"نوید بہار" نظم اصلاح کے لئے -

السلام علیکم
ایک نظم اصلاح کے لئے پیش ہے۔ نظم کا عنوان ہے "نوید بہار"
بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
اساتذہء کِرام بطور خاص
جناب الف عین صاحب،
احباب محفل اور تمام دوستوں سے اصلاح ، توجہ اور رہنمائی کی درخواست ہے۔
*********** --------------------***********
"نوید بہار"
اڑتی ہیں فرشِ باغ پہ کچھ خشک پتّیاں
اجڑی ہوئی بہار کے آنچل کی دھجّیاں
بے برگ و بار پیڑ ہیں، شاخوں پہ خار بس
کل تھیں گُل و سَمَن سے لدی جن کی ٹہنیاں
خلّاقِ دوجہان کی صنعت گری ہے سب
آقائے ہست و بود کے "کُن" کی نشانیاں
کم مایئگی ہے باغ میں حسرت کا راج ہے
صحنِ چمن میں اڑتی ہوئی خاک آج ہے


آتا ہے دیکھ کر مجھے بس اک یہی خیال
اٹھتا ہے میرے ذہن میں رہ رہ کے یہ سوال
کل ہر طرف تھا وادئِ نکہت کا اک سماں
کل تھا ہجوم گل یہاں، بھنورے تھے ڈال ڈال
دیکھیں تو موت کا سا سکوں اس چمن میں ہے
اِس لہلہاتے باغ پہ اب آ گیا زوال
ٹوٹے ہوئے یہ پات بھلا کیوں ہیں رقص میں ؟
کیوں اپنے کارنامے پہ پت جھڑ ہے یوں نڈھال ؟


سنتا ہوں اک صدا سی میں اپنے گمان میں
جو کھولتی ہے راز چھپا داستان میں
درماندہ یہ اُڑتی ہوئی زرد پتّیاں
کہنے کو انتقامِ خزاں کی مثال ہیں
قربان کر کے خود کو خزاؤں پہ، دراصل
تنظیمِ باغِ نَو کی یہ زندہ مثال ہیں
گلشن میں صبحِ نَو کے نمو کی وعید ہیں
آنی ہے جو بہار، یہ اُس کی نَوِید ہیں

سیّد کاشف
*********** --------------------***********
جزاک اللہ۔
 

الف عین

لائبریرین
نظم کا فارمیٹ یکساں نہیں ہے۔ پہلے بند میں چھ مصرعے جس طرح ہر دوسرے مصرع میں ایک قافئے کی پابندی کرتے ہیں اور ٹیپ کا شعر (نیلا رنگ) ایک الگ ہم قافیہ دو مصرعوں کا فارمیٹ مقرر کرتا ہے۔ دوسرے بند میں نیلا شعر پچھلے چھ مصرعوں کے مطابق ہی ہے۔ اور تیسرا بند کے پہلے دونوں مصرعے مختلف قوافی میں ہیں۔ ویسے اگر ایسا کچھ اتزام نہ رکھا جائے تو بہتر ہے لیکن جب التزام رکھا ہی جائے تو اسئ نبھایا جانا چاہئے۔
اس سے قطع نظر۔
وادئِ نکہت کا اک سماں۔ یہ ترکیب سمجھ میں نہیں آئی÷
دیکھیں تو موت کا سا سکوں اس چمن میں ہے ۔۔۔ ویسے تو سکوں لفظ مثبت معانی میں استعمال ہوتا ہے، یہاں ’سکوت‘ استعمال کرنا بہتر ہے۔ اس کے علاوہ ان دونوں الفاظ میں ایک مشترک غلطی ہے، سا سکوت‘ یا ’سا سکون‘ میں ’س‘ کی تکرار!

