نکاح المتعہ کا تعارف (حصہ دوم)

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

dxbgraphics

محفلین
کسبیاں تو شاید کبھی ختم نہ ہوسکیں چونکہ ہم جتنے بھی مسلمان ہوجائیں، ہوتے اپنی مرضی تک مسلمان ہی ہیں۔
متعہ کو اگر حلال قرار دے دیا جائے تو البتہ اس کاروبار کو قانونی بلکہ اسلامی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے اور اسلامی حکومت اس سے اچھی آمدن بھی حاصل کرسکتی ہے بصورت ٹیکس وغیرہ۔
ویسے ایران میں‌ تو یہ سب کچھ حکومت کے زیر انتظام ہی ہوتا ہوگا؟

کچھ دن گزارنے کا اتفاق ہوا ہے ایران میں۔
وہاں کے ملاحضرات چھوٹی سی ٹیبل سجائے اپنی دکانداریوں میں مصروف ہیں۔ ہر متعہ نکاح کرنے کے عوض ان کو اچھی خاصی رقم مل جاتی ہے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ہر علمی گفتگو کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور یہ تقاضے ان مباحث میں اور بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں جو علمی ہونے کے ساتھ ساتھ بنیادی طور پر تحقیقی بھی ہوں اور ان ہی تقاضوں میں ایک اہم تقاضہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی تعریف بیان کی جائے، کوئی بات نقل کی جائے، یا کوئی چیز بطور ثبوت پیش کی جائے تو اس کا مکمل حوالہ درج کیا جائے۔
مہوش نے متعہ کے بارے میں اہل تشیع کے نکتہ نظر سے اوپر جو مواد پیش کیا ہے وہ حوالوں سے خالی ہے۔ یا تو حوالے نامکمل ہیں یعنی خالی کتاب کا نام لکھ دیا گیا ہے یا اس شخص کا جو راوی ہے یا سرے سے حوالہ ہی ندارد ہے جیسا کہ انہوں نے متعہ کے بارے میں جو شرائط یا متعہ کی جو تفصیلات پیش کی ہیں تو اہل تشیع کی کتب کے مکمل حوالے مجھے کہیں نظر نہیں آئے۔
متعہ کی تعریف ، فضائل ،عرصہ عدت و دیگر شرائط کیا مہوش اپنی کتب سے باحوالہ پیش کرنا پسند کریں گئی؟؟؟؟

حوالے بنیادی طور پر فریق مخالف کی کتاب کے دیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُس پر حجت ہوں۔ میں نے اپنی کتب کے حوالے اس لیے نہیں دیے کیونکہ ہر مرجع کے فتاوی ہماری ویب سائیٹز پر موجود ہیں اور آپ کو یہ www.mutah.com پر ایک جگہ جمع شدہ مل جائیں گے (سائیٹ پر اٹیک ہونے کے باعث یہ نہ کھل سکے تو گوگل Cache کا استعمال کر سکتے ہیں)۔
بلکہ مزید بہتر ہوگا کہ ریفرنس کے لیے آپ اس کتاب کا استعمال کریں کیونکہ اس میں مکمل حوالے موجود ہیں جس کے بعد آپ کی شکایت کا ازالہ ہو جائے گا۔ لنک۔
***************
از محمود غزنوی:
نہایت ادب سے گذارش ہے کہ اس مسئلے کا اگر یہی حل ہے جو آپ بیان کر رہی ہیں تو براہِ کرم اس بات کا بھی جواب دیجئے کہ اس سوداگر کی بیوی جو جو اپنے گھر میں رہ رہی ہے، سوداگر کی اس غیر موجودگی میں اسکو کیا کرنا چائیے؟؟؟ متعہ ؟؟؟؟؟؟؟؟اسکے مسئلے کا بھی کوئی حل ہے کہ نہیں؟؟؟؟؟

سب سے پہلے تو شکریہ غزنوی بھائی کہ آپ نے ٹاپک کے مطابق جواب تو دیا، ورنہ کچھ حضرات معاشرے کے حوالے سے ان سوالات سے ایسے ہی آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں جیسا ان برائیوں کی معاشرے میں موجودگی سے پہلے سے ہی آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ منکر حدیث قرآنسٹ حضرات کے گلے میں بھی یہ سوالات اٹکے رہیں گے اور بقیہ حضرات کو بھی اس سے کسی صورت فرار نہیں۔

چلیں آپ کے سوال کی طرف پلٹتے ہیں:
1۔ یہ بتلائیں کہ کیا تمام طالبعلموں اور سوداگر پہلے سے شادی شدہ ہیں یا پھر ان میں سے کچھ کنوارے بھی ہیں :)
2۔ قرآن پر غور کرنے کے بعد یہ پتا چلتا ہے کہ مرد حضرات میں گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ زیادہ ہے جو وہ رمضان کی تیس راتیں برداشت نہ کر سکے اور ایک سے زیادہ لوگ اس خیانت میں مبتلا ہوئے۔
جبکہ اسکے مقابلے میں عورتوں کے لیے اللہ تعالی نے یہ حکم رکھا ہے کہ اگر ان کے شوہر انہیں چار ماہ تک اکیلا چھوڑیں اور وہ اس عرصے کو برداشت نہ کر سکتی ہوں تو وہ ان سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں۔ چنانچہ اب ان سوداگروں کو یا تو چار ماہ میں واپس آجانا چاہیے اور دو چار دن کے بعد پھر اگلے سفر پر روانہ ہو جانا چاہیے، یا پھر اپنی بیویوں سے معاملہ طے کر کے انکی اجازت لینی چاہیے کہ وہ چار ماہ سے زیادہ غیر حاضر رہنا چاہتے ہیں۔ اور اگر انکی بیویاں اس پر مان جاتی ہیں تو ان پر لازم ہے کہ اس بات کا پاس کریں اور خود کو ہر قسم کے گناہ سے محفوظ رکھیں، وگرنہ اگر انہیں بھی گناہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہے تو یہ قاضی کے پاس جا کر علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں۔ اسکے علاوہ اس مسئلے کا کوئی اور حل نہیں۔

اب ذرا اس روایت کو پھر دیکھئیے:
صحیح بخاری [آنلائن لنک]
حدثنا ‏ ‏عمرو بن عون ‏ ‏حدثنا ‏ ‏خالد ‏ ‏عن ‏ ‏إسماعيل ‏ ‏عن ‏ ‏قيس ‏ ‏عن ‏ ‏عبد الله ‏ ‏رضي الله عنه ‏ ‏قال ‏
‏كنا نغزو مع النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏وليس معنا نساء فقلنا ألا نختصي فنهانا عن ذلك فرخص لنا بعد ذلك أن نتزوج المرأة بالثوب ثم قرأ ‏
‏يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم ‏
ترجمہ:
عبداللہ ابن مسود فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ص کے ساتھ غزوات میں مصروف تھے اور اُنکی بیویاں انکے ہمراہ نہیں تھیں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ص سے پوچھا کہ آیا گناہ کے خوف سے نجات پانے کے لیے وہ خود کو خصی (اعضائے شہوانی کا کانٹا) کر لیں۔ اس پر رسول اللہ ص نے انہیں منع فرمایا اور انہیں رخصت دی کہ وہ عورتوں کے ساتھ کسی کپڑے کے عوض مقررہ مدت تک نکاح کریں اور پھر رسول اللہ ص نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
[القرآن 5:87] يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں (اپنے اوپر) حرام مت ٹھہراؤ اور نہ (ہی) حد سے بڑھو، بیشک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

آپ نے دیکھا کہ یہاں مرد صحابہ کرام کو گناہ میں مبتلا ہونے کا اتنا ڈر ہوا کہ انہوں نے اپنے اعضائے شہوانی کٹوانے چاہے (حالانکہ یہ چار مہینے سے کم کا وقفہ تھا)، اور رسول اللہ ص نے صحابہ کرام کو تو حکم دیا کہ وہ دوسری عورتوں کے ساتھ عقد متعہ کریں،۔۔۔۔ مگر انہی صحابہ کی جو بیویاں گھروں میں موجود تھیں، انہیں حکم نہ تھا کہ وہ بھی متعہ کریں۔
سوداگر کی اس غیر موجودگی میں اسکو کیا کرنا چائیے؟؟؟ متعہ ؟؟؟؟؟؟؟؟
چنانچہ آپ کی بات کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ چار ماہ سے کم کا وقفہ ہے تو اسلام بیویوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو گناہ سے بچائیں رکھیں، جبکہ شوہر حضرات کو چھوٹ ہے کہ وہ اس وقت کے دوران اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے دوسری شادی کر سکتے ہیں، یا پھر کسی کنیز عورت تک سے وقتی عارضی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ روایت:
صحیح مسلم [عربی ورژن ، آنلائن لنک]
صحیح مسلم [آنلائن لنک انگلش ورژن حدیث 3371]
صحابی ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ جنگ کے بعد چند خوبصورت عرب عورتیں انکے قبضے میں آئیں اور صحابہ کو انکی طلب ہوئی کیونکہ وہ اپنی بیویوں سے دور تھے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ میں صحابہ چاہتے تھے کہ وہ ان کنیز عورتوں کو بیچ کر فدیہ بھی حاصل کریں۔ چنانچہ صحابہ نے عزل سے کام لیا [یعنی سفاح کرتے وقت اپنے عضو تناسل باہر نکال کر پانی گرایا تاکہ وہ عورتیں حاملہ نہ ہو سکتیں اور انکی اچھی قیمت مل سکے]۔ پھر انہوں نے اللہ کے رسول ص سے اسکے متعلق پوچھا تو رسول اللہ ص نے فرمایا کہ تم چاہو یا نہ چاہو مگر اگر کسی روح کو پیدا ہونا ہے تو وہ پیدا ہو کر رہے گی۔
عزل والی یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کئی طریقے سے روایت ہوئی ہے۔
چنانچہ یہاں بھی مرد صحابہ کرام کو شدید طلب ہوئی، اور انہوں نے جائز طریقے سے کنیز خواتین سے عارضی تعلقات قائم کر کے خود کو گناہ سے محفوظ رکھا،۔۔۔۔ مگر انکی بیویوں کو بہرحال اپنے گھروں میں بغیر کسی غیر مرد سے کسی قسم کے تعلقات قائم کیے بغیر اپنے آپ کو محفوظ رکھنا تھا۔
غزنوی بھائی،
آپ نے مجھ پر کاؤنٹر سوال کیا تھا۔ لیکن میرے اصل سوال کا جواب پھر بھی آپکی گردن پر ابھی تک موجود ہے اور آپکو بہرحال اس سوال کا جواب دینا پڑے گا کہ ان معاشرتی برائیوں کا بغیر عقد متعہ کے آپکے پاس اور کیا حل ہے (سعودی مفتی حضرات کے مسیار والے فتوے کو بھی آپ یقینا نہیں مانتے ہیں۔ چنانچہ یہ معمہ حل ہوتا نظر نہیں آتا)
****************

فاروق صاحب،
دیکھئیے یہاں پر "غیر منکریں حدیث " حضرات کی آپس میں عقد متعہ پر بحث چل رہی ہے، اور "اخلاقی" طور پر آپ کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اگر آپ کو اپنا مؤقف واضح کرنا ہے تو الگ تھریڈ میں آپ بیان کر سکتے ہیں۔ وگرنہ یہ ایسی چومکھی لڑائی بن جائے گی جس سے بس الجھنیں ہی پیدا ہوں گی۔
بہرحال، یہ اوپن فورم ہے اور یقینا میں آپ کو مجبور نہیں کر سکتی کہ آپ اس سلسلے میں الگ تھریڈ میں بحث کریں۔ بات پھر وہی ہے کہ مجھے مستقل طور پر آپ کےمراسلے نظرانداز کرنا ہوں گےتاکہ میں اپنے موضوع پر قائم رہ سکوں۔
ویسے اگر آپ میری درخواست کو قابل اعتنا سمجھیں تو الگ تھریڈ میں عقد متعہ کے متعلق قرآنسٹ حضرات کا مؤقف بیان کر دیں، اور ساتھ ہی ساتھ ان معاشرتی برائیوں کا حل بھی بیان کریں کہ قرآنسٹ حضرات کس طرح ان معاشرتی مسائل کو حل کریں گے۔ اس سوال سے یقینا آپ کو بھی کوئی فرار نہیں ہے۔
****************

ابو عثمان بھائی،
آپ سے پہلی گذارش تو یہ ہے کہ آپ زیادہ جذباتیت سے کام نہ لیں۔
آجکل وقت کی بہت کمی ہے اس لیے فی الحال میں آپ کی توجہ آپکی صرف چند غلطیوں کی طرف مبذول کروا رہی ہوں اور بقیہ نکات کے لیے آپ تھوڑا صبر فرمائیے۔

پہلی غلطی:
آپ نے پھر غلط الزام لگایا ہے کہ عقد متعہ میں "عدت" نہیں۔ آپ سے گذارش ہے کہ آپ یا تو اپنی اصلاح فرمائیں، یا پھر دلیل میں وہ صحیح روایات پیش کریں جو دعوی کرتی ہیں کہ نکاح متعہ میں "عدت" نہیں۔
ظاہری بات ہے میں آپ کو آپکی اصلاح کرنے کے لیے کوئی زور زبردستی نہیں کر سکتی، مگر آپ کو سمجھنا چاہیے کہ اگر آپ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو یہ اللہ تعالی کا سب سے پہلا تقاضا ہے کہ "دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔"

دوسری غلطی:
نسب کے متعلق بھی آپ نے غلط بہتان طرازی کی ہے۔ آپ سے پھر استدعا ہے کہ ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں سمجھیں اور دوسرے کے ساتھ ناانصافی نہ کریں۔

تیسری غلطی:
آپ نے خود اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ عقد متعہ سن 8 ہجری (فتح مکہ کے بعد) حرام قرار دیا گیا۔
مگر اسکے باوجود پھر آپ تفسیر بالرائے کر رہے ہیں اور جس طرح زبردستی منکریں حدیث حضرات قرآنی آیات کو توڑ مڑوڑ کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہوتے ہیں، وہی رویہ آپ یہاں اختیار کر رہے ہیں۔
مثلا آپ نے یہ قرآنی آیت کی تفسیر بالرائے کی:
فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
"جو عورتیں تم کو پسند ہیں ان سے نکاح کرو،دو دو سے، تین تین سے اور چار چار سے اور اگر تمہیں ان کے درمیان نا انصافی کا خدشہ ہو تو صرف ایک سے نکاح کرو یا اپنی کنیزوں پر اکتفا کرو۔" (النساء :3)
سورۃ النساء مدنی دور کے ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی جبکہ عقد متعہ بالاتفاق خود آپکی اپنی زبانی 8 ہجری تک جاری و ساری رہا۔
میں اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہوں کہ اللہ تعالی بلاشبہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اہل عقل و انصاف کے لیے الحمدللہ دلیل کافی ہے کہ وہ حق کو باطل سے جدا کر سکیں۔

چوتھی غلطی:
وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَات (الی ان قال) ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَن تَصْبِرُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ (النساء :25)
"اور جو شخص تم میں سے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو مسلمان کنیزوںسے نکاح کر لے اور یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو (غلبہ شہوت سے) اپنے نفس پر زنا کا خوف رکھتا ہو اور صبر کرنا تمھارے لیے بہتر ہے۔"

پھر سورۃ النساء اور پھر وہی غلطی بار بار۔ اللہ نے خوب انتظام کیا۔
اور ابو عثمان برادر، آپ یہاں پر منکر حدیث بن کر تفسیر بالرائے کر تو رہے ہیں، مگر جلد میں اسی سورۃ النساء کی آیت 24 پر پلٹوں گی اور مکمل دلائل پیش کروں گی کہ صحابہ اور اہلسنت کے سلف کے جمہور کا آپ کے قیاس کے مخالف روایات اور دلائل کی بنیاد پر اس پر اتفاق ہے کہ سورۃ النساء کی اس آیت میں تو بالکل الٹا اللہ تعالی عقد متعہ کا حکم دے رہا ہے۔ ذرا صبرکیجئے میں وقت آنے پر آپ کو دوبارہ مخاطب ہوں گی۔انشاء اللہ۔
اسی طرح بقیہ دیگر تمام نکات کا جواب وقت اور صحیح موقع آنے پر انشاء اللہ۔
از ابو عثمان:
یہ متعہ ہی کا تصور تھا جس نے مسلمانوں میں کسبیوب کے رواج کو جنم دیا،اسی اصطلاح نے بازارِ حسن کو تحفظ دیا اور متعہ کی آڑ میں عصمت فروشی کا چور دروازہ کھول دیا۔
آپ اپنے قیاسات اور خیالی گھوڑے دوڑانے اسکی آڑ میں ہر قسم کی الزام بازی کرنے میں آزاد ہیں۔
بازار حسن اور زناکاری تو اُن اسلامی ممالک میں بھی جاری و ساری ہے جہاں اہل تشیع نہیں پائے جاتے (مراکش و مصر و انڈونیشیا اور دیگر کئی اسلامی ممالک)۔ کاش کہ آپ جذباتی ہو کر ایسی الزام بازی کرنے سے قبل کچھ تدبر و تفکر کرتے۔
میں اوپر قرآن کی گواہی پیش کر چکی ہوں کہ لوگوں نے رسول اللہ ص کے زمانے میں ہیں کنیز باندیوں کے اسلامی احکامات کو غلط طریقے سے استعمال کیا اور اس پر اللہ تعالی کو خود قرآن میں انکی تہدید کرنا پڑی۔
اس روایت اور اس میں موجود قرآنی آیت کو آنکھیں اور دل کھول کر پڑھیں، شاید کہ سبق پا جائیں۔
[سنن ابو داؤد، کتاب 12، روایت 2304]:
جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے:
کسی انصاری کی ایک کنیز رسول ص کے پاس آئی اور کہا: میرا مالک مجھے بدکاری پر مجبور کرتا ہے۔ اس پر اللہ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: اور اپنی کنیزوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ عفت و پاکدامنی چاہتی ہیں۔(القرآن 24:33)
***************

از ظفری:
میرا خیال ہے کہ میں اپنا مدعا صحیح طور پر آپ پر واضع نہیں کرسکا ۔ جبکہ میں سمجھتا تھا کہ میں نے ایک مکمل بات کردی ہے ۔ مگر چونکہ میں اپنا استدلال پیش کرچکا تھا کہ متعہ کے احکامات کو بتدریج لوگوں کے پہنچانے میں وقت لگا کہ ابلاغ کا وہ ذریعہ اس دور میں موجود نہیں تھا ۔ جوکہ آج کے دور میں میسر ہے ۔ لہذا ان مکی سورتوں کے اطلاق کا دور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی کے دور تک رہا ۔ شاید آپ نے میرے اس استدلال پر غور نہیں کیا ۔ اور آپ نے مکی سورتوں کے حوالے سے وہی استدلال قائم کیا ۔ جس کا اظہار میں اپنی اس سلسلے میں پہلی پوسٹ میں کرچکا ہوں ۔۔۔۔۔۔

ظفری برادر،
مجھے افسوس ہے کہ آپ میرے استدلال کو ہرگز سمجھ نہ سکے۔ اور شاید یہ میری ہی کوتاہی ہے جو میں صحیح طریقے سے اپنا پیغام آپ تک نہ پہنچا سکی۔
چلیں پھر کوشش کرتی ہوں:

