وزیراعظم نےاکانومک ایڈوائزری کونسل قائم کر دی: معروف ماہر اقتصادیات عاطف میاں کونسل کا حصہ ہوں گے

جاسم محمد نے 'معیشت و تجارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 1, 2018

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,683
    جی ہاں۔ ڈاکٹر عاطف میاں کے ساتھ ساتھ دو اور ماہرین اقتصادیات جو قادیانی بھی نہیں تھےاور ملک سے باہر مقیم تھے استعفیٰ دے کر معاملہ ختم کر چکے ہیں۔
     
  2. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,571
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کیا فرق پڑتا ہے۔ اس طرح تو یہ قوم کسی سے ڈرتی نہیں آپ ان لنڈے کے ماہرین کے نہ ہونے سے ڈرا سکتے ہیں تو ڈرا کر دیکھیں۔
    آج کل ویکی پر کام نہیں کر رہے؟
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,683
    ٹھیک ہے۔ امید ہے تحریک انصاف حکومت بلا خوف و خطرہ آئی ایم ایف یا چینی بینکوں کے سامنے کشکول لے کر نہیں جائے گی۔
     
  4. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,571
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    امید کرتے ہوئے تو بہت کچھ سوچ سکتے ہو لیکن ہوگا وہی جو منظورِ خدا ہوگا۔
     
  5. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,870
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    آپ کو یوسف نذر کی یہ بات تو پسند آئی جس میں تمام تر مسئلوں کا ذمہ دار گزشتہ حکومت یا حکومتوں کو قرار دیا گیا لیکن آپ اس بات کو ماننے سے انکاری ہیں جو انھوں نے عاطف میاں کے اقتصادی تجزیے کو رد کرتے ہوئے کہی۔
    یہ وہی بات ہے کہ اپنی پسند کی چیز کو تسلیم بقایا کو کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیا جائے۔
     
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,683
    ڈاکٹر عاطف میاں عقل کُل نہیں ہیں۔ یقینا ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کی اقتصادی میدان میں خدمات کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔صرف اس لئے کیونکہ وہ قادیانی ہیں۔ یا آئین پاکستان میں قادیانیوں سے متعلقہ شقوں کو نہیں مانتے۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 15, 2018
  7. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,900
    ڈاکٹر عبدالسلام ہوں یا ڈاکٹر عاطف میاں، اُن کی اپنے شعبوں میں صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں یا کم از کم ہونا نہیں چاہیے؛ ایک دنیا اُن کی مداح ہے البتہ یاد رہے کہ ان صاحبان کی بنیادی وجہء شہرت قادیانی ہونا نہیں ہے یا یوں کہا جائے تو مناسب ہو گا کہ محض قادیانی ہونے کے باعث انہیں یہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ اور اسی طرح یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ تبصرہ کرتے ہوئے کسی شخصیت کا صرف ایک پہلو ہی پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔یہ سمجھنا کہ دنیا جہان کا ٹیلنٹ قادیانیوں میں ہے، پرلے درجے کی حماقت کے زمرے میں آئے گا۔ اسی طرح یہ سمجھنا کہ قادیانی جاہل مطلق ہوتے ہیں، غیر منطقی رویہ ہے۔ ذہانت کسی کی میراث نہیں۔ یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ہر ملک آئین و قانون اور پالیسیاں تشکیل دینے میں آزاد ہے۔ ڈاکٹر عاطف میاں پر ان کی مذہبی شخصیت کے باعث کچھ اعتراضات سامنے آئے اور اس بات پر انہیں ہٹا دیا گیا۔ یہ غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ خود ڈاکٹر عاطف میاں کے مذہبی حوالے سے ماضی میں دیے گئے بیانات بھی ہیں۔ جب ڈاکٹر صاحب خود اپنی مذہبی شخصیت کو پبلک میں زیر بحث لاتے ہیں تو پھر اس کا ایک مطلب یہ بنتا ہے کہ مذہب صرف ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔ بعض بیانات سے یوں لگتا ہے کہ وہ خود کو مسلم تصور کرتے ہیں؛ ظاہری بات ہے کہ پاکستان میں وہ کسی صورت مسلم تصور نہ کیے جا سکتے تھے۔ یوں بھی اس حوالے سے ہمارا معاشرہ حساس ہے؛ آئین و قانون میں کچھ قدغنیں بھی ہیں اس لیے انہیں ہٹا دیا گیا۔ اگر انہیں ہٹایا نہ جاتا تو ملک میں مزید کوئی بحران کھڑا ہو سکتا تھا۔ تاہم، یہ بھی سچ ہے کہ اپنے مخصوص شعبے میں ان کی صلاحیتیں کسی سے مخفی نہیں، جن کا انکار کرنا بددیانتی کے زمرے میں آئے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,683
    یہ بنیادی نکتہ ہے۔ تحریک انصاف حکومت متوقع تنازعہ وبحران کے خوف سے اپنے کئے گئے فیصلوں میں مسلسل یو ٹرن لئے جا رہی ہے۔ ابتداء حکومت میں تو شاید یہ سب چل جائے۔ لیکن دیرینہ ملکی ترقی کیلئے نامقبول فیصلوں پر ڈٹ کر عمل نہ کرناکمزور حکومت کی علامت ہے۔ جس کا نقصان حکومت سمیت پورے ملک کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
    Govt mulls over ‘tough decisions’, public anger
     
  9. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,870
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    میرا خیال ہے کہ میں نے یا یوسف نذر نے اس پوسٹ میں ایسی کوئی بات نہیں کی۔
    آپ صرف اپنی پسندیدہ چیز کے حق میں دلائل ہی دیئے جاتے ہیں کبھی دوسرے کی بات بھی سن یا پڑھ لیا کریں۔
     
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    3,683
    یوسف نذر یا عاطف میاں میں سے کوئی بھی عقل کل نہیں ہے۔ لیکن کم از کم اپنی اپنی فیلڈ میں ماہرڈاکٹر تو ہیں۔
    کل ہی خان صاحب پر انکشاف کیا گیا کہ پاکستان کی سب سے اہم وزارت خزانہ میں ایک بھی پی ایچ ڈی ماہر اقتصادیات بھرتی نہیں ہے۔معیشت و اقتصادیت سے متعلق سارے اہم فیصلےنان ٹیکنیکل بیروکریٹس کرتے آئے ہیں۔ ایسے میں ملک کی معیشت مسلسل بحران کا شکار کیوں نہ ہوگی؟
    جدید معاشیات و اقتصادیات پوری سائنس ہے۔ یہ اس فیلڈ سے نابلد بابووں کا کام نہیں۔ بہتر ہوگا کہ خان صاحب جلد سے جلد ڈاکٹر عاطف میاں جیسے میکروااکانمی ایکسپرٹس وزارت خزانہ میں لگائیں۔ وگرنہ اگلے پانچ سال بھی یہ ملک سابقہ حکومتوں کی اقتصادی نااہلی کے ساتھ چلتا رہے گا۔
     

اس صفحے کی تشہیر