نوشت جو تہہ اعراب ۔۔۔۔ اصلاح کے لئے

کاشف اسرار احمد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 18, 2019

  1. کاشف اسرار احمد

    کاشف اسرار احمد محفلین

    مراسلے:
    1,219
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    السلام عليكم
    استاد محترم جناب الف عین سر اور احباب محفل
    ایک غزل اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں ۔۔۔۔

    افاعیل : مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فعلن

    نَوِشت جو تہہِ اِعراب دیکھ سکتا ہے
    پسِ چراغ و تہہِ آب دیکھ سکتا ہے

    ستارا جو سَرِ مہتاب دیکھ سکتا ہے
    مری دعاؤں کے آداب دیکھ سکتا ہے

    کسی کو شک ہو ترے گرم نرم ہاتھوں پر
    تو چھو کے ریشم و کمخاب دیکھ سکتا ہے

    جسے خبر ہو چراغوں تلے اندھیرے کی
    وہی پسِ رُخِ مہتاب دیکھ سکتا ہے

    غرور جس کو طوالت کا ہو، برائے سبق
    وہ دریا، مُڑ کے یہ تالاب دیکھ سکتا ہے

    جو سوچنے کے بھی قابل ہو، ذہن وہ ہی اسے
    بغیر نیند کے، بیخواب دیکھ سکتا ہے

    جنوں کا کیا ہے، یہ دشت و سراب وحشت میں
    رواں اک عالمِ اسباب دیکھ سکتا ہے

    گزار دی ترے وعدے پہ عمر سب جس نے
    وہ خشک پھول بھی شاداب دیکھ سکتا ہے

    جو دھڑکنوں کی زباں کو سمجھ سکے کاشف
    مکانِ دل میں پسِ باب دیکھ سکتا ہے
    سیّد کاشف

     
    آخری تدوین: ‏جولائی 18, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,858
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے البتہ دونوں مطلعے واضح نہیں محض خوبصورت الفاظ کا مجموعہ لگ رہے ہیں، مفہوم بہت مبہم ہو گیا ہے
    .. گرم نرم ہاتھوں؟ گرمی کا یہاں کیا ذکر، یہ محاورہ بھی نہیں ۔ محض نرم نرم ہاتھوں کہا جائے
    وہ دریا، مُڑ کے یہ تالاب دیکھ سکتا ہے
    دریا کے الف کا گرنا اچھا نہیں لگتا یہاں
    اور
    جو دھڑکنوں کی زباں کو سمجھ سکے کاشف
    مکانِ دل میں پسِ باب دیکھ سکتا ہے
    میں بھی ابہام زیادہ ہے اور پسِ باب کی ترکیب کچھ اچھی نہیں لگ رہی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. کاشف اسرار احمد

    کاشف اسرار احمد محفلین

    مراسلے:
    1,219
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    بہت بہتر سر
    کوشش کرتا ہوں کہ اور بہتر کر سکوں۔۔۔
    جزاک اللہ
     

اس صفحے کی تشہیر