وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں ایک اور منفرد اعزاز

وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں ایک اور منفرد اعزاز
1 اکتوبر 2020
PM-Imran-at-UN.jpg


اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ایک اور منفرد اعزاز، وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ کی سب سے زیادہ مؤثر آواز بن گئے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ویور شپ میں تمام عالمی رہنماؤں کو پیچھے چھوڑ دیا، وزیر اعظم مسلسل دوسری بار اقوام متحدہ میں زیادہ سنے اور دیکھے جانے والے سربراہ بن گئے۔

اقوام متحدہ کے آفیشل یوٹیوب چینل پر وزیر اعظم کی حالیہ تقریر زیادہ دیکھی گئی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم مودی بھی ویور شپ میں عمران خان سے پیچھے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کو اب تک ایک لاکھ 69 ہزار افراد دیکھ چکے ہیں، ان کی گزشتہ سال کی تقریر کو بھی اب تک 28 لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا۔





رواں برس امریکی صدر ٹرمپ ایک لاکھ 37 ہزار ویور شپ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو 94 ہزار ویوز کے ساتھ ٹاپ 3 میں شامل ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی کی تقریر 67 ہزار، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر 62 ہزار، روسی صدر کی تقریر 59 ہزار، چینی صدر کی تقریر 44 ہزار اور افغان صدر اشرف غنی کی تقریر کو صرف 8 ہزار لوگوں نے دیکھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان رائٹ آف رپلائی بھی دنیا کی توجہ کا مرکز رہا، پاکستانی سفیر کا رائٹ آف رپلائی 88 ہزار مرتبہ دیکھا گیا، بھارتی سفیر کی رائٹ آف رپلائی کی تقریر کو 60 ہزار افراد نے دیکھا۔



 

محمد وارث

لائبریرین
اور یوں کشمیر ایک دفعہ پھر سے ’’ فتح ‘‘ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہا
کوئی بات نہیں خان صاحب، عمران خان نے تقریروں سے کشمیر فتح کر لیا، مولانا صاحب نے تقریروں سے اسلام آباد فتح کر لیا، میاں صاحب نے تقریروں سے خلائی مخلوق فتح کر لی، دوستوں کا حساب برابر ہو گیا۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
کوئی بات نہیں خان صاحب، عمران خان نے تقریروں سے کشمیر فتح کر لیا، مولانا صاحب نے تقریروں سے اسلام آباد فتح کر لیا، میاں صاحب نے تقریروں سے خلائی مخلوق فتح کر لی، دوستوں کا حساب برابر ہو گیا۔ :)

خلائی مخلوق کی اصطلاح بڑی مزیدار ہے۔ :)
 

سیما علی

لائبریرین
کوئی بات نہیں خان صاحب، عمران خان نے تقریروں سے کشمیر فتح کر لیا، مولانا صاحب نے تقریروں سے اسلام آباد فتح کر لیا، میاں صاحب نے تقریروں سے خلائی مخلوق فتح کر لی، دوستوں کا حساب برابر ہو گیا۔ :)
کیا بات ہے خلائی مخلوق کی:):)
 
خلائی مخلوق کی اصطلاح بڑی مزیدار ہے۔ :)
خلائی مخلوق، محکمۂ زراعت یا نامعلوم افراد جیسی اصطلاحات پسی ہوئی عوام کی جانب سے جرنیلوں کی سیاست میں دخل در معقولات کے خلاف لطیف طنز ہیں ۔ پاکستان میں چور اور ڈاکو کھلے عام اپنے جرائم پر فخر کرتے گھوم سکتے ہیں لیکن عوام اور جرنلسٹوں کو لب کشائی پر ویگو ڈالا اٹھاکر لے جاتا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
عدالت میں کیس کر کے نااہل کروا دیں۔
یہ کیس کئی بار عدالت میں گیا ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں گیا تو انہوں نے کیس سننے سے صاف انکار کر دیا۔ اور پٹیشنر سے کہا کہ اگر آئندہ اس قسم کا کیس عدالت لائے تو اندر کروا دوں گا :)
 

محمد وارث

لائبریرین
یہ کیس کئی بار عدالت میں گیا ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں گیا تو انہوں نے کیس سننے سے صاف انکار کر دیا۔ اور پٹیشنر سے کہا کہ اگر آئندہ اس قسم کا کیس عدالت لائے تو اندر کروا دوں گا :)
کیسوں کی نوعیت میں زمین آسمان کا فرق ہے اور جو ان کے حفظِ مراتب کا خیال نہیں رکھتے اور ان کیسوں کو ایک جیسا ہی سمجھتے ہیں ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایک پر انتہائی ذاتی کردار اور اخلاقی گراوٹ کا الزام ہے کہ جوانی میں کوئی غیر اخلاقی کام کر دیا، اس پر تائب ہونے کی دعوت تو خدا بھی بار بار دیتا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی کرتا ہے اور بقول شخصے وہ تائب ہو بھی چکا یا کم از کم دکھاتا یہی ہے، وہ جانے اس کا خدا جانے۔ دوسرے پر حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے اور عوام کے کروڑوں اربوں کھربوں دن دیہاڑے لوٹنے کا "الزام" ہے، اس کی بریت صرف دو رکعت نفل نماز سے ممکن نہیں ہے! ذرا سوچیئے!
 

جاسم محمد

محفلین
دوسرے پر حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے اور عوام کے کروڑوں اربوں کھربوں دن دیہاڑے لوٹنے کا "الزام" ہے، اس کی بریت صرف دو رکعت نفل نماز سے ممکن نہیں ہے!
دو احتساب عدالتوں سے یہ الزام بھی ثابت ہو چکا ہے لیکن جن جمہوریت پسند حواریوں نے فوج دشمنی میں ان عدالتی فیصلوں کو نہیں ماننا، انہوں نے نہیں ماننا۔
 
کیسوں کی نوعیت میں زمین آسمان کا فرق ہے اور جو ان کے حفظِ مراتب کا خیال نہیں رکھتے اور ان کیسوں کو ایک جیسا ہی سمجھتے ہیں ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایک پر انتہائی ذاتی کردار اور اخلاقی گراوٹ کا الزام ہے کہ جوانی میں کوئی غیر اخلاقی کام کر دیا، اس پر تائب ہونے کی دعوت تو خدا بھی بار بار دیتا ہے اور معاف کرنے کا وعدہ بھی کرتا ہے اور بقول شخصے وہ تائب ہو بھی چکا یا کم از کم دکھاتا یہی ہے، وہ جانے اس کا خدا جانے۔ دوسرے پر حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے اور عوام کے کروڑوں اربوں کھربوں دن دیہاڑے لوٹنے کا "الزام" ہے، اس کی بریت صرف دو رکعت نفل نماز سے ممکن نہیں ہے! ذرا سوچیئے!
کروڑوں، اربوں، کھربوں
اور پھر گنتی مُک گئی
 
Top