جاسمن

لائبریرین
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پہ اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھِلے، وہ کھِلا رہے صدیوں
یہاں خِزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اِک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جُرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو​
 
مدیر کی آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
ہزاروں پھول سے چہرے جھلس کے خاک ہوئے
بھری بہار میں اس طرح اپنا باغ جلا
ملی نہیں ہے ہمیں ارض پاک تحفے میں
جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا
 

جاسمن

لائبریرین
میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرے خدا
اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے
مری زمین میرا آ خری حوالہ ہے
سو میں رہوں نہ رہوں، اسکو بار ور کر دے
افتخار عارف
 

جاسمن

لائبریرین
نواحِ نصرت و فیروزی و ظفر میں رہوں
مرے وطن میں ترے قریہء خبر میں رہوں

عزیزِ جاں ہیں یہی راستے غبار آلود
نہیں یہ شوق کہ گُلپوش رہگزر میں رہوں

ترے ہی گیت سنوں دھڑکنوں کے سرگم میں
کسی دیار میں ٹھہروں کسی نگر میں رہوں

اسی کے دم سے کھلیں روح کے گلاب تمام
اسی زمیں کے طلسمات کے اثر میں رہوں

مری شناخت اگر ہو تو تیرے نام سے ہو
اے ارضِ شوق تری چشمِ معتبر میں رہوں

کسی چمکتے ہوئے حرف کے حوالے سے
دیارِ فکر ترے دفترِ ہنر میں رہوں

خود آگہی کا جہنم بھی ہے قبول مجھے
مگر میں تیری تمنا، ترے سفر میں رہوں

اے ارضِ لوح و قلم، اے ادب گہِ شبنم
ترے لئے میں سدا فکرِ شعرِ تر میں رہوں
شبنم شکیل​
 
مدیر کی آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
ہم وطن یہ گلستاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
اس کا ہر سود و زیاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

قائد اعظم کی کہتے ہیں امانت ہم جسے
ورثہ یہ اے مہرباں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

وقت کا ہے یہ تقاضا متحد ہو جائیں ہم
کب سے دشمن آسماں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

سوچ تو گلشن کی بربادی کا کیا ہو وے گا حال
شاخِ گل پر آشیاں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

آبِ راوی ہو کہ آبِ سندھ ہے سب کے لئے
دامنِ موجِ رواں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

ہیں محبت کے نقیب اقبال و خوشحال و لطیف
ان کا فیضِ بیکراں تیرا بھی ہے میرا بھی ہے

( راغب مراد آبادی)​
 
مدیر کی آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو
حیات جس کا نام ہے بہادروں کا جام ہے
یہ جام جھوم کر پیو، جیو تو بے دھڑک جیو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

زمین پر نہیں قدم، ہوا بھی ہاتھ میں نہیں
گزرتے وقت کا کوئی سرا بھی ہاتھ میں نہیں
چلے ہیں لوگ پھر کدھر،پہنچنا ہے کہیں اگر
تو نفرتوں کو پیار دو، مرا وطن سنوار دو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

کسی کی کمتری کو عزت و وقار کا نشہ
کسی کو زور و زر کسی کو اقتدار کا نشہ
نشے میں دھت تمام ہیں، نشے تو سب حرام ہیں
یہ سب نشے اتار دو، مرا وطن سنوار دو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

حرم کو جائے گی اگر یہ رہ گزر تو جاؤں گا
نہ جی سکا تو حق کے راستے میں مر تو جاؤں گا
خدا سے جو کرے وفا، چلے جو سوئے مصطفےٰ
مجھے وہ شہ سوار دو، مرا وطن سنوار دو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

چُنے تھے جس قدر گلاب، خار خار ہو گئے
بُنے گئے تھے جتنے خواب تار تار ہو گئے
گلاب ہیں نہ خواب ہیں عذاب ہی عذاب ہیں
چمن کو پھر بہار دو، مرا وطن سنوار دو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو​
 
آخری تدوین:
بہت عمدہ انتخاب۔
چلے چلو تو پھر کدھر پہنچنا ہے کہیں اگر
چلے ہیں لوگ پھر کدھر؟ پہنچنا ہے کہیں اگر
وہ نفرتوں کو پیار دو، میرا وطن سنوار دو
تو نفرتوں کو پیار دو