1۔ پوری امت مسلمہ (سوائے بعد میں پیدا ہونے والے منکریں حدیث کے گروہ کے) کا اس بات پر اجماع ہے کہ عقد متعہ کم از کم سن 7 ہجری (فتح خیبر) یا پھر سن 8 ہجری (فتح مکہ) تک رسول اللہ ص کے حکم سے جاری و ساری رہا۔
اختلاف اسکے بعد کے وقت کا ہے کہ آیا رسول نے اسے اپنی وفات سے تین یا دو سال قبل حرام قرار دیا یا نہیں۔

2۔ مگر کچھ نادانوں نے اپنی طرف سے عقد متعہ کو حرام قرار دینے کے لیے چند جھوٹی روایات گھڑیں۔ مگر انکی کم عقلی، جہالت و بے وقوفی کہ انہوں نے سورۃ المومنون و سورۃ المعارج و سورۃ النساء کی آیات کے متعلق جھوٹ بولا کہ یہ آیات عقد متعہ کو منسوخ کر رہی ہیں۔
اب یہ سورتیں مکی سورتیں ہیں (یا پھر مدینہ کے ابتدائی سالوں کی) اور یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ آیات عقد متعہ کو منسوخ کر سکتی ہوں۔ اللہ تعالی نے اسی لیے ہمیں قرآن میں تدبر و تفکر کرنے کا حکم دیا ہے کہ حق کو باطل سے علیحدہ کر سکیں۔ (بدقسمتی قرآن و سنت پر ایسے جھوٹ ہر گروہ کے کچھ لوگوں نے اپنے اپنے عقائد ثابت کرنے کے لیے بولے ہیں۔ اللہ ہمیں انکے فتنے سے محفوظ رکھے۔امین)

3۔ اب میں پیش کر رہی ہوں ایک ایسے عالم کی گواہی جو عقل رکھتا ہے اور اُس نے صاف طور پر اہلسنت کی جانب سے پیش کیے جانے والے ان تضادات کو دیکھ لیا اور طوعا و کرہا اسے اس تضادات کا رد کرنا پڑا۔
آپ سے درخواست ہے کہ آپ نے سورۃ المومنون کا جو حوالہ دیا ہے، اسی کی تفسیر آپ مولانا مودودی کی تفہیم القرآن میں پڑھ لیں۔ وقت کی کمی کے باعث میں تفہیم کے انگریزی ترجمے سے ترجمہ پیش کر رہی ہوں:

"Some commentators have proved the prohibition of Mut'ah (temporary marriage) from this verse. They argue that the woman with whom one has entered into wedlock temporarily, can neither be regarded as a wife nor a slave girl. A slave girl obviously she is not, and she is also not a wife, because the legal injunctions normally applicable to a wife are not applicable to her. She neither inherits the man, nor the man her; she is neither governed by the law pertaining to 'iddah (waiting period after divorce or death of husband), divorce, sustenance nor by that pertaining to the vow by man that he will not have conjugal relations with her. She is also from the prescribed limit of four wives. Thus when she is neither a 'wife' not a 'slave girl' in any sense, she will naturally be included among those 'beyond this', whoso seeker has been declared a 'transgressor' by the Qur'an.

This is a strong argument but due to a weakness in it, is difficult to say that this verse is decisive with regard to the prohibition of Mut'ah. The fact is that the Holy Prophet enjoined the final and absolute prohibition if Mut'ah in the year of the Conquest of Makkah, but before it Mut'ah was allowed according to several authentic traditions. If Mut'ah had been prohibited in this case, which was admittedly revealed at Makkah several years before the migration, how can it be imagined that the Holy Prophet kept the prohibition in abeyance till the conquest of Makkah?"


آنلائن لنک یہ ہے Tafheem ul Qur'an, Volume 8, Page 12

امید ہے کہ اب آپ تک میرا پیغام پہنچ گیا ہو گا۔

***************************

عذر: عقد متعہ مکی دور سے حرام ہونا شروع ہوا، اور پھر حضرت عمر کے دور میں جا کر مکمل طور پر حرمت نافذ ہوئی

اب میرے مخاطب ظفری اور ابو عثمان دونوں برادران ہیں۔

عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ نے عقد متعہ کو حرام قرار دیا مگر لوگوں تک اسکی حرمت نہ پہنچی، پھر حضرت ابو بکر کے دور میں بھی عقد متعہ ہوتا رہا اور لوگوں تک یہ حرمت نہ پہنچی، اور پھر حضرت عمر کے دور میں بھی عقد متعہ ہوتا رہا اور دیگر جابر بن عبداللہ انصاری جیسے کبار صحابہ تک اسکی حرمت نہ پہنچی، یہاں تک کہ حضرت عمر کی طویل خلافت کے آخری حصے میں جا کر حضرت عمر نے اسکی حرمت کو نافذ فرمایا۔

۔ اہل انصاف پہلی بات یہ نوٹ کر لیں کہ یہ بعد میں آنے والے لوگوں کے صرف اور صرف "قیاس" پر مبنی ایک "عذر" ہے جس کے متعلق ایک بھی روایت، ثبوت اور دلیل دور دور تک موجود نہیں ہے۔
۔ مگر اسکے برعکس بے تحاشہ روایات و دلائل موجود ہیں جو صاف بتلا رہے ہیں کہ حضرت عمر نے عقد متعہ کی اپنی طرف سے ممانعت کی۔

اس لیے اب میں آپ دونوں برادران کے سامنے قرآنی مطالبہ پیش کرتی ہوں کہ: "دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔" آپکی دلیل آجانے کے بعد میں پھر اپنی دلیل پیش کروں گی تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

صرف ایک لمحے کے لیے تصور کیجئے کہ شراب حرام ہوتی ہے تو مدینے کی گلیوں میں ہر طرف شراب بہہ رہی ہوتی ہے۔ مگر جب عقد متعہ حرام ہوتا ہے تو (معاذ اللہ) اللہ کا رسول ص کھل کر پیغام نہیں پہنچاتا اور بہت سے لوگوں (بشمول ابن عباس و جابر بن عبداللہ انصاری جیسے کبار صحابہ) کو خبر ہی نہیں ہوتی اور وہ صحابہ و صحابیات و تابعین حضرت ابو بکر و حضرت عمر کی طویل خلافت کے آخر تک متعہ کے نام پر زناکاری کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی پناہ۔
****************
از گرافک:
۔۔۔۔لیکن عصر حاضر کے کلینی یعنی ''آیت اﷲخمینی '' نے بدکار اور فاحشہ عورتوں کے ساتھ زنا کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ (تحریر الوسیلۃ ،آیت اﷲ خمینی ۔ج٢ص ٣٩٠)
گرافک بھیا،
آپ کے جھوٹے الزام "عدت" سے شروع ہوئے اور پھر دلیل طلب کرنے پر اُسے وہیں چھوڑ کر فرار کی راہ لی اور اب اس نئے جھوٹ کے ساتھ آپکا نزول ہو گیا۔ اللہ آپ کو توفیق عطا فرمائے۔
****************

شوکت کریم بھائی،
اگلی باری آپکے مراسلے کے جواب کی تھی مگر میرے پاس وقت ختم ہو چکا ہے۔ تھوڑا انتظار فرمائیے۔
 

dxbgraphics

محفلین
گرافک بھیا،
آپ کے جھوٹے الزام "عدت" سے شروع ہوئے اور پھر دلیل طلب کرنے پر اُسے وہیں چھوڑ کر فرار کی راہ لی اور اب اس نئے جھوٹ کے ساتھ آپکا نزول ہو گیا۔ اللہ آپ کو توفیق عطا فرمائے۔
****************

بہن میں نے آپ ہی کے کتب کے حوالے دیئے ہیں چیک کر لیں
 

باذوق

محفلین
صرف ایک لمحے کے لیے تصور کیجئے کہ شراب حرام ہوتی ہے تو مدینے کی گلیوں میں ہر طرف شراب بہہ رہی ہوتی ہے۔ مگر جب عقد متعہ حرام ہوتا ہے تو (معاذ اللہ) اللہ کا رسول ص کھل کر پیغام نہیں پہنچاتا اور بہت سے لوگوں (بشمول ابن عباس و جابر بن عبداللہ انصاری جیسے کبار صحابہ) کو خبر ہی نہیں ہوتی اور وہ صحابہ و صحابیات و تابعین حضرت ابو بکر و حضرت عمر کی طویل خلافت کے آخر تک متعہ کے نام پر زناکاری کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی پناہ۔
السلام علیکم
ادب کے ساتھ عرض ہے کہ جوشِ جذبات میں لکھتے ہوئے اگر آپ کو اپنے قلم پر قابو نہیں رہتا تو کم سے کم صحابہ و صحابیات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے الفاظ پر مکرر نظر دوڑا لیا کریں۔ مہربانی ہوگی۔
آپ ایک طرف تو لاعلمی (خبر ہی نہیں ہوتی) بھی کہتی ہیں اور دوسری طرف "زناکاری کرتے رہتے ہیں" جیسا قبیح فقرہ بھی استعمال کر جاتی ہیں۔
 

باذوق

محفلین
مسیار: دھوکے کی شادی

اور آجکل جو عرب ممالک میں مسیار شادی کو فروغ دیا جا رہا ہے تو یہ ہرگز ہرگز عقد متعہ نہیں، بلکہ یہ دھوکے کی شادی ہے، جس میں لڑکی سے نکاح کرتے وقت اسے بتلایا جاتا ہے کہ مکمل دائمی نکاح کیا جا رہا ہے، مگر دل میں نیت کچھ عرصے بعد طلاق دینے کی ہوتی ہے۔ [فتوی از سعودی شیخ ابن باز کہ طلاق کی نیت دل میں رکھتے ہوئے نکاح کر نا جائز ہے]
سعودی شیخ ابن باز عقد مسیار کے متعلق لکھتے ہیں [فتوی کا لنک]:
[شیخ ابن باز صاحب سے سوال]: آپ نے ایک فتوی جاری کیا ہے کہ اس بات کی اجازت ہے کہ ویسٹرن [مغربی] ممالک میں اس نیت سے شادی کر لی جائے کہ کچھ عرصے کے بعد عورت کو طلاق دے دی جائے۔۔۔۔۔ تو پھر آپکے اس فتوے اور عقد متعہ میں کیا فرق ہوا؟
[شیخ ابن باز کا جواب]:
جی ہاں، یہ فتوی سعودیہ کی مفتی حضرات کی مستقل کونسل کی جانب سے جاری ہوا ہے اور میں اس کونسل کا سربراہ ہوں اور یہ ہمارا مشترکہ فتوی ہے کہ اس بات کی اجازت ہے کہ شادی کی جائے اور دل میں نیت ہو کہ کچھ عرصے کے بعد طلاق دینی ہے [ یعنی لڑکی کو دھوکے میں رکھنا جائز ہے اور اسے بتانے کی ضرورت نہیں کہ دل میں نیت تو کچھ عرصے بعد طلاق کی کر رکھی ہے]۔ اور یہ (طلاق کی نیت) معاملہ ہے اللہ اور اسکے بندے کے درمیان۔
اگر کوئی شخص (سٹوڈنٹ) مغربی ملک میں اس نیت سے شادی کرتا ہے کہ اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد یا نوکری ملنے کے بعد لڑکی کو طلاق دے دے گا تو اس میں تمام علماء کے رائے کے مطابق ہرگز کوئی حرج نہیں ہے۔ نیت کا یہ معاملہ اللہ اور اسکے بندے کے درمیان ہے اور یہ نیت نکاح کی شرائط میں سے نہیں ہے۔
عقد متعہ اور مسیار میں فرق یہ ہے کہ عقد متعہ میں باقاعدہ ایک مقررہ وقت کے بعد طلاق کی شرط موجود ہے جیسے مہینے ، دو مہینے یا سال یا دو سال وغیرہ۔ عقد متعہ میں جب یہ مدت ختم ہو جاتی ہے تو خود بخود طلاق ہو جاتی ہے اور نکاح منسوخ ہو جاتا ہے، چنانچہ یہ شرط عقد متعہ کو حرام بناتی ہے۔ مگر اگر کوئی شخص اللہ اور اسکے رسول ص کی سنت کے مطابق نکاح کرتا ہے، چاہے وہ دل میں طلاق کی نیت ہی کیوں نہ رکھتا ہو کہ جب وہ مغربی ملک کو تعلیم کے بعد چھوڑے گا تو لڑکی کو طلاق دے دے گا، تو اس چیز میں کوئی مضائقہ نہیں، اور یہ ایک طریقہ ہے جس سے انسان اپنے آپ کو برائیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور زناکاری سے بچ سکتا ہے، اور یہ اہل علم کی رائے ہے۔

یہ تھا سعودی مفتی حضرات کا فتوی، اور دیکھا آپ نے کہ کس طرح مغربی ممالک میں زناکاری اور دیگر برائیوں سے بچنے کے لیے وہ مسیار شادی کی حوصلہ افزائی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
آپ نے لکھا :
یہ تھا سعودی مفتی حضرات کا فتوی
بہتر ہوتا کہ سعودی فقہ اکیڈمی کا وہ فیصلہ بھی آپ ضرور بتاتیں تاکہ اسی "اختلافِ رائے" کی حقیقت بھی قارئین کے سامنے آتی جس ہی "اختلافِ رائے" کو قبول کرنے کے متعلق آپ نے بلند آہنگ لہجہ اپنایا تھا !!

سعودی فقہ اکیڈمی کا صاف اور واضح فیصلہ تو یہ ہے کہ :
طلاق كى نيت سے شادى كرنا حرام ہے

فقہ اكيڈمى كا فيصلہ ہے:

" طلاق كى نيت سے شادى كرنا يہ ہے كہ: ايسى شادى جس ميں نكاح كے اركان اور شروط پائى جائيں اور خاوند كے دل ميں متعين مدت كے بعد طلاق كى نيت ہو مثلا دس دن يا كوئى مجہول مدت ہو؛ مثلا تعليم مكمل ہونے يا ضرورت پورى ہونے كى غرض سے جس كى بنا پر وہاں آيا ہے اس كے بعد طلاق دے گا.

نكاح كى يہ قسم باوجود اس كے كہ كچھ علماء نے اس كو جائز قرار ديا ہے ليكن فقہ اكيڈمى اس كى ممانعت كرتى ہے؛ كيونكہ يہ دھوكہ و فراڈ پر مبنى ہے، كيونكہ جب عورت كو يا اس كے ولى كو علم ہو جائے كہ اس كو طلاق دى جائيگى تو وہ كبھى بھى اس عقد نكاح كو قبول نہ كريں.

اور اس ليے بھى كہ يہ بہت سارى عظيم خرابيوں اور خطرناك قسم نقصانات كا باعث بنے گا جس سے مسلمانوں كى شہرت خراب ہو گى.

بہر حال طلاق كى نيت سے شادى كرنا حرام ہے، اور اس ميں يہ تردد ہے كہ آيا يہ نكاح متعہ كى طرح اصل ميں باطل ہے يا كہ دھوكہ و فراڈ كى بنا پر نكاح حرام ہو گا.

واللہ اعلم .

یہ فتویٰ اردو میں : طلاق كى نيت سے شادى كرنا حرام ہے
عربی میں : الزواج بنية الطلاق محرم
 

فرخ

محفلین
السلام و علیکم مہوش ،
آپ اپنے پوائینٹ کی حمائیت میں اگر کچھ احادیث، صحیح مسلم کی پیش کر رہی ہیں، تو جو احادیث اسکے ممنوع میں جا رہی ہیں، انہیں پس پشت ڈالنے کا کیا جواز ہے؟ انہیں بھی پیش کرنا تھا۔
یہاںابو عثمان نے احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ مدلل جوابات دئیے مگر آپ نے ان تمام احادیث کو پس پشت ڈال دیا:

اسکے علاوہ، صحیح مسلم کی حدیث جو آپ نے آن لائن صحیح مسلم کی انگریزی سائٹ سے کاپی کی، اسی جگہ پر یہ پورا مضمون موجود ہے جس میں متعدد احادیث میں متعہ کا منع کرنا بھی موجود ہے اور آپ انہیں‌چھپا کر اسے جائز کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔مثلاً یہاں دیکھئے۔ یہ آپ کا ہی پوسٹ کیا ہوا لنک ہے اور ادھر ایک پورا باب لکھا ہے جس کا عنوان ہے:
Chapter 3: TEMPORARY MARRIAGE AND ITS PROHIBITION FOR ALL TIMES TO COME
اور اسکے نیچے وہ احادیث بھی ہیں جن میں اس کام کی مخصوص حالات میں وقتی طور پر اجاز ت دی گئی اور وہ احادیث اور روایات بھی جن میں اسے پھر منع کر دیا گیا۔ اگر آپ کو نظر نہیں آتیں تو بتا دیجئے گا، میں بعد میں اردو میں ترجمہ کر کے یا کروا کے پیش کر دوں گا۔ اور ان میں سے کچھ احادیث تو برادر ابو اعثمان اپنی اس پوسٹ میں پیش کر چُکے ہیں

میری گزارش ہے کہ یہاں سیاست سے پرہیز کریں اور دین پر بات کرنی ہے تو مکمل طور پر بات کریں۔
 
حوالے بنیادی طور پر فریق مخالف کی کتاب کے دیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُس پر حجت ہوں۔ میں نے اپنی کتب کے حوالے اس لیے نہیں دیے کیونکہ ہر مرجع کے فتاوی ہماری ویب سائیٹز پر موجود ہیں اور آپ کو یہ www.mutah.com پر ایک جگہ جمع شدہ مل جائیں گے (سائیٹ پر اٹیک ہونے کے باعث یہ نہ کھل سکے تو گوگل cache کا استعمال کر سکتے ہیں)۔
بلکہ مزید بہتر ہوگا کہ ریفرنس کے لیے آپ اس کتاب کا استعمال کریں کیونکہ اس میں مکمل حوالے موجود ہیں جس کے بعد آپ کی شکایت کا ازالہ ہو جائے گا۔ لنک۔

