کرک انفو کے فیس بک پیج پر ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ 23-2021 کے دورانیہ میں ہونے والے میچز کی تفصیل دی ہے، کہ کون سی ٹیم، کس کس ٹیم کے ساتھ کتنے میچز کھیلے گی۔
210710478-10158241247292555-5500331116425979502-n.png


کیا میچز کی تعداد کا کوئی معیار ہے؟ کہ کس بنیاد پر کسی ٹیم کو کم اور کسی کو زیادہ میچز ملیں گے۔
میرا خیال ہے کہ چمپئن شپ ہونے کے ناطے میچز کی تعداد کسی حد تک ایک جتنی ہونی چاہیے تھی۔
اور اگر پچھلی چمپئن شپ میں دکھائی گئی کارکردگی کو بنیاد بنایا جائے، تو نیوزی لینڈ کو زیادہ میچز ملنے چاہیے تھے۔
کیا میچز کی تعداد کا اثر پوائنٹس پر نہیں آئے گا؟

بادی النّظر میں پاکستان کے لیے بڑا اچھا موقع ہے۔ سخت حریفوں کے ساتھ ہوم سیریز ہے۔
 

علی وقار

محفلین
کیا میچز کی تعداد کا کوئی معیار ہے؟ کہ کس بنیاد پر کسی ٹیم کو کم اور کسی کو زیادہ میچز ملیں گے۔
میرے خیال میں تین ہوم سیریز اور تین بیرون ملک سیریز ہر ٹیم کھیلے گی اور یہ جو زیادہ میچز کا معاملہ ہے اس میں غالباََِ کمرشل ایسپکٹ کے علاوہ ٹیموں کی طرف سے آپس میں کھیلے جانے والے میچز کا تعین کرنا بھی شامل ہے مثال کے طور پر آسٹریلیا اور انگلستان طے کر لیتے ہیں کہ ہم پانچ میچز کی سیریز کھیلیں گے۔ شاید زیادہ سے زیادہ میچز کی حد طے ہو مگر سنا ہے کہ میچز کی تعداد آئی سی سی کے علاوہ ٹیمیں بھی مختلف امور سامنے رکھ کر طے کرتی ہیں۔
 
عمومی طور پر تو یہی ہوتا ہے۔
مگر میرا خیال ہے کہ جب اسے ٹیسٹ چمپئن شپ کا رنگ دیا گیا ہے، تو کچھ اس تعداد کو بھی ضابطہ میں آنا چاہیے۔
 

علی وقار

محفلین
عمومی طور پر تو یہی ہوتا ہے۔
مگر میرا خیال ہے کہ جب اسے ٹیسٹ چمپئن شپ کا رنگ دیا گیا ہے، تو کچھ اس تعداد کو بھی ضابطہ میں آنا چاہیے۔
فی الوقت تو انہوں نے سیریز کی حد تک معاملہ طے کر دیا ہے مگر ایشیز سیریز اور اس طرح بعض مقبول سیریز کا کیا بنے گا کہ یہ ممالک پانچ میچز کی سیریز ہی کھیلنا چاہتے ہیں مگر بعض ممالک یا تو سپانسر شپ ایشوز کی وجہ سے ایفورڈ نہیں کر پاتے کہ پانچ میچز کی سیریز کھیلیں تو ان کے لیے مختصر سیریز ہی موزوں رہتی ہیں تو آئی سی سی انہیں اجازت دے دیتی ہے مگر ان پر قد غن نہیں کہ وہ پانچ میچز کی سیریز باہمی طور پر نہیں کھیل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ممالک آپس میں کھیلنے سے کتراتے ہیں جیسا کہ پاکستان اور بھارت۔ یہ الگ مسئلہ ہے۔ شاید آئی سی سی نے اس کا عارضی سا حل یہی نکالا ہے کہ اسی طرح ہی چمپئن ٹیم برآمد کر لی جائے اور سیریز بھی اسی طرح چلتی رہیں جیسا کہ چلتی تھیں۔
 
Top