محسن نقوی نہ سماعتوں میں تپش گُھلے

لاریب مرزا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 14, 2016

  1. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,648
    نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
    جو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دے اُسے خواب کر

    ابھی منتشر نہ ہو اجنبی، نہ وصال رُت کے کرم جَتا!
    جو تری تلاش میں گُم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر

    مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دو پہر پہ یہ ابر کیوں؟
    مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر

    کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
    کبھی دل کو تِھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تِر کو چناب کر

    یہ ہجومِ شہرِ ستمگراں نہ سُنے گا تیری صدا کبھی،
    مری حسرتوں کو سُخن سُنا مری خواہشوں سے خطاب کر

    یہ جلوسِ فصلِ بہار ہے تہی دست، یار، سجا اِسے
    کوئی اشک پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب کر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر