وئی تو ہو جو میری روح سے کلام کرے

کوئی تو ہو جو میری روح سے کلام کرے
خامیاں سب میرے باطن کی سر۔عام کرے

زرد چہرے میں چھپی بے کراں بغاوت کا
تیغ۔ ذیشان سے بے طرح اختتام کرے

کیوں سبھی پہلو تہی کا مزاج رکھتے ہیں
کیا کوئی بھی نہیں جو خود کو میرے نام کرے

خود سری کی روش رضا نہیں اچھی کیونکر
سب کو اس طرح تو بدنام صبح و شام کرے
 

مغزل

محفلین
وہ جناب اچھی کوشش ہے ، باقی صاحبانِ فن ہی رائے دیں گے ہم تو صرف رسید دینے حاضر ہوئے ہیں۔بہت شکریہ
 

آبی ٹوکول

محفلین
واہ واہ سبحان اللہ جناب کیا کہنے ۔ ۔ ۔
زرد چہرے میں چھپی بے کراں بغاوت کا
تیغ۔ ذیشان سے بے طرح اختتام کرے

کیوں سبھی پہلو تہی کا مزاج رکھتے ہیں
کیا کوئی بھی نہیں جو خود کو میرے نام کرے
 

الف عین

لائبریرین
رضا میاں، دوسری جگہ پیغام چھوڑ کر آیا ہوں، دیکھ لیں۔ خیالات اس میں بھئ اچھے ہیں۔
اور ہاں، یہ محمد محمود مغل جو ہیں، یہ اسی طرح رسید بک میں سے رسیدیں کاٹا کرتے ہیں، کبھی بھولے سے تفصیلی رائے بھی دے جاتے ہیں ویسے، لیکن رسید کاٹنا نہیں بھولتے!!
 

الف عین

لائبریرین
اس میں دو بحریں جمع ہو گئی ہیں، کہیں دونوں کو ملا کر تیسری بحر ایجاد کرنے کی کوشش ہے۔
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن
اور
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
مسئلہ یہ ہے کہ اکثر مصرعے (خاص کر ثانی) اس بحر میں ہے جو ہوتی ہی نہیں:
فاعلاتن فعلاتن مفاعلن فعلن

کوئی تو ہو جو میری روح سے کلام کرے
خامیاں سب میرے باطن کی سر۔عام کرے

(یہ ہایفن سے مراد زیر ہے کیا یعنی اضافت؟ یہ محفل کے کی بورڈ میں > کنجی پر ہے، ان پیج کا الٹا)
کوئی تو ہو جو مری روح سے کلام کرے
اوپر کی پہلی بحر میں ہے
یہاں ’کوئی‘ بر وزن ‘مفا‘ آتا ہے
اور دوسرا مصرع، محض سکھانے کی غرض سے
کوئی تو ہو جو میری روح سے کلّام کرے
دوسری بحر میں،
یہاں ’کوئی‘ بر وزن ‘فاع‘ ہے، لیکن ’کلام‘ بحر میں نہیں آتا، جب تک کہ اس ’کل لام‘ نہ کہا جائے۔ دوسری والی بحر فرض کریں تو یوں کہنا ہو گا (فرضی طور پر)
مشورہ: پہلا مصرع بہت اچھا ہے، اس کا دوسرا مصرع کہا جائے اور مطلع کہا جائے۔
باقی اشعار کو ابھی نہیں چھیڑ رہا ہوں۔
 
Top