کیوں اپنے کارنامے پہ پت جھڑ ہے یوں نڈھال ؟
یہ مصرع کچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے۔

جو کھولتی ہے راز چھپا داستان میں
۔۔چھپی؟

قربان کر کے خود کو خزاؤں پہ، دراصل
÷در اَ صَ ل تقطیع ہوتا ہے جو غلط تلفظ ہے
 
جزاک اللہ استاد محترم
میں آپ کی تمام اصلاحات اور تجاویز کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نظم پر دوبارہ غور کرونگا ۔ اس نظم کو لکھنے میں کافی وقت لگا تھا اور اصلاح میں شائد اور زیادہ وقت لگے۔
خاص طور پر تیسرا بند شائد دوبارہ ہی لکھنا پڑیگا۔ ان شا اللہ درستی کے بعد دوبارہ حاضر ہوتا ہوں۔
نوازش جناب کی۔ :)
 
استاد محترم جناب الف عین سر،
آپ کی تجویز کے مطابق کچھ ترامیم کی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے بعد یہ نظم دوبارہ حاضر کرتا ہوں۔
آپ کے مشورؤں اور اصلاح کا منتظر رہونگا۔
*********** --------------------***********

اڑتی ہیں فرشِ باغ پہ کچھ خشک پتّیاں
اجڑی ہوئی بہار کے آنچل کی دھجّیاں
بے برگ و بار پیڑ ہیں، شاخوں پہ خار بس
کل تھیں گُل و سَمَن سے لدی جن کی ٹہنیاں
خلّاقِ دوجہان کی صنعت گری ہے سب
آقائے ہست و بود کے "کُن" کی نشانیاں

کم مایئگی ہے باغ میں حسرت کا راج ہے!
صحنِ چمن میں اڑتی ہوئی خاک آج ہے!


آتا ہے دیکھ کر مجھے بس اک یہی خیال
رہ رہ کے میرے ذہن میں اٹھتا ہے اک سوال
کل ہر طرف تھا وادئِ رنگیں کا اک سماں
کل تھا ہجوم گل یہاں، بھنورے تھے ڈال ڈال
اب اک سکوت موت کا سا اس چمن میں ہے
اِس لہلہاتے باغ پہ اب آ گیا زوال

دیوانہ وار پتّیاں پھر کیوں ہیں رقص میں؟
پیغام کیا چھپا ہے بھلا ان کے نقص میں ؟


"ہے وجہہ ایک خاص، جو ڈالے دھمال ہیں"
سنتا ہوں میں صدا ،کہ "یہ اک نیک فال ہیں"
درماندہ یہ اُڑتی ہوئی زرد پتّیاں
کہنے کو انتقامِ خزاں سے نڈھال ہیں
قربان کر کے خود کو خزاؤں پہ، اصل میں
تنظیمِ باغِ نَو کی یہ زندہ مثال ہیں

گلشن میں صبحِ نَو کے نمو کی وعید ہیں
آنی ہے جو بہار، یہ اُس کی نَوِید ہیں

*********** --------------------***********
 

الف عین

لائبریرین
اب بھی مجھے دو غلطیاں محسوس ہوئی ہیں۔
دیوانہ وار پتّیاں پھر کیوں ہیں رقص میں؟
پیغام کیا چھپا ہے بھلا ان کے نقص میں ؟
رقص اور نُقص قافئے غلط ہیں۔

سنتا ہوں میں صدا ،کہ "یہ اک نیک فال ہیں"
یہاں ’ہے‘ کا محل تھا، لیکن ہیں استعمال کیا گیا ہے۔
باقی درست ہے
 
بہتر سر۔
قافئے کا تو مجھے بھی کچھ ایسا گمان تھا لیکن سوچا کہ ایک بار آپ کی رائے مل جائے تو بہتر رہیگا۔
"نیک فال" والا مصرع بھی درست کرتا ہوں ۔ ان شا اللہ
 

الف عین

لائبریرین
نقص ویسے فتح کے ساتھ بھی درست ہے لیکن زیادہ تر پیش کے ساتھ مستعمل ہے۔ مجھے یہی شک ہوا کہ تم نے اسے پیش کے ساتھ ہی باندھا ہے۔ اس صورت میں درست ہے، لیکن لوگوں کو شک ہو سکتا ہے اس تلفظ میں۔
 
استاد محترم جناب الف عین سر۔
آپ کی توجہ چاہونگا۔
*********** --------------------***********
"نوید بہار"


اڑتی ہیں فرشِ باغ پہ کچھ خشک پتّیاں
اجڑی ہوئی بہار کے آنچل کی دھجّیاں
بے برگ و بار پیڑ ہیں، شاخوں پہ خار بس
کل تھیں گُل و سَمَن سے لدی جن کی ٹہنیاں
خلّاقِ دوجہان کی صنعت گری ہے سب
آقائے ہست و بود کے "کُن" کی نشانیاں

کم مایئگی ہے باغ میں حسرت کا راج ہے!
صحنِ چمن میں اڑتی ہوئی خاک آج ہے!


