکدم گرا دی تھیں تو سوائے پی ایس او کے باقی ہر پٹرول پمپ سے تیل غائب ہو گیا تھا۔ وجہ پھر وہی کہ حکومتی قیمتیں مارکیٹ پرائس سے کم تھیں اور کوئی بھی کمپنی اپنا مال لاگت سے کم پر فروخت نہیں کرتی۔ اور نہ ہی اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
 
آخری تدوین:
Top