شہزاد احمد نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 15, 2019

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,846
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے
    وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے

    آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند
    ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے

    خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے
    جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے

    اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں
    لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے

    دوستو اب مجھے گردن زدنی کہتے ہو
    تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے

    ہم جو دستک کبھی دیتے تھے صبا کی مانند
    آپ دروازۂ دل کھول دیا کرتے تھے

    اب تو شہزادؔ ستاروں پہ لگی ہیں نظریں
    کبھی ہم لوگ بھی مٹی میں جیا کرتے تھے

    شہزاد احمد​
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏اکتوبر 18, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5

اس صفحے کی تشہیر