آتا ہے دیکھ کر مجھے بس اک یہی خیال
رہ رہ کے میرے ذہن میں اٹھتا ہے اک سوال
کل ہر طرف تھا وادئِ رنگیں کا اک سماں
کل تھا ہجوم گل یہاں، بھنورے تھے ڈال ڈال
اب اک سکوت موت کا سا اس چمن میں ہے
اِس لہلہاتے باغ پہ اب آ گیا زوال

دیوانہ وار پتّیاں پھر کیوں ہیں رقص میں؟
پیغام کیا چھپا ہے بھلا ان کے نقص میں ؟


"ہے وجہہ ایک خاص، جو ڈالے دھمال ہیں"

سنتا ہوں میں صدا ،"یہ خوشی سے نہال ہیں"
درماندہ یہ اُڑتی ہوئی زرد پتّیاں
کہنے کو انتقامِ خزاں سے نڈھال ہیں
قربان کر کے خود کو خزاؤں پہ، اصل میں
تنظیمِ باغِ نَو کی یہ زندہ مثال ہیں

گلشن میں صبحِ نَو کے نمو کی وعید ہیں
آنی ہے جو بہار، یہ اُس کی نَوِید ہیں


*********** --------------------***********
 

الف عین

لائبریرین
معذرت کہ ایک لفظ پہ پہلے غور نہیں کیا۔
در ماندہ
میں در اصل نون غنہ ہے۔ یہاں باعلان نظم ہوا ہے۔
 
استاد محترم جناب الف عین سر۔
تصحیح کر دی ہے۔
آپ کی توجہ چاہونگا۔
*********** --------------------***********
"نوید بہار"

اڑتی ہیں فرشِ باغ پہ کچھ خشک پتّیاں
اجڑی ہوئی بہار کے آنچل کی دھجّیاں
بے برگ و بار پیڑ ہیں، شاخوں پہ خار بس
کل تھیں گُل و سَمَن سے لدی جن کی ٹہنیاں
خلّاقِ دوجہان کی صنعت گری ہے سب
آقائے ہست و بود کے "کُن" کی نشانیاں

کم مایئگی ہے باغ میں حسرت کا راج ہے!
صحنِ چمن میں اڑتی ہوئی خاک آج ہے!


آتا ہے دیکھ کر مجھے بس اک یہی خیال
رہ رہ کے میرے ذہن میں اٹھتا ہے اک سوال
کل ہر طرف تھا وادئِ رنگیں کا اک سماں
کل تھا ہجوم گل یہاں، بھنورے تھے ڈال ڈال
اب اک سکوت موت کا سا اس چمن میں ہے
اِس لہلہاتے باغ پہ اب آ گیا زوال

دیوانہ وار پتّیاں پھر کیوں ہیں رقص میں؟
پیغام کیا چھپا ہے بھلا ان کے نقص میں ؟


"ہے وجہہ ایک خاص، جو ڈالے دھمال ہیں"
سنتا ہوں میں صدا ،"یہ خوشی سے نہال ہیں"
آزردہ سی
یہ اُڑتی ہوئی زرد پتّیاں
کہنے کو انتقامِ خزاں سے نڈھال ہیں
قربان کر کے خود کو خزاؤں پہ، اصل میں
تنظیمِ باغِ نَو کی یہ زندہ مثال ہیں

گلشن میں صبحِ نَو کے نمو کی وعید ہیں
آنی ہے جو بہار، یہ اُس کی نَوِید ہیں


*********** --------------------***********
 
Top