کالج کے زمانے میں یاد تھی، احباب اکٹھے ہوتے تھے تو سناتا تھا۔ :)
 
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو
حیات جس کا نام ہے بہادروں کا جام ہے
یہ جام جھوم کر پیو، جیو تو بے دھڑک جیو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

زمین پر نہیں قدم، ہوا بھی ہاتھ میں نہیں
گزرتے وقت کا کوئی سرا بھی ہاتھ میں نہیں
چلے چلو تو پھر کدھر پہنچنا ہے کہیں اگر
وہ نفرتوں کو پیار دو، مرا وطن سنوار دو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

کسی کی کمتری کو عزت و وقار کا نشہ
کسی کو زور و زر کسی کو اقتدار کا نشہ
نشے میں دھت تمام ہیں، نشے تو سب حرام ہیں
یہ سب نشے اتار دو، مرا وطن سنوار دو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

حرم کو جائے گی اگر یہ رہ گزر تو جاؤں گا
نہ جی سکا تو حق کے راستے میں مر تو جاؤں گا
خدا سے جو کرے وفا، چلے جو سوئے مصطفےٰ
مجھے وہ شہ سوار دو، مرا وطن سنوار دو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو

چُنے تھے جس قدر گلاب، خار خار ہو گئے
بُنے گئے تھے جتنے خواب تار تار ہو گئے
گلاب ہیں نہ خواب ہیں عذاب ہی عذاب ہیں
چمن کو پھر بہار دو، مرا وطن سنوار دو
یہ دل یہ جان وار دو، مرا وطن سنوار دو​
شاعر کا نام بھی لکھ دیجیے۔
 

جاسمن

لائبریرین
ہماری آنکھ میں جو خواب ہیں وہ سب وطن کے ہیں
یہاں جو گوہر نایاب ہیں وہ سب وطن کے ہیں

وطن کی آن پر قربان کرتے ہیں دل وجاں بھی
ہمارے پاس جو اسباب ہیں وہ سب وطن کے ہیں

کہیں امید کی کرنیں دلوں میں روشنی کردیں
کئی جذبے بہت نایاب ہیں وہ سب وطن کے ہیں
صبیحہ صبا​
 
مدیر کی آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
اگر چہ تیرا آج لہو رنگ ہے مگر
میں تیرا کل تو سنوار سکتا ہوں
اک عمر کیا میں ہزار عمریں آصف
تیرے سبز ہلالی پہ وار سکتا ہوں
 

جاسمن

لائبریرین
جس کے دانتوں میں مری قوم کے ریشے ہیں ابھی
وہی سفاک مرے دیس کا ہمدم کیوں ہو
(احمد ندیم قاسمی)
 

جاسمن

لائبریرین
فقط اِس جرم میں کہلائے گنہ گار کہ ہم
بہر ناموسِ وطن، جامہ تن مانگتے ہیں
لمحہ بھر کو تو لبھا جاتے ہیں نعرے، لیکن
ہم تو اے اہلِ وطن، دردِ وطن مانگتے ہیں
(احمد ندیم قاسمی)
 

