نیچےوالے اشعار فاعلاتن مفاعلن فعلن پہ آتے ہیں لیکن آخری شعر یا آخری دو مصرعے اس بحر میں کیسے آیئں گے

نیچےوالے اشعار فاعلاتن مفاعلن فعلن پہ آتے ہیں لیکن آخری شعر یا آخری دو مصرعے اس بحر میں کیسے آیئں گے؟
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
 

سید عاطف علی

لائبریرین
نیچےوالے اشعار فاعلاتن مفاعلن فعلن پہ آتے ہیں لیکن آخری شعر یا آخری دو مصرعے اس بحر میں کیسے آیئں گے؟
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
میرے اندازے کے مطابق آپ کو شاید الف کے اسقاط کی وجہ سے بحر سے متعلق یہ سوال پیدا ہوا ہے۔یہ اردو شاعری کا عام چلن ہے کہ الف کو اکثر اس کے ماقبل لفظ کے بعد ساقط کر دیا جاتا ہے ۔ آپ نے جو صورت حال دی ہے اس میں بار بار کا "ر" در اصل اس کے "س" سے مل رہا ہے ۔۔۔باربارُس کے در پہ جاتا ہوں۔۔۔اسی طرح حالت اب کو " حالتَب " کے طور پر برتا گیا ہے اور یہ شعری زبان و بیان کا عام اور مسلّم قاعدہ سمجھا جاتا ہے۔اس کی بے شمار مثالیں آپ کو بغیر ڈھونڈے مل جائیں گی۔تقطیع اس طرح کی جاسکتی ہے۔
باربارُس۔۔۔ کے درپہ جا۔۔۔تا ہوں
فاعلاتن۔۔۔۔مفاعلن۔۔۔۔۔فعلن
حالتب اض۔ترابکی ۔۔۔۔۔سی ہے
 
Top