فریق مخالف پر حجت قائم کر لینے سے پہلے کیا خود اپنا موقف اپنا نکتہ نظر اپنے ماخذات و کتب کی روشنی میں بیان کر دینا ضروری نہیں ہوتا؟؟؟
آپ حضرات کی تقریبا ساری بنیادی کتب الحمد للہ میری دسترس میں ہیں‌۔ اب تو انٹرنیٹ وغیرہ نے اس سلسلے میں اور بھی آسانی بہم پہنچادی ہے تاہم یہ کتب اس سے قبل ہی میرے مطالعے سے گذر چکی ہیں۔ یہاں معاملہ یہ نہیں کہ صرف میں ہی اپنی تسکین کے لیے آپ سے حوالہ اس فورم پر دینے کا مطالبہ کر رہا ہوں درحقیقت یہ ایک معیار بھی ہے آپ گفتگو تو اسی فورم پر فرما رہی ہیں اور لنک ادھر ادھر کے دے رہی ہیں ؟؟
متعہ کے اوپر بحث صرف اہل سنت کی ہی بنیادی کتب سے نہیں ہو گی بلکہ خود آپ حضرات کی کتب اربعہ، وسائل الشیعہ اور بعض اہم تفسیری کتب سے بادلائل ہو گی۔ چنانچہ اگر متعہ پر گفتگو اتنی ہی ضروری ہے تو سب سے پہلے معتہ کی جامع تعریف اور متعلقہ مسائل و فضائل باحوالہ اپنی کتب سے درج فرمائیے اس کے بعد ہم آپ کی ہی کتب سے متعہ کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے لائیں گئے۔ اس پر بحث تو بعد کا نمبر ہے کہ متعہ جائز ہے ناجائز ہے اور کب ممنوع ہوا یا نہیں ہوا سب سے پہلے متعہ ہے کیا اس کی جامع تعریف کیجئے۔
اوپر جو کچھ اپنی کتب کے حوالے سے آپ نے لکھا ہے وہ نامکمل ہے اور حوالوں سے عاری ہے۔
اپنی کتب کے حوالوں سے بیان کیجئے
1۔ کیا کنواری سے متعہ کے لیے ولی کی شرط ہے یا نہیں( اور بغیر ولی کی اجازت کے کنوری سے نکاح مکروہ ہے، یا بالکل ہی حرام ہے یا ہو جاتا ہے)
2۔ایک شخص بیک وقت کتنی عورتوں سے متعہ کر سکتا ہے ۔ 1،2،3،4،5،6، 1000 یا اس کی کوئی حد نہیں ہے۔
3۔کیا متعہ کے لیے اعلان ضروری ہے کیا اس کے لیے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے؟
4۔ جس عورت سے متعہ کیا جارہا ہے اس کا پاک دامن ہونا شرط ہے یا نہیں؟
5۔ کیا کسی قسم کی توثیق ضروری ہے؟
6۔جس عورت سے متعہ کیا جائے اس کو مہر دیا جاتا ہے یا اجرت۔اور یہ اجرت یا مہر کم از کم کتنا ہو سکتا ہے؟
7۔ کیا رہائش ، نان و نفقہ ضروری ہوتا ہے؟
8۔کیا استحقاق مہر یا اجرت کے لیے کوئی خاص مدت/شرط ہے؟؟
9۔ کیا کسی زانیہ کے ساتھ متعہ منعقد ہو جاتا ہے؟
10۔ کیا کسی زانیہ مشہورہ کے ساتھ متعہ منعقد ہوجاتا ہے؟
11۔کیا متعہ میں عدت وفات ہے؟؟
12۔ اگر متعہ نکاح ہی ہے تو کیا اگر ایک شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے اور پھر وہ کسی کے ساتھ بقول آپ کے نکاح متعہ کرے تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لیے جائز ہوجائے گی؟؟
13۔متعہ میں میراث جاری نہیں ہوتی یہ ایک اور فرق نکاح اور متعہ میں ( کیونکہ یہ آپ قبول چکی ہیں)
14۔ کیا متعہ غیر مسلم اورغیر اہل کتاب مثلا مجوسی عورت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے؟
15۔ متعہ سے پہلے کیا اس امر کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ وہ عورت پہلے سے شادی شدہ ہے یا نہیں؟
16۔ جس عورت سے متعہ کیا جائے وہ کیا زوجہ یا بیوی کہلاتی ہے یا کچھ اور؟؟
17۔کیا متعہ ایک ہاشمی، سید زادی کے ساتھ جائز ہے اگر ہاں تو کیا آپ کے بارہ اماموں میں سے کسی نے بھی متعہ کیا ہے اگر کیا ہے تو اس کی تفصیل اور اس متعہ سے پیدا ہونے والی اولاد کی تفصیل؟؟
18۔ متعہ کیا اہل تشیع کے نزدیک ضروریات دین میں سے ہے؟؟
19۔ اگر کوئی شخص متعہ کو نا مانے تو اس کا حکم کیا ہے وہ مسلم ہے یا دین سے خارج ہے؟؟
20۔ اگر متعہ سے انکاری مسلم ہے تو کیا اس کا ایمان کامل ہے یاناقص؟؟
21۔ جو شخص پہلے ہی سے ایک وقت میں چار بیویاں رکھتا ہو وہ متعہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟
22۔ متعہ دوریہ کیا ہے اور بطور خاص قاضی نور اللہ شوستری کا اس بارے میں کیا بیان ہے؟
23۔ ملا فتح اللہ کاشانی ساحب تفسیر منہج الصادقین نے متعہ کے کیا فضائل بیان کیے ہیں؟
24۔ ملا باقر مجلسی نے متعہ کے کیا فضائل بیان کیے ہیں۔

فی الحال میں ان ہی سوالات پر اکتفا کرتا ہوں۔ ایک بار متعہ کے باب میں آپ کی طرف سے یہ وضاحتیں مل جائیں تو امید ہے کہ اس مسئلہ کو سمجھنے میں آسانی رہے گئی۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ابتک کی گفتگو میں پہلے سے ہی فریق مخالف کی طرف سے بہت سے سوال اٹھا دیے گئے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ان تمام سوالات کے جوابات یکدم دے دیے جائیں۔ وقت کی ایسے ہی کمی ہے، مگر یکے بعد دیگرے میں ان تمام سوالات و اعتراضات کے جوابات دینے کی کوشش کروں گی اور اس میں وقت لگے گا، اس لیے آپ لوگ صبر سے کام لیں۔
دوسری طرف اس دوران آپ لوگ میرے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے سکتے ہیں جس میں آپ کو دلیل سے ثابت کرنا ہے کہ نکاح متعہ اور زناکاری ایک چیز ہے اور یہ کہ آج آپ لوگوں کا ایمان کبار صحابہ کے ایمان سے بڑھ چکا ہے اور اس لیے آج آپ تمام معاشرتی برائیوں کو حل کرتے ہوئے لوگوں کے Masses کو پچیس یا تیس سال تک فرشتوں جیسی زندگی گذارنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ؟

******************

میرے خیال میں‌ جس چیز کو معاشرے میں قبول عام حاصل نہ ہو اور نہ ہی جسے فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو وہ دین فطرت کا حصہ نہیں ہو سکی۔
کوئی باپ ایسا ہے جو اپنی بیٹی کو وقتی نکاح میں‌ دے گا ؟
کوٕی بھائی ایسا ہے جو اپنی بہن کو وقتی نکاح میں‌دے گا ؟

اور پھر اس کے نتیجے میں‌پیدا ہونے والے بچے کہاں ہیں ؟

چودہ سو سال ہوئے متعہ ہو رہا ہے ذرا معاشرہ قدیم اور معاشرہ جدید سے چند ایسے مشہور یا عام نام تو دیجئے کہ جو اس 'نکاح' کے نتیجے میں‌پیدا ہوئے اور معاشرے نے انہیں‌نہ صرف تسلیم کیا ہو بلکہ با عزت مقام بھی دیا ہو ؟؟؟

شوکت کریم بھائی،
آپکے استدلال کی تو بنیاد ہی بالکل غلط ہے کیونکہ سب سے پہلے یہ بتلائیے کہ اسلامی قوانین کو قبول کرنے یا نا کرنے میں معاشرہ اور اس معاشرے کی فطرت سلیم کی شرط کونسی شریعت میں ہے؟ اپنی اصلاح فرمائیے اور اپنے استدلال کی بنیاد آپ کو اللہ اور اُسکے رسول ص کی طرف سے لائی جانی والی شریعت کے اصولوں کی بنیاد پر رکھنی چاہیے۔

یاد رکھئیے اللہ کے احکامات کے حلال یا حرام ہونے کی شرط کسی معاشرے کی قبولیت عام نہیں ہے بلکہ یہ شرط بدعت و ضلالت ہے۔ معاشرے کے سٹینڈرڈز بدلتے رہتے ہیں اور اسی لیے ہر معاشرے میں چیزوں کی قبولیت عام ان کے عقیدے یا تعلیمات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

۔ مثال کے طور پر پچھلے زمانے میں یہ رواج عام تھا کہ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کر لیتے تھے، مگر آج بنیادی طور پر مغربی سٹینڈرڈز سے متاثر ہو کر ہمارے معاشرے میں آج مرد ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کرتے۔ (اور یہ فقط مغرب سے متاثر معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ہے ورنہ ہرگز ہرگز یہ بات نہیں کہ آجکے مرد حضرات قرون اولی کے مسلمانوں سے ایمان و تقوے میں بڑھے ہوئے ہیں اور اس لیے اپنے اوپرزیادہ ضبط و صبر کر کے ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کرتے)

۔ اسی طرح "آج" بہت سے لوگوں (مسلمانوں) کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام نے مالک کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنی کنیز باندی کے ساتھ بغیر نکاح کے ہمبستری کرے اور عارضی تعلق کے اُسے آگے فروخت کر دے یا کسی اور کے ساتھ عارضی نکاح پڑھوا دے۔
چنانچہ جب آج انہیں یہ بات بتلائی جاتی ہے تو وہ حیران و پریشان رہ جاتے ہیں۔ مگر پھر جب اسلام کی بات آتی ہے تو اس چیز کو عقیدے اور تعلیم کے نام پر قبول کر لیتے ہیں۔چنانچہ جو چیز "قبولیت عام" میں پہلے شامل نہ تھی، وہ عقیدہ اور تعلیم کا نام آنے کے بعد "قبولیت عام" کے درجے میں آ پہنچی اور مان لیا گیا کہ کنیز عورتوں کے معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لیے اللہ نے جو چیز حلال کی تھی وہ ان معاشرتی مسائل کا سب سے بہترین حل تھا۔
افسوس کہ یہ چیز کنیز عورت کے معاملے میں تو قبول کی جا رہی ہے، مگرجب معاشرتی مسائل کے حل کے لیے اللہ تعالی عقد متعہ کو طیبات و حلال میں سے قرار دیتا ہے تو پھر اس معاشرے کی "قبولیت عام" کی شرط کے نام پر اسکو حرام بنا دیا جاتا ہے۔


۔ جیسا میں نے اوپر بیان کیا کہ معاشرے کے سٹینڈرڈز عقیدے یا تعلیم کی بنیاد پر بدلتے رہتے ہیں۔ سوال آجکے معاشرے کا نہیں ہے، بلکہ سب سے پہلے آپ رسول اللہ ص اور اُس زمانے کے معاشرے کو دیکھیں اور آپ کو نظر آئے گا کہ اللہ کا حکم آنے کے بعد یہ چیز اُس معاشرے میں بغیر "اگر مگر" کے قبول کی گئی۔
اسکی کافی مثالیں میں اوپر دے آئی ہوں، مثلا:
1۔ عبداللہ ابن مسعود اور دیگر صحابہ کا رسول اللہ ص کے حکم سے عقد متعہ کرنا۔
2۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر کی گواہی کہ ہم رسول اللہ ص کے زمانے میں عقد متعہ کیا کرتے تھے
التَّلْخِيص الْحَبِير فِي تَخْرِيج أَحَادِيث الرَّافِعِيّ الْكَبِير < الصفحة

قَالَ : وَقَدْ ثَبَتَ عَلَى تَحْلِيلِهَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةٌ مِنْ السَّلَفِ , مِنْهُمْ مِنْ الصَّحَابَةِ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ , وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , وَابْنُ مَسْعُودٍ , وَابْنُ عَبَّاسٍ , وَمُعَاوِيَةُ , وَعَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ , وَأَبُو سَعِيدٍ , وَسَلَمَةُ , وَمَعْبَدُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ , قَالَ وَرَوَاهُ جَابِرٌ عَنْ الصَّحَابَةِ مُدَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمُدَّةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُدَّةَ عُمَرَ إلَى قُرْبِ آخِرِ خِلَافَتِهِ , قَالَ : وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ إنَّمَا أَنْكَرَهَا إذَا لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهَا عَدْلَانِ فَقَطْ , وَقَالَ بِهِ مِنْ التَّابِعِينَ طَاوُسٌ وَعَطَاءٌ , وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ , وَسَائِرُ فُقَهَاءِ مَكَّةَ قَالَ : وَقَدْ تَقَصَّيْنَا الْآثَارَ بِذَلِكَ فِي كِتَابِ الْإِيصَالِ , انْتَهَى كَلَامُهُ . فَأَمَّا مَا ذَكَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ فَأَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ مِنْ طَرِيقِ مُسْلِمٍ الْقَرِّيِّ قَالَ : { دَخَلْت عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلْنَاهَا عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ , فَقَالَتْ : فَعَلْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ }

امام ابن حجر العسقلان علامہ ابن حزم کے حوالے سے ان صحابہ اور تابعین کے ناموں کی لسٹ مہیا کر رہے ہیں جو کہ نکاح المتعہ کو حلال جانتے تھے۔ آپ لکھتے ہیں:
"رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی سلف کی ایک جماعت عقد متعہ کو حلال جانتی تھی۔ اور صحابہ میں سے یہ اسماء بنت ابی بکر، جابر بن عبداللہ انصاری، ابن مسعود، ابن عباس، معاویہ، عمروہ بن حریث، ابو سعید، سلمۃ اور معبد بن امیہ بن خلف وغیرہ ہیں۔ اوربیان ہے کہ صحابی جابر بن عبداللہ انصاری نے دیگر صحابہ سے روایت کی ہے کہ عقد متعہ حلال و جاری رہا رسول اللہ ص کے زمانے میں، اور پھر حضرت ابو بکر کے زمانے میں، اور پھر حضرت عمر کے دور خلافت کے تقریبا آخر تک۔ اور پھر وہ آگے روایت کرتے ہیں کہ پھر حضرت عمر نے اس سے منع کر دیا اگر دو عادل گواہ نہ ہوں۔ تابعین میں سے جو عقد متعہ کو حلال جانتے تھے ان میں طاؤس، عطاء، سعید بن جبیرشامل ہیں، اور پھر اہل مکہ کے فقہاء کی اکثریت عقد متعہ کو حلال جانتی تھی۔۔۔ اور پھر جو حضرت اسماء بنت ابی بکر کے متعلق روایت ہے، جسے نسائی نے مسلم القری سے روایت کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں: "ہم حضرت اسماء بنت ابی بکر کے پاس گئے اور ہم نے اُن سے عقد المتعہ کے متعلق سوال کیا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ: "ہم رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں نکاح المتعہ کیا کرتے تھے۔"

اوپر روایت میں جن صحابہ و تابعین کے نام درج ہیں وہ سب کے سب اعلانیہ ُاسی معاشرے میں عقد متعہ کرتے رہے اور یہ چیز اُس معاشرے میں "قبولیت عام" کے درجے میں رہی (تاوقتیکہ جناب عمر نے اس پر اپنی خلافت میں پابندی نہ لگا دی)۔

۔ اور جس طرح آج معاشرے میں عام ہے کہ معاشرے میں کچھ عورتیں "بوا خالہ" کا کردار ادا کرتے ہوئے نکاح دائمی کے رشتے کرواتی ہیں، اسی طرح اُس معاشرے میں بھی ایسی "بوا خالہ" تھیں جو اسی طرح عقد متعہ کے رشتے کرواتی تھیں۔ مثلا:

"صحابیہ ام عبداللہ بنت ابی خثیمہ فرماتی ہیں کہ شام سے ایک شخص سفر پر انکے پاس آیا اور کہا: "مجھ پر سخت دشوار گذر رہا ہے اور مجھے انتہائی طلب ہو رہی ہے، چنانچہ میرے لیے ایسی خاتون کا انتظام کیجئے جس سے میں عقد متعہ کر سکوں"۔ صحابیہ ام عبداللہ فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے اس شخص کو ایک خاتوں سے متعارف کروایا، اور وہ باہم رضامند ہوئے اور پھر انہوں نے گواہوں کے سامنے عقد متعہ کیا اور پھر وہ شخص اُس خاتون کے ساتھ اُسوقت تک رہا جبتک اللہ نے چاہا اور پھر آگے روانہ ہو گیا۔"
حوالہ: کنزالاعمال، جلد 7، حدیث 45726 [آنلائن لنک]

ان صحابیہ ام عبداللہ بنت ابی خثیمہ کے متعلق آپ یہاں پر پڑھ سکتے ہیں۔ [لنک: کتاب اسد الغابہ]۔ یہ صحابیہ سابقون میں اسلام قبول کرنے والی تھیں اور پھر مکہ سے حبشہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھیں۔ بلکہ انہوں نے دونوں ہجرتوں میں حصہ لیا اور یہ وہ تھیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی (لنک: کتاب الاستیعاب فی المعرفتۃ الاصحاب]

اسی طرح کے کئی اور واقعات ہیں جہاں جابر بن عبداللہ انصاری، اور دیگر صحابہ و تابعین کہہ رہے ہیں کہ اُس معاشرے میں انہیں عقد متعہ کرنے میں کوئی مشکل نہ تھی (جناب عمر کے زمانے تک) کیونکہ اُس وقت اُس معاشرے نے اسے ُقبولیت عام" کا درجہ دے رکھا تھا۔ اور پھر حضرت عمرکے دور کے بعد مکہ شہر کے معاشرے میں پھر بھی عقد متعہ ابن عباس کے زیر اثر "قبولیت عام" کے درجے پر رہا اور حضرت ابن عباس کے بعد انکے تابعین شاگرد (جن سے سینکٹروں روایات بخاری و مسلم و نقل کی گئ ہیں) کے زیر اثر اس مکہ کے معاشرے میں یہ چیز جاری و ساری رہی۔

اسی طرح ابن عباس کا کا واقعہ ہے جنہیں حضرت عمر کے دور سے قبل جو بچے معاشرے میں عقد متعہ سے پیدا ہوئے اُسکا انہیں علم تھا۔ امام اہلسنت ابو جعفر احمد الطحاوی اپنی کتاب شرح المعانی الاسرار، جلد 3، صفحہ 24، باب المتعہ میں ابن جبیر سے روایت نقل کر رہے ہیں جہاں ابن عباس اور عبداللہ ابن زبیر میں عقد متعہ پر اختلاف کھڑا ہوا تھا، اور ابن زبیر نے بالکل آپ ہی کی طرح ابن عباس سے ان عقد متعہ سے پیدا ہونے والے بچوں کے متعلق سوال کیا تھا۔ ذرا دیکھئے گا کہ ابن عباس نے ابن زبیر کو پھر کیا جواب دیا:
"سمعت عبد الله بن الزبير يخطب وهو يعرض بابن عباس يعيب عليه قوله في المتعة فقال بن عباس يسأل أمه إن كان صادقا فسألها فقالت صدق بن عباس قد كان ذلك فقال بن عباس رضي الله عنهما لو شئت لسميت رجالا من قريش ولدوا فيها

یعنی ابن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ ابن زبیر کو خطبے میں ابن عباس کی مذمت کرتے سنا کیونکہ وہ عقد متعہ کو حلال و جائز جانتے تھے۔ اس پر ابن عباس نے اُسے کہا کہ اگر وہ (عقد متعہ کے حرام ہونے کے اپنے دعوے میں) سچا ہے تو پہلے جا کر اپنی والدہ سے اسکے متعلق دریافت کر لے۔ اس پر ابن زبیر کی والدہ نے گواہی دی کہ حضرت ابن عباس صدق بات کہہ رہے ہیں۔ ابن عباس نے مزید فرمایا تو اگر چاہے تو میں اُن تمام افراد کے نام تجھے بتا دوں جو قریش سے ہیں اور عقد المتعہ کے تحت پیدا ہوئے ہیں۔


*************************

کاؤنٹر سوال:معاشرے کی "قبولیت عام" میں مالک اپنی کنیز باندی سے پیدا شدہ بچے کا نسب ٹھکرا سکتا ہے اور اسے اپنے بیٹے کی جگہ اپنا غلام بنا سکتا ہے

شوکت کریم برادر،
معذرت کہ مجھے یہ مثال دینا پڑ رہی ہے اور ہم یہاں صحیح یا غلط کی بحث نہیں کر رہے مگر آپ معاشرے کی "قبولیت عام" کی بات کرتے ہیں تو دیکھئے کہ معاشرے نے تو اس بات کو بھی قبول کیا کہ ایک شخص اپنی کنیز باندی سے ہمبستری کرتا ہے اور وہ حاملہ ہو جاتی ہے تب بھی بچے کا نسب اُس وقت تک باپ سے نہیں جڑے گا جبتک کہ وہ مالک (باپ) خود اس نسب کو قبول نہ کرے، وگرنہ دوسری صورت میں بچہ غلام بن جائے گا اور کوئی قاضی کوئی عدالت اس مالک (باپ) کو مجبور نہی کر سکتی کہ وہ اس بچے کے نسب کو قبول کرے۔

امام احمد بن حنبل کے بیٹے (محمد بن حنبل) فقہی حکم بیان فرماتے ہیں:
وولد أم الولد ثابت من المولى ما لم ينفه لأنها فراش له وقال عليه الصلاة والسلام الولد للفراش ولكن ينتفي عنه بمجرد النفي عندنا
ترجمہ: یعنی ایک کنیز باندی کا بچہ کا نسب اُسوقت تک مالک سے جوڑا جائے گا جبتک کہ وہ مالک اسکا انکار نہیں کرتا۔ ۔۔۔ہمارے نزدیک بچے کا نسب مالک سے نہیں جڑتا اگر وہ اسکا انکار کر دیتا ہے۔
حوالہ: کتاب المبسوط، جلد 2، صفحہ 152

یہی بات فقہ کی مستند کتاب "فتح القدیر شرح ہدایہ" جلد 10، صفحہ 329 پر موجود ہے:

أم الولد بسبب أن ولدها ، وإن ثبت نسبه بلا دعوة ينتفي نسبه بمجرد نفيه ، بخلاف المنكوحة لا ينتفي نسب ولدها إلا باللعان .
یعنی کنیز باندی کا بچہ، جس کی ولدیت اگر بغیر کسی ثبوت کے بھی ثابت ہو سکتی ہو، مگر اگر مالک اسکا انکار کر دے تو بچے کا نسب جاری نہ ہو گا اور یہ حکم (آزاد عورت سے کیے گئے) نکاح کے برخلاف ہے جہاں ایک بچے کی ولدیت سے اُسوقت تک انکار نہیں کیا جا سکتا جبتک کہ "لعان" کی منزل نہ طے کر لی جائے۔

اور امام شوکانی نے اپنی مشہور کتاب نیل الاوطار، جلد 7، صفحہ 77 پر فرماتے ہیں:​
وروي عن أبي حنيفة والثوري وهو مذهب الهادوية أن الأمة لا يثبت فراشها إلا بدعوة الولد ولا يكفي الإقرار بالوطئ ، فإن لم يدعه كان ملكا له
یعنی ابی حنیفہ سے مروی ہے اور الثوری سے بھی اور یہ ھادویہ مذہب ہے کہ کنیز باندی کے بچے کا نسب باپ (مالک) کے دعوے کے بغیر ثابت نہیں ہوتا، اور فقط ہمبستری کر کے وطی کرنا کافی نہیں ہے۔ اور اگر وہ (مالک باپ) نسب کا دعوی نہیں کرتا تو پھر وہ بچہ اُس (مالک باپ) کے لیے غلام بن جائے گا۔
حوالہ: نیل الاوطار از امام شوکانی، جلد 7، صفحہ 77 [آنلائن لنک]

[نوٹ: مجھے نہیں علم کہ آج اہلسنت کے تمام فقہ اس فقہی حکم کو مانتے ہیں یا نہیں، مگر میں نے فقط اس نیت سے آپ کو یہ مثال دی ہے کہ آپ سمجھیں کہ معاشرے نے تو اس چیز کو بھی "قبولیت عام" کا درجہ دے دیا تھا، چنانچہ ہم شریعت کے حلال و حرام کا فیصلہ معاشرے کے سٹنیڈرڈ پر نہیں چھوڑتے بلکہ ہمیں قرآن و سنت میں موجود نصوص کو بطور دلیل پیش کرنا ہے۔

کاؤنٹر سوال نمبر 2: معاشرے نے تو "بچیوں" کا ختنہ جیسی رسم کو بھی قبولیت عام کا درجہ دیا
حدثنا ‏ ‏سريج ‏ ‏حدثنا ‏ ‏عباد يعني ابن العوام ‏ ‏عن ‏ ‏الحجاج ‏ ‏عن ‏ ‏أبي المليح بن أسامة ‏ ‏عن ‏ ‏أبيه ‏
‏أن النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏قال ‏ ‏الختان ‏ ‏سنة للرجال مكرمة للنساء

یعنی ختنہ کروانا مرد کے لیے سنت ہے اور عورت کے لیے اعزاز کی بات ہے
حوالہ: مسند احمد بن حنبل، جلد 5، حدیث 19794 [آنلائن لنک]

اور امام نؤوی اپنی کتاب " المجموع شرح المھذب" (جلد 1، صفحہ 348، کتاب الطہارۃ) میں لکھتے ہیں:
( فرع ) الختان واجب على الرجال والنساء عندنا وبه قال كثيرون من السلف
"ختنہ کروانا مرد و عورت پر واجب ہے اور سلف کی اکثریت کا قول ہے۔"
اور پھر آگے مزید فرماتے ہیں:
والمذهب الصحيح المشهور الذي نص عليه الشافعي رحمه الله وقطع به الجمهور أنه واجب على الرجال والنساء ، ودليلنا ما سبق . فإن احتج القائلون بأنه سنة بحديث : الفطرة عشرة ومنها الختان ، فجوابه قد سبق عند ذكرنا تفسير الفطرة والله أعلم .
"اور صحیح اور مشہور مذہب جس کی تائیڈ امام شافعی رحمۃ اللہ اور جمہور کرتے ہیں وہی یہ ہے کہ مرد و عورت پر ختنہ کروانا واجب ہے۔۔۔۔۔
حوالہ: المجموع شرح المھذب از امام النؤوی، جلد 1، صفحہ 348، کتاب الطہارۃ [آنلائن لنک]
عورت کے ختنے کے متعلق مزید پڑھئیے فقہ کی کتاب فتح القدیر، شرح ہدایہ، جلد 1، صفحہ 106، باب الغسل میں [آنلائن لنک]

مجھے یہ مثالیں بطور کاؤنٹر سوال کے پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے تاکہ آپ احساس کر سکیں کہ معاشرے کی "قبولیت عام" کی کوئی اتنی اہمیت نہیں ہے اور بنیادی چیز قرآن و سنت میں پائے جانے والی نصوص ہیں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ایک بار پھر، اوپر کنیز عورت کے بچے یا "بچیوں"کی ختنے کے متعلق جو میں نے مثالیں بیان کی ہیں، اگر ان سے کسی بھائی کا دل دکھا ہو تو مجھے معاف فرمائیے گا، میرا مقصد کسی کی بھائی یا بہن کی دل شکنی نہیں بلکہ میں مجبور تھی کہ میں چند تلخ Realities کو بطور مثال پیش کروں۔
*******************
بہن میں نے آپ ہی کے کتب کے حوالے دیئے ہیں چیک کر لیں

گرافک بھیا،
آپکی اس سادگی پر قربان۔

دیکھئیے، آپس کی بات ہے آپ جو اپنے حوالے میں جو توڑ مڑوڑ کر بالکل جھوٹئ بات اور جھوٹی بہتان تراشی امام خمینی پر کی ہے، میں اس سے بہت پہلے سے واقف ہوں کیونکہ آپ پہلے نہیں ہیں جو فریق مخالف کو بدنام کرنے کے لیے یہ Tactics استعمال کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ پورا ایک گروہ ہے جو ایسی گھناؤنی حرکتوں میں ملوث ہے، اور اس سے بھی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ حرکتیں صدیوں سے جاری ہیں اور یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں اپنے مقصد میں بالکل کامیاب ہیں اور اسطرح انہوں نے جو جھوٹا پروپیگنڈا کیا ہے وہ نفرتیں پھیلانے میں بالکل کامیاب ہے۔

آپ نے انتہائی غلط چیز لکھی ہے:
از گرافک بھیا:
۔۔۔۔لیکن عصر حاضر کے کلینی یعنی ''آیت اﷲخمینی '' نے بدکار اور فاحشہ عورتوں کے ساتھ زنا کرنے کی ترغیب دی ہے ۔ (تحریر الوسیلۃ ،آیت اﷲ خمینی ۔ج٢ص ٣٩٠)

میرے سامنے اس وقت امام خمینی کا اصل فتوی اور اصل عبارت موجود ہے، اور اسی لیے میں آپ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ آپ صرف کتاب کا نام نہ لیں، بلکہ پوری عبارت پیش کریں۔

اور جب آپ پوری عبارت صحیح طور پر پیش کر چکیں، تو پھر آپکو احساس ہو گا کہ آپ نے کیسا غلط الزام لگایا ہے اور یہ انتہائی بڑا اخلاقی جرم ہے کہ دوسروں پر ایسے تہمت لگائی جائے، اور میں نے متعصب غیر مسلموں کو اسلام اور رسول اللہ ص پر ایسے ہی غلط بیانیاں کر کے بہتان تراشیاں کرتے دیکھا ہے۔

نیز شیعہ علماء یا امام خمینی نے جو فتوی دیا ہے، وہی فتوے اہلسنت فقہاء کے ہیں اور میرے پاس اہلسنت فقہاء کے انہی فتوؤں کا پورا دفتر موجود ہے۔ چنانچہ آپ ایک مرتبہ درست عبارت پیش فرمائیے، اسکے بعد میں اس دفتر کو سب کے سامنے پیش کرتی ہوں۔ انشاء اللہ۔
 

مہوش علی

لائبریرین
السلام علیکم
ادب کے ساتھ عرض ہے کہ جوشِ جذبات میں لکھتے ہوئے اگر آپ کو اپنے قلم پر قابو نہیں رہتا تو کم سے کم صحابہ و صحابیات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے الفاظ پر مکرر نظر دوڑا لیا کریں۔ مہربانی ہوگی۔
آپ ایک طرف تو لاعلمی (خبر ہی نہیں ہوتی) بھی کہتی ہیں اور دوسری طرف "زناکاری کرتے رہتے ہیں" جیسا قبیح فقرہ بھی استعمال کر جاتی ہیں۔

آپکو غلط فہمی ہوئی ہے۔ "زناکاری کرنے" کا اشارہ کسی کی ذات کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ اشارہ "اس غلطی کی شدت" کی طرف ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں یہ فعل انجام پایا اور جس سے آپکو کوئی انکار نہیں ہے (چاہے لاعلمی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہوا ہو)۔ اور یہ سب کچھ (معاشرے میں پیش آنے والا غیر اخلاقی فعل) یہ سب کچھ فقط آپ لوگوں کے دعوے کے مطابق ہے ورنہ ہمارے نزدیک نہ یہ لاعلمی تھی اور نہ ہی اسکی بنیاد پر کوئی غیر اخلاقی فعل، بلکہ عین شریعت اسلامی کے مطابق پاکیزہ طیبات حلال چیزوں والا کام کیا گیا۔

****************
اب اصل مسئلے کی طرف آئیے۔
یہ بتلائیے کہ واقعی آپ یقین رکھتے ہیں کہ ان سالہا سال تک "لاعلمی" کی بنیاد پر معاشرے میں یہ غیر اخلاقی افعال انجام پاتے رہے اور کبار صحابہ تک کو اپنی زندگی کے آخر تک رسول اللہ ص کی اس بیان کردہ حرمت سے لاعلمی رہی (جی ہاں یہ بات صرف حضرت عمر کے دور تک آ کر نہیں رک گئی، بلکہ ابن عباس مرتے دم تک اس حرمت کو نہیں مانتے تھے (آخری عمر میں ابن عباس نابینا ہو گئے تھے اور اسوقت انکا ابن زبیر سے عقد متعہ پر مباحثہ ہوا) اور نہ انکے بعد انکے شاگرد تابعین نے اس حرمت کو کبھی مانا اور نہ اہل مکہ کے فقہاء کی اکثریت نے)
 

مہوش علی

لائبریرین
آپ نے لکھا :

بہتر ہوتا کہ سعودی فقہ اکیڈمی کا وہ فیصلہ بھی آپ ضرور بتاتیں تاکہ اسی "اختلافِ رائے" کی حقیقت بھی قارئین کے سامنے آتی جس ہی "اختلافِ رائے" کو قبول کرنے کے متعلق آپ نے بلند آہنگ لہجہ اپنایا تھا !!

سعودی فقہ اکیڈمی کا صاف اور واضح فیصلہ تو یہ ہے کہ :
طلاق كى نيت سے شادى كرنا حرام ہے



یہ فتویٰ اردو میں : طلاق كى نيت سے شادى كرنا حرام ہے
عربی میں : الزواج بنية الطلاق محرم

باذوق بھائی،
فقہ اکیڈمی کا فتوی پیش کرنا میری ذمہ داری نہیں اور نہ ہی بن شیخ بن باز اور انکی مستقل فتوی کمیٹی کے اس فتوے کے دفاع کی ذمہ داری میری ہے۔۔۔ بلکہ میرا بنیادی موضوع عقد المتعہ ہے اور میں تو ابتک اپنے اس بنیادی موضوع کے متعلق نصوص و دلائل کا چوتھائی حصہ بھی نہیں پیش کر پائی ہوں۔

اور اگر آپ شیخ بن باز اور مستقل کمیٹی کے مسیار شادی کے فتوے سے متفق نہیں تو یہ آپکا حق تھا کہ فقہ اکیڈمی کا فتوی پیش کرتے۔

بہرحال، آپکی ذمہ داری فقط فقہ اکیڈمی کے اس فتوے کو پیش کرنے کے بعد ختم نہیں ہو گئی ہے، بلکہ اگلے یہ سوالات آپکے منتظر ہیں:

۔ کیا اب آپ کھل کر مسیار شادی کو زناکاری کہتے ہیں؟
۔ جو سعودی حضرات اس مسیار شادی میں ملوث ہیں، کیا ان کو آپ سنگسار کریں گے (یا پھر جو بھی اسکی سزا ہے وہ ان پر جاری کریں گے)؟
۔ یا پھر شیخ بن باز، سعودیہ کی مستقل فتوی کمیٹی، اور ان مسیار شادی کرنے والے حضرات پر "اختلاف رائے"، "اجتہادی غلطی" وغیرہ جیسی چیزوں کے نام پر کوئی حد جاری نہیں کریں گے؟
[سعودیہ میں ابھی تک ایسی کسی حد کو جاری ہوتے میں نے نہیں سنا ہے]
۔ "اختلاف رائے" اور "اجتہادی غلطی" جیسی اصطلاحات کو آپ فقط شیخ ابن باز اور مستقل فتوی کمیٹی تک محدود رکھتے ہیں، یا پھر آپ اُن صحابہ کو بھی "اختلاف رائے" اور "اجتہادی غلطی" کا حق دیں گے جو عقد متعہ کو جائز و حلال جانتے تھے؟ اور پھر ان صحابہ سے آگے بڑھ کر اگر یہ بات اہل تشیع فقہ تک جائے تو کیا پھر بھی یہ "اختلاف رائے" کا حق اور "اجتہادی غلطی" کا "سنگل اجر" جاری رہے گا یا پھر یہاں یہ چیز بدکاری اور قابل حد بن جائے گی؟
 

مہوش علی

لائبریرین
از ابو عثمان:
"اِلٰی اَجَلٍ مسمَّی" کی قرأت کا جواب
امامیہ حضرات کہتے ہیں کہ بعض روایات میں مذکور ہے کہ بعض قرأت میں "فما استمتعتم بہ منھن" کے بعد" الی اجل مسمی" بھی پڑھا گیا ہے، اب معنٰی یوں ہوگا: جن عورتوں سے تم نے مدت معینہ تک فائدہ اٹھایا ان کو اجرت دے دو یہ بعینہ متعہ ہے کیونکہ اب آیت میں مدت اور اجرت دونوں کاذکر آگیا اور یہی متعہ کے ارکان ہیں،۔۔۔۔۔

ابو عثمان بھائی،
آپکی پانچ غلطیوں کی نشاندہی میں نے پچھلی پوسٹ میں کر دی تھی۔ اب اس چھٹی غلطی کی طرف آئیے۔ یہاں پر آپ نے ایک جگہ نہیں بلکہ کئی جگہ غلطیاں کی ہوئی ہیں۔
۔ مثلا یہ امامیہ نہیں کہتے، بلکہ یہ آپکی اپنی کتب میں موجود روایات کہتی ہیں اور امامیہ کا آپکی ان کتب سے تعلق نہیں۔ جتنے جید مفسرین ہیں، چاہیے ابن جریر طبری ہو، قرطبی ہو، یا پھر ابن کثیر ہوں یا کوئی مفسر ہو، اُن سب نے یہ روایات نقل کی ہیں۔

۔دوم آپ جرح کرتے وہی کچھ غلط Tactics استعمال کر رہے ہیں، اور وہ یہ کہ فن حدیث کے ماہرین ائمہ کے نزدیک "شیعہ" سے مراد آجکے شیعہ حضرات نہیں ہوتے بلکہ وہ اہلسنت حضرات مراد ہوتے ہیں جو سیاسی طور پر امیر معاویہ ابن ابی سفیان کے مقابلے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب کے حامی تھے۔ لہذا ان سیاسی شیعوں کا آج کے "عقیدتی امامی شیعوں" سے کوئی تعلق نہیں بلکہ عقیدتا وہ مکمل طور پر اہلسنت فقہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں، چنانچہ عقد متعہ کے مسئلے پر انکی گواہی فقط اس بات پر نہیں ٹھکرائی جا سکتی کہ وہ شیعہ (سیاسی شیعہ) تھے۔
آجکل کے عقیدتی امامی شیعہ حضرات کو ماضی میں "رافضی" کا نام دیا جاتا تھا۔

۔ ۔ سوم آپ نے اص موضوع پر فقط تین روایات پیش کیں اور بقیہ کو چھپا گئے ہیں یا پھر نظر انداز کر گئے ہیں اور یہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔

**************************

آئیے اس موضوع پر وہ تمام روایات دیکھتے ہیں جو اوپر چھپا لی گئی ہیں۔

اہل تشیع کے نزدیک عقد متعہ کے متعلق قرآن کی سورۃ النساء کی آیت 24 نازل ہوئی:

