نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے ٭ منور بدایونی

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'حمد، نعت، مدحت و منقبت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 28, 2019

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    18,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
    جسے چاہیں اس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے

    جسے چاہا در پہ بلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جدا نہیں
    وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے

    ترے حسن سے تری شان تک ہے نگاہ و عقل کا فاصلہ
    یہ ذرا بعید کا ذکرہے وہ ذرا قریب کی بات ہے

    وہ مچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے در سے لپٹ گئی
    وہ کسی امیر کی آہ تھی، یہ کسی غریب کی بات ہے

    تجھے اے منور بے نوا در شاہ سے چاہیے اور کیا
    جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے

    منور بدایونی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  2. عرفان احمد

    عرفان احمد محفلین

    مراسلے:
    8
    جزاک الله
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,899
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    سبحان اللّہ سبحان اللّہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر