نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

جاسم محمد

محفلین
نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا
ویب ڈیسک 26 منٹ پہلے

2086357-shahbaz-1601285050-267-640x480.jpg

منی لانڈرنگ کیس میں ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت خارج کردی۔ فوٹو : فائل


لاہور: منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔

منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت کی میعاد ختم ہونے پر صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے جہاں جسٹس سردار نعیم کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ اس دوران شہباز شریف کی طرف سے بولنے کی اجازت مانگنے پر جج نے کہا کہ ابھی وکلا دلائل دے رہے ہیں اگر کوئی بات رہ جائے تو آپ اپنا موقف پیش کرسکتے ہیں۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل 58 والیمز میں شہباز شریف کے خلاف کوئی دستاویزی شہادت موجود نہیں ہے، شریف گروپ آف کمپنیز کے کسی ریکارڈ سے شہباز شریف کا کوئی لینا دینا نہیں ہے جب کہ شریف گروپ آف کمپنیز وہ کمپنیاں جن میں شہباز شریف کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔

شہباز شریف نے عدالت سے کہا کہ عاجزی سے کہتا ہوں کہ نیب کو ڈھائی سو سال لگ جائیں لیکن ایک دھیلے کی کرپشن نہیں ملے گی، قومی خزانے کا ایک ارب بچایا اور اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کیے جب کہ میرے فیصلے سے میرے بھائیوں اور میرے بچوں کو نقصان ہوا، میں نے اپنے ضمیر کی آواز پر نہ کسانوں کو نقصان پہنچایا نہ قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، اگر کرپشن کی ہوتی تو واپس کیوں آتا لندن میں رہ کر زندگی گزرتا، حکومت میری زبان بندی چاہتی ہے۔

عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی عبوری ضمانت خارج کردی جس کے بعد نیب حکام نے انہیں گرفتار کرلیا۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی، عدالت کی جانب سے ضمانت میں توسیع نہ ملنے اور نیب کی گرفتاری کے بعد لیگی کارکن مشتعل ہوگئے اور احاطہ عدالت میں شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور اینٹی رائٹ فورس کے دستوں کو لاہور ہائیکورٹ کے اندر و اطراف میں تعینات کیا گیا تھا۔
 

سیما علی

لائبریرین
یعنی آپ کے بھائی نواز شریف، بیٹے سلمان شہباز نے کرپشن کی ہے جو واپس نہیں آ رہے؟ :)
یہی بات تو سمجھنا ہے وہ سب سے پہلے اس قوم کو اور اِ سکی اس سوچ کو کہ کیا ہوتا تو یہاں کیا کرہا ہے اور اُن کو دیکھیں مریم اُورنگ زیب کو جو کیس اسٹڈی کرے بغیر الزامات:):)
 

جاسم محمد

محفلین
یہی بات تو سمجھنا ہے وہ سب سے پہلے اس قوم کو اور اِ سکی اس سوچ کو کہ کیا ہوتا تو یہاں کیا کرہا ہے اور اُن کو دیکھیں مریم اُورنگ زیب کو جو کیس اسٹڈی کرے بغیر الزامات:):)
پارٹی ترجمان کو تو چھوڑیں یہاں تو بیٹے نے بھی کیس اسٹڈی نہیں کیا :)
 

جاسم محمد

محفلین
یہی بات تو سمجھنا ہے وہ سب سے پہلے اس قوم کو اور اِ سکی اس سوچ کو کہ کیا ہوتا تو یہاں کیا کرہا ہے اور اُن کو دیکھیں مریم اُورنگ زیب کو جو کیس اسٹڈی کرے بغیر الزامات:):)
مریم اورنگزیب کا یہ بیان نواز شریف کی گرفتاری پر بھی آیا تھا :)
 

شمشاد

لائبریرین
"تو آپ پہلی دستیاب فلایٹ سے پاکستان آجائیں، باپ مشکل میں ہو تو جوان بچے صرف اپنا نہیں سوچتے."

اتنی شرم والے نہیں ہیں یہ۔
بندہ ڈھیٹ ہونا چاہیے، شرم تو آنی جانی چیز ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
شہباز شریف کی گرفتاری، پارٹی اب مریم نواز چلائیں گی
ندیم چوہدری 4 گھنٹے پہلے
2086664-maryamnawaz-1601329173-743-640x480.jpg

اب دیکھنا ہو گا کہ پارلیمان کے اندر نواز شریف اور مریم نواز کی پالیسی پر کیسے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ فوٹو : فائل


لاہور: مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد پارٹی اب عملی طور پر مریم نواز ہی چلائیں گی۔

شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سمیت تمام سینئر لیگی قیادت کو شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی کی بجائے نواز شریف کے جارحانہ بیانئے کو ترجیح دینا ہو گی۔ سوموار کوشہباز شریف کی گرفتاری سے قبل ہی پارٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے سہہ پہر 4 بجے پریس کانفرنس شیڈول کر رکھی تھی لیکن شہباز شریف کی گرفتاری کے فوری بعد مریم نواز کی ہنگامی پریس کانفرنس کا دعوت نامہ بھجوا دیا۔

ن لیگی ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اپنی گرفتاری کی صورت میں پارٹی امور شاہد خاقان اور احسن اقبال کے ذریعے چلانے کا حکم دیا تھا لیکن مریم نواز ہنگامی طور پر میدان میں آئیں اور سینئر لیگی قیادت کو ان کی آواز پر لبیک کہنا پڑا۔ احسن اقبال، پرویز رشید، رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق، رانا تنویر حسین، خرم دستگیر، مریم اورنگزیب سمیت تمام لیگی قیادت پریس کانفرنس میں موجود تھی۔ صرف شاہد خاقان ، خواجہ آصف اور سعد رفیق ہی موجود نہیں تھے۔

مریم نواز نے عندیہ دیا کہ وہ بہت جلد لیگی کارکنوں کے ہمراہ سڑکوں پر بھی نکلیں گی، ملک گیر احتجاجی جلوسوں، ریلیوں سمیت گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے لئے بھی مریم نواز ہی فرنٹ فٹ پر کھیلیں گی۔ اب دیکھنا ہو گا کہ پارلیمان کے اندر نواز شریف اور مریم نواز کی پالیسی پر کیسے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔
 
Top