[القرآن 4:24] والمحصنات من النساء الا ما ملكت ايمانكم كتاب الله عليكم واحل لكم ما وراء ذلكم ان تبتغوا باموالكم محصنين غير مسافحين فما استمتعتم به منهن فاتوهن اجورهن فريضة ولا جناح عليكم فيما تراضيتم به من بعد الفريضة ان الله كان عليما حكيما
ترجمہ: اورتم پر حرام ہیں شادی شدہ عورتیں- علاوہ ان کے جو تمہاری کنیزیں بن جائیں- یہ خدا کا کھلا ہوا قانون ہے اور ان سب عورتوں کے علاوہ تمہارے لئے حلال ہے کہ اپنے اموال کے ذریعہ عورتوں سے رشتہ پیدا کرو عفت و پاک دامنی کے ساتھ سفاح [زناکاری] کے ساتھ نہیں پس جو بھی ان عورتوں سے استمتاع [عقد متعہ کے لیے استعمال ہونے والی شرعی اصطلاح] کرے ان کی اجرت انہیں بطور فریضہ دے دے اور فریضہ کے بعد آپس میں رضا مندی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے بیشک اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے

مگر بہت سے صحابہ مثلا ابن عباس، عبداللہ ابن مسعود، ابی ابن کعب وغیرہ کی قرآت میں " فما استمتعتم بہ منھن " کے بعد "الی اجل مسمی" کے الفاظ کا اضافہ تھا، یعنی "اور جن عورتوں سے تم ایک مقررہ مدت تک کے لیے استمتاع کرو۔۔۔۔۔"
چنانچہ ان صحابہ کی قرآت کے بعد کوئی شک و شبہے کی گنجائش ہی باقی نہیں بچتی کہ اللہ تعالی قرآن میں نکاح المتعہ کا حکم دے رہا ہے۔

اوپر ابو عثمان بھائی نے صرف تین حوالے دیے اور بقیہ کو گول کر گئے ہیں۔ بہرحال آئیے اصل حقیقت دیکھتے ہیں۔

"الی اجل مسمی" کے ثبوت برادران اہلسنت کی حدیث کتب سے




تفسیر طبری میں امام جریر طبری [آنلائن لنک] نے 7 روایات مختلف اسناد سے نقل کی ہیں۔




7179 - حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن الْحُسَيْن , قَالَ : ثنا أَحْمَد بْن مُفَضَّل , قَالَ : ثنا أَسْبَاط , عَنْ السُّدِّيّ : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى فَآتُوهُنَّ أُجُورهنَّ فَرِيضَة

وَلَا جُنَاح عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْد الْفَرِيضَة " . فَهَذِهِ الْمُتْعَة الرَّجُل يَنْكِح الْمَرْأَة بِشَرْطٍ إِلَى أَجَل مُسَمًّى , وَيُشْهِد شَاهِدَيْنِ , وَيَنْكِح بِإِذْنِ وَلِيّهَا , وَإِذَا اِنْقَضَتْ

الْمُدَّة فَلَيْسَ لَهُ عَلَيْهَا سَبِيل وَهِيَ مِنْهُ بَرِيَّة , وَعَلَيْهَا أَنْ تَسْتَبْرِئ مَا فِي رَحِمهَا , وَلَيْسَ بَيْنهمَا مِيرَاث , لَيْسَ يَرِث وَاحِد مِنْهُمَا صَاحِبه .

7181 - حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْب , قَالَ : ثنا يَحْيَى بْن عِيسَى , قَالَ : ثنا نُصَيْر بْن أَبِي الْأَشْعَث , قَالَ : ثني حَبِيب بْن أَبِي ثَابِت , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : أَعْطَانِي اِبْن عَبَّاس مُصْحَفًا ,

فَقَالَ : هَذَا عَلَى قِرَاءَة أُبَيّ . قَالَ أَبُو كُرَيْب , قَالَ يَحْيَى : فَرَأَيْت الْمُصْحَف عِنْد نُصَيْر فِيهِ : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى "

7182 - حَدَّثَنَا حُمَيْد بْن مَسْعَدَة , قَالَ : ثنا بِشْر بْن الْمُفَضَّل , قَالَ : ثنا دَاوُد , عَنْ أَبِي نَضْرَة , قَالَ : سَأَلْت اِبْن عَبَّاس عَنْ مُتْعَة النِّسَاء , قَالَ : أَمَا تَقْرَأ سُورَة النِّسَاء

؟ قَالَ : قُلْت بَلَى . قَالَ : فَمَا تَقْرَأ فِيهَا : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى " ؟ قُلْت : لَا , لَوْ قَرَأْتهَا هَكَذَا مَا سَأَلْتُك ! قَالَ : فَإِنَّهَا كَذَا.

7183 - حَدَّثَنَا اِبْن الْمُثَنَّى , قَالَ : ثنا أَبُو دَاوُد , قَالَ : ثنا شُعْبَة , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عُمَيْر : أَنَّ اِبْن عَبَّاس قَرَأَ : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى " .

7184 - حَدَّثَنَا اِبْن بَشَّار , قَالَ : ثنا عَبْد الْأَعْلَى , قَالَ : ثنا سَعِيد , عَنْ قَتَادَة , قَالَ : فِي قِرَاءَة أُبَيّ بْن كَعْب : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى

7186 - حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى , قَالَ : ثنا أَبُو نُعَيْم , قَالَ : ثنا عِيسَى بْن عُمَر الْقَارِئ الْأَسَدِيّ , عَنْ عَمْرو بْن مُرَّة أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيد بْن جُبَيْر يَقْرَأ : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ

إِلَى أَجَل مُسَمًّى فَآتُوهُنَّ أُجُورهنَّ "

7187 - حَدَّثَنَا اِبْن وَكِيع , قَالَ : ثنا أَبِي , عَنْ عَبْد الْعَزِيز بْن عُمَر بْن عَبْد الْعَزِيز , قَالَ : ثني الرَّبِيع بْن سَبْرَة الْجُهَنِيّ , عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ :

" اِسْتَمْتَعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاء " وَالِاسْتِمْتَاع عِنْدنَا يَوْمئِذٍ التَّزْوِيج . وَقَدْ دَلَّلْنَا عَلَى أَنَّ الْمُتْعَة عَلَى غَيْر النِّكَاح الصَّحِيح حَرَام فِي غَيْر هَذَا الْمَوْضِع مِنْ كُتُبنَا بِمَا أَغْنَى عَنْ

إِعَادَته فِي هَذَا الْمَوْضِع. وَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنْ أُبَيّ بْن كَعْب وَابْن عَبَّاس مِنْ قِرَاءَتهمَا : " فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى " فَقِرَاءَة بِخِلَافِ مَا جَاءَتْ بِهِ مَصَاحِف

الْمُسْلِمِينَ , وَغَيْر جَائِز لِأَحَدٍ أَنْ يُلْحِق فِي كِتَاب اللَّه تَعَالَى شَيْئًا لَمْ يَأْتِ بِهِ الْخَبَر الْقَاطِع الْعُذْر عَمَّنْ لَا يَجُوز خِلَافه .
اور عبداللہ ابن مسعود کی قرآت بھی الی اجل مسمی کی تھی

عبداللہ ابن مسعود بھی اس آیت کی قرآت کے ساتھ الی اجل مسمی کا اضافہ کرتے تھے۔
حوالے:
1۔ امام نووی کی شرح صحیح مسلم، جلد 9، صفحہ 179
2۔ عمدۃ القاری، شرح صحیح بخاری از امام بدر الدین عینی، جلد 18، صفحہ 208
3۔ تفسیر روح المعانی، جلد 5، صفحہ 5
ابن عباس سے ایک اور صحیح روایت

اور امام جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر در المنثور میں لکھتے ہیں:
"روایت نقل کی ہے عبد ابن حمید، ابن جریر ، الانباری نے اپنی کتاب مصحف میں اور الحاکم نے او ر اسے صحیح قرار دیا ہے، روایت کرتے ہیں ابی نضرہ سے جنہوں نے فرمایا: میں نے ابن عباس کے سامنے آیت پڑھی "فَمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورهنَّ فَرِيضَة" (یعنی بغیر الی اجل مسمی کے) تو اس پر ابن عباس نے فرمایا :"یہ اس طرح ہے"َمَا اِسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَل مُسَمًّى" (یعنی الی اجل مسمی کے ساتھ)۔ اسپر میں نے کہا کہ پر ہم تو اسے ایسے نہیں پڑھتے تو ابن عباس نے جواب دیا :" واللہ لا نزلھا اللہ کذلک" یعنی اللہ کی قسم یہ ایسے ہی نازل ہوئی تھی۔
اس روایت کا آنلائن عکس دیکھئیے


امام ذہبی کی گواہی کہ یہ روایت صحیح ہے

اس روایت کو امام حاکم نے اپنی مستدرک کی جلد دوم صفحہ 334 پر نقل کیا تھا اور اسے بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح قرار دیا تھا۔ جبکہ امام الذہبی نے مستدرک کے حاشیے پر اسے امام مسلم کی شرائط پر صحیح روایت قرار دیا ہے۔


ابن عباس کے علاوہ دیگر اصحاب کی لسٹ جو ان اضافی الفاظ کی قرآت کا نظریہ رکھتے ہیں

1۔ ابن عباس (روایات اوپر دیکھیں)
2۔ عبداللہ ابن مسعود (روایت اوپر دیکھیں)
3۔ ابی ابن کعب (روایات اوپر دیکھیں)
4۔ السدی (روایت اوپر دیکھیں۔امام طبری کے علاوہ ا بن کثیر نے بھی انکی اس روایت کو اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے)
5۔ طلحہ ابن مصرف (تفسیر ثعلبی میں امام ثعلبی نے ان کی روایت نقل کی ہے)
6۔ مقاتل (تفسیر سمرقندی میں امام سمرقندی نے ان کی روایت نقل کی ہے )


صحیح بخاری میں ابن ابی کعب اور ابن مسعود کے متعلق روایت ہے:
میں نے رسول اللہ ص کو کہتے سنا کہ قرآن ان چار افراد سے سیکھو، عبداللہ ابن مسعود، سلیم، معاذ اور ابی ابن کعب۔”
حوالہ: صحیح بخاری، انگلش ورژن، جلد 6، حدیث 521


مفسر قرآن ابن عباس کا رتبہ

کچھ لوگ ابن عباس کی کمسنی کا عذر پکڑ کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں جو لاحاصل ہے۔ ابن عباس فقیہ اور بلند ترین پائے کی مفسر قرآن تھے۔

ابن کثیر نے انکی یہ روایات اپنی تفسیر میں جگہ جگہ درج کی ہیں، اور اپنی کتاب البدایہ والنہایہ جلد 8، صفحہ299 پر لکھتے ہیں:
"ابن عباس اس معاملے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص تھے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد صلعم پر کیا نازل فرمایا ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ قران کا مفسر ابن عباس ہے۔ اور وہ ابن عباس کو کہا کرتے تھے: "تم نے وہ علم حاصل کیا ہے جو ہم حاصل نہ کر پائے، تم خدا کی کتاب کے متعلق سب سے زیادہ ماہر ہو۔"

ان اضافی الفاظ کی قرآت کے متعلق شاہ ولی اللہ کا نظریہ

اور ازالۃ الخفا [صفحہ 77، باب 7] میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ان اضافی الفاظ کے متعلق لکھتے ہیں:
ان اضافی الفاظ کی قرآت کے متعلق اختلاف ہے۔ قاضی ابو طیب اور بہت سے دیگر علماء اس قرآت کو جائز جانتے ہیں اور امام ابو حنیفہ کا نظریہ بھی یہی ہے۔
جبکہ دیگر کچھ علماء کہتے ہیں کہ یہ الفاظ "حدیث قدسی" تھے یعنی بطور قرآن کی تفسیر بذات خود اللہ کی طرف سے براہ راست نازل ہوئے تھے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
السلام و علیکم مہوش ،
آپ اپنے پوائینٹ کی حمائیت میں اگر کچھ احادیث، صحیح مسلم کی پیش کر رہی ہیں، تو جو احادیث اسکے ممنوع میں جا رہی ہیں، انہیں پس پشت ڈالنے کا کیا جواز ہے؟ انہیں بھی پیش کرنا تھا۔
یہاںابو عثمان نے احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ مدلل جوابات دئیے مگر آپ نے ان تمام احادیث کو پس پشت ڈال دیا:

اسکے علاوہ، صحیح مسلم کی حدیث جو آپ نے آن لائن صحیح مسلم کی انگریزی سائٹ سے کاپی کی، اسی جگہ پر یہ پورا مضمون موجود ہے جس میں متعدد احادیث میں متعہ کا منع کرنا بھی موجود ہے اور آپ انہیں‌چھپا کر اسے جائز کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔مثلاًیہاں دیکھئے۔ یہ آپ کا ہی پوسٹ کیا ہوا لنک ہے اور ادھر ایک پورا باب لکھا ہے جس کا عنوان ہے:
chapter 3: Temporary marriage and its prohibition for all times to come
اور اسکے نیچے وہ احادیث بھی ہیں جن میں اس کام کی مخصوص حالات میں وقتی طور پر اجاز ت دی گئی اور وہ احادیث اور روایات بھی جن میں اسے پھر منع کر دیا گیا۔ اگر آپ کو نظر نہیں آتیں تو بتا دیجئے گا، میں بعد میں اردو میں ترجمہ کر کے یا کروا کے پیش کر دوں گا۔ اور ان میں سے کچھ احادیث تو برادر ابو اعثمان اپنی اس پوسٹ میں پیش کر چُکے ہیں

میری گزارش ہے کہ یہاں سیاست سے پرہیز کریں اور دین پر بات کرنی ہے تو مکمل طور پر بات کریں۔

فرخ برادر،
آپ سے گذارش ہے کہ میرا مؤقف سنے بغیر مجھ پر کسی قسم کا الزام نہ لگائیے۔ نہ میں ادھر سیاست کر رہی ہوں اور نہ ادھوری گفتگو، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ گفتگو لمبی ہے اور آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ساتھ تکمیل تک پہنچے گی۔

صحیح مسلم کی یہ ساری روایات میں کئی بار پڑھ چکی ہوں، اور وقت اور موقع آنے پر ان سب پر تفصیلی جرح بیان کروں گی اور آپ دیکھیں گے یہ یہ صحیح کہلائے جانے والی رویات خود ایک دوسرے کے متضاد ہیں اور ایک دوسرے کا رد کر رہی ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی وقت میں یہ سب کی سب صحیح مانیں جائیں۔ ان میں سے زیادہ سے زیادہ ایک صحیح ہو سکتی ہے، یا پھر دوسری آپشن یہ ہے کہ یہ سب کی سب غلط گھڑی ہوئی روایات ہیں، اور اسکی وجہ یہ ہے کہ صحیح احادیث کا ایک مکمل مجموعہ ایسا ہے جو مل کر ان آپس کی متضاد روایات کا رد کرتا ہے۔

چیزیں اس ترتیب میں نہیں چل رہیں جس ترتیب سے میں چلنا چاہتی تھی، اور پہلے ہی بہت سے حضرات اپنے اپنے اعتراضات بیان کر چکے ہیں اور میرے لیے ممکن نہیں کہ ایک ہی نشست میں ان سب اعتراضات کے جوابات دیے جائیں، بلکہ مجھے جوابات ڈھونڈنے اور چیزیں جمع کرنے کے لیے بہت وقت کی ضرورت ہے تاکہ گفتگو کو ہم اچھے طریقے سے جاری رکھ سکیں بمع ثبوت و دلائل۔

مثال کے طور پر آپ اپنے اس مراسلے میں مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں صحیح مسلم کی ان روایات پر تبصرہ کروں، اور دوسری طرف آپ ابن حسن صاحب کے مراسلے پر شکریہ کا ٹیگ لگا رہے ہیں، حالانکہ وہ صحیح مسلم کی ان روایات کو نظر انداز کر کے "اسلامی متعہ" نہیں بلکہ "شیعہ متعہ" اور اسکے ثانوی فقہی مسائل اور فضائل کی بحث کو شروع کرنا چاہتے ہیں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ابن حسن:

مجھے آپکے بیان کردہ طریقہ کار سے ہرگز اتفاق نہیں کیونکہ آپ معاملے کو ثانوی فقہی مسائل کی بحث میں الجھانا چاہتے ہیں، اور اصل اور بنیادی گفتگو کے رخ "اسلام میں متعہ کا تعارف اور اسکا حلال و جائز ہونے" سے ہٹا کر "شیعہ فقہ میں متعہ کے ثانوی فقہی مسائل" کی طرف لے جا رہے ہیں۔
یہ ایسا ہی جیسے کسی Atheist سے بنیادی گفتگو "اللہ کے وجود" کو چھوڑ کر براہ راست جنت و دوزخ اور عذاب و ثواب پر بات شروع کر دی جائے، اور اس پر Atheist کہے کہ میں تو تمہارے اللہ کو ہی نہیں مانتا تو تم میرے سامنے کیا جنت و دوزخ و گناہ و ثواب کی بین بجا رہے ہو۔

اسلام میں نکاح متعہ اللہ کی براہ راست نازل کردہ ہدایات و شرائظ کے مطابق جاری ہوا اور اسکو سب مانتے ہیں، اور ان ہدایات و شرائط (مثلا محرم عورتوں کی مکمل لسٹ جن سے متعہ حرام ہے، عدت کا تصور، بچے کا نسب وغیرہ) کا دور جاہلیت سے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ یہ عقد متعہ کا اصل اور بنیادی تعارف ہے جس پر سب متفق ہیں کہ ان شرائط کے ساتھ عقد متعہ جاری ہوا۔ اسکے بعد بات عقد متعہ کے حلال یا حرام ہونے کی آتی ہے نہ کہ شیعہ فقہ میں متعہ سے متعلق دیگر ثانوی فقہی مسائل کی۔ آپ ان مسائل کو نہیں مانتے تو نہ مانیں، مگر انکی بنیاد پر آپ اسلامی عقد متعہ کو کیسے حرام قرار دیں گے، وہ عقد متعہ جو کہ ابن عباس، عبداللہ ابن مسعود اور جابر بن عبداللہ انصاری جیسے صحابہ کا مذہب تھا؟ مثال کے طور پر آپ کو شیعہ فقہ پر اعتراض ہے کہ عقد متعہ سے ہونے والی ازواج پر 4 کی تعداد کی پابندی نہیں لگاتا، تو پھر آپ بے شک اُس تعداد پر ایمان لے آئیں جو رسول اللہ ص کے دور میں عقد متعہ کے حوالے سے جاری تھی۔ بہرحال یہ ایک ثانوی بحث ہے اور مجھے یقینا علم ہے کہ آپ کیوں بنیادی بحث کو چھوڑ کر ثانوی بحث کا رخ کرنا چاہتے ہیں۔ اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں ایک دفعہ ترتیب کے مطابق یہ بنیادی بحث ہو جائے تو پھر آپ اطمنان اور تفصیل کے ساتھ شیعہ فقہ میں متعہ کے ثانوی مسائل پر اعتراضات کر سکتے ہیں، اور میں جواب میں آپ کو صحیح چیز دکھاؤں گی اور ساتھ میں کاؤنٹر سوال کے طور پر آپکو کھل کر آپکی فقہ کی بھی جھلکیاں دکھاتی جاؤں گی۔ طریقہ یہ رکھیں گے کہ آپ ایک ایک کر کے اعتراضات لائیے گا اور پھر ہم ہر ایک پھر پہلے کھل کر بحث کریں گے قبل اسکے کہ دوسرے اعتراض کی طرف جائیں۔
 

dxbgraphics

محفلین
ایک بار پھر، اوپر کنیز عورت کے بچے یا "بچیوں"کی ختنے کے متعلق جو میں نے مثالیں بیان کی ہیں، اگر ان سے کسی بھائی کا دل دکھا ہو تو مجھے معاف فرمائیے گا، میرا مقصد کسی کی بھائی یا بہن کی دل شکنی نہیں بلکہ میں مجبور تھی کہ میں چند تلخ realities کو بطور مثال پیش کروں۔
*******************


