1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

نظم کی اصلاح کی گزارش(عنوان: جدائی)

منذر رضا نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 17, 2019

  1. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    320
    جھنڈا:
    Pakistan
    السلام علیکم!
    اساتذہ سے اصلاح کی گزارش ہے
    الف عین، یاسر شاہ ، محمد تابش صدیقی ، فلسفی
    بے رنگ ہے جریدۂ دل کا ہر اک ورق
    بے نور ہے چراغِ دل و جاں کی ہر کرن
    بے سوز ہے صدائے ستارِ حیات بھی
    بے کار ہےمرے دلِ بیکس کی آہ بھی

    وہ عشق کے گہر، وہ محبت کے لعل بھی
    وہ درد کے عقیق، وہ حسرت کے سب نگیں
    جو مثلِ آفتاب تھے میری حیات میں
    سب خاکِ دشتِ عشق و جنوں میں گما دیے

    وہ رنگ جو کہ زینتِ نقشِ حیاتِ تھا
    وہ چشمِ خونبار سے خوں بن کے بہہ گیا
    جس نورسےتھی شمعِ دل و جاں میں روشنی
    اس کو ہوائے ہجرِ مسلسل بجھا گئی

    وہ سوز ِِ آرزو ،وہ تمنا کی جستجو
    دہ دردِ عاشقی کی خلش، کیوں فنا ہوئی
    اور گردِ بادِ یاس میں کچھ ایسے چھپ گئی
    جیسے کبھی نہ آئی تھی ظالم وجود میں

    وہ آہِ نیم شب، وہ فغاں، روزِ ہجر کی
    سب خوابِ صبحِ یاس کی مانند مٹ گئیں
    یعنی مرا تمام اثاثہ فنا ہوا
    یعنی مرا وجود بھی مجھ سے جدا ہوا
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 17, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,184
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    خوب صورت نظم۔ داد قبول کیجئے۔
    چشمِ خونبار میں نون غنہ ہے جبکہ آپ نے نون کے ساتھ باندھا ہے چیک کرلیجیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,430
    بے رنگ ہے جریدۂ دل کا ہر اک ورق
    بے نور ہے چراغِ دل و جاں کی ہر کرن
    بے سوز ہے صدائے ستارِ حیات بھی
    بے کار ہےمرے دلِ بیکس کی آہ بھی
    'جریدۂ دل' میں ہ کا طویل یعنی بطور 'اے' تقطیع ہونا بابا (اگر میں غلط نہیں ہوں) درست نہیں مانتے۔ اس کے علاوہ 'ورق' کا ر کیا ساکن نہیں ہے ؟
    چوتھے مصرع میں 'مرے' کا م رِ تقطیع ہونا بھی اچھا نہیں لگ رہا

    وہ عشق کے گہر، وہ محبت کے لعل بھی
    وہ درد کے عقیق، وہ حسرت کے سب نگیں
    جو مثلِ آفتاب تھے میری حیات میں
    سب خاکِ دشتِ عشق و جنوں میں گما دیے
    بہت خوب! صرف 'گما دیے' پر شک ہے کہ کیا 'گم کر دئے' کی جگہ قبول کر لیا جائے گا؟

    وہ رنگ جو کہ زینتِ نقشِ حیاتِ تھا
    وہ چشمِ خونبار سے خوں بن کے بہہ گیا
    جس نورسےتھی شمعِ دل و جاں میں روشنی
    اس کو ہوائے ہجرِ مسلسل بجھا گئی
    'خونبار' کی جگہ میرے خیال میں 'خوں فشار' استعمال کیا جا سکتا ہے

    وہ سوز ِِ آرزو ،وہ تمنا کی جستجو
    دہ دردِ عاشقی کی خلش، کیوں فنا ہوئی
    اور گردِ بادِ یاس میں کچھ ایسے چھپ گئی
    جیسے کبھی نہ آئی تھی ظالم وجود میں
    ان چار لائنوں میں کوئی خامی نظر نہیں آ رہی ماشاء اللہ

    وہ آہِ نیم شب، وہ فغاں، روزِ ہجر کی
    سبِ خوابِ صبحِ کی مانند مٹ گئی
    یعنی مرا تمام اثاثہ فنا ہوا
    یعنی مرا وجود بھی مجھ سے جدا ہوا
    دوسری مصرع میں شاید کچھ ٹائپ ہونے سے رہ گیا ہے! باقی بہت خوب ماشاء اللہ۔


