1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

جون ایلیا نظم : ﻧﻘﺶِ ﮐُﮩﻦ - جون ایلیا

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 9, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,050
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    ﻧﻘﺶِ ﮐُﮩﻦ
    ﺷﺎﻧﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﺲ ﮐﮯ ﺍﺷﮏ ﺑﮩﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ ؟
    ﺭُﻭﭨﮭﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﻥ ؟ ﮐﺲ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ؟
    ﻭﮦ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮬﮯ ﺻُﺒﺢِ ﻣُﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺍﮞ
    ﺍﺏ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﺍﺏ ﮐﻮﻥ "ﺧﻮﺩ ﭘﺮﺳﺖ" ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺁﭘﮑﻮ
    ﮐِﺲ " ﺑﮯ ﻭﻓﺎ " ﮐﮯ ﻧﺎﺯ ﺍُﭨﮭﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﭘﮩﺮﻭﮞ ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ
    ﺷﮑﻠﯿﮟ ﻣِﭩﺎ ﻣِﭩﺎ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﮔﻤﻨﺎﻡ ﺍﻟﺠﮭﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔُﺰﺍﺭﯾﮟ ﮔﯽ ﺭﺍﺕ ﺩﻥ
    ﺑﯿﮑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯽ ﮐﻮ ﺟﻼﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﺍﺏ " ﻟﺬﺕِ ﺳﻤﺎﻋﺖِ ﺭﮬﺮﻭ" ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ
    ﺍُﻭﻧﭽﮯ ﺳُﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺖ ﻧﮧ ﮔﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﮬﻤﺠﻮﻟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺴﻮﺯِ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ
    ﻣﺎﺿﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺳُﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﺍﺏ ﻭﮦ ﺷﺮﺍﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ
    ﭼﻮﻧﮑﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﻥ ، ﮐِﺴﮑﻮ ﮈﺭﺍﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ؟
    ﻓﺮﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺭِ ﮔﻮﺷﮧ ﻧﺸﯿﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯿﮕﺎ
    ﻣِﻠﻨﮯ ﺳﮩﯿﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﺠﮭﯿﮟ ﮔﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ
    ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﭘﮭﺮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻭﮦ ﻣﻨﺰﻝ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯿﮕﯽ
    ﺩِﻝ ﺳﮯ ﻣﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮬﭩﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﺣﺎﻻﺕِ ﻧﻮ ﺑﮧ ﻧﻮ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮬُﺠﻮﻡ ﻣﯿﮟ
    ﮐﻮﺷﺶ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯽ ﮐﻮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩِﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ
    ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻠﺶ ﮬﯽ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺁﭖ
    " ﻧﻘﺶِ ﮐُﮩﻦ " ﮐﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻣِﭩﺎﻧﺎ ﮬﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ
    ﮔﺰﺭﮮ ﮬُﻮﺋﮯ ﺩِﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭُﻼﻧﺎ ﮬﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ

    اُن کا جواب
    جب آپ کو قریب نہ پایا کروں گی میں
    رُوٹھوں گی خود سے، خود کو منایا کروں گی میں
    اب میرے آنسوؤں کی پناہیں نہیں رہیں
    اب اپنے آنسوؤں کو چھپایا کروں گی میں
    رخصت ہوا ہے صبحِ محبت کا کارواں
    اب کس کے پاس شام کو جایا کروں گی میں
    ہاں وہ شرارتوں کے زمانے گزر گئے
    اب حسرتوں کے داغ اُٹھایا کروں گی میں
    مطلب ہی اب نہیں کسی بات سے مجھے
    اب بات بات کو نہ بڑھایا کروں گی میں
    انجام کے اداس اندھیروں میں بیٹھ کر
    آغاز کے چراغ جلایا کروں گی میں
    ہم جھولیوں کو اپنی با سوزِ تصورات
    ماضی کا وقت سنایا کروں گی میں
    حیرت ہے آپ کا مرے بارے میں یہ خیال
    دل میں کوئی خلش ہی نہ پایا کروں گی میں
    شکلین بنا بنا کے مٹایا کریں گے آپ
    شکلین مٹا مٹا کے بنایا کروں گی میں
    حالات سے نباہ، یہ کیا کررہے ہیں آپ
    حالات کا مذاق اُڑایا کروں گی میں
    کیا ہو گئے ہیں آپ بھی کچھ مصلحت پسند
    کیا اب فریبِ ہجر ہی کھایا کروں گی میں
    کیا اِضطرابِ روح بھی برباد ہو گیا
    کیا یوں ہی اپنے دل کو جلایا کروں گی میں
    ہے اس روِش کا نام اگر زندگی تو پھر
    خود زندگی کو بحث میں لایا کروں گی میں
    بس آپ ہی نہ دیجیے یہ مشورے مجھے
    ہیں اور بھی ستم جو اُٹھایا کروں گی میں
    ’’نقشِ کہن‘‘کو دل سے مٹایا نہ جائے گا
    گزرے ہوئے دنوں کو بُھلایا نہ جائے گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive

اس صفحے کی تشہیر