نے شکر کا لمحہ نہ شکایت کی گھڑی ہے

غمگین فضاؤں میں یہی بات لکھی ہے
گلشن کی ہواؤں میں ابھی تیری کمی ہے

اک لہر خموشی کی ہے اک وہ! کی لڑی ہے
الجھن میں ہوں کیا داد ہے کیا داد رسی ہے

ویسے تو غضب کا ہوں میں لفاظ ولیکن
یہ نظم فقط تیرے لیے سہل کہی ہے

رسوا تو نہ کر معبدِ دل کو کہ یہاں پر
اے کعبۂ ناموس تری یاد بسی ہے

بے فائدہ بیٹھے ہیں بساطوں پہ اناڑی
شاطر ہوں میں اور چال مری سادہ دلی ہے

تنہائی میں یوں رنج و طرب شیر و شکر ہیں
نے شکر کا لمحہ نہ شکایت کی گھڑی ہے

میں وہ کہ سزاوارِ محبت ہی نہیں ہوں
تو وہ کہ ترا ذکر بڑی بے ادبی ہے

ناپید تغزل کا جو عنصر ہے غزل میں
شاید یہ محبت سے مری بے غرضی ہے

اک لفظ کہ در دامِ سرِ نطق نہ آئے
انسان کی تفسیر سبھی اس میں چھپی ہے

کچھ ربط ہے قامت سے تری میرے گلوں کو
لگتا ہے کہ ہر رگ پہ قیامت سی کھڑی ہے

دیکھے ہی نہ تھے اور گھلے جاتے ہیں سب خواب
شاید کہ یہ احساس کی آتش نفسی ہے

چہرے سے اب اپنے بھی مجھے ڈر نہیں لگتا
دل توڑنے والے تری آئینہ گری ہے

اب تک ہے لبوں پر وہی افسانۂ ریحان
غزلوں میں مگر نغمہ سرا اور کوئی ہے
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ریحان بھائی! آپ کے عمومی رنگ سے مختلف غزل ہے اور خوب ہے !
البتہ دوسرے شعر میں "واہ" میں اسقاطِ الف کچھ مناسب نہیں لگا۔
اچھی غزل ہے ۔ بہت داد!
 

La Alma

لائبریرین
عمدہ غزل ہے۔
دیکھے ہی نہ تھے اور گھلے جاتے ہیں سب خواب
شاید کہ یہ احساس کی آتش نفسی ہے
بے فائدہ بیٹھے ہیں بساطوں پہ اناڑی
شاطر ہوں میں اور چال مری سادہ دلی ہے

ناپید تغزل کا جو عنصر ہے غزل میں
شاید یہ محبت سے مری بے غرضی ہے

اک لفظ کہ در دامِ سرِ نطق نہ آئے
انسان کی تفسیر سبھی اس میں چھپی ہے
لاجواب۔
اک لہر خموشی کی ہے اک وہ! کی لڑی ہے
الجھن میں ہوں کیا داد ہے کیا داد رسی ہے
اس شعر کے مفہوم تک رسائی نہیں ہو سکی۔
 
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ریحان بھائی! آپ کے عمومی رنگ سے مختلف غزل ہے اور خوب ہے !
البتہ دوسرے شعر میں "واہ" میں اسقاطِ الف کچھ مناسب نہیں لگا۔
اچھی غزل ہے ۔ بہت داد!
بہت نوازش ظہیر بھائی۔ واہ والے مصرع پر کافی غور کیا مگر کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
ذرہ نوازی ہے آپ کی۔
اس شعر کے مفہوم تک رسائی نہیں ہو سکی۔
واہ کو ضرورتِ شعری کے طور پر وہ باندھا ہے، داد اور داد رسی کی نسبت پر شعر کہا تھا.
 
Top