    (بابا آپ کو ٹیگ کر رہا ہوں کہ میرے اصلاحی مشوروں پر بھی کچھ فرمائیے گا)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    320
    جھنڈا:
    Pakistan
    محمد خلیل الرحمٰن
    عظیم
    میں نہایت ممنون ہوں آپ کی آرا اور تجاویز کا۔۔۔
    اولا تو عظیم صاحب نے خوب فرمایا
    چشمِ خونبار کے بجائے چشمِ خوں فشار کر دیتا ہوں۔۔۔
    دوسرے وہ مصرعہ بھی درست کیے دیتا ہوں آخری بند کا دوسرا، مراسلے میں تدوین کر کے۔۔۔
    جہاں تلک دیگر مسائل کا تعلق ہے تو عظیم صاحب کی تجاویز کی روشنی میں بہتر کرتا ہوں!
    شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,430
    آخری بند کے دوسرے مصرع میں ہی 'گئی' کی جگہ 'گئیں' ہونا چاہیے تھا
    ابھی دوبارہ دیکھنے پر اس چیز پر نظر پڑی ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,459
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پہلی بات تو یہ کہ اس نظم کو چار چار مصرعوں کے بندوں میں توڑنے کی کیا ضرورت؟ جب کہ اس میں ردیف قوافی بھی نہیں۔ یہ محض معریٰ نظم ہے
    پہلے بند کے بارے میں عظیم سے متفق نہیں۔ ان کی ہر بات درست نہیں اور جو غلطی مجھے محسوس ہوئی اس کی طرف ان کی نظر نہیں گئی!
    جریدہء بھی درست تقطیع ہو رہا ہے
    ورق میں و، د دونوں مفتوح ہیں اور درست
    مرے بھی مکمل تقطیع ہوتا ہے
    البتہ 'ستار' لفظ، میں سمجھتا ہوں، کہ ہندی ہے۔ اس لیے اضافت درست نہیں یہاں ساز لانے کی کوشش کریں
    باقی عظیم سے متفق ہوں۔ نظم کے آخری مصرعہ میں 'وجود بھی' کی جگہ 'وجود ہی' پر غور کریں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    320
    جھنڈا:
    Pakistan
    الف عین
    حضور، گما دیے پر کیا فرماتے ہیں؟
    مزید یہ کی گستاخی اور جسارت معاف، مگر مولانا آزاد نے جہاں سید انشا اور مرزا مظہر جانجناں کی ملاقات لکھی ہے، وہیں فارسی عبارت میں ایک ترکیب
    ستارِ سرخ
    استعمال کی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    تو کیا ستارِ حیات کی کچھ گنجائش نکل سکتی ہے؟
    یہ فقط طالبعلمانہ استفسار ہے، قطعاً گستاخی کی نیت نہیں
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,459
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ خیال تو مجھے بھی آیا تھا کہ ستار کو Proper Noun سمجھا جائے تو شاید اضافت لگائی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر سازِ حیات کر دیا جائے تو مجھ جیسے کسی کو مین میخ نکالنے کا موقع نہ ملے!
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    320
    جھنڈا:
    Pakistan
    حضور الف عین صاحب
    مصرعہ یوں ٹھیک ہے؟
    بے سوز ہے صدا مرے سازِ حیات کی

    اور گما دیے ٹھیک یے؟
     
  10. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    صدائے ربابِ حیات کیسا ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    320
    جھنڈا:
    Pakistan
    واااہ
    یاسر شاہ
    وہ اس ادا سے جو آئے تو کیوں بھلا نہ لگے۔۔۔۔
    بھلا آپ کا دیا مصرعہ کیوں بھلا نہیں لگے گا؟ بلاشبہ بہت ہی زبردست ہے، میں تصحیح کر لیتا ہوں۔۔۔۔
    باقی نظم پر بھی رائے سے نوازیے۔۔۔ممنون ہوں گا۔۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,184
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    گما دئیے کی جگہ گنوادئیے کیوں نہیں استعمال کرتے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    320
    جھنڈا:
    Pakistan
    محمد خلیل الرحمٰن صاحب
    آج اہلِ محفل مجھ پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہیں۔۔۔خلیل صاحب آپ بھی تشریف لائے۔۔۔۔شاہ صاحب بھی۔۔۔۔میں سب حضرات کا بہت ممنون ہوں ۔۔۔ اور خوب تصحیح کی خلیل صاحب آپ نے، بالکل بجا ہے، میں تبدیلی نوٹ کر لیتا ہوں۔۔۔۔
    ایک بار اہلِ محفل کا شکریہ،امید ہے آئندہ بھی یہی رویہ اپنائیں گے!!!!!
    خصوصاً محمد خلیل الرحمٰن اور یاسر شاہ صاحبان!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    735
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بھائی سرسری طور پہ آپ کی نظم پڑھی ہے -اچھی لگی -فی الحال ایک سرسری تبصرہ یہ کہ پہلے شعر کے پہلے مصرع میں دل کو آپ جریدہ کہہ رہے ہیں اور اسی پہلے شعر کے دوسرے مصرع میں دل کو چراغ جو مناسب نہیں -اور میرا مشوره یہ ہے کہ اس نظم کو معریٰ نہ رہنے دیں بلکہ اس کو اس فارمیٹ میں لے آئیں جس میں احمد فراز ،فیض وغیرہ جیسے شعراء نے نظمیں لکھی ہیں - اس میں کوئی خاص دقت نہیں ہر بند میں دو شعر ہوتے ہیں اور ہر شعر کے صرف دو سرے مصرع میں قافیہ ہوتا ہے یعنی چار مصرعوں کا ایک بند جس میں دوسرا اور چوتھا مصرع مقفّیٰ -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر