وائے می؟

مقدس

لائبریرین
ابھی کچھ عرصہ پہلے میں بھی شاید انہی لوگوں میں سے تھی
مجھے بھی گلہ تھا کہ وائے می۔ ایسا لگتا تھا کہ ہر بار میں ہی کیوں۔۔ ہر بار میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے
لیکن الحمدللہ کسی بہت اپنے نے اتنا اچھی طرح سمجھایا کہ وائے ناٹ می۔
اب سمجھ آگئی :)

تھینک یو ڈئیر سس فور شئیرنگ دس
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
ابھی کچھ عرصہ پہلے میں بھی شاید انہی لوگوں میں سے تھی
مجھے بھی گلہ تھا کہ وائے می۔ ایسا لگتا تھا کہ ہر بار میں ہی کیوں۔۔ ہر بار میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے
لیکن الحمدللہ کسی بہت اپنے نے اتنا اچھی طرح سمجھایا کہ وائے ناٹ می۔
اب سمجھ آگئی :)

تھینک یو ڈئیر سس فور شئیرنگ دس
شکریہ!
 
اردو میں "میں ہی کیوں" نام رکھا جاسکتا تھا ویسے.
وہ کیا ہے نا کے "وائے می" کو دیکھ کر منہ پے "وائے دس کولا ویرے" آجاتا ہے سچ مچ :( :( :(
 
ایک سبق آموذ پیغام ۔۔۔۔جزاک اللہ ۔۔۔۔۔ شئیر کرنے کا بہت شکریہ۔

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے۔۔۔ ( سورۃ الرحمان)
 

S. H. Naqvi

محفلین
پڑھنے کے دوران شروع میں جاوید چودھری صاحب کا کالم لگا۔۔۔۔! خیر آخر میں بات واضح ہو گئی۔ جہاں تک نفس مضمون کا تعلق ہے تو لکھاری نے بہت اچھے انداز میں پیش کیا ہے مگر میں متفق ہوں ظفری بھائی سے کہ ضروری نہیں کہ انسان سب کچھ پانے کے بعد ہی کسی آزمائش کا شکار ہو، اکثریت تو ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو پہلے مرحلے کو پا ہی نہیں سکتے اور دوسری ناگہانی کا شکار ہو جاتے ہیں مگر فطرت کے اصول یا قانون قدرت انھیں پھر بھی وائے می کہنے کا حق نہیں دیتا۔۔۔! اور وائے می کہہ بھی دیں تو کس نے سننی ہے انکی:) ازل کے لکھاری نے جو کچھ لکھ دیا ملنا اور ہونا تو وہی ہے بے شک وائے می کہتے رہیں نا۔۔۔۔!یا تو مزہ یہ ہو کہ بلا واسطہ ناگہانی کو پانے والے وائے می کہنے کا حق رکھتے ہوں تب بات بنے۔۔۔۔! نہ ان کے پاس یہ حق اور نہ ان کے پاس یہ حق۔۔۔۔۔!
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
پڑھنے کے دوران شروع میں جاوید چودھری صاحب کا کالم لگا۔۔۔ ۔! خیر آخر میں بات واضح ہو گئی۔ جہاں تک نفس مضمون کا تعلق ہے تو لکھاری نے بہت اچھے انداز میں پیش کیا ہے مگر میں متفق ہوں ظفری بھائی سے کہ ضروری نہیں کہ انسان سب کچھ پانے کے بعد ہی کسی آزمائش کا شکار ہو، اکثریت تو ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو پہلے مرحلے کو پا ہی نہیں سکتے اور دوسری ناگہانی کا شکار ہو جاتے ہیں مگر فطرت کے اصول یا قانون قدرت انھیں پھر بھی وائے می کہنے کا حق نہیں دیتا۔۔۔ ! اور وائے می کہہ بھی دیں تو کس نے سننی ہے انکی:) ازل کے لکھاری نے جو کچھ لکھ دیا ملنا اور ہونا تو وہی ہے بے شک وائے می کہتے رہیں نا۔۔۔ ۔!یا تو مزہ یہ ہو کہ بلا واسطہ ناگہانی کو پانے والے وائے می کہنے کا حق رکھتے ہوں تب بات بنے۔۔۔ ۔! نہ ان کے پاس یہ حق اور نہ ان کے پاس یہ حق۔۔۔ ۔۔!
اصل میں یہ تحریر اس سوچ کی عکاس تو بلکل بھی نہیں ہے کہ ہم خالق کی لا تعداد نعمتوں پر اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے تو ہمیں اس کی طرف سے ملنے والی آزمائشوں پر نا شکری کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔۔۔مخلوق خالق پر یہ حق رکھتی ہی نہیں کہ کہیں نا شکری کی کوئی گنجائش نکلے۔
یہ تحریر تو بس سوچ کے زاوئیے کو وسیع کرنے ،اسے اک نیا رخ دینے کے لیئے لکھی گئی کہ عمومی سوچ سے ہٹ کر انسان اس طرح بھی سوچے ۔۔جب ہم مختلف انداز سے سوچتے ہیں تو بہت سے ایسے در وا ہوجاتے ہیں جن کی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں گیا ہوتا۔۔انسان بہت مختلف رنگا رنگ قسم کی سوچوں کے حامل ہو تے ہیں
کیا خبر کس کے دل میں کیا بات کیا انداز اتر جائے اس لیئے ایسی خوبصورتی سے کہی ہوئی بات زیادہ اسانی سے دل میں اتر جاتی ہے۔۔آپ کسی نا شکرے انسان کو جھٹ سے یہ کہ دیں کہ آپ تو مخلوق ہیں آ پ کو کیا حق پہنچتا ہے نا فرمانی، ناشکری کرنے کا تو وہ چڑ جائے گا اس کے دل کے دریچے وا نہیں ہوں گے ۔اس کے بر عکس کسی واقعے کی تمثیل سے حکمت سے سمجھایا جائے تو بات دل میں ضرور اتر جاتی ہے۔۔۔حکمت ،خلوصِ نیت اور لوگوں کے تجربات بہت اچھا اثر چھوڑتے ہیں۔۔یہ تحریر بھی اسی سوچ کی عکاس ہے-
 