جاسمن

لائبریرین
وطن کے لئے

وطن کے لئے نظم لکھنے سے پہلے
قلم ، حرف کی بارگہ میں
بہت شرمسار و زبوں ہے
قلم سر نگوں ہے
قلم کیسے لکھے؟
وطن! تو مری ماں کا آنچل جو ہوتا
تو میں تجھ کو شعلوں میں گِھرتے ہوئے دیکھ کر کانپ اٹھتی
زباں پر مری الاماں، اور آنکھوں میں اشکوں کا طوفان ہوتا
وطن! تو مرا شیر دل بھائی ہوتا۔۔۔ تو
تیرے لہو کے فقط ایک قطرے کے بدلے
میں اپنے بدن کا یہ سارا لہو نذر کرتی
شب و روز۔۔ تیری جوانی
تری زندگی کی دعاؤں میں مصروف رہتی
وطن! تو مرا خواب جیسا وہ محبوب ہوتا
کہ جس کی فقط دید ہی۔۔ میرے جیون کی برنائی ہے
میں ترے ہجر میں۔۔ ر1ت بھر جاگتی۔۔ عمر بھر جاگتی
عمر بھر گیت لکھتی
وطن! تو جو معصوم لختِ جگر میرا ہوتا
تو۔۔ تیری اداؤں سے میں ٹوٹ کر پیار کرتی
بلائیں تری۔۔ ساری اپنے لیے مانگ لاتی
ترے پاؤں کو لگنے والی سبھی ٹھوکروں میں
میں اپنا محبت بھرا دل بچھاتی
وطن! تو اگر میرے بابا سے میراث میں ملنے والی
زمیں کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا بھی ہوتا
کہ جس کے لیے میرا بھائی
مرے بھائی کے خوں کا پیاسا ہوا ہے
تو میں اپنی جاں کا کوئی حصہ اور جرعہء خوں تجھے پیش کرتی،
میں اپنے بدن پر کوئی وار۔۔ دل پر کوئی زخم سہتی
تو پھر شعر کہتی
قلم کیسے لکھے
یہ آدھی صدی سے زیادہ پہ پھیلے بہانے
یہ خود غرضیوں کے فسانے؟
قلم۔۔۔ مہرباں شاعروں کا
قلم۔۔۔ غمگسار عاشقوں کا
قلم۔۔۔ آسمانی صحیفوں کو مرقوم کرنے کا داعی
قلم۔۔۔ نوعِ انساں کی تاریخ کا عینی شاہد
قلم۔۔۔ یہ مری عمر بھر کی کمائی
ازل سے ابد تک۔۔ جو راز آشنا ہے
بہت سرخرو اور شعلہ نوا ہے
قلم لکھ رہا ہے
کہ میرے وطن!
تو ہی پُرکھوں سے میراث میں ملنے والی زمیں ہے
تو ہی سر پہ پھیلا ہوا آسماں ہے
تو ہی ماں کی گود اور آنچل
تو میرا محافظ، مرا شیر دل بھائی
تو میرا محبوب، وہ خواب زادہ
تو ہی میرا معصوم لختِ جگر ہے
تو ہی میری پہچان اور شان ہے
دل کی ٹھنڈک ہے
نورِ نظر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمینہ راجہ
 

جاسمن

لائبریرین
قرارداد پاکستان


23 مارچ کی قراداد یادگار
گواہ ہیں لاہور کے درودیوار
مسلم ہند کی جو اٹھی پکار

بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں پاکستان

دن رات شام و سحر میں
تلاطم ہے مسلم کے بحر میں
صدا گونج رہی ہے دہر میں

بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں پاکستان

جاری ہے عظمتوں کا سفر
جہد مسلسل میں گزر بسر
کس بے خبر کو نہیں ہے خبر

بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں پاکستان

اب نہ رہے گی بات ادھوری
شعور اوڑھنے لگی ہے بے شعوری
مدینے سے اقبال لائے منظوری

بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں پاکستان

ختم ہونے کو غلامی کا دستور
بوڑھے جواں سبھی شامل بھرپور
قوم کا ٹھہرا ہے اب منشور

بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں پاکستان

( محمد رضی الرحمن طاہرؔ )
 

جاسمن

لائبریرین
وہ دن


بہتر سال پہلے ایک دن ایسا بھی آیا تھا
جب اک سورج نکلنے پر
چمکتی دھوپ پھیلی تھی تو منظر جگمگایا تھا
اگرچہ میں نے وہ منظر بہ چشمِ خود نہیں دیکھا
مگر جب یاد کرتا ہوں تو سانسیں گنگناتی ہیں
کئی صدیوں سے صحرا میں بکھرتی ریت کی صورت
کروڑوں لوگ تھے جن کا
نہ کوئی نام لیتا تھا، نہ کچھ پہچان باقی تھی
ہر اک رستے میں وحشت تھی
سبھی آنکھوں میں حسرت تھی
نہ آباء سی ہنر مندی، نہ اگلی شان باقی تھی
کھلا سر پر جو اس اعلان کا خوشبو بھرا سایا
تو ان کی جاں میں جاں آئی
دہن میں پھر زباں آئی
بہتر سال پہلے کا وہ اک احسان مت بھولو
خدا کی خاص رحمت ہے یہ "پاکستان" مت بھولو


(امجد اسلام امجد)
 
Top