گرافک بھیا،
آپکی اس سادگی پر قربان۔

دیکھئیے، آپس کی بات ہے آپ جو اپنے حوالے میں جو توڑ مڑوڑ کر بالکل جھوٹئ بات اور جھوٹی بہتان تراشی امام خمینی پر کی ہے، میں اس سے بہت پہلے سے واقف ہوں کیونکہ آپ پہلے نہیں ہیں جو فریق مخالف کو بدنام کرنے کے لیے یہ tactics استعمال کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ پورا ایک گروہ ہے جو ایسی گھناؤنی حرکتوں میں ملوث ہے، اور اس سے بھی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ حرکتیں صدیوں سے جاری ہیں اور یہ اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں اپنے مقصد میں بالکل کامیاب ہیں اور اسطرح انہوں نے جو جھوٹا پروپیگنڈا کیا ہے وہ نفرتیں پھیلانے میں بالکل کامیاب ہے۔

آپ نے انتہائی غلط چیز لکھی ہے:


میرے سامنے اس وقت امام خمینی کا اصل فتوی اور اصل عبارت موجود ہے، اور اسی لیے میں آپ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ آپ صرف کتاب کا نام نہ لیں، بلکہ پوری عبارت پیش کریں۔

اور جب آپ پوری عبارت صحیح طور پر پیش کر چکیں، تو پھر آپکو احساس ہو گا کہ آپ نے کیسا غلط الزام لگایا ہے اور یہ انتہائی بڑا اخلاقی جرم ہے کہ دوسروں پر ایسے تہمت لگائی جائے، اور میں نے متعصب غیر مسلموں کو اسلام اور رسول اللہ ص پر ایسے ہی غلط بیانیاں کر کے بہتان تراشیاں کرتے دیکھا ہے۔

نیز شیعہ علماء یا امام خمینی نے جو فتوی دیا ہے، وہی فتوے اہلسنت فقہاء کے ہیں اور میرے پاس اہلسنت فقہاء کے انہی فتوؤں کا پورا دفتر موجود ہے۔ چنانچہ آپ ایک مرتبہ درست عبارت پیش فرمائیے، اسکے بعد میں اس دفتر کو سب کے سامنے پیش کرتی ہوں۔ انشاء اللہ۔

بہن میرے پاس اس وقت اصول کافی ، حق الیقین و دیگر تمام کے مطبوعہ ایران و لاہور اردو میں موجود ہیں میں بحث میں نہیں پڑنا چاہتا ۔ جھوٹ کا کہاں سے سوال پیدا ہوتا ہے۔ اوراگر آپ نے خمینی صاحب کی شخصیت پر بحث ہی کرنی ہے تو اس کے لئے ایک الگ تھریڈ کھول لیں۔ اور پھر میں اوریجنل صفحات سکین کرکے وہاں لگادوں گا۔ لیکن اس کے لئے محفل کے منتظمین سے یہ کھلی چھوٹ ہونی چاہیئے کہ وہ مراسلے حذف نہیں کیئے جائیں گے ۔ جس میں میرے الفاظ نہیں بلکہ سکین شدہ صفحات ہی کمپوز شدہ ہونگے۔
 

ابوعثمان

محفلین
فریق مخالف پر حجت قائم کر لینے سے پہلے کیا خود اپنا موقف اپنا نکتہ نظر اپنے ماخذات و کتب کی روشنی میں بیان کر دینا ضروری نہیں ہوتا؟؟؟
اپنی کتب کے حوالوں سے بیان کیجئے
1۔ کیا کنواری سے متعہ کے لیے ولی کی شرط ہے یا نہیں( اور بغیر ولی کی اجازت کے کنوری سے نکاح مکروہ ہے، یا بالکل ہی حرام ہے یا ہو جاتا ہے)
2۔ایک شخص بیک وقت کتنی عورتوں سے متعہ کر سکتا ہے ۔ 1،2،3،4،5،6، 1000 یا اس کی کوئی حد نہیں ہے۔
3۔کیا متعہ کے لیے اعلان ضروری ہے کیا اس کے لیے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے؟
4۔ جس عورت سے متعہ کیا جارہا ہے اس کا پاک دامن ہونا شرط ہے یا نہیں؟
5۔ کیا کسی قسم کی توثیق ضروری ہے؟
6۔جس عورت سے متعہ کیا جائے اس کو مہر دیا جاتا ہے یا اجرت۔اور یہ اجرت یا مہر کم از کم کتنا ہو سکتا ہے؟
7۔ کیا رہائش ، نان و نفقہ ضروری ہوتا ہے؟
8۔کیا استحقاق مہر یا اجرت کے لیے کوئی خاص مدت/شرط ہے؟؟
9۔ کیا کسی زانیہ کے ساتھ متعہ منعقد ہو جاتا ہے؟
10۔ کیا کسی زانیہ مشہورہ کے ساتھ متعہ منعقد ہوجاتا ہے؟
11۔کیا متعہ میں عدت وفات ہے؟؟
12۔ اگر متعہ نکاح ہی ہے تو کیا اگر ایک شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے اور پھر وہ کسی کے ساتھ بقول آپ کے نکاح متعہ کرے تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لیے جائز ہوجائے گی؟؟
13۔متعہ میں میراث جاری نہیں ہوتی یہ ایک اور فرق نکاح اور متعہ میں ( کیونکہ یہ آپ قبول چکی ہیں)
14۔ کیا متعہ غیر مسلم اورغیر اہل کتاب مثلا مجوسی عورت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے؟
15۔ متعہ سے پہلے کیا اس امر کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ وہ عورت پہلے سے شادی شدہ ہے یا نہیں؟
16۔ جس عورت سے متعہ کیا جائے وہ کیا زوجہ یا بیوی کہلاتی ہے یا کچھ اور؟؟
17۔کیا متعہ ایک ہاشمی، سید زادی کے ساتھ جائز ہے اگر ہاں تو کیا آپ کے بارہ اماموں میں سے کسی نے بھی متعہ کیا ہے اگر کیا ہے تو اس کی تفصیل اور اس متعہ سے پیدا ہونے والی اولاد کی تفصیل؟؟
18۔ متعہ کیا اہل تشیع کے نزدیک ضروریات دین میں سے ہے؟؟
19۔ اگر کوئی شخص متعہ کو نا مانے تو اس کا حکم کیا ہے وہ مسلم ہے یا دین سے خارج ہے؟؟
20۔ اگر متعہ سے انکاری مسلم ہے تو کیا اس کا ایمان کامل ہے یاناقص؟؟
21۔ جو شخص پہلے ہی سے ایک وقت میں چار بیویاں رکھتا ہو وہ متعہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟
22۔ متعہ دوریہ کیا ہے اور بطور خاص قاضی نور اللہ شوستری کا اس بارے میں کیا بیان ہے؟
23۔ ملا فتح اللہ کاشانی ساحب تفسیر منہج الصادقین نے متعہ کے کیا فضائل بیان کیے ہیں؟
24۔ ملا باقر مجلسی نے متعہ کے کیا فضائل بیان کیے ہیں۔
فی الحال میں ان ہی سوالات پر اکتفا کرتا ہوں۔ ایک بار متعہ کے باب میں آپ کی طرف سے یہ وضاحتیں مل جائیں تو امید ہے کہ اس مسئلہ کو سمجھنے میں آسانی رہے گئی۔

شاید درج ذیل سے بھی کچھ جواباب مل جائيں۔
كتب شیعہ كے آئینہ میں تعارف متعہ
كتب شیعہ كے آئینہ میں تعارف متعہ
تحفۃ العوام میں ہے۔'عورت كہے۔۔متعتك نفسی فی المدۃ والمعلومۃ بالمبلغ المعلوم ۔
مرد كہے۔۔قبلت المتعہ لنفسی فی المدۃ بالمبلغ المعلوم ۔
تحفۃ العوام مصنفہ سید ابو الحسن الموسوی الاصفہانی شیعی حصہ دوم صفحہ نمبر ٣٠٣ مطبوعہ لكھنو
ترجمہ:عورت مرد كو یوں كہے كہ میں نے اپنے آپ كو مدت معلوم كے لیے چند معین ٹكوں كے عوض تیرے متعہ میں دیا اور مرد اس كے جواب میں كہے كہ میں نے اس متعہ كو اپنی ذات كے لیے چند ٹكوں كے عوض معین وقت كے لیے قبول كیا ۔

الاستبصار میں ہے
عن زرارہ قال سالت ابا عبد اللہ علیہ السلام عن رجل تزوج متعۃ بغیر شھود قال لا باس بالتزویج البتۃ بغیر شھود فیما بینہ وبین اللہ عزوجل وانما جعل الشھود فی تزویج البتۃ من اجل الولد ولولا ذلك لم یكن بہ باس ۔
الاستبصار جلد سوم ص ١٤٨ فی جواز العقد علی المراۃ متعہ بغیر شہود مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:زرارہ نے كہا كہ میں نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص كا حكم پوچھا جس نے بغیر گواہوں كے عقد متعہ كیا تو آپ نے ارشاد فرمایا كہ اس آدمی اور اللہ تعالی كے مابین انعقاد كے لیے گواہوں كی كوئی ضرورت نہیں ۔ ہاں ایسے نكاح میں گواہوں كی ضرورت لازمی ہوتی ہے جس میں اولاد كی تمنا ہو اور اگر خواہش اولاد نہ ہو ۔( محض شہوت كو ٹھنڈا كرنا ہو ) تو پھر گواہوں كے بغیر بھی نكاح درست ہے (متعہ میں چونكہ صرف خواہشات اور شہوت نفس كو پورا كرنا مقصود ہوتا ہے اولاد مقصود نہیں ہوتی اور اگر بھولے سے صورت متعہ میں عورت حاملہ ہوجائے تو اس سے پیدا شدہ بچہ كا نسب متعہ كرنے والے سے نہیں ہوتا لہذا اس میں گواہوں كی كوئی ضرورت نہیں ۔)
فروع كافی میں ہے
عن ابی جعفر علیہ السلام فی المتعہ قال لیست من الاربع لانھا لا تطلق ولا ترث وانما ھی مستاجرۃ
فروع كافی جلد پنجم س ٤٥١ كتاب النكاح باب انھن بمنزلۃ الامائ ولیست من الاربع مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے متعہ كے متعلق روایت ہے كہ آپ نے فرمایا كہ جس عورت سے متعہ كیا جاتا ہے وہ ان چار عورتوں میں شامل نہیں جن كی شریعت نے بیك وقت نكاح میں ركھنے كی اجازت دی ۔(اگر چار بیویاں كسی كے ہاں پہلے سے موجود ہوں ۔ تو بطریق متعہ پانچویں چھٹی سے وطی جائز ہے اور قرآن كے احكام كے خلاف نہ ہوگا ) كیونكہ بطور متعہ نكاح میں آئی ہوئی عورت كو نہ طلاق كی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی متعہ كرنے والے خاوند كی وارث بن سكتی ہے وہ تو صرف ایك كرایہ پر لی گئی عورت ہے ۔
فروع كافی میں ہے
زرارۃ عن ابیہ عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال ذكرت لہ المتعۃ اھی من الاربع ؟ فقال تزوج منھن الفا فانھن مستا جرات
فروع كافی جلد پنجم ص ٤٥٢ كتاب النكاح باب انھن بمنزلۃ الا مائ ولیست من الاربع مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:زرارہ كا باپ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے روایت كرتا ہے كہ میں نے امام موصوف سے متعہ كے متعلق دریافت كیا ۔كہ متعہ سے نكاح میں آنے والی عورت چار عورتوں میں سے ہے ؟ (جن كی شریعت نے بیك وقت نكاح میں لانے كی اجازت دی ) تو آپ نے فرمایا تو ایسی ہزار عورتوں سے نكاح كرلے ( تو بھی وہ كسی شمار میں نہیں كیونكہ ) وہ تو كرایہ پر لی گئی عورتیں ہیں ۔
فروع كافی میں ہے
عن ابراہیم بن الفضل عن ابان بن تغلب قال قلت لابی عبد اللہ علیہ السلام انی اكون فی بعض الطرقات فاری المراۃ الحسنائ والا امن ان تكون ذات بعل اومن العوا ھر قال لیس ھذا علیك انما علیك ان تصدقھا فی نفسھا
فروع كافی جلد پنجم كتاب النكاح ص ٤٦٢ باب انھا مصدقہ علی نفسھا مبطوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:ابان ابن تغلب نے كہا كہ میں نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے دریافت كیا كہ میں ایك مرتبہ حالت سفر میں تھا تو میں نے ایك خوبصورت عورت دیكھی لیكن مجھے اس بارے میں كوئی یقین نہ تھا كہ وہ شادی شدہ ہے یا بدكار ہے (لیكن میں اس سے جنسی تعلقات كا خواہش مند تھا تو كیا اس عورت كے بیان پر مجھے یقین كرلینا چاہیے اور اس سے متعہ كرلینا چاہیے اگر وہ كنواری یا بے خاوند ہونا ظاہر كرے تو امام جعفر نے فرمایا تجھے اس بارے میں چھان بین كرنے كی كیا پڑی ہے بس اتنا كافی ہے كہ تو اس كے كہنے پر اس كی تصدیق كرلے (اور اس سے متعہ كرلے )
تہذیب الاحكام میں ہے
محمد عن بعض اصحابنا عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال قیل لہ ان فلانا تزوج امراۃ متعۃ فقیل لہ ان لھا زوجا فسالھا فقال ابو عبد اللہ علیہ السلام ولم سالھا ۔
تہذیب الاحكام جلد ٧٨ ص ٢٥٣ فی تفصیل احكام النكاح مطبوعہ تہران طبع جدید )
ترجمہ:راوی بیان كرتا ہے كہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے دریافت كیا گیا كہ فلاں آدمی نے ایك عورت سے نكاح متعہ كیا تو اس آدمی كو بتایاگیاكہ اس عورت كاتو خاوند موجود ہے (اور یہ اس كے نكاح میں ہے )تو متعہ كے طور پر عقد كرنے والے نے اس عورت سے اس بارے میں پوچھا ْ یہ سن كر امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے اس سوال كے جواب میں فرمایا اس آدمی نے اس عورت سے كیوں پوچھا ؟ ( یعنی عقد كے لیے جب یہ كوئی شرط نہیں كہ عورت كنواری ہو ۔ یا خاوند كے بغیر ہو یا خاوند والی ہو تو پھر اس كی تحقیق كی كیا ضرورت تھی ۔)
تہذیب الاحكام میں ہے
عن زرارۃ قال سال عمار وانا عندہ عن الرجل الزی یتزوج الفاجرۃ متعۃ قال لا باس ۔
تہذیب الاحكام جلد ٧ ص ٢٥٣ فی تفصیل احكام النكاح مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:زرارہ كہتا ہے كہ میری موجودگی میں عمار نے امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے اس شخص كے بارے میں دریافت كیا كہ جس نے عقد نكاح كے طور پر ایك اوباش (كنجری)عورت سے نكاح كر ركھا ہے ۔(اس كا كیا حكم ہے ؟) فرمایا اس میں قطعا كوئی حرج نہیں ہے ۔
من لا یحضرہ الفقیہہ میں ہے
وری عن یونس بن عبد الرحمن قال سالت الرضا علیہ السلام عن رجل تزوج امراۃ متعۃ فعلم بھا اھلا فزوجوھا من رجل فی العلانیۃ وھی امراۃ صدق قال لا تمكن زوجھا من نفسھا حتی تنقضی عد تھا وشرطہا قلت ان كان شرطہا سنۃ ولا یصبر لھا زوجھا قال فلیتق اللہ زوجھا ولیتصدق علیھا بما بقی لہ ۔
من لا یحضرہ الفقیہہ جلد سوم ص ٢٩٤ باب المتعہ مطبوعہ تہران جدید
ترجمہ:یونس بن عبد الرحمان كہتا ہے كہ میں نے امام رضا رضی اللہ عنہ سے ایك ایسے آدمی كے بارے میں دریافت كیا كہ جس نے ایك عورت سے عقد متعہ كرلیا تھا پھر جب اس عورت كے خاوند یا گھروالوں كو اس عقد كا علم ہوا تو انہوں نے اس عورت كا نكاح صحیح كسی اور آدمی سے كردیا اور علی الاعلان یہ نكاح كیا لیكن ابھی اس عورت كو عقد متعہ كا حق مہر لینا تھا ۔( اس سوال كے جواب میں امام موصوف نے فرمایا ) وہ عورت اپنے صحیح اور نئے خاوند كو اپنے ساتھ اس وقت تك ہم بستری نہ كرنے دے جب تك عقد متعہ كی عدت اور شرط پوری نہ ہوجائے راوی كہتا ہے میں نے عرض كیا اگر اس عقد متعہ كی شرط ایك سال كی ہو ؟ (تو پھر بھی یہ شرط پوری كرنی چاہیے ) اور ادھر خاوند كی یہ حالت ہو كہ وہ اتنی مدت تك صبر نہ كرسكتا ہو ؟ تو اس پر امام موصوف نے فرمایا كہ اس كے خاوند كو خوف خدا كرنا چاہیے اور بقیہ مدت متعہ كا اس پر صدقہ كردے (یعنی متعہ ہی میں گزارنے دے )
فروع كافی میں ہے
عن زرارۃ عن ابی جعفر علیہ السلام قال قلت لہ جعلت فداك الرجل یتزوج المتعۃ وینقضی شرطہا ثم یتزوجھا رجل اخر حتی بانت منہ ثم یتزوجھا الاول حتی بانت منہ ثلاثا وتزوجت ثلاثہ ازوج یحل للاول ان یتزوجھا قال نعم كم یشائ لیس ھذہ مثل الحرۃ ھذہ مستاجرۃ وھی بمنزلۃ الاماء ۔
فروع كافی جلد پنجم ص ٤٦ كتاب النكاح باب الرجل یتمتع بالمراۃ مرارا كثیرۃ مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:زرارہ نے كہا كہ میں نے امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے پوچھا میں آپ پر قربان كوئی آدمی كسی عورت سے جس شرط پر متعہ كرے وہ پوری ہوجائے پھر اسی عورت سے كوئی دوسرا شخص متعہ كرے حتی كہ وہ عورت اس سے بھی جدا ہوجائے اور پھر وہی پہلا آدمی اس سے متعہ كرے یہاں تك كہ وہ عورت اس سے تین دفعہ جدا ہوئی اور تین مردوں نے اس سے نكاح متعہ كیا تو كیا اسی عورت كا پہلے مرد سے ایك مرتبہ پھر عقد متعہ جائز ہے ؟ آپ نے فرمایا كیوں نہیں ۔ جتنی دفعہ چاہے متعہ كرے كیونكہ یہ حرہ (آزاد) عورت كی طرح نہیں بلكہ یہ تو اجرت پر لی گئی عورت ہے اور اس كا حكم لونڈیوں جیسا ہے ۔
فروع كافی میں ہے
عن ھشام بن سالم قال قلت كیف یتزوج المتعۃ قال تقول یا امۃ اللہ اتزوجك كذا وكذا یوما بكذا وكذا درھما فاذا مضت تلك الایام كان طلاقھا من شرطھا ولا عدۃ لھا علیك ای یجوز لك تزویج الاخت فی عدتھا
فروع كافی حاشیہ و فروع كافی جلد پنجم كتاب النكاح باب شروط المتعہ ٤٥٥ تا ٤٥٦ مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:ہشام بن سالم سے روایت ہے كہ كہ میں نےامام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے دریافت كیا كہ یا حضرت ! نكاح متعہ كیونكر كیا جاتا ہے ؟ تو آپ نے اس كا طریقہ بیان یوں ارشاد فرمایا كہ نكاح متعہ كرنے والا مطلوبہ عورت كو كہے اے اللہ كی بندی ! میں تجھ سے چند دنوں كے لیے چند درہموں كے عوض نكاح كرتا ہوں سو جب مذكورہ دن گزر جائیں تو طلاق خود بخود ہوجائے گی اور ایسی عورت كی كوئی عدت نہیں یعنی نكاح متعہ كرنے والے كو اسی متمتع عورت كی سگی بہن سے دوران عدت ( جوعام طور پر طلاق كے بعد یوتی ہے ) نكاح كرنا جائز ہے ۔
فروع كافی میں ہے
عن زرارۃ عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال لا تكون متعۃ الا بامرین اجل مسمی واجر مسمی
فروع كافی جلد پنجم س ٤٥٥ كتاب النكاح باب شروط المتعۃ مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے زرارہ روایت كرتا ہے كہ امام موصوف نے فرمایا : متعہ كے دو ركن ہیں مدت مقررہ اور اجرت مقررہ ۔
فروع كافی میں ہے
عن الاحوال قال قلت لابی عبد اللہ علیہ السلام ادنی مایتزوج بہ المتعۃ ؟ قال كف من بر ۔
١۔فروع كافی جلد پنجم ص ٤٥٧ كتاب النكاح باب ما یجزی من المھر فیھا مطبوعہ تہران طبع جدید
٢۔تہذیب الاحكام جلد پنجم ص ٢٦٠ فی تفصیل احكام النكاح مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:احوال كہتا ہے میں نے امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے پوچھا كہ متعہ كی كم از كم اجرت كتنی ہے ؟ تو وہ فرمانے لگے مٹھی بھر گندم كافی ہے ۔
تہذیب الاحكام میں ہے
عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال تمتع بالھا سمیۃ ۔ (ایضا) والا باس بالتمتع بالھا شمیۃ
تہذیب الاحكام جلد ہفتم ص ٢٧١ فی تفصیل احكام النكاح مطبوعہ تہران طبع جدید
ترجمہ:امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا كہ ہاشمی عورت سے متعہ كرنے میں كوئی گناھ نہیں ۔
تہذیب الاحكام میں ہے
ولیس فی المتعۃ اشھاد ولا اعلان
تہذیب الاحكام جلد ہفتم ص ٢٦١ فی تفصیل احكام النكاح مطوعہ تہران طبر جدید
ترجمہ:نكاح متعہ میں نہ گواہی كی ضرورت ہے اور نہ ہی اعلان ہے ۔(مرد عورت دونوں تنہا چپكے چپكے یہ نكاح كرلیں تو بھی درست ہے )
مذكورہ حوالہ جات سے فقہ جعفری كے مندرجہ ذیل مسائل فقہیہ ثابت ہوئے
١۔نكاح متعہ كے لیے نہ گواہی كی ضرورت ہے اور نہ ہی اعلان كی ۔
٢۔متعہ كے بعد چھوڑی گئی عورت پر نہ كسی قسم كی عدت لازم ہے اور نہ اسے جدا كرنے كے لئے طلاق كی ضرورت ۔
٣۔اس عقد میں نہ اولاد كی جستجو ہوتی ہے اور نہ ہی میراث مقصود ۔بلكہ یہ مرد و زن كا مخصوص رقم كے عوض مخصوص وقت تك خواہشات نفسانی كی تكمیل كا ایك باہمی ذریعہ ہے ۔(جو شہوت رانی كا آسان طریقہ ہے )
٤۔اس عقد میں عورتوں كی تعداد كی پابندی نہیں ۔ چنانچہ اگر كوئی مرد بیك وقت ستر عورتوں سے عقد متعہ كرے ۔ اور باری باری ان سے لطف اندوز ہو تو كوئی مضائقہ نہیں ۔ كوئی عجیب نہیں ۔ اور كوئی بے حیائی نہیں ۔
٥۔ایك عورت سے بیسیوں مرتبہ متعہ ہوسكتا ہے اور ہزار مردوں سے ایك عورت متعہ كرسكتی ہے اور سینكڑوں مرتبہ متعہ كرنے والے سے جدا ہونے كے بعد پھر بھی اجرت مقررہ پر جب چاہے وہ مرد اسے نكاح متعہ میں لاسكتا ہے اس میں حرمت غلیظہ كا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
٦۔قرآن مجید میں جن محرمات سے عقد كرنا ناجائز اور حرام قرار دیا گیا ہے اور والمحصنات من النسائ میں جن كی صراحت كی گئی ہے ان سے متعہ كرنے كی كھلی چھٹی ہے ۔
٧۔جس عورت سے كسی نے متعہ كیا ۔ اگر اس كی سگی بہن سے فورا (عدت گزارے بغیر) نكاح (عقد متعہ) كرلے تو كوئی حرج نہیں ۔(كیونكہ نہ طلاق كی ضرورت نہ عدت كا انتظار )
٨۔مٹھی بھر گندم دے كر كسی عورت كی بكنگ جائز ہے ۔(اتنا سستا شاید ہی كوئی سودا ہو )
٩۔شیعی نفس پرستوں اور شہوت نفسانی كے بندوں میں متعہ اس قدر كثیر الوقوع ہے كہ اس میں كسی قسم كی عورت كی استثناء نہیں ۔ خاندان نبوت (بنو ہاشم) سے ہو یا كوئی طائفہ اور بازارہ عورت ۔ سب سے بلا امتیاز جائز اور درست ہے ۔(العیاذ باللہ)
اللہ تعالی ایسے ناعاقبت اندیشوں اور ایمان سے عاری اور عقل كے اندھوں سے بچائے ۔جنہوں نے تكمیل خواہشات نفسانیہ كے نشہ میں احترام خاندان نبوت كا بھی لحاظ نہ كیا ۔
ضیائ القرآن میں پیرکرم شاہ الازہری نے بھی یہی لکھا ہے۔کہ امامیہ حضرات کے نزدیک خاندانِ نبوت کی عورتوں سے متعہ جائز ہے۔

