نظم- ملالہ یوسفزئی کے لئے!

سید ذیشان

محفلین
کیسے کیسے بوجھ اٹھائے تم نے نازک کاندھوں پر
گر پتھر کے دل میں بھی آئیں چشمے اس سے پھوٹ پڑیں
کیسے تم اس نو عمری میں دانائی کی باتیں کر کے
عمر رسیدہ گھاگ دلوں کو نئی امنگیں دیتی ہو
بزدلی اور بے حسی کے لب بندی، خاموشی کے
ہم وطنوں کے بوجھ اٹھائے تم نے نازک کاندھوں پر!
 

الف عین

لائبریرین
بہت خوب ذیشان۔ ملالہ کے بارے میں میں واقف نہیں تھا، ابھی معلوم ہوا ہے ان کے بارے میں۔ خوب ہے نظم، اصلاح کی ضرورت نہیں۔
 
کیسے کیسے بوجھ اٹھائے تم نے نازک کاندھوں پر
گر پتھر کے دل میں بھی آئیں چشمے اس سے پھوٹ پڑیں
کیسے تم اس نو عمری میں دانائی کی باتیں کر کے
عمر رسیدہ گھاگ دلوں کو نئی امنگیں دیتی ہو
بزدلی اور بے حسی کے لب بندی، خاموشی کے
ہم وطنوں کے بوجھ اٹھائے تم نے نازک کاندھوں پر!

ذیش بھائی اگر برا نہ مانیں تو۔ ان سرخ مصرعوں کی تقطیع کیجئے گا۔
 
Top