S. H. Naqvi

محفلین
اس تحریر کو تو میں پسند کر ہی چکا ہوں اور تحریر کے اس پہلو سے تو میں متفق بھی تھا ہی اور میں نے اس پہلو پر تبادلہ خیال کیا بھی نہیں۔۔۔۔! یہ تحریر تو ایک پیغام، ایک سبق تھا، بقول آپ کے کسی ناشکرے انسان کے لیے۔۔۔۔۔ مگر اس تحریر کے اور بھی کئ پہلو ہیں کہ جن پر تبادلہ خیال میرے خیال میں ممنوع نہیں بلکہ ایک خاص حد میں رہتے ہوئے صحت مندانہ بھی ہو سکتا ہے۔ سادہ سا پیغام تو سبھی کی سمجھ میں آ گیا ہے اب چھپے ہوئے گوشوں کو نہاں کر دیا جائے تو کیا حرج ہے:)
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
اس تحریر کو تو میں پسند کر ہی چکا ہوں اور تحریر کے اس پہلو سے تو میں متفق بھی تھا ہی اور میں نے اس پہلو پر تبادلہ خیال کیا بھی نہیں۔۔۔ ۔! یہ تحریر تو ایک پیغام، ایک سبق تھا، بقول آپ کے کسی ناشکرے انسان کے لیے۔۔۔ ۔۔ مگر اس تحریر کے اور بھی کئ پہلو ہیں کہ جن پر تبادلہ خیال میرے خیال میں ممنوع نہیں بلکہ ایک خاص حد میں رہتے ہوئے صحت مندانہ بھی ہو سکتا ہے۔ سادہ سا پیغام تو سبھی کی سمجھ میں آ گیا ہے اب چھپے ہوئے گوشوں کو نہاں کر دیا جائے تو کیا حرج ہے:)
کوئی حرج نہیں
میں نے بھی اپنا خیال ظاہر کیا آپ بھی کیجئے کیسی ممانعت
 

S. H. Naqvi

محفلین
جی شکریہ میں نے تو کردیا کہ انسان تو ہے ہی کمزور اور مجبورمحض، اس کے پاس شکریے کے علاوہ ہے ہی کیا؟ بڑی نہ تو چھوٹی، نہیں تو اس سے چھوٹی کوئی اور، کسی اور انداز کی کوئی نہ کوئ عطا، کوئی نہ کوئی نعمت تو اس کے پاس ضرور ہی ہے کہ جواسے مشکور بننے پر مجبور کرتی ہے اور بنا مشکور ہوئے اسکا گزارہ نہیں ہو سکتا کہ اور کیا کرے۔۔۔۔! نہ انسان کو اسکی مرضی سے تخلیق کیا گیا اور نہ اسکی مرضی سے موت آنی ہے اور نہ ہے اس کے قبضہ میں کوئی اختیار حیات ہے۔۔۔۔!
 

سویدا

محفلین
یہ تحریر غالبا جاوید چودھری یا پھر مولانا وحید الدین خان کی ہے
جسے حنیف عبد المجید صاحب نے اپنی کتاب میں لیا ہے
 
ایک اچھی تحریر(y)(y)

Arthur-Ashe-9190544-1-402.jpg

آرتھر ایش نے اپنے کیرئیر میں تین سنگلز گرینڈ سلام ایونٹ اور دو ڈبلز ٹائٹل جیتے تھے
دنیائے ٹینس کے چار گرینڈ سلام ایونٹ میں سےایک یو ایس اوپن1997سے نیویارک کے علاقعے کوئینز میں واقع آرتھر ایش سٹیڈیم میں منعقد ہوتی ہے
http://en.wikipedia.org/wiki/Arthur_Ashe
http://en.wikipedia.org/wiki/Arthur_Ashe_Stadium
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
ایک اچھی تحریر(y)(y)

Arthur-Ashe-9190544-1-402.jpg

آرتھر ایش نے اپنے کیرئیر میں تین سنگلز گرینڈ سلام ایونٹ اور دو ڈبلز ٹائٹل جیتے تھے
دنیائے ٹینس کے چار گرینڈ سلام ایونٹ میں سےایک یو ایس اوپن1997سے نیویارک کے علاقعے کوئینز میں واقع آرتھر ایش سٹیڈیم میں منعقد ہوتی ہے
http://en.wikipedia.org/wiki/Arthur_Ashe
http://en.wikipedia.org/wiki/Arthur_Ashe_Stadium
شکریہ بھیا!
 
Top