چوں خدا خواہد كہ پردہ كس ورد​
میلش اند طعنہ پاكاں ركند !!​
اولئك كالانعام بل ھم اضل
 
ش

شوکت کریم

مہمان
شوکت کریم بھائی،
آپکے استدلال کی تو بنیاد ہی بالکل غلط ہے کیونکہ سب سے پہلے یہ بتلائیے کہ اسلامی قوانین کو قبول کرنے یا نا کرنے میں معاشرہ اور اس معاشرے کی فطرت سلیم کی شرط کونسی شریعت میں ہے؟ اپنی اصلاح فرمائیے اور اپنے استدلال کی بنیاد آپ کو اللہ اور اُسکے رسول ص کی طرف سے لائی جانی والی شریعت کے اصولوں کی بنیاد پر رکھنی چاہیے۔

یاد رکھئیے اللہ کے احکامات کے حلال یا حرام ہونے کی شرط کسی معاشرے کی قبولیت عام نہیں ہے بلکہ یہ شرط بدعت و ضلالت ہے۔ معاشرے کے سٹینڈرڈز بدلتے رہتے ہیں اور اسی لیے ہر معاشرے میں چیزوں کی قبولیت عام ان کے عقیدے یا تعلیمات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

۔ مثال کے طور پر پچھلے زمانے میں یہ رواج عام تھا کہ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کر لیتے تھے، مگر آج بنیادی طور پر مغربی سٹینڈرڈز سے متاثر ہو کر ہمارے معاشرے میں آج مرد ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کرتے۔ (اور یہ فقط مغرب سے متاثر معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ہے ورنہ ہرگز ہرگز یہ بات نہیں کہ آجکے مرد حضرات قرون اولی کے مسلمانوں سے ایمان و تقوے میں بڑھے ہوئے ہیں اور اس لیے اپنے اوپرزیادہ ضبط و صبر کر کے ایک سے زیادہ شادیاں نہیں کرتے)

۔ اسی طرح "آج" بہت سے لوگوں (مسلمانوں) کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام نے مالک کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنی کنیز باندی کے ساتھ بغیر نکاح کے ہمبستری کرے اور عارضی تعلق کے اُسے آگے فروخت کر دے یا کسی اور کے ساتھ عارضی نکاح پڑھوا دے۔
چنانچہ جب آج انہیں یہ بات بتلائی جاتی ہے تو وہ حیران و پریشان رہ جاتے ہیں۔ مگر پھر جب اسلام کی بات آتی ہے تو اس چیز کو عقیدے اور تعلیم کے نام پر قبول کر لیتے ہیں۔چنانچہ جو چیز "قبولیت عام" میں پہلے شامل نہ تھی، وہ عقیدہ اور تعلیم کا نام آنے کے بعد "قبولیت عام" کے درجے میں آ پہنچی اور مان لیا گیا کہ کنیز عورتوں کے معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لیے اللہ نے جو چیز حلال کی تھی وہ ان معاشرتی مسائل کا سب سے بہترین حل تھا۔
افسوس کہ یہ چیز کنیز عورت کے معاملے میں تو قبول کی جا رہی ہے، مگرجب معاشرتی مسائل کے حل کے لیے اللہ تعالی عقد متعہ کو طیبات و حلال میں سے قرار دیتا ہے تو پھر اس معاشرے کی "قبولیت عام" کی شرط کے نام پر اسکو حرام بنا دیا جاتا ہے۔

۔ جیسا میں نے اوپر بیان کیا کہ معاشرے کے سٹینڈرڈز عقیدے یا تعلیم کی بنیاد پر بدلتے رہتے ہیں۔ سوال آجکے معاشرے کا نہیں ہے، بلکہ سب سے پہلے آپ رسول اللہ ص اور اُس زمانے کے معاشرے کو دیکھیں اور آپ کو نظر آئے گا کہ اللہ کا حکم آنے کے بعد یہ چیز اُس معاشرے میں بغیر "اگر مگر" کے قبول کی گئی۔
اسکی کافی مثالیں میں اوپر دے آئی ہوں، مثلا:
1۔ عبداللہ ابن مسعود اور دیگر صحابہ کا رسول اللہ ص کے حکم سے عقد متعہ کرنا۔
2۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر کی گواہی کہ ہم رسول اللہ ص کے زمانے میں عقد متعہ کیا کرتے تھے


اوپر روایت میں جن صحابہ و تابعین کے نام درج ہیں وہ سب کے سب اعلانیہ ُاسی معاشرے میں عقد متعہ کرتے رہے اور یہ چیز اُس معاشرے میں "قبولیت عام" کے درجے میں رہی (تاوقتیکہ جناب عمر نے اس پر اپنی خلافت میں پابندی نہ لگا دی)۔

۔ اور جس طرح آج معاشرے میں عام ہے کہ معاشرے میں کچھ عورتیں "بوا خالہ" کا کردار ادا کرتے ہوئے نکاح دائمی کے رشتے کرواتی ہیں، اسی طرح اُس معاشرے میں بھی ایسی "بوا خالہ" تھیں جو اسی طرح عقد متعہ کے رشتے کرواتی تھیں۔ مثلا:

"صحابیہ ام عبداللہ بنت ابی خثیمہ فرماتی ہیں کہ شام سے ایک شخص سفر پر انکے پاس آیا اور کہا: "مجھ پر سخت دشوار گذر رہا ہے اور مجھے انتہائی طلب ہو رہی ہے، چنانچہ میرے لیے ایسی خاتون کا انتظام کیجئے جس سے میں عقد متعہ کر سکوں"۔ صحابیہ ام عبداللہ فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے اس شخص کو ایک خاتوں سے متعارف کروایا، اور وہ باہم رضامند ہوئے اور پھر انہوں نے گواہوں کے سامنے عقد متعہ کیا اور پھر وہ شخص اُس خاتون کے ساتھ اُسوقت تک رہا جبتک اللہ نے چاہا اور پھر آگے روانہ ہو گیا۔"
حوالہ: کنزالاعمال، جلد 7، حدیث 45726 [آنلائن لنک]

ان صحابیہ ام عبداللہ بنت ابی خثیمہ کے متعلق آپ یہاں پر پڑھ سکتے ہیں۔ [لنک: کتاب اسد الغابہ]۔ یہ صحابیہ سابقون میں اسلام قبول کرنے والی تھیں اور پھر مکہ سے حبشہ ہجرت کرنے والوں میں شامل تھیں۔ بلکہ انہوں نے دونوں ہجرتوں میں حصہ لیا اور یہ وہ تھیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی (لنک: کتاب الاستیعاب فی المعرفتۃ الاصحاب]

اسی طرح کے کئی اور واقعات ہیں جہاں جابر بن عبداللہ انصاری، اور دیگر صحابہ و تابعین کہہ رہے ہیں کہ اُس معاشرے میں انہیں عقد متعہ کرنے میں کوئی مشکل نہ تھی (جناب عمر کے زمانے تک) کیونکہ اُس وقت اُس معاشرے نے اسے ُقبولیت عام" کا درجہ دے رکھا تھا۔ اور پھر حضرت عمرکے دور کے بعد مکہ شہر کے معاشرے میں پھر بھی عقد متعہ ابن عباس کے زیر اثر "قبولیت عام" کے درجے پر رہا اور حضرت ابن عباس کے بعد انکے تابعین شاگرد (جن سے سینکٹروں روایات بخاری و مسلم و نقل کی گئ ہیں) کے زیر اثر اس مکہ کے معاشرے میں یہ چیز جاری و ساری رہی۔

اسی طرح ابن عباس کا کا واقعہ ہے جنہیں حضرت عمر کے دور سے قبل جو بچے معاشرے میں عقد متعہ سے پیدا ہوئے اُسکا انہیں علم تھا۔ امام اہلسنت ابو جعفر احمد الطحاوی اپنی کتاب شرح المعانی الاسرار، جلد 3، صفحہ 24، باب المتعہ میں ابن جبیر سے روایت نقل کر رہے ہیں جہاں ابن عباس اور عبداللہ ابن زبیر میں عقد متعہ پر اختلاف کھڑا ہوا تھا، اور ابن زبیر نے بالکل آپ ہی کی طرح ابن عباس سے ان عقد متعہ سے پیدا ہونے والے بچوں کے متعلق سوال کیا تھا۔ ذرا دیکھئے گا کہ ابن عباس نے ابن زبیر کو پھر کیا جواب دیا:
"سمعت عبد الله بن الزبير يخطب وهو يعرض بابن عباس يعيب عليه قوله في المتعة فقال بن عباس يسأل أمه إن كان صادقا فسألها فقالت صدق بن عباس قد كان ذلك فقال بن عباس رضي الله عنهما لو شئت لسميت رجالا من قريش ولدوا فيها

یعنی ابن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ ابن زبیر کو خطبے میں ابن عباس کی مذمت کرتے سنا کیونکہ وہ عقد متعہ کو حلال و جائز جانتے تھے۔ اس پر ابن عباس نے اُسے کہا کہ اگر وہ (عقد متعہ کے حرام ہونے کے اپنے دعوے میں) سچا ہے تو پہلے جا کر اپنی والدہ سے اسکے متعلق دریافت کر لے۔ اس پر ابن زبیر کی والدہ نے گواہی دی کہ حضرت ابن عباس صدق بات کہہ رہے ہیں۔ ابن عباس نے مزید فرمایا تو اگر چاہے تو میں اُن تمام افراد کے نام تجھے بتا دوں جو قریش سے ہیں اور عقد المتعہ کے تحت پیدا ہوئے ہیں۔


*************************

کاؤنٹر سوال:معاشرے کی "قبولیت عام" میں مالک اپنی کنیز باندی سے پیدا شدہ بچے کا نسب ٹھکرا سکتا ہے اور اسے اپنے بیٹے کی جگہ اپنا غلام بنا سکتا ہے

شوکت کریم برادر،
معذرت کہ مجھے یہ مثال دینا پڑ رہی ہے اور ہم یہاں صحیح یا غلط کی بحث نہیں کر رہے مگر آپ معاشرے کی "قبولیت عام" کی بات کرتے ہیں تو دیکھئے کہ معاشرے نے تو اس بات کو بھی قبول کیا کہ ایک شخص اپنی کنیز باندی سے ہمبستری کرتا ہے اور وہ حاملہ ہو جاتی ہے تب بھی بچے کا نسب اُس وقت تک باپ سے نہیں جڑے گا جبتک کہ وہ مالک (باپ) خود اس نسب کو قبول نہ کرے، وگرنہ دوسری صورت میں بچہ غلام بن جائے گا اور کوئی قاضی کوئی عدالت اس مالک (باپ) کو مجبور نہی کر سکتی کہ وہ اس بچے کے نسب کو قبول کرے۔

امام احمد بن حنبل کے بیٹے (محمد بن حنبل) فقہی حکم بیان فرماتے ہیں:
وولد أم الولد ثابت من المولى ما لم ينفه لأنها فراش له وقال عليه الصلاة والسلام الولد للفراش ولكن ينتفي عنه بمجرد النفي عندنا
ترجمہ: یعنی ایک کنیز باندی کا بچہ کا نسب اُسوقت تک مالک سے جوڑا جائے گا جبتک کہ وہ مالک اسکا انکار نہیں کرتا۔ ۔۔۔ہمارے نزدیک بچے کا نسب مالک سے نہیں جڑتا اگر وہ اسکا انکار کر دیتا ہے۔
حوالہ: کتاب المبسوط، جلد 2، صفحہ 152

یہی بات فقہ کی مستند کتاب "فتح القدیر شرح ہدایہ" جلد 10، صفحہ 329 پر موجود ہے:

أم الولد بسبب أن ولدها ، وإن ثبت نسبه بلا دعوة ينتفي نسبه بمجرد نفيه ، بخلاف المنكوحة لا ينتفي نسب ولدها إلا باللعان .
یعنی کنیز باندی کا بچہ، جس کی ولدیت اگر بغیر کسی ثبوت کے بھی ثابت ہو سکتی ہو، مگر اگر مالک اسکا انکار کر دے تو بچے کا نسب جاری نہ ہو گا اور یہ حکم (آزاد عورت سے کیے گئے) نکاح کے برخلاف ہے جہاں ایک بچے کی ولدیت سے اُسوقت تک انکار نہیں کیا جا سکتا جبتک کہ "لعان" کی منزل نہ طے کر لی جائے۔

اور امام شوکانی نے اپنی مشہور کتاب نیل الاوطار، جلد 7، صفحہ 77 پر فرماتے ہیں:​
وروي عن أبي حنيفة والثوري وهو مذهب الهادوية أن الأمة لا يثبت فراشها إلا بدعوة الولد ولا يكفي الإقرار بالوطئ ، فإن لم يدعه كان ملكا له
یعنی ابی حنیفہ سے مروی ہے اور الثوری سے بھی اور یہ ھادویہ مذہب ہے کہ کنیز باندی کے بچے کا نسب باپ (مالک) کے دعوے کے بغیر ثابت نہیں ہوتا، اور فقط ہمبستری کر کے وطی کرنا کافی نہیں ہے۔ اور اگر وہ (مالک باپ) نسب کا دعوی نہیں کرتا تو پھر وہ بچہ اُس (مالک باپ) کے لیے غلام بن جائے گا۔
حوالہ: نیل الاوطار از امام شوکانی، جلد 7، صفحہ 77 [آنلائن لنک]

[نوٹ: مجھے نہیں علم کہ آج اہلسنت کے تمام فقہ اس فقہی حکم کو مانتے ہیں یا نہیں، مگر میں نے فقط اس نیت سے آپ کو یہ مثال دی ہے کہ آپ سمجھیں کہ معاشرے نے تو اس چیز کو بھی "قبولیت عام" کا درجہ دے دیا تھا، چنانچہ ہم شریعت کے حلال و حرام کا فیصلہ معاشرے کے سٹنیڈرڈ پر نہیں چھوڑتے بلکہ ہمیں قرآن و سنت میں موجود نصوص کو بطور دلیل پیش کرنا ہے۔

کاؤنٹر سوال نمبر 2: معاشرے نے تو "بچیوں" کا ختنہ جیسی رسم کو بھی قبولیت عام کا درجہ دیا
حدثنا ‏ ‏سريج ‏ ‏حدثنا ‏ ‏عباد يعني ابن العوام ‏ ‏عن ‏ ‏الحجاج ‏ ‏عن ‏ ‏أبي المليح بن أسامة ‏ ‏عن ‏ ‏أبيه ‏
‏أن النبي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏قال ‏ ‏الختان ‏ ‏سنة للرجال مكرمة للنساء

یعنی ختنہ کروانا مرد کے لیے سنت ہے اور عورت کے لیے اعزاز کی بات ہے
حوالہ: مسند احمد بن حنبل، جلد 5، حدیث 19794 [آنلائن لنک]

اور امام نؤوی اپنی کتاب " المجموع شرح المھذب" (جلد 1، صفحہ 348، کتاب الطہارۃ) میں لکھتے ہیں:
( فرع ) الختان واجب على الرجال والنساء عندنا وبه قال كثيرون من السلف
"ختنہ کروانا مرد و عورت پر واجب ہے اور سلف کی اکثریت کا قول ہے۔"
اور پھر آگے مزید فرماتے ہیں:
والمذهب الصحيح المشهور الذي نص عليه الشافعي رحمه الله وقطع به الجمهور أنه واجب على الرجال والنساء ، ودليلنا ما سبق . فإن احتج القائلون بأنه سنة بحديث : الفطرة عشرة ومنها الختان ، فجوابه قد سبق عند ذكرنا تفسير الفطرة والله أعلم .
"اور صحیح اور مشہور مذہب جس کی تائیڈ امام شافعی رحمۃ اللہ اور جمہور کرتے ہیں وہی یہ ہے کہ مرد و عورت پر ختنہ کروانا واجب ہے۔۔۔۔۔
حوالہ: المجموع شرح المھذب از امام النؤوی، جلد 1، صفحہ 348، کتاب الطہارۃ [آنلائن لنک]
عورت کے ختنے کے متعلق مزید پڑھئیے فقہ کی کتاب فتح القدیر، شرح ہدایہ، جلد 1، صفحہ 106، باب الغسل میں [آنلائن لنک]

مجھے یہ مثالیں بطور کاؤنٹر سوال کے پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے تاکہ آپ احساس کر سکیں کہ معاشرے کی "قبولیت عام" کی کوئی اتنی اہمیت نہیں ہے اور بنیادی چیز قرآن و سنت میں پائے جانے والی نصوص ہیں۔[/QUOTE]

شکریہ

سب سے پہلی بات کوئی بچہ ہندو، عیسائی کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو اس کا کیا قصور ہے کہ وہ جہنم میں ڈل دیا جائے گا اگر بلوغت کے بعد بھی وہ مسلمان ہو کے نہ مرا۔۔۔ اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے ہر انسان کو فطرت سلیم دے رکھی ہے جو اسے آگاہ ضرور کرتی ہے دین فطرت کے بارے میں۔۔۔۔ اور اگر دین فطرت میں قوانین فطرت کے خلاف ہوں تو وہ کیسا دین فطرت ہوا۔

قوانین انسانوں کے لئے ہی بنائے جاتے ہیں اور انسانوں کے باہمی فائدے کے لئے بنائے جاتے ہیں جن قوانین سے کوئی شخص یا معاشرے کا کوئی طبقہ متاثر ہو رہا ہو وہ ایک لادین معاشرے میں بھی قابل قبول نہیں ہوتے اور نہ بنائے جاتےہیں چہ جائیکہ دین فطرت دین اسلام میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب دیکھیں ایک کنواری دوشیزہ متعہ کرتی ہے چند دن کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس متعہ سے اس کی معاشرتی حیثیت میں نقصان ہوا کہ فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نکاح دائمی کے لئے اس کی حیثیت کمزور ہو گئی ۔۔۔۔ تو یہ ایک ایسا قانون ہوا جو کہ معاشرے کے ایک طبقے کو متاثر کررہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر فرض کریں کہ ہر مردو و زن ذمہ داریوں سے پیچھا چھڑانے کی خاطر صرف متعہ پر ہی انحصار کرتا ہے ، اور کرے گا بھی جب کم مشکل سے زیادہ فائدہ مل رہا ہے تو زیادہ مشکل کون اٹھائے گا تو محترم بہن ذرا سوچئے معاشرے کا کیا حشر ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلے زمانے میں زیادہ شادیوں کا چلن تھا جس کی بہت سی وجوہات تھیں۔ جن میں صحت کا اعلٰی معیار، امارت، جنگ و جدل وغیرہ شامل ہیں۔ اور آج کل شادیاں کم ہونے میں مغربی سٹینڈرڈ کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ انہی چیزوں کی کمیابی ہے جو کہ پہلے زمانے میں عام تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلا صحتوں کا گرتا ہوا معیار ہمارے ہاں تو اوسط عمر ہی 50 سال ہے، دوسرے غربت اور تیسرے ہندو معاشرے کا اثر

اور جہاں تک رہی بات خواتیں کے ختنہ کی تو وہ ایک مخصوص‌ معاشرے کی حد تک ہے ۔۔۔ اور جہاں‌ تک رہی بات ہمارے معاشرے کی تو اس میں‌ ایسا ممکن ہی نہیں۔۔۔۔
 
ابن حسن:

مجھے آپکے بیان کردہ طریقہ کار سے ہرگز اتفاق نہیں کیونکہ آپ معاملے کو ثانوی فقہی مسائل کی بحث میں الجھانا چاہتے ہیں، اور اصل اور بنیادی گفتگو کے رخ "اسلام میں متعہ کا تعارف اور اسکا حلال و جائز ہونے" سے ہٹا کر "شیعہ فقہ میں متعہ کے ثانوی فقہی مسائل" کی طرف لے جا رہے ہیں۔
یہ ایسا ہی جیسے کسی Atheist سے بنیادی گفتگو "اللہ کے وجود" کو چھوڑ کر براہ راست جنت و دوزخ اور عذاب و ثواب پر بات شروع کر دی جائے، اور اس پر Atheist کہے کہ میں تو تمہارے اللہ کو ہی نہیں مانتا تو تم میرے سامنے کیا جنت و دوزخ و گناہ و ثواب کی بین بجا رہے ہو۔

اسلام میں نکاح متعہ اللہ کی براہ راست نازل کردہ ہدایات و شرائظ کے مطابق جاری ہوا اور اسکو سب مانتے ہیں، اور ان ہدایات و شرائط (مثلا محرم عورتوں کی مکمل لسٹ جن سے متعہ حرام ہے، عدت کا تصور، بچے کا نسب وغیرہ) کا دور جاہلیت سے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ یہ عقد متعہ کا اصل اور بنیادی تعارف ہے جس پر سب متفق ہیں کہ ان شرائط کے ساتھ عقد متعہ جاری ہوا۔ اسکے بعد بات عقد متعہ کے حلال یا حرام ہونے کی آتی ہے نہ کہ شیعہ فقہ میں متعہ سے متعلق دیگر ثانوی فقہی مسائل کی۔ آپ ان مسائل کو نہیں مانتے تو نہ مانیں، مگر انکی بنیاد پر آپ اسلامی عقد متعہ کو کیسے حرام قرار دیں گے، وہ عقد متعہ جو کہ ابن عباس، عبداللہ ابن مسعود اور جابر بن عبداللہ انصاری جیسے صحابہ کا مذہب تھا؟ مثال کے طور پر آپ کو شیعہ فقہ پر اعتراض ہے کہ عقد متعہ سے ہونے والی ازواج پر 4 کی تعداد کی پابندی نہیں لگاتا، تو پھر آپ بے شک اُس تعداد پر ایمان لے آئیں جو رسول اللہ ص کے دور میں عقد متعہ کے حوالے سے جاری تھی۔ بہرحال یہ ایک ثانوی بحث ہے اور مجھے یقینا علم ہے کہ آپ کیوں بنیادی بحث کو چھوڑ کر ثانوی بحث کا رخ کرنا چاہتے ہیں۔ اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں ایک دفعہ ترتیب کے مطابق یہ بنیادی بحث ہو جائے تو پھر آپ اطمنان اور تفصیل کے ساتھ شیعہ فقہ میں متعہ کے ثانوی مسائل پر اعتراضات کر سکتے ہیں، اور میں جواب میں آپ کو صحیح چیز دکھاؤں گی اور ساتھ میں کاؤنٹر سوال کے طور پر آپکو کھل کر آپکی فقہ کی بھی جھلکیاں دکھاتی جاؤں گی۔ طریقہ یہ رکھیں گے کہ آپ ایک ایک کر کے اعتراضات لائیے گا اور پھر ہم ہر ایک پھر پہلے کھل کر بحث کریں گے قبل اسکے کہ دوسرے اعتراض کی طرف جائیں۔

ناجانے کیوں جب بات آپ کی اپنی کتب کی ہو تو آپ راہ فرار اختیار کر لیتی ہیں۔ متعہ کے بارے میں جو گفتگو میں نے اوپر شروع کی ہے اس کو آپ محض ثانوی کہ کر رد نہیں کر سکتی ہیں۔ درحقیقیت آج کل کا متعہ مروجہ ایرانی متعہ ہے جو زن بازاری کی ہی ایک قسم ہے۔ وہ نکاح موقت جو دور اول میں چندے رائج رہا وہ شے دیگری ہے اس معاملہ میں لگتا یوں ہے کہ آپ وہ حیلے و رویے استعمال کر رہی ہیں جو اس سے قبل آپ مہدی والی تھریڈ میں استعمال کر چکی ہے جہاں واضح کیا تھا کہ گو کہ مہدی کا تصور اہل سنت و اہل تشیع دونوں کے یہاں موجود ہے تاہم اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے اس تھریڈ میں بھی آپ نے اس ہی ترکیب سے کام لیا تھا کہ مہدی کے بارے میں اہل سنت کی روایات پیش کرتی گئیں اور خود آپ کی کتب آپ کے مہدی کے بارے اور ان کے جن کارناموں سے بھری ہیں اس کاذکر گول کر گئیں باوجود میرے توجہ دلانے کے تو کہنا یہ ہےکہ اپنی کتابوں سے الرجک ہو نا چھوڑئیے اور حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیے کیونکہ اگر آپ اپنی کتب کے حوالے پیش نہیں کریں گی تو یہ کام اب ہم کریں گے۔
اب طریقہ کچھ یوں ہو گا کہ سب سے پہلے متعہ کی تعریف خود اہل تشیع کی کتب سے پیش کی جائے گی اس کے بعد جب اس متعہ کا حقیقی چہرہ سب کے سامنے آجائے گا تو اس متعہ کو رد کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔ ساتھ ساتھ ہم اس نکاح موقت کا بھی ذکر کریں گئے ۔ان کے اسما کے اشتراک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ حضرات متعہ ایرانی کا جواز پیش کرتے ہیں۔
کچھ حوالے تو ابو عثمان بھائی یہاں پیش کر چکے ہیں اس سے پہلے کہ باقاعدہ میں کام کا آغاز کروں اوپر ایک گفتگو چھڑی ہوئی ہے خمینی صاحب کے فتویٰ کی جو تحریر الوسیلہ سے پیش کیا گیا ہے جس کی آپ انکاری ہیں لہذا یہاں سب سے پہلے میں کتاب کے اس صفحے کا عکس پیش کرتا ہوں اگلی بار کچھ اور باتیں پیش کروں گا۔
Khomeini_V3.jpg


یہ کتاب حوزہ علمیہ قم کے تحت شائع کی گئی ہے یہ اس کتاب کانیا اڈیشن ہے جو فارسی ترجمے کے ساتھ شائع کیا گیا ہے لہذا کتاب کی ضخامت بڑھ گئی ہے اور صفحے اور جلدوں کے شمار میں بھی فرق ہے۔
یہ بات تحریر الوسیلہ کی جلد 3 اور صفحہ 520 پر موجود ہے۔

نوٹ: اوپر دی گئے عبارت کا ترجمہ یہ ہے

زانیہ عورت کے ساتھ متعہ کرنا جائز ہے مگر کراہت کے ساتھ۔خصوصا جبکہ وہ مشہور پیشہ ورزانیہ میں سے ہو۔اگر اس کے ساتھ متعہ کرے تو مرد کو چاہیےکہ اس کو بدکاری سے منع کرے۔

اب کوئ بتائے کہ کیا یہ قرآن کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہے؟؟

[ARABIC]اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً ۡ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ[/ARABIC]
بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی) بدکار عورت سے نکاح کرنا مومنوں پر حرام ہے
 

فرخ

محفلین
مہوش، میں آپ پر الزام نہیں لگا رہا،بلکہ یہ سب آپ کی پوسٹوں سے ظاہر ہو رہا ہے۔ جیسا کہ آپ نے خود بھی لکھا ہے کہ آپ چیزوں کو اپنی ترتیب سے چلانا چاہتی تھی، مگر حقیقتا یہی سیاست ہوتی ہے کہ مخالف فریق کو اپنی عینک سے معاملہ دکھایا جائےاور اوپر آپ اسی قسم کا ایک جملہ خود بھی لکھ چُکی ہیں۔اس لئیے اس کو الزام مت کہیئیے۔بہرحال اس سے ہونے والے کسی بھی غلط احساس پر میں‌معذرت خواہ ہوں۔

رہ گئی بات دیگر احادیث پر جرح کی، تو یہ کام آپ کو سب سے پہلے کرنا چاہئیے تھا۔ کیونکہ جس جگہ سے آپ نے حدیث اُٹھا کر اپنی گفتگو کا آغاز کیا تھا، وہیں وہ احادیث بھی ہیں جن میں‌اسکی بعد میں‌ممانعت کر دی گئی تھی۔ اچھا ہوتا کہ آپ اہل تشیع کی کتب اور امام خمینی کے حوالہ جات سے پہلے ان پر بات کرتیں۔

جہاں تک میرے شکریہ ادا کرنے کا سوال ہے، تو میرے نقطئہ نظر سے ابن حسن وہی کام کر رہے ہیں‌جسکی یہاں‌ضرورت تھی۔ کیونکہ متعہ کو جاری رکھنا اور اس پر اصرار زیادہ تر اہل تشیع میں ہوتا ہے، اہل سنت میں‌تو اسکی ممانعت والی احادیث کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اسلئیے ضروری یہی ہے کہ خود اہل تشیع میں‌اس کے فقہی مسائل اور فضائل کو پوری طرح سے واضح کیا جائے اور میرے نقطئہ نظر سے ابن حسن نے بالکل ٹھیک بات شروع کی ہے۔ اور اسکے بعد ابو عثمان نے بھی اسی طرح جن کتب کے حوالہ جات دئیے ہے وہ بھی خوب ہے۔

میں خود حق کا متلاشی ہوں اور رہوں گا، اسی وجہ سے طالبعلم کے درجے پر رہنا چاہتا ہوں۔ اور اسی وجہ سے ہر معاملے کے خلاف اور حق، دونوں‌میں‌دیکھنا بھی ہوتا ہے اور اس سے متعلقہ علوم کے مصدقہ ذرائیع کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔
اور ایک طالبعلم ہونے کی حیثیت سے، ابن حسن اور ابو عثمان کی پوسٹوںمیں جو باتیں ہیں، وہ میرے لیئے بہت اھمیت کی حامل ہیں۔




فرخ برادر،
آپ سے گذارش ہے کہ میرا مؤقف سنے بغیر مجھ پر کسی قسم کا الزام نہ لگائیے۔ نہ میں ادھر سیاست کر رہی ہوں اور نہ ادھوری گفتگو، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ گفتگو لمبی ہے اور آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ساتھ تکمیل تک پہنچے گی۔

صحیح مسلم کی یہ ساری روایات میں کئی بار پڑھ چکی ہوں، اور وقت اور موقع آنے پر ان سب پر تفصیلی جرح بیان کروں گی اور آپ دیکھیں گے یہ یہ صحیح کہلائے جانے والی رویات خود ایک دوسرے کے متضاد ہیں اور ایک دوسرے کا رد کر رہی ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی وقت میں یہ سب کی سب صحیح مانیں جائیں۔ ان میں سے زیادہ سے زیادہ ایک صحیح ہو سکتی ہے، یا پھر دوسری آپشن یہ ہے کہ یہ سب کی سب غلط گھڑی ہوئی روایات ہیں، اور اسکی وجہ یہ ہے کہ صحیح احادیث کا ایک مکمل مجموعہ ایسا ہے جو مل کر ان آپس کی متضاد روایات کا رد کرتا ہے۔

چیزیں اس ترتیب میں نہیں چل رہیں جس ترتیب سے میں چلنا چاہتی تھی، اور پہلے ہی بہت سے حضرات اپنے اپنے اعتراضات بیان کر چکے ہیں اور میرے لیے ممکن نہیں کہ ایک ہی نشست میں ان سب اعتراضات کے جوابات دیے جائیں، بلکہ مجھے جوابات ڈھونڈنے اور چیزیں جمع کرنے کے لیے بہت وقت کی ضرورت ہے تاکہ گفتگو کو ہم اچھے طریقے سے جاری رکھ سکیں بمع ثبوت و دلائل۔

مثال کے طور پر آپ اپنے اس مراسلے میں مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں صحیح مسلم کی ان روایات پر تبصرہ کروں، اور دوسری طرف آپ ابن حسن صاحب کے مراسلے پر شکریہ کا ٹیگ لگا رہے ہیں، حالانکہ وہ صحیح مسلم کی ان روایات کو نظر انداز کر کے "اسلامی متعہ" نہیں بلکہ "شیعہ متعہ" اور اسکے ثانوی فقہی مسائل اور فضائل کی بحث کو شروع کرنا چاہتے ہیں۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top